تحریر:سید سرفراز احمد
ایک جمہوری مملکت میں آئین کی جتنی اہمیت ہوتی ہے۔اتنی ہی اہمیت انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کی ہوتی ہے۔ویسے انصاف کے تقاضے نہ صرف جمہوری نظام بلکہ دنیا کے کسی بھی نظام میں انصاف کا بہت اہم رول ہوتا ہے۔ اگر چہ کسی بھی ملک میں انصاف کمزور ہوجاۓ تو عوام میں ایک بے چینی پیدا ہوجاتی ہے۔ ایسے ملک کو بالآخر عوامی انقلاب کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جمہوری نظام میں دیکھا جاۓ تو حکومتوں کو اقتدار اور زوال تک پہنچانے کا کام عوام ہی طئے کرتی ہے۔اسی طرح انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیئے دستور پر عمل آواری ضروری و ناگزیر ہوتا ہے۔اگر کسی جمہوری نظام میں دستور کو بالاۓ طاق رکھ کر فیصلے دیئے جاتے ہوں تو ایسے فیصلوں کو دستور سے کھلواڑ کے مترادف ہی سمجھا جاسکتا ہے۔جمہوریت میں انصاف کی آخری امیدیں عدلیہ پر منحصر ہوتی ہیں۔کیوں کہ جمہوریت کا یہ وہ اہم شعبہ ہے جو انصاف پر مبنی اصولوں اور فیصلوں پر ہی زندہ رہ سکتا ہے۔اور اس جمہوریت کی بقاء کو یقینی بنانا عدلیہ کا ہی کام ہوتا ہے۔
بھارت کے 53 ویں چیف جسٹس کی حیثیت سے جسٹس سوریہ کانت کو صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے24 نومبر 2025 کو حلف دلوادیا۔چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت لگ بھگ پندرہ مہینے تک اس اہم عہدے پر فائز رہیں گے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت سابق چیف جسٹس بی آر گوائی کے اچھے دوست ہیں۔ اب ان پندہ مہینوں میں کیا کچھ فیصلے لیتے ہوں گے وہ تو آنے والا وقت طئے کرے گا۔لیکن ان میں سب سے اہم فیصلہ "وقف ترمیمی قانون” پر ہوگا۔چوں کہ سابق چیف جسٹس آف انڈیا بی آر گوائی کی بنچ نے "وقف ترمیمی قانون” پر جو عبوری فیصلہ دیا وہ کسی بھی حال میں وقف املاک کو بچانے کا کام نہیں کرے گا۔شائد کہ اب ان پندرہ مہینوں میں وقف ترمیمی قانون پر حتمی فیصلہ آجاۓ۔
چیف جسٹس سوریہ کانت نے اپنا حلف نامہ لینے کے بعد خصوصی نظر ثانی (ایس آئی آر) پر خصوصی سماعت کرتے ہوۓ دو رکنی بنچ نے کہا کہ "آدھار کارڈ شہریت کا دستاویزی ثبوت نہیں ہے۔” یہ بات سپریم کورٹ نے پہلے بھی کہی تھی۔چلیئے مان لیتے ہیں کہ آدھار کارڈ شہریت کا ثبوت نہیں ہے۔تو پھر ایس آئی آر میں آدھار کو قبول کرنے میں کونسی مشکل پیش آرہی ہے۔کیوں کہ ایس آئی ار اور شہریت دونوں الگ الگ چیز ہے۔جب کہ زمینی سطح کی حقیقت یہ ہے کہ آدھار کارڈ کے بغیر کوئی بھی دستاویزات نہیں بنتے۔اور دل چسپ بات یہ بھی ہے کہ کسی بھی شہری کے شہریت کی جانچ کرنا الکیشن کمیشن کا کام ہرگز بھی نہیں ہے۔یہ کام تو وزارت داخلہ کے ذریعہ سے ہوتا ہے۔پھر کیوں سپریم کورٹ ان باتوں کو واضح نہیں کر رہی ہے؟
کیا ایس آئی آر سپریم کورٹ کے لیئے ایک معمہ بن گیا؟ یا پھر ایس آئی آر کو لے کر الیکشن کمیشن کی ہٹ دھرمی کے پیچھے کوئی سیاسی سازش چل رہی ہے؟ یہ وہ سوالات ہے جو اس وقت ملک بھر کی عوام کے زہنوں کی الجھن بنے ہوۓ ہیں۔حالانکہ سپریم کورٹ میں تجربہ کار ماہر وکلاء اس ایس آئی آر سے ہونے والے خدشات اور عوام کو ہونے والی دشواریوں کے بارے میں بہترین دلیلیں پیش کر رہے ہیں۔لیکن یہ نظر ثانی مہم ابھی تک بھی ایک معمہ ہی بن کر رہ گئی ہے۔سپریم کورٹ نے 26 نومبر کو ایس آئی آر پر روک لگانے اور قانونی حیثیت کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر سماعت کرتے ہوۓ کہا کہ فہرست راۓ دہندہ گان کو اپڈیٹ کرنے کی کاروائی کوئی معمول کی کاروائی نہیں تھی۔وکلاء نے چل رہے ایس آئی آر کو اجتماعی مشق دستور کے مغائر بتایا۔سپریم کورٹ نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو الیکشن کمیشن ایس آئی آر کبھی بھی نہیں کرسکتا۔کپل سبل نے عدلیہ سے سوال پوچھا اگر میرے والد کا نام فہرست سے غائب ہے تو میئں اسے کیسے ثابت کروں؟جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ووٹرس کو بھی یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ان کی تفصیلات درست ہوں۔اگر آپ کے والد کا غائب ہے اور آپ نے کاروائی نہیں کی تو آپ نے موقع گنوادیا۔
سپریم کورٹ کے ان تبصروں کو دیکھ کر یوں محسوس ہورہا ہے کہ عدلیہ ایس آئی آر سے مطمئن ہے۔لیکن جس طرح کی پریشانیوں کا سامنا عوام خاص طور پر ناخواندہ عوام کو اٹھانا پڑ رہا ہے عدلیہ کو اس پر خصوصی نظر ڈالنی چاہیئے۔ابھی 2 ڈسمبر تک سماعت کو ملتوی کیا گیا۔اب آگے عدلیہ کے اور کیا تبصرے یا فیصلے سامنے آتے ہیں وہ دیکھنا دل چسپ ہوگا۔اگر ایس آئی آر کی قانونی حیثیت دیکھی جاۓ تو ایس آئی آر ایک لازمی عمل ہے۔لیکن موجودہ الیکشن کمیشن جس طریقے سے ایس آئی آر کر رہا ہے یا عام عوام کو ہراساں کر رہا ہے وہ کسی بھی حد تک چاہے وہ قانونی نوعیت سے ہو یا دستوری عمل سے ہر حال میں ایک غیر نامناسب عمل ہے۔اگر ایس آئی آر اتنا ہی آسان ہوتا تو دو درجن بوتھ لیول آفیسرس خودکشی نہیں کرتے۔عدلیہ کو بی ایل او کی خودکشی کرنے کے پیچھے کی وجوہات پر بھی غور کرنا چاہیئے۔کہیں پھر ایسا نہ ہوجاۓ کہ سپریم کورٹ تبصروں پر تبصرہ کرتا رہے اور دوسرے مرحلے کا ایس آئی آر چلتا رہے۔ اور پھر وقت نکلتا جاۓ تو عوام کے لیئے اس سے کٹھن کام اور کیا ہوگا۔لہذا عدلیہ کو چاہیئے کہ اس کو معمہ بنا کر رکھنے کے بجاۓ عوام کو راحت پہنچانے کا کام کرنا چاہیئے۔
دوسری طرف وقف ترمیمی قانون نے مسلمانوں کو پریشان کر رکھا ہے۔اس کیس پر عدلیہ کا جو عبوری فیصلہ آیا ہے وہ نہ ہی راحت بخش ہے نہ ہی وقف جائدادوں کو بچانے کے حق میں ہے۔آج امید پورٹل میں وقف جائدادوں میں اندراج کے لیئے لوگ شب و روز لگا رہے ہیں۔ابھی اس کے اندراجات کی مہلت ختم ہوچکی ہے۔لیکن سرکار کا یہ بھی ایک حربہ ہی ہے جو وقف جائدادوں کے اندراجات کے بعد سرکار کو یہ معلوم ہوجاۓ گا کہ ملک بھر میں وقف کی کل کتنی جائدادیں ہیں۔ پھر اس کے بعد سرکار کی بدمعاشی اور نیت کھل کر سامنے آسکتی ہے۔کوئی سمت ایسی نہیں بچی ہے جہاں سے مسلمانوں کو نہ ستایا جارہا ہو۔ہر طرف سے ہاتھ اور پیر جکڑ کر رکھ دیئے گئے ہیں۔ایسے میں جو راستہ بچا ہے وہ ہے قانونی راستہ، جہاں سے مسلمانوں کو ایک امید نظر آتی ہے۔وہ ہے ہمارے اس جمہوری ملک کی عدلیہ،لیکن ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا ہوگا کہ یہ وہی عدلیہ تھی جس کے اس جمہوری ستون پر ہم خود سے ذیادہ اعتماد کرتے تھے۔ پھر اسی نے بابری مسجد کے حق میں تمام تر گواہی دی تھی اور آستھا کی بنیاد پر رام مندر کے حق میں فیصلہ سنایا تھا۔پھر اس کے بعد ججس کا جشن اور ان کے انکشافات اور انھیں ملنے والے تحائف کو اس ملک کے مسلمان ہی نہیں بلکہ سب نے دیکھا۔ اگر عدلیہ اس ملک کی جمہوریت کی بقاء کو یقینی بنانا چاہتی ہے یا عوام میں آئی عدلیہ سے متعلق بے چینی کی کیفیت کو دور کرنا چاہتی ہو تو وہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کریں اور عوام میں بڑھ رہی کش مکش کو دور کرنے کے لیئے انصاف کے تقاضوں پر عمل آواری کرتے ہوۓ بڑھ رہی عدم اعتمادی کو بحال کرنے کی کوشش کریں۔
نئے چیف جسٹس سوریہ کانت سے بھارتی مسلمانوں کو یہ امیدیں وابستہ ہیں کہ وہ مسلمانوں پر ہورہے ظلم و ذیادتی، (چاہے وہ قانونی شکل میں ہو یا زمینی صورت حال) پر انصاف پر مبنی موقف اختیار کرتے ہوۓ فیصلے کریں گے۔ مسلمان ہر اس ظلم کو سہتا آرہا ہے لیکن نہ کبھی قانون کی دھجیاں آڑایا نہ کسی چیف جسٹس پر چپل پھینکا۔لیکن مسلمانوں کو پھر بھی انصاف نہیں مل رہا ہے۔ابھی خاص طور پر وقف ترمیمی قانون اور ایس آئی آر یہ دونوں چیزیں ایسی ہیں جو مسلمانوں کو ذریعہ معاش سے ذیادہ پریشان کر رکھا ہے۔تصور کریں اوقاف کی جگہ اگر ہندوؤں کے مذہبی معاملات کے قانون میں ترمیم کی جاتی تو کیا آج بھارت کا ہندو خاموش بیٹھتا؟ اسی بات کو مد نظر رکھتے ہوۓ چیف جسٹس سوریہ کانت اور ان کی بنچ کو (اگر وقف قانون کے حتمی فیصلہ کا موقع ملتا ہے تو) فیصلہ دینا چاہیئے۔وہیں پر ایس آئی آر جو سب کے لیئے کیا جارہا ہے۔لیکن ایس آئی آر کے طریقہ کار سے صرف مسلمان ہی پریشان ہے۔دیگر قومیں کیوں نہیں؟ اس پر بھی عدالت عالیہ کو غور و فکر کرتے ہوۓ وقت نکلنے سے پہلے فیصلہ دینا چاہیئے۔