میڈیا میں ہنگامہ ، حالانکہ مدارس ملحقہ کی جانچ کوئی نئی بات نہیں

از:- ( مولانا ڈاکٹر ) ابوالکلام قاسمی شمسی

بہار میں مدرسہ بورڈ کا قیام 1922 میں عمل میں آیا ، اس بورڈ کے قیام کو 100/ سال سے زیادہ کا عرصہ گذر گیا ، اس عرصے میں اس نے بہت سے نشیب و فراز دیکھے ہیں، موجودہ وقت میں یہ ملک کا سب سے مضبوط مدرسہ ایجوکیشن بورڈ ہے ، جو ملک اور بیرون ملک مشہور و معروف ہے ، اور حکومت بہار کی آن بان اور شان ہے۔

ہندوستان میں مدارس کا نظام بہت پرانا ہے ، یہ مدارس اپنے روایتی انداز پر چل رہے تھے ، مگر حکومت نے قدیم زبانوں جیسے سنسکرت ، عربی اور فارسی کے تحفظ کا منصوبہ بنایا ، تو اس کے لئے اداروں کے قیام کی ضرورت محسوس ہوئی تو واقف کار حلقوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ نئے اداروں کا قیام اور ان کو چلانے میں بہت وقت لگے گا ، اس لئے ملک میں جاری روایتی مدارس اور سنسکرت پاٹھ شالاوں سے کام چلایا جاسکتا ہے ، چنانچہ حکومت نے اس مد کے لئے مختص رقم کو سنسکرت پاٹھ شالاوں اور مدارس کے اساتذہ کو انودان کے طور پر دینے کا اعلان کیا ، وہ رقم ابتداء میں کم تھی ، مگر جد یو کے دور حکومت میں اس میں بڑھوتری ہوئی ، پرانے مدارس کے علاؤہ نئے مدارس بھی منظوری کے زمرے میں آئے ، یہی وجہ ہے کہ مدارسِ ملحقہ کو تنخواہ کے مد میں انودان کی رقم دی جاتی ہے ، مدارس ملحقہ سرکاری بجٹ میں شامل نہیں ہیں ، اس تنخواہ کی رقم کے علاؤہ کچھ مدارس کو جدید کاری کے مد میں اور کچھ کو بلڈنگ ،لائبریری وغیرہ کے مد میں رقم دی جارہی ہے ، یہ ہے مدارس ملحقہ میں سرکاری فنڈنگ کی حقیقت ، بقیہ مدارس کے اخراجات مدارس ملحقہ کی مجلس منتظمہ برداشت کرتی ہے۔

بہار میں بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے تحت کل 3588 مدارس ملحقہ موجود ہیں ، ان میں سے 1942 مدارس کو حکومت کی جانب سے مالی امداد فراہم کی جاتی ہے ، حکومت نے مالی امداد حاصل کرنے والے مدارس کو بنیادی طور پر مندرجہ ذیل کٹیگری میں تقسیم کیا ہے۔

1128 کٹیگری: اس میں 1128 مدارس شامل ہیں
609 کٹیگری : اس میں 609 مدارس شامل ہیں
205 کٹیگری : اس میں 205 مدارس شامل ہیں
مذکورہ بالا مدارس امداد یافتہ ہیں ، ان کے اساتذہ کو حکومت کی جانب سے تنخواہ کی ادائیگی کی جاتی ہے ، ان کے علاؤہ غیر امداد مدارس بھی ہیں ، جنہیں مدرسہ بورڈ سے الحاق حاصل ہے ، لیکن ان کو سرکار کی جانب سے مالی امداد نہیں ملتی ہے ، ان کو گرانٹ کے زمرہ میں لانے کی کاروائی چل رہی ہے ، ایسے مدارس کی تعداد تقریباً 1646 ہے۔

سرکار کی جانب سے مالی تعاون حاصل کرنے والے 1128 مدارس کا مدرسہ بورڈ سے الحاق اور منظوری برٹش دور حکومت میں ہوئی ، 1128 مدارس کے علاؤہ 2459 مدارس کی مالی امداد کے لیے منظوری 2010 میں نیتیش دور حکومت میں ہوئی۔

مذکورہ بالا مدارس میں سے 1128 مدارس ملحقہ برٹش دور حکومت کے ہیں ، یہ ملک کی آزادی سے پہلے سے مدرسہ بورڈ سے ملحق ہیں ، سرکار اور مدرسہ بورڈ کی جانب سے ان مدارس کی انکوائری ہمیشہ ہوتی رہی ہے ، انکوائری کے بعد ان کو مالی امداد کے زمرہ میں شامل کیا گیا۔

جہانتک کٹیگری 609 اور 205 کی بات ہے ،تو مذکورہ مدارس کو جانچ کے بعد مالی امداد کے زمرہ میں شامل کیا گیا ، پھر کسی وجہ سے ان کا معاملہ ہائی کورٹ پہنچا ، تو انریبل پٹنہ ہائیکورٹ کے حکم کے مطابق کورٹ کی نگرانی میں انکوائری ہوئی ، رپورٹ کے بعد ان مدارس میں تنخواہ کی ادائیگی شروع ہوئی ، اس طرح امداد یافتہ مدارس ملحقہ کی جانچ کئی مرتبہ ہوچکی ہے ، توقع کی جارہی تھی کہ نئی حکومت آئی ہے ، تو باقیماندہ 1646 مدارس کو مالی امداد کے زمرہ میں شامل کیا جائے گا ، مگر کام آگے بڑھانے کے بجائے حکومت پیچھے لوٹ گئی اور جس کی جانچ کئی مرتبہ سنکلپ 1090/80 کے مطابق کورٹ اور ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی نگرانی میں ہوچکی ہے ، اسی کی انکوائری کرا رہی ہے۔

کسی بھی ادارے کی جانچ اور انکوائری ایک نارمل عمل ہے ، مگر میڈیا نے اس کو اس انداز پر لیا جارہا ہے کہ حکومت نے مدارس کی انکوائری کا حکم دے کر کارہائے نمایاں انجام دیا ہے ، اور اس کو کریڈٹ کے طور پر پیش کیا جارہا ہے ، اور ایسا احساس دیا جارہا ہے کہ گزشتہ حکومت کی انکوائری اور جانچ کمی تھی ، جبکہ جانچ کورٹ کی نگرانی میں ہوئی ، انکوائری رپورٹ کی جانچ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی کمیٹی نے کی ، پھر کورٹ میں پیش کیا گیا ، کورٹ کی جانچ کے بعد مالی امداد جاری کرنے کا حکم دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:

بہار مدرسہ ایکزامینیشن / ایجوکیشن بورڈ اور مدارس ملحقہ کا دور ماضی تابناک رہا ہے ، مگر افسوس کہ حکومت کے رویہ نے زبوں حال بنادیا ، حکومت نے بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کو مفلوج بنادیا ، جہانتک مدارس ملحقہ کی بات ہے تو حکومت نے مسلم طلبہ و طالبات کو خود تعلیم سے دور رکھنے میں حصہ لیا ، برسوں سے اساتذہ کی تقرری نہیں ہوئی ، 1128 زمرہ کے مدارس کے اکثر اساتذہ سبکدوش ہوگئے ، ان میں سے اکثر مدارس اساتذہ کی کمی کی وجہ سے بند ہونے کے دھانے پر ہیں ، مالی امداد کے وقت حکومت کی جانب سے مولوی معیار تک کے اساتذہ کے عہدے منظور کئے گئے ، عالم اور فاضل کے لئے کوئی عہدہ وضع نہیں کیا گیا ، ابھی تک حکومت نے عالم اور فاضل کی تعلیم کے لئے کوئی عہدہ وضع نہیں کیا ، ذمہ داران مدارس اپنی جانب سے عالم اور فاضل کی تعلیم کا انتظام کرتے ہیں ، جو انتظام زیادہ قابل اطمینان نہیں ، ابھی تک عالم و فاضل کو ابھی تک مولانا مظہرالحق عربی و فارسی یونیورسٹی سے منسلک نہیں کیا گیا ، مدارس ملحقہ میں سائنس اور کامرس کی تعلیم اور امتحان کو منظوری دی گئی ، جبکہ مدارس ملحقہ میں اس کے لئے کوئی ٹیچر نہیں ہیں ، اس طرح خود حکومت نے مدارس ملحقہ کو یہانتک پہنچا دیا ہے کہ یہ خود بند ہو جائیں ، مدرسہ بورڈ کے ذریعہ سائنس اور کامرس کو نافذ کیا گیا ، اس کے لئے اساتذہ کے عہدے وضع کئے جاتے ،تاکہ جعلی سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا الزام نہ لگتا ، مگر ایسا نہیں ہوا ، بغیر اساتذہ کے سائنس اور کامرس کے امتحانات منعقد کرائے جارہے ہیں ، اس طرح موجودہ وقت میں اس کی ضرورت تھی اور ہے کہ مدارس ملحقہ میں اساتذہ کی تقرری کے لئے عہدے وضع کئے جائیں اور اساتذہ کی تقرری جلد کی جائے ، اساتذہ کی تقرری میں رکاوٹ اساتذہ تقرری ضابطہ 2022 کی وجہ سے آرہی ہے ، اس لئے اساتذہ تقرری ضابطہ 2022 میں ضروری ترمیم کی جائے ، مدارس ملحقہ کا میڈیم اردو ہے ، عصری مضامین کے اساتذہ تقرری میں اردو جاننے والے کی شرط لگائی جائے ، تقرری ضابطہ کے مطابق محصلہ نمبرات کو اساتذہ کی تقرری کی بنیاد قرار دیا گیا ہے ، جبکہ موجودہ وقت میں پرائمری اسکول میں بھی بی پی ایس سی کے ذریعہ تقرری ہوتی ہے ، اس لئے مدارس ملحقہ میں بھی اساتذہ کی تقرری بی پی ایس سی کے ذریعہ امتحان کی بنیاد پر ہو ، اساتذہ تقرری ضابطہ میں مذکورہ باتوں کے علاؤہ اور بھی بہت سی خامیاں ہیں ، ان کو دور کیا جائے۔

اساتذہ تقرری میں کوئی دقت ہے تو اس کو حل کرنا بورڈ یعنی ممبران کا کام ہے، وہ میٹینگ میں تجویز منظور کر کے محکمہ سے منظوری حاصل کر کے اساتذہ تقرری کی عمل کو آگے بڑھا سکتے ہیں ، اس کے لئے بورڈ کے ممبران محترم وزیر اعلی ، وزیر تعلیم اور دیگر اعلی عہدیداران سے ملاقات کر سکتے ہیں۔

بہرحال مدارس کی جانچ کوئی نئی بات نہیں ہے ، ماضی میں بھی سنکلپ 1090/80 کے مطابق مدارس کی جانچ ہوچکی ہے ، ذمہ داران مدارس مالی ضابطہ کا مطالعہ کریں ، اگر مدارس میں کوئی کمی ہے تو کمی دور کرلیں ،اور مطمئن ہوکر مدارس کی جانچ کرائیں ، حکومت کو بھی چاہئے کہ جانچ کے درمیان اساتذہ کی تنخواہ بند نہ کی جائے ، ماضی میں کورٹ کی نگرانی اور محکمہ تعلیم کے ذریعہ جانچ رپورٹ کے جائزے کے بعد مدارس کو مالی امداد فراہم کی گئی ہے ، حکومت اس کا بھی خیال رکھے ، اللہ تعالیٰ مدارس کی حفاظت فرمائے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔