انتخابات اور اپوزیشن کی سیاست

زبان پر حالات، حکمراں طبقہ پر تنقید اور ملک کے مستقبل کی باتیں ہیں لیکن دماغ مفادات، حصہ داری اوراپنے دائرے کو وسیع کرنے پرہی لگا ہواہے۔

ازقلم: عمیر کوٹی ندوی

اپوزیشن اتحاد اور اس میں شامل پارٹیوں کا انتخابی سیاست میںرویہ اکثر وبیشتر لوگوں کو حیرت زدہ کردیتا ہے۔ اس لئے کہ انتخابی سیاست میں میدان میں اترنے والی سبھی پارٹیاں برآمد ہونے والے نتیجہ کی ذمہ دارہوتی ہیں، خواہ نتیجہ کسی کے بھی حق میں ہو۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ نتیجہ کا کریڈیٹ کسی ایک پارٹی کو دیدیا جائے یا اس نتیجہ سے اتفاق نہ رکھنے والوں کو مطمئن کرنے کے لئے پورا ملبہ کامیابی کا دعویٰ کرنے والی پارٹی پر ہی ڈال دیا جائے۔حالیہ ماہ وایام میں جو الیکشن ہوئے ،ان کے نتائج پر کامیاب ہونے والے اور ناکام رہنے والے اتحاد دونوں نے اپنے اپنے طور پر ردعمل کا اظہار کیا۔ ایک طرف خوشی اور شادیانے ہیں تو دوسری طرف لعن طعن اور الزامات ۔ نتائج سے جہاں کامیاب ہونے والا طبقہ مزید پرجوش ہوکر جذبات کے دھارے میں بہنے لگا تو دوسرا طبقہ انتخابی سیاست سے ہی بددل ہوگیا۔ سردست کامیاب ہونے والوں سے صرف نظر کرتے ہوئے بات کے رخ کو انتخابی سیاست میں اپوزیشن اتحاد اور اس میں شامل پارٹیوں کے طرزعمل اور رویہ کی طرف موڑتے ہیں۔

مہاراشٹر میں حالیہ میونسپل کونسل کے انتخابات اور اب ۱۵؍جنوری کو ہونے والے میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں عجب منظر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ’ مہا وکاس اگھاڑی‘ اور ’ انڈیا الائنس‘ میں شامل پارٹیاں ایک دوسرے سے ہی برسرپیکار نظر آرہی ہیں۔ یہی نہیں بلکہ اتحاد سے باہر جاکر ان لوگوں سے بھی ہاتھ ملا رہی ہیں جنہیں وہ ریاستی وقومی سیاست میں برابھلا کہتی ہیں۔مزے کی بات یہ ہے کہ اس روش کا مقصد ملکی وسماجی نہیں بلکہ ذاتی مفاد ہےاور اس کے اظہار میں کوئی عار بھی محسوس نہیں کیا جارہا ہے۔کانگریس کے سینئر لیڈر وجے وڈیٹیوار نے ناگپور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ میونسپل کونسل کے انتخابات میں ’کانگریس اکیلے لڑی اور سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری۔ووٹ شیئر، کونسلروں کی تعداد اور میئر کے عہدے کے معاملہ میں اس نے اپنے اتحادیوں سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ نچلی سطح کے کارکنان بلدیاتی انتخابات اپنے بل بوتے پر لڑنے میں یقین رکھتے ہیں‘۔ ساتھ ہی وہ کانگریس کے ’ مہا وکاس اگھاڑی‘ اور ’ انڈیا الائنس‘ کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہونے کا ذکرکرنا بھی نہیں بھولے۔

اسی درمیان ریاست میں حکمراں مہایوتی اتحاد کا حصہ اور نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوارکے پونے میونسپل کارپوریشن (پی ایم سی) کے انتخابات میںکانگریس کے ساتھ اتحاد کے امکانات تلاش کرنے کی بات سامنے آئی۔ فوراًبعد اجیت پوار کی کانگریس کے سینئر لیڈر ستیج پاٹل سے ٹیلی فون پر دونوں پارٹیوں کے مابین اتحادسے متعلق بات بھی ہوئی۔اس کا اہم نکتہ کانگریس کے سینئر لیڈر پاٹل کا یہ جواب ہے کہ’ اس مسئلہ پر پارٹی کے اندر گفتگو کے بعد ہی فیصلہ لیا جا سکتا ہے کیونکہ کانگریس۱۶۵ رکنی میونسپل باڈی میں ’باعزت حصہ داری‘ چاہتی ہے‘۔ بی جے پی اور این سی پی (اجیت گروپ)کا پونے اورپمپری چنچواڑ میونسپل کارپوریشن کے انتخابات الگ الگ لڑنے کا فیصلہ اور ریاست کے وزیراعلیٰ دیوندر فڑنویس کا اسے ’دوستانہ مقابلہ‘ قرار دینا بھی قابل توجہ ہے۔ اجیت پوار اور شرد پوار کی پارٹیوں کے درمیان بھی پونے میونسپل کارپوریشن کے انتخابات کے لیے اتحادکی بات ہوئی۔ ادھو ٹھاکرے کی شیو سینا راج ٹھاکرے کی مہاراشٹر نو نرمان سینا (ایم این ایس) کے ساتھ مل کر برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) انتخابات کا مقابلہ کرنے جارہی ہے۔

اب ان سیاسی چالوں کے درمیان اتحاد میں شامل پارٹیوں کےردعمل کو بھی دیکھ لیں۔کانگریس نے ٹھاکرے برادران کے اتحاد کا خیر مقدم کیا،تاہم یہ بھی واضح کردیا کہ وہ مہاراشٹر نو نرمان سینا (ایم این ایس) کے ساتھ اتحاد کے حق میں نہیں ہے۔ یہ بھی کہنا نہیں بھولی کہ اس کی پالیسی ہمیشہ شیو سینا اور شرد پوار کے ساتھ رہی ہے اور آج بھی وہی ہے۔شیوسینا (یو بی ٹی) نے شرد پوار کی پارٹی کے اجیت پوار کی پارٹی کے ساتھ ممکنہ اتحاد پر ناراضگی ظاہر کی ۔ پارٹی لیڈر سنجے راوت نےٹھاکرے برادران کےایک ساتھ الیکشن لڑنے کو تومثبت بتایا لیکن شردپوار اور اجیت پوار کے قریب آنے کے معاملہ پر غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’اجیت پوار کے ساتھ اتحاد کرنا بی جے پی کے ساتھ ہاتھ ملانے کے مترادف ہوگا۔ اجیت پوار بی جے پی کے ایجنٹ ہیں اور ان کے ساتھ کوئی بھی اتحاد بی جے پی کو مضبوط کرنے جیسا ہوگا‘۔مہاراشٹر سے ہٹ کر اترپردیش کی طرف دیکھتے ہیں تو وہاں حکمراں اتحاد جہاں اپنی صفوں کو مضبوط کرتا ہوا نظر آرہا ہے وہیں اپوزیشن جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف صف آراء اور آپس میں ہی برسرپیکار نظر آرہی ہیں۔

اس ریاست میں بھی ذاتی مفادات سے دست بردار ہونے کا رجحان دور دور تک نظر نہیں آرہا ہے۔ اس معاملہ میں سب ہی اپوزیشن پارٹیاںیکساں کردار میں ہیں۔ خود انڈیا الائنس میں شامل پارٹیوں کا بھی حال اس سے مختلف نہیں ہے۔کانگریس جنرل سکریٹری اور اتر پردیش کے انچارج اویناش پانڈے کے بیان کو دیکھیں۔ ۲۰۲۷ میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے تعلق سے ان کا کہنا ہے کہ ’ کانگریس ریاست کی تمام۴۰۳؍ اسمبلی سیٹوں پر الیکشن لڑنے کی تیاری کر رہی ہے‘۔اسی بیان میں انہوں نے اتحاد کےمستقبل کے بارے میں’ حتمی فیصلہ ہائی کمان کرے گا‘کہہ کر تذبذب پیدا کردیا ۔مغربی بنگال میں بھی انڈیا الائنس کی باہمی رسہ کشی مرکز میں برسراقتدار طبقہ کے لئے اس ریاست میں جگہ بناتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ اس صورتحال کو دیکھ کر صاف نظر آرہا ہے کہ اپوزیشن نے ماضی سے کچھ بھی سبق حاصل نہیں کیا ہے۔ذاتی مفاد،حصہ داری،اکیلے لڑنے، سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھرنے اور اتحادیوں سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کی چاہت نے بہت سی ریاستوں کے انتخابی نتائج کو کچھ سے کچھ کردیا ۔

اس’ چاہت‘ کے نتیجہ میں پیدا ہوئی صورتحال سے اپوزیشن اتحاد کے مستقبل کی تصویر دھندلی ہوتی جارہی ہے۔ لوگوں کے درمیان اس کا جو پیغام جارہا ہے وہ بھی ظاہر ہے کہ ریاستی و قومی انتخابی سیاست میں اپوزیشن کی حیثیت کو کمزور کرنے سے ہی متعلق ہے۔اس رویہ سے لوگ ہی پریشان نہیں ہیں خود اتحاد میں شامل سیاستداں بھی حیرت کا اظہار کرتے رہتےہیں۔ اپوزیشن اتحاد میں شامل نیشنل کانفرنس کے لیڈر اور ریاست جموں وکشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نےبھی ماہ دسمبر کے شروع میں دئے گئے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ’ وہ(حکمراں اتحاد) ہر الیکشن ایسے لڑتے ہیں جیسے ان کی زندگی کا انحصار اسی پر ہو۔ہم(انڈیا الائنس) کبھی کبھی الیکشن ایسے لڑتے ہیں جیسے ہمیں کوئی پرواہ نہیںہے‘۔انہوں نے اپوزیشن اتحاد کے لائف سپورٹ پر ہونےاور داخلی رسہ کشی کی وجہ سے اس کے آئی سی یو میں جانےکے خدشہ کابھی اظہار کیا تھا۔ اپوزیشن اتحاد میں کون،کدھر اور کیوں جارہا ہے، مفادات کی سیاست سب کچھ بتا رہی ہے۔زبان پر حالات، حکمراں طبقہ کے نظریہ، اقدام پر تنقید اور ملک کے مستقبل کی باتیں ہوتی ہیں لیکن دل ودماغ اپنے اپنے مفادات اور دائرے کو وسیع کرنے پرہی لگے ہوئے ہیں۔ ایسے میں ملک کو درپیش مسائل اور بحران سے نکالنے کے دعوؤں اور اس میں لوگوں کو تن من دھن سے قربان ہوجانے کی دعوت پر سوالیہ نشان لگتا ہے۔ یہ کیفیت ملک کے شہریوں کو غور وفکر کی دعوت دیتی ہے ۔انتخابی سیاست کی بلاشبہ بہت اہمیت ہے۔اس میں سرگرم شرکت اور بہتر سے بہتر کے انتخاب کی کوشش بہت ضروری ہے ۔ لیکن سیاست زدہ ماحول کاہمہ وقت دل ودماغ پر طاری ہوجانا،انتخابی سیاست کا رنجش اور دشمنی کی حد کو چھولینا اچھا نہیں۔ نہ تو یہ ملک کےحق میں ہے اور نہ ہی شہریوں کے لئے صحت مند ہے۔ اس کی وجہ سے بد سے بدتر ہوتی معاشرتی زندگی ہمارے سامنے ہے۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ اس نفسیاتی کیفیت سے لوگوں کو نکالا جائے ، سماجی اصلاحات اور لوگوں کی فلاح وبہبود کی طرف سنجیدگی سے توجہ دی جائے۔اسی میں ملک ومعاشرے کی بھلائی ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔