تحقیقی فکر کا زوال عہد حاضر کا المیہ

از:- ڈاکٹر ظفردارک قاسمی

حصول علم ، فہم و فراست اور شعور و آگہی ایسے بنیادی عناصر اور خصوصیات ہیں جو قوموں اور معاشروں کے رتبہ اور قد کو بڑھاتی ہیں ۔ حصول علم کے ساتھ بصیرت اور ادراک سے متصف معاشرہ اپنی حیثیت کو مزید مسلم کرتاہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فکری توازن ، فہم و فراست اور شعور کے پروان چڑھنے کے ذرائع یا اسباب کیا ہوسکتے ہیں ۔ اس تناظر میں یہ بات پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ کثرتِ مطالعہ اور مثبت تنقیدی روایت کے پیہم فروغ سے سماج کے اندر بصیرت اور فہم و فراست ، دور اندیشی آتی ہے ۔ کسی بھی کورس کی تکمیل کر لینا کافی نہیں ہے بلکہ اس میں خود کو لگانا اور لگاتار تگ و دو کرنے سے نکھار اور استحکام پیدا ہوتا ہے ۔ آج ہماری صفوں میں مستند اہل علم کی تعداد خاصی ہے مگر گہرائی ، گیرائی اور بصیرت سے محرومی نظر آتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی مسئلہ کے عواقب و مضمرات کا تجزیہ کیے بغیر جذباتی ہوجاتے ہیں ۔ متوازن سوچ کا حامل فرد اور اصحاب فہم کبھی بھی ایسا نہی کرسکتے ہیں ۔ ملت کے نوجوان اصحاب علم وفضل کو خصوصاً اپنے نظریات پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے ۔

آج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ مطالعہ کا شوق اور علم سے دوری یا تحقیقی فکر بڑی تیزی سے زوال پذیر ہوتی دکھ رہی ہے ۔ اس کی تازہ مثال یہ ہے کہ حال ہی میں دہلی میں "وجود خدا ” پر جو مباحثہ ہوا اس کو محض اس لیے بھی شہرت حاصل ہوئی کہ لوگوں نے پڑھنا لکھنا چھوڑ دیا ہے کیونکہ اس کو بڑھاوا دینے والے بیشتر افراد وہ ہیں جو نہ علم کلام سے واقف ہیں اور نہ وہ یہ جانتے ہیں کہ دنیا میں الحاد کا بھی نظریہ پایا جاتا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں: صومالی لینڈ کی اسرائیلی توثیق ایک گہری سازش
اگر اس حوالے سے لوگوں میں مطالعہ کی بنیاد پر پہلے سے بیداری ہوتی یا وہ ان تمام مباحث و نظریات سے واقف ہوتے تو انہیں یہ مباحثہ کوئی تعجب خیز محسوس نہیں ہوتا ۔ تحقیقی فکر کے زوال پذیر ہونے کے ساتھ ساتھ ہم نے اپنے اسلاف اور بزرگوں کی روشن روایت کو بھی کہیں نہ کہیں پس پشت ڈال دیا ہے ۔ اگر ہم اپنی تاریخ اور علمی سرگرمیوں سے واقف ہوتے تو شاید ہم اس مباحثہ کو کوئی نیا محسوس نہیں کرتے ۔ اس لیے یہ کہنا بجا معلوم ہوتا ہے کہ عدم واقفیت ، تحقیقی مزاج اور مطالعہ کی قلت نے ہمیں اس موڑ پر لاکھڑا کیا کہ اگر کوئی بات ہمارے سامنے جدید انداز میں پیش کی جاتی ہے تو ہم یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اس کی تخلیق ابھی ہوئی ہے، اس سے پہلے اس کو وجود نہیں تھا ۔ اسی وجہ سے ہم لاشعوری طور پر فتح و ظفر کا جشن منانے لگتے ہیں ۔ اگر وہ مسئلہ مذہب اسلام سے وابستہ ہو تواس کو مزید بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتاہے اور اس طرح کے افراد کی آراء پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے اگر یہ کام نہیں ہوتا تو اسلام کو نقصان ہوجاتا ۔ چنانچہ ہمیں اس جانب سنجیدگی سے غور و خوض کرنے کی ضرورت ہے ۔ حالیہ مباحثہ پر عش عش کرنا اور اسے حد سے زیادہ طول دینا یا فتح و شکست میں تبدیل کردینا یہ تمام اشارات بتاتے ہیں کہ ہماری صفوں میں مطالعہ کا فقدان ، تحقیقی شعور اور فکری توازن کی کس حد تک کمی ہے ۔
دوسرا بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں علمی اختلاف اور مخالفت میں فرق اور مثبت تنقید کو برداشت کرنے کی قوت تک نہیں بچی ہے ۔ کسی بھی علمی یا فکری مسئلہ پر اختلاف کرنا اور مثبت تنقید فروغ علم کا مؤثر ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔ جب سے تحقیقی زوال ہوا ہے اس وقت سے اختلاف کے آداب اور مثبت تنقید کے اصول نہ پتہ ہونے کی وجہ سے معاشرتی سطح پر بڑے مسائل پیدا ہورہے ہیں ۔ قوت برداشت پوری طرح زائل ہوچکی ہے جب کہ علم و تحقیق کی روح تک پہنچنے کے لیے اختلاف اور مخالفت کو سمجھنا ہوگا تو وہیں مثبت اور منفی تنقید کے واضح فرق سے بھی واقفیت پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ معاشرے میں علمی فضاء پروان چڑھ سکے ۔ حسن اختلاف اور متضاد آراء کے احترام اور توسع کی سب سے نمایاں مثال ہمیں فقہ اسلامی میں ملتی ہے ۔ چنانچہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ فقہِ اسلامی میں اختلافِ آراء کا توسُّع شریعتِ اسلامیہ کی علمی وسعت، حکمت اور اعتدال پسندی کا ایک نمایاں مظہر ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اسلامی فقہ میں مختلف مسائل کے بارے میں متعدد معتبر آراء کا وجود پایا جاتا ہے اور ان آراء کو تنگ نظری کے بجائے وسعتِ قلب اور علمی وقار کے ساتھ قبول کیا جاتا ہے۔ یہ توسُّع فقہ کو جامد قانون کے بجائے ایک زندہ، متحرک اور ہمہ گیر نظام بناتا ہے۔ اختلافِ آراء کی اصل بنیاد قرآن و سنت کی تعبیر میں تنوع اور اجتہادی اصولوں کا اختلاف ہے۔ بعض نصوص قطعی ہوتی ہیں جن میں اختلاف کی گنجائش نہیں، لیکن بہت سے مسائل ایسے ہیں جن میں نصوص ظنی الدلالہ ہیں یا براہِ راست موجود نہیں۔ ایسے مواقع پر مجتہدین اجتہاد کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں مختلف آراء سامنے آتی ہیں۔ یہی اختلاف دراصل توسُّع کی علامت ہے۔ یہ توسُّع فقہی ادب میں واضح طور پر نظر آتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ائمۂ فقہ، خصوصاً امام ابو حنیفہؒ، امام مالکؒ، امام شافعیؒ اور امام احمدؒ نے اختلاف کو علمی ترقی کا ذریعہ سمجھا اور ایک دوسرے کی آراء کا احترام کیا۔ ان کے درمیان شدید اختلاف کے باوجود باہمی احترام اور علمی وقار برقرار رہا، جو فقہِ اسلامی کی اعلیٰ روایت اور فقہاء کے قوت برداشت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ بھی کہنا درست ہے کہ فقہِ اسلامی میں اختلافِ آراء کا توسُّع شریعت کی جامعیت ،لچک اور انسان دوستی کا آئینہ دار ہے۔ یہ توسُّع نہ صرف فقہی و علمی تحقیق کو فروغ دیتا ہے بلکہ امت میں برداشت، رواداری اور اعتدال کو بھی مضبوط بناتا ہے آج ہمارے معاشرے میں اسی طرح کی قوت برداشت اور آداب اختلاف سے آشنا ہونے کی ضرورت ہے ۔
اسلام میں فقہی ادب کا مطالعہ کرنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ استاد شاگرد ، شاگرد استاد سے کیسے اختلاف کرتا ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس علمی اختلاف کو جب تدوین کیا جاتاہے تو مصنف پوری ایمانداری کے ساتھ موافق اور مخالف آراء کو نقل کرتا ہے ۔ دونوں کے دلائل و شواہد پیش کرتا ہے ۔ اس حوالے سے فقہ کی تمام کتب بہترین مواد پیش کرتی ہیں ، خصوصاً برہان الدین مرغینانی کی کتاب ” الہدایہ” میں اس چیز کا پورا خیال رکھا گیا ہے ۔ واضح رہے کہ "الہدایہ” کے مصنف مرغینانی حنفی ہیں اس کے باوجود یہ کتاب اختلافِ آراء کے توسُّع اور وسعتِ نظر کی ایک روشن مثال ہے۔ اس کتاب میں اختلاف کو تنگ نظری یا انتشار کے بجائے ایک منظم، اصولی اور علمی عمل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ "توسُّع” سے مراد یہ ہے کہ امام مرغینانیؒ نے فقہی مسائل میں مختلف آراء کو کشادہ دلی سے پیش کیا، ان کے دلائل بیان کیے اور شریعت کے مقاصد و اصول کی روشنی میں ان کا موازنہ کیا۔
الہدایہ میں اختلافِ آراء کا توسُّع کئی جہات سے نمایاں ہے۔ اولاً، فقہِ حنفی کے اندر موجود ائمہ ثلاثہ (امام ابو حنیفہؒ، امام ابو یوسفؒ، امام محمدؒ) کے اختلافات کو تفصیل کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ ہر امام کی رائے کے پس منظر میں موجود اصولی بنیادیں، قیاسی استدلال اور عملی نتائج کو واضح کیا گیا ہے، جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اختلاف محض ذاتی رائے نہیں بلکہ مضبوط علمی بنیاد رکھتا ہے۔
امام مرغینانیؒ نے ضرورت کے مطابق دیگر فقہی مذاہب، خصوصاً امام شافعیؒ اور امام مالکؒ کے اقوال کا بھی ذکر کیا ہے۔ اس بین المسالک توسُّع کا مقصد معاشرے میں یہ پیغام دینا ہے کہ اسلامی فقہ ایک وسیع دائرہ ہے، جس میں متعدد معتبر آراء پائی جاتی ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے ان مختلف آراء کو پڑھنے کے بعد کسی کی حرمت و تنقیص کا ارتکاب نہیں کیا جاتاہے بلکہ اختلاف کو سماج کے لیے اچھا سمجھا گیا ہے ۔
موجودہ صورتحال اس سے بالکل ہٹی ہوئی ہے وہ اس طرح کہ اگر کوئی فرد علمی اختلاف کرتا ہے یا کسی کی رائے پر تنقید کرتا ہے تو اسے مخالفت تسلیم کرلیا جاتا ہے ۔ یہ نوبت اس لیے آئی کہ مطالعہ کا فقدان اور تحقیقی شعور مسدود ہوچکا ہے کیونکہ ہمیں یہ بات معلوم ہی نہیں ہے کہ علم و تحقیق کی دنیا میں حسن اختلاف اور نطریاتی و فکری آراء کا تضاد ایک مستحسن اقدام ہے اور اسی رویے سے علم کا فروغ ہوتا رہا ہے تو وہیں ارباب علم و تحقیق میں تحمل و برداشت کا مادہ بھی پیدا ہوتا ہے ۔ اس لیے ہمیں اس روشن روایت کو محض بتانا ہی نہیں ہے بلکہ عملی طور پر زندہ کرنا ہوگا تاکہ سماج میں علمی اختلاف کے مثبت اثرات مرتب ہوسکیں ۔
ادھر یہ بات بھی درست ہے کہ اب اختلاف اور تنقید کا معیار پست ہوا ہے پہلے اختلاف اور تنقید علمی توسع کی علامت سمجھا جاتا تھا مگر اب اختلاف اور تنقید نہ حق کے اظہار کے لیے ہے اور نہ فروغ علم کے لیے بلکہ اب کسی سے اختلاف علمی مسئلہ میں محض اس لیے کیا جاتا تاکہ دوسرے لوگوں پر اپنی فوقیت قائم کرسکے، اسی طرح اپنی رائے کو سامنے والے سے بہتر سمجھے۔ اس لیے اصل مقصد مفقود ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے اب مسائل پیدا ہورہے ہیں ۔ اختلاف کرنے والے اور تنقید کرنے والے کو یہ ہر گز نہیں سوچنا چاہیے کہ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں وہی سچ اور حق ہے ۔ بلکہ اس کے اندر یہ تحمل باقی رہے کہ وہ جو کچھ کہہ رہا ہے اس میں غلطی کا پورا پورا امکان ہے ۔
آخر میں یہ کہنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر یہ بات محسوس کی جارہی ہے کہ علمی و تحقیقی شعور میں نہ صرف زوال آیا ہے بلکہ رواں حالات کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ روایت اب سرد پڑتی جارہی ہے کیونکہ ہمارا رویہ ان ضابطوں اور اصولوں سے سیدھے طور پر متصادم ہے جن کی بدولت عالمی سطح پر مسلمانوں نے اپنی علمی عظمت و جلالت کے جھنڈے گاڑھے تھے ۔ مثبت تنقید ، احترام آراء اور اختلاف کو برداشت نہ کرنا ، سوال پوچھنے پر غصہ ہو جانا وغیرہ ایسے باتیں ہیں جو مسلم معاشرے کو علمی اقدار کے فروغ اور فکری تنوع کے احترام سے روکتے ہیں ۔ آج ہمیں اپنے انداز درس و تدریس ، نصاب تعلیم اور تحقیقی کاموں پر غور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ معاشرے میں پر امن علم و تحقیق کی فضاء ہموار ہوسکے ۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔