از:- سرفراز احمد قاسمی حیدر آباد
کچھ ماہ قبل تک اقتدار پر قابض لوگ زور و شور سے بیٹی بچاؤ،بیٹی پڑھاؤ کا نعرہ لگا رہے تھے،لیکن اب حالت یہ ہے کہ یہاں بیٹی بچائی جارہی ہے اور نہ ہی اسے پڑھایا جارہاہے،ہر دن کوئی آسا رام،رام رہیم یا کلدیپ سینگر جیسا حیوان نکل آتاہے یاکسی آشرم سے ایسی خبریں آتی رہتی ہیں،جہاں خواتین کی عصمت وعفت کو پامال کیا جاتاہے،ان کی عصمتوں کو تار تار کیاجاتا ہے،پچھلے دنوں کرناٹک کے ایک آشرم سے ایسی خبر آئی تھی جہاں سینکڑوں بیٹیوں کو غائب کردیا گیا، ملک کا قانون اتنا کمزور اور بے بس ہوتا ہے کہ ایسے لوگوں کا کچھ نہیں بگڑتا،اور ایسے لوگ بلا خوف وخطر آزاد گھومتے رہتے ہیں،حقیقت یہ ہے کہ ملک میں بیٹیاں محفوظ نہیں ہیں،یہاں بیٹیوں کا تحفظ نہیں ہورہا ہے اور نہ انہیں پڑھایا جا رہا ہے،انہیں تعلیم سے محروم کیا جارہا ہے اور آئے دن کوئی نہ کوئی درندہ انھیں اپنی ہوس کا شکار بنالیتا ہے،سپریم کورٹ نے پیر کے روز دہلی ہائی کورٹ کے اس حکم پر روک لگا دی،جس میں اناؤ ریپ کیس میں اتر پردیش کے سابق ایم ایل اے،کلدیپ سنگھ سینگر کی سزا معطل کرتے ہوئے انہیں ضمانت دی گئی تھی،یہ حکم دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کی جانب سے دائر کی گئی خصوصی درخواست ایس ایل پی پر سماعت کرتے ہوئے جاری کیا گیا،کیس کی سماعت چیف جسٹس سوریا کانت،جسٹس جے کے مہیشوری اور جسٹس اگیسٹین جارج مسیح پر مشتمل تعطیلاتی بینچ نے کی،چیف جسٹس سوریا کانت نے حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں قانون کے کئی اہم سوالات جڑے ہوئے ہیں،عدالت عظمی نے واضح کیا کہ عام طور پر ضمانت پر رہا ہونے والے شخص کی بات سنے بغیر اس کے حکم پر روک نہیں لگائی جاتی،لیکن اس کیس کے حقائق غیر معمولی ہیں،عدالت نے جواب داخل کرنے کے لیے چار ہفتے کا وقت دیا ہے،سی بی آئی نے 26 دسمبر 2025 کو ایک خصوصی درخواست دائر کی تھی،جس میں دہلی ہائی کورٹ کے 23 دسمبر کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا،ہائی کورٹ نے سینگر کی اپیل،زیر التوا رہنے کے دوران ان کی عمر قید کی سزا معطل کردی تھی،دسمبر 2019 میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے کلدیپ سینگر کو یوپی کے اناؤ ضلع میں ایک نابالغ لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کا مجرم قرار دیتے ہوئے 25 لاکھ روپے جرمانے کے ساتھ عمر قید کی سزا سنائی تھی،سینگر نے جنوری 2020 میں دہلی ہائی کورٹ میں اپنی سزا کے خلاف اپیل دائر کی تھی اور بعد ازاں مارچ 2022 میں سزا پر روک لگانے کی درخواست دی تھی،ہائی کورٹ نے 13 دسمبر کو اپنے حکم میں سزا معطل کرتے ہوئے کچھ شرائط کے ساتھ ضمانت دے دی تھی،تاہم سینگر ابھی بھی جیل میں ہی رہیں گے، کیونکہ وہ متاثرہ کے والد کے قتل یعنی غیر ارادی قتل سے متعلق ایک علیحدہ سی بی آئی کیس میں 10 سال کی سزا کاٹ رہے ہیں،عدالت عظمی کی جانب سے کلدیپ سنگھ سینگر کو دی گئی ضمانت پر روک لگائے جانے کے بعد متاثرہ لڑکی نے پیر کے روز اس کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کیا اور کہا کہ میرے والد کو اسی صورت میں انصاف مل سکے گا، ایک خبر رساں ادارہ آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے متاثرہ نے کہا کہ اس نے تاحال اپنے والد کی تیرہویں آخری رسومات ادا نہیں کی ہیں،انہوں نے کہا میرے والد کو 2018 میں قتل کردیا گیا تھا اور تب سے ان کی روح کو سکون نہیں ملا ہے،میرے والد کو سکون تبھی ملے گا جب قاتلوں اور عصمت ریزی کرنے والوں کو پھانسی دی جائے گی،صرف اسی صورت میں میرے والد کو انصاف ملے گا، عصمت ریزی مقدمہ کے علاوہ سینگر پر 2018 میں متاثرہ کے والد کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام بھی ہے،جس میں اسے قصوروار ٹھہرایا گیا اور سزا سنائی گئی تھی،سپریم کورٹ پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ نے کہا کہ اسے یقین ہے کہ آخر کار انصاف کی جیت ہوگی،انہوں نے کہا مجھے سپریم کورٹ پر بھروسہ ہے اور یہ اعتماد برقراررہے گا کہ عدالت انصاف فراہم کرے گی،مجھے نہیں معلوم کہ ضمانت دیتے وقت جج کے ذہن میں کیا چل رہا تھا،یہ صرف جج ہی جانتے ہیں کہ ان کے ساتھ کتنی ہمدردی دکھائی گئی،متاثرہ نے مزید کہا کہ ملزم کے ساتھ غیر ضروری نرمی برتی گئی،جبکہ متاثرہ کو مسلسل اذیت کا سامنا کرنا پڑا،انہوں نے کہا اتنی ہمدردی دکھائی گئی کہ جج نے اسے ضمانت دے دی، جبکہ متاثرہ اپنے گھر میں قید ہو کررہ گئی اور عصمت ریزی کرنے والے آزاد گھوم رہے ہیں،ملک میں قانون سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے،متاثرہ نے ان تمام افراد کا بھی شکریہ ادا کیا،جنہوں نے اس کی جدوجہد کے دوران اس کا ساتھ دیا،انہوں نے کہا میں ان سب لوگوں کی شکر گزار ہوں،جنہوں نے میری حمایت کی اور انصاف کی اس لڑائی میں میری مدد کی،اپنے عزم کو دہراتے ہوئے متاثرہ نے کہا مجھے سپریم کورٹ پر یقین تھا کہ انصاف ملے گا میری جدوجہد جاری ہے اور جاری رہے گی،میں اس مقدمے کو اس وقت تک لڑوں گی جب تک اس ملزم کو سزائے موت نہیں دی جاتی،صرف اسی صورت میں مجھے اور میرے والد کو انصاف ملے گا،ادھر متاثرہ کی والدہ نے بھی سپریم کورٹ کی مداخلت پر عدالت کا شکریہ ادا کیا،انہوں نے کہا میں سپریم کورٹ کی شکر گزار ہوں،عدالت نے خصوصی طور پر ہمارا مقدمہ سننے کے لیے کاروائی کی،جس کے لیے ہم بہت ممنون ہیں،میں انصاف فراہم کرنے پر سپریم کورٹ کا شکریہ ادا کرتی ہوں،سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ یقینا قابل ستائش ہے،حیرت انگیز طور پر اس معاملے میں عدالت عظمی نے ایکشن لیا اور ضمانت پر روک لگادی،ورنہ پچھلے کچھ سالوں سے ملک کی عدالتیں جس راستے پر چل پڑی ہیں ایسے میں عدالتی فیصلوں سے بہت حد تک لوگوں کا بھروسہ ختم ہوتا جارہاہے۔
دوسری جانب کچھ دنوں پہلے یہ خبر آئی تھی کہ جن ریاستوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے ان ریاستوں میں نابالغ لڑکیوں کے اغوا کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے،یہ اطلاع نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو( این سی آر بی) نے دی ہے،اعداد و شمار کے مطابق بی جے پی حکومت والی ریاستوں میں یومیہ اوسطا 60 سے زائد لڑکیوں کو اغوا کیا جاتا ہے،جس سے ان علاقوں میں بچیوں کے تحفظ کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا ہوتے ہیں،اعداد و شمار کے مطابق 2023 میں صرف تین بی جے پی برسر اقتدار ریاستوں،اتر پردیش،مہاراشٹر اور مدھیہ پردیش میں نابالغ لڑکیوں کے اغوا کے 25 ہزار سے زیادہ کیس درج کیے گئے ہیں،اس کے برعکس کیرلا،تمل ناڈو،پنجاب اور جھارکھنڈ جیسی غیر بی جے پی حکمرانی والی ریاستوں میں اغوا کی مجموعی تعداد نمایاں طور پر کم تھی،جن کی کل تعداد صرف 2200 کے لگ بھگ تھی،رپورٹ کے مطابق مہاراشٹر،جس پر بی جے پی کی قیادت والی مہایوتی اتحاد کی حکومت ہے،وہاں بچوں کے اغوا کے 13150 واقعات درج ہوئے، جن میں سے 9850 لڑکیاں تھیں،مدھیہ پردیش میں لڑکیوں کے نو ہزار 31 کیس درج کیے گئے، جبکہ بہار میں 5485 کیس درج ہوئے،اس کے مقابلے تملناڈو میں 161 کیرالہ میں 155 اور پنجاب میں 1329 کیس رپورٹ ہوئے،این سی آر بی کے مطابق یہ جرائم انڈین پینل کوڈ آئی پی سی کے مختلف دفعات کے تحت آتے ہیں،جن میں دفعہ 363(اغوا) 365 (غلط طریقے سے قید) 366(شادی کے لیے اغوا) اور 369(چوری کے ارادے سے 10 سال سے کم عمر کے بچوں کا اغوا) شامل ہیں اور یہ سلسلہ ہرسال بڑھتا جارہا ہے۔جو یقینا تشویشناک ہے، 2022 اور 2023 کے درمیان بی جے پی حکومت والی بڑی ریاستوں میں اغوا کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا،اتر پردیش میں 401 بہار میں 2,489 مہاراشٹر میں 846 مدھیہ پردیش میں 1,359 اور راجستھان میں ایک ہزار 58 کیس رپورٹ ہوئے،خاص طور پر اتر پردیش میں پچھلے سال کے مقابلے میں تقریبا دو گنا اضافہ ہوا ہے،سوال یہ ہے کہ آخر ان واقعات کا ذمہ دار کون ہے؟ اور کیا ملک میں بیٹیاں محفوظ ہیں؟ بیٹیوں کے تحفظ میں حکومت اور ایجنسیاں ناکام کیوں ہیں؟ اور بی جے ریاستوں میں ایسے واقعات میں اضافہ کیوں ہورہا ہے؟ کیا یہ تشویش کی بات نہیں ہے؟ ملک بھر کی جن ریاستوں میں بی جے پی برسر اقتدار ہے،وہاں نابالغ لڑکیوں کے اغوا کے واقعات میں شدید اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے یہ معلومات مرکزی وزیر داخلہ کے ادارے این سی آر بی یعنی نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو نے دی ہے۔ پھر اس معاملے میں حکومت کی ذمہ داری کیا ہے؟ کیا یہ اعداد و شمار بی جے پی کی دیرینہ’ بیٹی بچاؤ،بیٹی پڑھاؤ’ مہم سے متصادم نہیں ہیں؟ جس کا مقصد لڑکیوں کو تحفظ فراہم کرنا اور انھیں با اختیار بنانا ہے،اگرچہ کہ اس طرح کے واقعات میں اضافے کے پیچھے مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں،خواتین کے تحفظ کےلئے کام کرنی والی تنظیمیں، کارکنان اور اپوزیشن رہنما لڑکیوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے فوری پالیسی پر توجہ دینے،بہتر پولیسنگ اور کمیونٹی کی سطح پر مداخلت کا مطالبہ کررہے ہیں،خاص طور پر حساس علاقوں میں،حکومت کو ان مطالبات پر فوری اثر کے ساتھ اقدام کرنا چاہئے اور ان مطالبات کو قبول کرنا چاہئے،تاکہ بچیوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے۔
بیٹیوں کی حفاظت ان کی تربیت اور نگہداشت کے بارے میں اسلام نے بھی بڑی اہم اور رہنما ہدایات جاری کی ہیں،اسے ایک دینی فریضہ اور عبادت بتلایا ہے،لڑکیوں کا تحفظ اس امت کی غیرت وحمیت کا معیار ہے،آج ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جس میں فتنوں کی بہتات اور یلغار ہے،وقت کی رفتار وہی ہے مگر اس کی دھڑکنیں بدل گئی ہیں، گھر محفوظ نہیں رہے،گلیاں بے حس ہو گئی،محلے ذمہ داری سے خالی ہو گئے اور سوشل میڈیا کے بے ہنگم طوفان نے پردہ چاک کرنے والے ہزاروں دروازے کھول دیے ہیں، ایسے میں بیٹیوں کی حفاظت محض ایک سماجی تقاضا نہیں،یہ ایک شرعی ذمہ داری،ایک ایمانی امتحان اور ایک اجتماعی فرض کفایہ ہے،قران کریم ہمیں متنبہ کرتا ہے کہ اے ایمان والو،بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے،یہ آیت ہمیں جھنجھوڑ رہی ہے اور راستہ بتارہی ہے کہ اپنی بیٹیوں کے قدموں کو سنبھالو،ان کے دلوں کو علم و اخلاق کی روشنی سے منور کرو،ان کی حفاظت کو صرف دروازوں اور تالوں تک محدود نہ رکھو بلکہ ان کے کردار،سوچ،اعتماد اور بصیرت کے اطراف ایسی فصیل بنا دو جسے کوئی فریب، کوئی دھوکہ،کسی کی اندھی محبت اور کوئی زہریلی چمک اسے اچک نہ سکے،ملت اسلامیہ کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بیٹیاں محفوظ رہیں تو نسلیں محفوظ رہیں،جب بیٹیاں باحیا، باشعور اور با اعتماد ہوئیں تو قوم طاقتور،باوقار اور فکری اعتبار سے روشن ہوئی،اور جب بیٹیوں کی حفاظت میں غفلت ہوئی تو قوم زوال کی طرف بڑھتی چلی گئی،آج ہمارا زوال بھی ہماری انکھوں کے سامنے ہے،اس لئے خدارا! اپنی بیٹیوں کو اللہ کی دی ہوئی امانت سمجھ کر،ان کی حفاظت،تربیت رہنمائی اور اخلاقی حصار کے لیے نئے عزم اور نئے جذبے کے ساتھ کھڑے ہوں،ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں،جہاں بیٹیوں کی حفاظت کے نام پر صرف نعرے بازی، بیانات، افسوس اور رسمی تعزیتیں باقی رہ گئی ہیں مگر عملی اقدام،اجتماعی غیرت اور مضبوط حکمت عملی عنقا ہوتی جارہی ہے، خطرے کی گھنٹیاں مدتوں سے بج رہی ہیں زور سے مسلسل بے رحمی کے ساتھ لیکن ہمارے دلوں اور سماجی ضمیروں پر جیسے کوئی پتھر رکھ دیا گیا ہو،یہ ہمارے گھروں،خاندانوں،بستیوں اور تعلیمی اداروں کے بیچ بڑھتی ہوئی اندھی کھائی کی خبر دیتی ہے یہ اس ٹوٹے ہوئے رشتے کی گواہ ہے،جسے کبھی ہم نے تربیت، نگرانی،شفقت اور اخلاقی رہنمائی کے مضبوط دھاگوں سے باندھا تھا،ہماری بے جا مصروفیات سے افراتفری پھیل رہی ہے، بچیوں کی ایک بڑی تعداد اپنے دین وایمان سے ہاتھ دھوکر ارتداد کا شکار ہورہی ہیں،وہ ہمارے منتشر نظام تربیت سے گم ہوتی جا رہی ہیں،نوجوان نسل اس تیز رفتار ڈیجیٹل طوفان میں اپنی معصومیت، اعتماد اور حساسیت کھو رہی ہے،وہ نسل جس کے ہاتھوں میں ہم نے اسمارٹ فون تو پکڑا دیا مگر ان ہاتھوں کو زندگی کی سمت دینے والی رہنمائی نہیں دی،ان کے لیے ہم نے آسائشیں تو جمع کی مگر حفاظت اور شعور کے قلعے تعمیر نہ کر سکے،اب خاموش رہنا جرم ہے،ابھی بھی وقت ہے کہ ہم ہوش کے ناخن لیں،ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ بیٹیوں کا تحفظ صرف چوکیداروں یا پولیس کی ذمہ داری نہیں یہ ماں کی انکھوں کا نور،باپ کے اعتماد،اساتذہ کی رہنمائی، سماج و معاشرے کے ماحول اور سوشل میڈیا کے اثرات ان سب کی مشترکہ امانت ہے،انسانی معاشروں کی بقا،انکی عزت،انکے اخلاق اور ان کے مستقبل کا دار و مدار نسلوں کی حفاظت اور ان کی صحیح تربیت پر ہے اور انہی نسلوں میں سب سے زیادہ قیمتی سب سے زیادہ نازک اور سب سے زیادہ ذمہ داری مانگنے والی امانت بیٹیاں ہیں،شاید اسی لیے رحمت للعالمین،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا’ جس نے دو بیٹیوں کی پرورش کی،انھیں ادب سکھایا،ان پر شفقت کی اور ان کی ذمہ داری نبھائی تو وہ قیامت کے دن میرے ساتھ ہوگا۔