از:- محمد قمر الزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ
برطانوی پارلیمنٹ میں لارڈ میکالے نے پریس گیلری میں بیٹھے اخباری نمائندوں اور پریس ریپوٹروں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا: کہ ،،وہاں جو اخبارات کے نمائندے بیٹھے ہوئے ہیں ،، وہ اقلیم کا چوتھا طبقہ ہیں،،
لارڈ میکالے نے مذکورہ بالا جملہ اس وقت کہا تھا ، جب جمہوریت کی بنیادیں جمہوری ملکوں میں مضبوط و مستحکم تھیں اور وہاں سیکولرزم کا بول بالا تھا، لوگ آمریت اور شہنشاہیت سے مایوس اور بددل ہوکر جمہوریت کی بحالی کو دنیائے انسانیت کے تحفظ و بقا کے لئے ناگزیر اور ضروری سمجھ رہے تھے ۔
اب اس وقت اکثر ممالک میں جمہوری نظام قائم ہے ، لیکن اس پر عمل داری نہیں ہے، یا بہت کم ہے، لارڈ میکالے آج ہوتے تو صحافت اور صحافی کو اقلیم کا چوتھا حصہ کہنے کے بجائے دوسرا حصہ کہتے ، چوں کہ موجودہ زمانے میں ملک و بیرون ملک جمہوریت دم توڑ رہی ہے اور دن بدن کمزور ہورہی ہے ۔ اگر اس وقت جموریت کی بحالی ہوسکتی ہےاور اس کی روح میں تازگی آسکتی ہے ، اس کا جاری زوال رک سکتا ہے تو صرف ایسی صحافت کے ذریعہ جو غیر جانب دار ہو اور جمہوریت کو ہمہ جہت موثر بنانے پر مکمل یقین رکھتی ہو ۔ (مستفاد از کتاب / من شاہ جہانم)
دوستو !
اس وقت پوری دنیا میں اسلام پر خود چو طرفہ حملہ ہے اور منظم یورش ہے اس میں بھی سب سے زیادہ رول اسی صحافت اور میڈیا کا ہے اور پوری کوشش ہورہی ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کردیا جائے اور خود نام نہاد مسلمانوں کو اسلام سے مزید متنفر کردیا جائے اور وہ خود اسلام کے بارے میں شک و شبہ میں پڑ جائیں ، اور ایسا ہونا شروع ہو چکا ہے ،ایک طبقہ مسلمانوں میں وہ پیدا ہوگیا ہے، جو خود اسلام کے خلاف آواز بلند کرنے لگے ہے اور ہر جگہ انہیں مسلمانوں کی ہی کمی اور غلطی معلوم ہوتی ہے، یہ سارا کھیل اور ماحول میڈیا کا بنایا ہوا ہے ۔
چونکہ تمام میڈیا اور ذرائع ابلاغ پر یہودیوں کا قبضہ ہے ،وہ جس خبر کو جس طرح چاہتے ہیں، پیش کرتے ہیں اور دل و دماغ پر بٹھا دیتے ہیں ۔
ذرائع ابلاغ اور یہودی میڈیا آج اسلام کو ایک دہشت پسند مذہب کی شکل میں پیش کرتا ہے ، اور اس شدت کیساتھ یہ مہم انجام دیتا ہے کہ مسلمان کا ایک طبقہ بھی اس متاثر ہو رہا ہے ۔
حضرت مولانا عبد الخالق صاحب مدراسی نائب مہتمم دار العلوم دیوبند نے ،،من شاہ جہانم،، نامی کتاب میں اپنے دعائیہ کلمات میں یہ لکھا ہے کہ ،، مجھ سے میرے ایک قاسمی دوست نے بتایا :
،،ایک دن میرا بیٹا جو انگلش میڈیم اسکول میں پڑھ رہا ہے ، کہنے لگا ابو ! اسلام تو ٹیررزم ہے اور داڑھی والے ٹیروسٹ ہیں، میں نے پوچھا بیٹے ! یہ تمہیں کیسے معلوم ہوا ، تو اس نے کہا کہ اخباروں میں پڑھتا ہوں ،، ۔
یہ ایک واقعہ نہیں اس طرح کے درجنوں واقعات پیش آچکے ہیں کہ خود علماء اور اہل علم کے بچے بھی میڈیا کے منفی پروپیگنڈہ سے متاثر ہو چکے ہیں اور ہو رہے ہیں ۔
صورت حال بہت نازک ہے ، اس لیے ضروری ہے کہ ہم غیر جانب دار صحافت کے لیے کوشاں ہوں اور اس کے لیے ہمہ جہت تیاری کریں اور زمانے کے فتنے کو زمانے کے اسلوب اور وسائل میں ختم کریں ، ہمارا ماضی تابندہ اور تابناک ہے تو اس وجہ سے کہ علماء اور اہل علم نے زمانے کے تقاضوں کو نظر انداز نہیں کیا ، زمانہ کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کی، اسلام کا اور دین کا دفاع عصری تقاضوں سے ہم آہنگ اسلامی اسلوب میں حکمت و دانائی کے ساتھ کیا ، اسلام دشمن عناصر جس طرح مسلح ہوکر اسلام پر حملہ آور ہوئے ہمارے اسلاف نے اسی انداز سے اس کا دفاع کیا ، جب امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کے دور میں فلسفہ سے اسلام پر حملہ اور شریعت پر یلغار ہوئی ، تو متکلمین یہ کہہ کر خاموش نہیں بیٹھ گئے کہ فلسفہ باطل ہے ، یہ دہریت اور لا دینیت پر مشتمل ہے اسلام اس کا مخالف ہے ، بلکہ اسلام کا دفاع کیا اور فلسفہ کا جواب فلسفہ سے دیا ، اور صرف جواب ہی نہیں دیا بلکہ منطق و فلسفہ کو بھی مسلمان بنا دیا ۔
یہ کہہ کر ہمارے لیے خاموش بیٹھنا جائز نہیں ہوگا،اور نہ ہم آخرت میں باز پرس سے بچ سکیں گے کہ ذرائع ابلاغ اور صحافت پر گندگی اور غلاظت کا دبیز پردہ پڑا ہوا ہے اور اخبارات و رسائل میں حوا کی بیٹیوں کی عریاں اور نیم عریاں تصویریں ہوتی ہیں ، آج کی صحافت بے حیائی کو فروغ دیتی ہے، اس لیے اس میں مشغولیت از راہ دین جائز نہیں بلکہ حرام ہے ،، محض نفرت اور کنارہ کشی اس کا علاج نہیں ہے ، بلکہ عملیت اور فعالیت سے کام لیتے ہوئے صحافت کو پاک و صاف اور غیر جانبدار بنانا یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے ۔ تب ہی اسلام کے خلاف غلط فہمییوں کا ازالہ ہوسکے گا اور اسلام کی نشر و اشاعت کی جاسکے گی اور اسلام پر ہونے والے حملوں کا دفاع بھی کیا جاسکے گا۔
اپنی نجی مجسلوں اور محفلوں میں بیٹھ کر صرف اظہار افسوس اور تبصروں سے کام نہیں چلے گا ،بلکہ عصری تقاضوں کو سمجھنا پڑے گا، اپنے مادی وسائل کا صحیح استعمال کرکے ذرائع ابلاغ پر اپنا حق جمانا ہوگا ،اس کی طاقت سے فائدہ اٹھانا ہوگا ، اس کے لیے صف اول کے علماء اور قائدین کو سامنے آنا ہوگا اور ہمارے جو نوجوان فارغین ہیں، جو سکنڈ لائن کہلاتے ہیں اور جن کو قلم و قرطاس کی طاقت سے قدرت نے نوازا ہے، ان کی ہر طرح معاونت کرنی ہوگی اور ان کو مضبوط کرنا ہوگا ۔
دوسری طرف ہمارے وہ فارغین مدارس جن کو صحافتی ذوق ہے ، قلم و قرطاس پر ماشاء اللہ ان کی مضبوط پکڑ ہے اور وہ اس شعر کے مصداق ہیں کہ
قلم گوید کہ من شاہ جہانم
قلم کش رابدولت می رسانم
ان کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ جذبات کی رو میں نہ بہئیں ، حالات کی نزاکت کو سمجھیں اور جمہوری ملک میں جمہوری انداز میں رہ کر ہی اپنے قلم اور اپنی زبان کا استعمال کریں، کیونکہ ہم جتنے کے مکلف ہیں اتنا ہی عمل اور ذمہ داری ہم پر فرض ہے ، یاد رہے کہ ہم ابھی اس ملک میں ایک طرح سے مکی دور سے گزر رہے ہیں، مکی زندگی دل کی زندگی ہے اور جب دل کی زندگی ہے، تو صبر و استقامت ، حوصلہ اور برداشت سے کام لینا ہوگا اور خاموشی اور حکمت کے ساتھ محنت کرنی ہوگی، ان شاءاللہ یہ دن اور یہ حالات بدلیں گے، کیونکہ عسر کے بعد یسر ہے بلکہ حدیث میں تو ایک سختی کے بعد دو آسانیاں آنے کا ذکر ہے ۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ملت کے لیے مفید بنائے اور جن کے اندر جیسی صلاحیت ہے، حکمت و دانائی کے ساتھ موقع و محل کی رعایت کرتے ہوئے ، اس کو استعمال کرکے دین کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے آمین یا رب العالمین