از:- محمد ناصر ندوی پرتاپگڑھی دبئی
تعمیرِ قوم ایک ایسا ہمہ گیر اور صبر آزما عمل ہے جو صرف وقتی جوش، سیاسی نعروں یا معاشی منصوبوں سے مکمل نہیں ہوتا۔ امت کی حقیقی تعمیر انسان سازی سے شروع ہوتی ہے، اور انسان سازی کا سب سے گہرا، دیرپا اور فیصلہ کن مرحلہ تربیت ہے۔ اس تربیت کا پہلا اور مضبوط سرچشمہ عورت ہے، جو ماں کی صورت میں نسلوں کے ذہن، دل اور کردار کی بنیاد رکھتی ہے۔ اسی لئے یہ کہنا ہرگز مبالغہ نہیں ہوگا کہ اگر کسی قوم کو مضبوط، باوقار اور صالح امت بنانا ہو تو سب سے پہلے اسے اپنی لڑکیوں کی تعلیم و تربیت کو درست خطوط پر استوار کرنا ہوگا۔
اسلام نے انسان کو محض جسمانی وجود نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت شخصیت کے طور پر دیکھا ہے۔ اسی لئے اس نے تعلیم کو صرف معلومات کے حصول تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے ایمان، اخلاق، شعور اور ذمہ داری کے ساتھ جوڑ دیا۔ عورت کے بارے میں اسلام کا تصور نہ تو اسے گھروں میں قید کرنے والا ہے اور نہ ہی اسے بے لگام آزادی کے نام پر اس کی فطرت سے کاٹ دینے والا۔ اسلام عورت کو عزت، وقار اور ذمہ داری کے توازن کے ساتھ تعلیم و تربیت سے آراستہ کرنے کا قائل ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ عورت کی اصلاح دراصل پوری نسل کی اصلاح ہے۔
تاریخِ انسانی کا مطالعہ اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ جو قومیں عورت کی تعلیم و تربیت پر سنجیدہ رہی ہیں، ان کا گھریلو نظام مضبوط رہا، اخلاقی اقدار محفوظ رہیں اور نسلوں میں مثبت فکری تسلسل پیدا ہوا۔ ابتدائی اسلامی دور میں ہمیں ایسی عظیم خواتین نظر آتی ہیں جو علم، دین، کردار اور بصیرت کا حسین امتزاج تھیں۔ انہوں نے نہ صرف اپنے گھروں کو سنوارا بلکہ معاشرے کی فکری و اخلاقی رہنمائی میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ یہ اس لئے ممکن ہوا کہ ان کی تعلیم و تربیت ایمان اور اخلاق کی بنیاد پر ہوئی تھی۔
اس کے برعکس جب ہم موجودہ دور پر نظر ڈالتے ہیں تو ایک کھلا تضاد دکھائی دیتا ہے۔ آج تعلیم عام ہے، ادارے کثرت سے موجود ہیں، مگر تربیت ناپید ہوتی جا رہی ہے۔ لڑکیوں کو پڑھایا تو جا رہا ہے، مگر یہ نہیں سوچا جا رہا کہ انہیں کس مقصد کےلئے تیار کیا جارہا ہے۔ کیا وہ محض معاشی مشین بننے کےلئے تعلیم حاصل کر رہی ہیں، کیا ان کی تعلیم انہیں ایک اچھی ماں، ایک ذمہ دار بیوی اور ایک باکردار شہری بنانے میں مدد دے رہی ہے،یا پھر یہ تعلیم ان کی فطرت سے ٹکرا کر انہیں فکری انتشار، ذہنی بے سکونی اور اخلاقی کمزوری بلکہ جنسی بےراہ روی کی طرف دھکیل رہی ہے۔
آج کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ تعلیم اور تربیت کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا گیا ہے۔ علم تو دیا جارہا ہے مگر اقدار کے سلسلہ میں غفلت برتی جار ہی ہے ،علوم وفنون میں مہارت سے آراستہ ہورہی ہیں مگر ذمہ داری کا شعور پیدا نہیں کیا جا رہا۔ آزادی کا سبق تو پڑھایا جارہا ہے مگر جواب دہی کا تصور ذہنوں سے محو ہوتا جارہا ہے۔ ایسے ماحول میں پروان چڑھنے والی لڑکی کل کو جب ماں بنے گی تو وہ اپنی اولاد کو کیا دے سکے گی، ایک الجھی ہوئی سوچ، ایک بے سمت فکر اور ایک غیر متوازن شخصیت۔ یہی وہ سوال ہے جو ہر سنجیدہ شخص کو بے چین کر دیتا ہے۔
یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ گھر معاشرے کی اکائی ہے، اور عورت گھر کی روح ہوتی ہے۔ اگر روح بیمار ہوجائے تو جسم چاہے جتنا بھی مضبوط کیوں نہ ہو، وہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتا۔ آج گھروں میں سکون کی کمی، رشتوں میں کشیدگی، اولاد کی نافرمانی اور اخلاقی بگاڑ دراصل اسی تربیتی خلا کا نتیجہ ہیں۔ ہم بچوں کی اصلاح کی بات کرتے ہیں، مگر ماں کی اصلاح کو نظر انداز کر دیتے ہیں، حالانکہ بچے کی شخصیت پر سب سے گہرا اثر ماں کا ہوتا ہے۔
لڑکیوں کی صحیح تعلیم و تربیت کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں زمانے کی ترقی سے کاٹ دیا جائے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں زمانے کے تقاضوں سے باخبر رکھتے ہوئے ان کی دینی، اخلاقی اور تہذیبی بنیادوں کو مضبوط کیا جائے۔ ایک تعلیم یافتہ، باکردار اور باحیا لڑکی نہ صرف خود باوقار زندگی گزارتی ہے بلکہ وہ اپنے پورے خاندان کےلئے رحمت بن جاتی ہے۔ وہ اپنے شوہر کےلئے سکون کا باعث بنتی ہے، اپنی اولاد کےلئے بہترین مربیہ ثابت ہوتی ہے اور اپنے معاشرے کےلئے ایک مثبت قوت بن کر ابھرتی ہے۔
تعمیرِ قوم کےلئے یہ بات بھی نہایت اہم ہے کہ عورت کی تعلیم و تربیت صرف عورت کا مسئلہ نہیں بلکہ مردوں کی بھی براہِ راست ذمہ داری ہے۔ مرد ہی خاندان کے سربراہ، وسائل کے نگران اور معاشرتی فیصلوں کے اصل ذمہ دار ہوتے ہیں۔ اگر مرد حضرات اس حقیقت کو سمجھ لیں کہ ان کی بیٹیوں کی صحیح تربیت دراصل ان کی آخرت کی تیاری بھی ہے تو شاید بہت سے مسائل خود بخود حل ہو جائیں۔ افسوس کہ آج اکثر مرد اپنی معاشی ذمہ داریوں کو تو سنجیدگی سے لیتے ہیں مگر تربیتی ذمہ داریوں سے غافل رہتے ہیں۔
موجودہ دور میں لڑکیوں کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے سب سے بڑا چیلنج تعلیمی ماحول کا غیر محفوظ ہونا ہے۔ مخلوط نظامِ تعلیم، غیر اسلامی سرگرمیاں، فحاشی پر مبنی ثقافتی پروگرام اور میڈیا کے منفی اثرات نے تربیت کے عمل کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ایسے ماحول میں لڑکیوں کےلئے باوقار، محفوظ اور اسلامی تعلیمی اداروں کا قیام وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔ یہ ادارے محض ڈگری دینے کے مراکز نہ ہوں بلکہ کردار سازی کی محفوظ قلعے ہوں۔
لڑکیوں کےلئے ایسے تعلیمی ادارے جہاں عصری علوم کے ساتھ دینی تعلیم، اخلاقی تربیت اور عملی زندگی کی تیاری ہو، دراصل امت کی فکری خود مختاری کی ضمانت ہیں۔ یہ ادارے ایسی خواتین تیار کرسکتے ہیں جو جدید دنیا کے چیلنجز کا سامنا بھی کر سکیں اور اپنے دینی تشخص پر سمجھوتہ بھی نہ کریں۔ یہی وہ خواتین ہوں گی جو مستقبل میں امت کی فکری، تعلیمی اور اصلاحی قیادت میں مثبت کردار ادا کریں گی۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بہت سی صلاحیتیں صرف اس لئے ضائع ہوجاتی ہیں کہ لڑکیوں کو مناسب اور محفوظ تعلیمی مواقع میسر نہیں ہوتے۔ والدین اپنی بیٹیوں کو غیر محفوظ ماحول میں بھیجنے سے گھبراتے ہیں، نتیجتاً وہ یا تو تعلیم ادھوری چھوڑ دیتی ہیں یا ذہنی دباؤ کے ساتھ آگے بڑھتی ہیں۔ اگر امت لڑکیوں کی تعلیم و تربیت کے ادارے قائم کرے تو یہ مسئلہ بڑی حد تک حل ہوسکتا ہے۔
تعمیرِ قوم کے عمل میں لڑکیوں کی تعلیم و تربیت کو نظر انداز کرنا دراصل جڑ کو کاٹنے کے مترادف ہے۔ ہم اوپر سے عمارت کھڑی کرنے کی کوشش تو کرتے ہیں مگر بنیاد کو مضبوط نہیں کرتے، اور پھر حیران ہوتے ہیں کہ عمارت کیوں گرجاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بنیاد مضبوط ہوگی تو عمارت خود بخود مضبوط ہوجائے گی، اور اس بنیاد کا نام ہے: صالح ماں، باکردار بیٹی اور باشعور عورت ہے۔
امت کی تعمیر کا سفر مدرسوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں سے زیادہ ماں کی گود سے شروع ہوتا ہے۔ اگر ہم اس گود کو علم، ایمان، اخلاق اور بصیرت سے بھر دیں تو ہمیں مستقبل سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ اور اگر ہم نے اس محاذ پر غفلت برتی تو ہماری تمام تر اصلاحی کوششیں ادھوری رہیں گی۔
آج امت کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں کو کن ہاتھوں میں دے رہی ہے، کن اداروں کے حوالے کر رہی ہے اور کن اقدار کے ساتھ پروان چڑھانا چاہتی ہے۔ یہی فیصلہ آنے والی نسلوں کی سمت متعین کرے گا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نسلیں دین پر قائم،اخلاق میں بلند اور کردار میں مضبوط ہوں،تو
اب یہ محض سوچنے، لکھنے یا افسوس کرنے کا وقت نہیں رہا، بلکہ کھڑے ہونے، قدم بڑھانے اور ادارے قائم کرنے کا وقت ہے۔ امت کے باشعور افراد، اہلِ ثروت، علماء، تعلیمی ماہرین اور صاحبِ اختیار حلقوں سے یہ پرزور اپیل ہے کہ وہ لڑکیوں کی تعلیم و تربیت کو اپنی ترجیحات میں سرِ فہرست لائیں۔ اور جگہ جگہ ایسے ادارے قائم کریں جو صرف عمارتیں نہ ہوں بلکہ ایمان کی درسگاہیں ہوں، جو محض نصاب نہ پڑھائیں بلکہ کردار تراشیں، جو صرف ڈگری نہ بانٹیں بلکہ صالح نسلیں تیار کریں۔