بنگلہ دیش کے نام پر بھارت میں نفرت کا کاروبار

از قلم: عارف حسین، ایڈیٹر سیل رواں

سوچئے ذرا! اگر بنگلہ دیش میں ہندوؤں پر ظلم ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے تو اس کا انتقام بھارت کے مسلمانوں سے کیوں لیا جا رہا ہے؟ کیا جغرافیہ بدل جانے سے جرم کا بوجھ بھی منتقل ہو جاتا ہے؟ یہ کیسی دلیل ہے، کیسا انصاف ہے، اور کیسی اخلاقیات ہیں جو سرحد پار کے واقعات کا بدلہ اپنے ہی ملک کے شہریوں سے لینے پر اتر آتی ہیں؟ یہ سوچنے کی بات ہے کہ ایک ملک میں ہونے والے مبینہ مظالم کا جواب دوسرے ملک کے اقلیتی طبقے سے طلب کرنا کیسے جائز ہو سکتا ہے؟ یہ طرزِ فکر نہ صرف منطق کی نفی ہے بلکہ انسانی حقوق اور بنیادی انصاف کے اصولوں کی بھی صریح خلاف ورزی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایسے اقدامات معاشروں کو تقسیم کرتے ہیں اور نفرت کی زنجیریں مزید مضبوط کرتے ہیں، جو بالآخر سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں۔

حالیہ دنوں میں شاہ رخ خان کی کرکٹ ٹیم میں بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کی شمولیت پر جس طرح کی زبان استعمال کی گئی، وہ محض وقتی غصے کا اظہار نہیں بلکہ ایک منظم نفرتی ذہنیت کی عکاس ہے۔ زبان کاٹنے جیسی دھمکیاں دی گئیں، حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ بانٹے گئے، اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ قوم پرستی کا واحد معیار مسلمانوں کو نشانہ بنانا ہے۔ سوشل میڈیا پر یہ تنازع اس قدر پھیل گیا کہ معاملہ قومی سطح کی بحث بن گیا اور شاہ رخ خان کی وفاداری کو سوالیہ نشان بنا دیا گیا۔

حالانکہ یہ حقیقت فراموش کر دی گئی کہ شاہ رخ خان ایک اداکار کے ساتھ ساتھ ایک کاروباری شخصیت اور ٹیم کے مالک ہیں۔ ان کی ٹیم میں غیر ملکی کھلاڑیوں کی شمولیت کوئی انہونی بات نہیں بلکہ آئی پی ایل جیسی لیگز کا معمول ہے۔ کھیل اور تفریح کے میدان میں نفرت اور مذہب کو گھسیٹ لانا ایک خطرناک رجحان ہے، جو نہ صرف افراد بلکہ پوری کمیونٹی کو کٹہرے میں لا کھڑا کرتا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ نفرت کی سیاست اب کھیلوں جیسے غیر سیاسی شعبوں تک بھی در آئی ہے، جہاں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے تھی۔

مگر اس تمام شور شرابے میں ایک بنیادی سوال پوری طرح غائب ہے: آخر کرکٹ ٹیموں میں غیر ملکی کھلاڑیوں کی اجازت دینے کا اختیار کس کے پاس ہے؟ کیا یہ فیصلہ کسی اداکار کی ذاتی خواہش پر ہوتا ہے یا اس کے پیچھے باقاعدہ ادارہ جاتی منظوری، بی سی سی آئی کے ضوابط اور حکومتی سرپرستی کارفرما ہوتی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام فیصلے اسی نظام کے تحت ہوتے ہیں جو آج اقتدار میں ہے، اور جس پر امت شاہ جیسے طاقتور سیاسی چہروں کا اثر و رسوخ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ بی سی سی آئی، جو بھارتی کرکٹ کا سب سے بڑا ادارہ ہے، اس کی پالیسیاں بھی بالواسطہ طور پر حکومتی نگرانی میں تشکیل پاتی ہیں۔

اگر واقعی بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کی شمولیت مسئلہ ہے تو سوال بی سی سی آئی سے ہونا چاہیے، حکومت سے ہونا چاہیے اور ان سیاسی ذمہ داران سے ہونا چاہیے جو اس پورے نظام کو چلا رہے ہیں۔ مگر افسوس کہ ایسا نہیں ہوتا۔ اس کے بجائے نشانہ ایک ایسے فرد کو بنایا جاتا ہے جو سیاسی اعتبار سے کمزور ہے۔ یہی دوہرا معیار ہے، جو نہ صرف کرکٹ بلکہ دیگر شعبوں میں بھی صاف نظر آتا ہے، جہاں طاقتوروں کو چھوٹ اور کمزوروں کو سزا ملتی ہے۔

یہی رویہ معاشی محاذ پر بھی پوری طرح بے نقاب ہو جاتا ہے۔ بنگلہ دیش کو بجلی سپلائی کرنے والی کمپنی "اڈانی گروپ” ہے، جو سرحد پار اربوں روپے کے کاروباری مفادات سمیٹ رہا ہے۔ مگر نام نہاد ہندو پریم وہاں دکھائی نہیں دیتا۔ نہ بائیکاٹ کی اپیل، نہ دیش بھکتی کے نعرے، نہ سوشل میڈیا پر غصے کا اظہار۔ کیونکہ وہاں سرمایہ ہے، طاقت ہے اور اقتدار کے ساتھ مضبوط تعلق ہے۔ سوال صرف وہاں اٹھتے ہیں جہاں جواب دینا آسان ہو، اور ہدف کمزور ہو۔

یہ دوہرا رویہ صرف معیشت یا کھیل تک محدود نہیں بلکہ میڈیا میں بھی پوری طرح جھلکتا ہے۔ میڈیا، جسے جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے، اکثر ایسے معاملات کو مذہبی رنگ دے کر پیش کرتا ہے، جبکہ طاقتور کارپوریٹ یا سیاسی حلقوں کے خلاف خاموشی اختیار کر لیتا ہے۔ کسی مسلمان شخصیت سے متعلق معمولی واقعہ بھی دن رات اچھالا جاتا ہے، مگر بڑے سرمایہ داروں اور حکمران طبقے کے معاملات میں یہی میڈیا احتیاط کا لبادہ اوڑھ لیتا ہے۔ یہ طرزِ عمل نفرت کی سیاست کو مزید تقویت دیتا ہے۔

اس پورے منظرنامے میں یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ مسئلہ نہ بنگلہ دیش ہے اور نہ ہی ہندوؤں کی حقیقی خیر خواہی۔ اصل مسئلہ نفرت کی وہ سیاست ہے جو ہر بار ایک آسان ہدف تلاش کرتی ہے، اور وہ ہدف عموماً بھارت کا مسلمان ہوتا ہے۔ اس کی حب الوطنی مشکوک ٹھہرائی جاتی ہے، اسے گالی دی جاتی ہے، کیونکہ اس کے پاس نہ اقتدار ہے، نہ سرمایہ، نہ طاقتور میڈیا۔

یہ نفرت وقتی سیاسی فائدہ تو دے سکتی ہے، مگر ملک کے سماجی تانے بانے کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ اگر آج بھی دوہرے معیار کو بے نقاب نہ کیا گیا تو کل یہ آگ کسی ایک طبقے تک محدود نہیں رہے گی۔ نفرت کو جب کھلی چھوٹ ملتی ہے تو وہ آخرکار سب کو جلا ڈالتی ہے—یہ تاریخ کا اٹل سبق ہے۔ بھارت جیسے جمہوری اور کثیرالثقافتی ملک کے لیے یہی وقت ہے کہ وہ اس سبق کو سمجھے، ورنہ نقصان صرف اقلیتوں کا نہیں، پورے ملک کا ہوگا۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔