از:- محمد علم اللہ( لندن )
قومیں محض جغرافیائی حدود، مشترکہ زبان یا آبادی کی بنیاد پر نہیں بنتیں بلکہ ایک مخصوص اجتماعی نفسیات، فکری روایت اور مشترکہ شعور سے تشکیل پاتی ہیں، یہ نفسیات ہی قوم کی شناخت، اس کی ترقی اور اس کے زوال کا تعین کرتی ہے،۔جب کسی قوم کی نفسیاتی ساخت میں تنقیدی سوچ اور منطقی استدلال پرتقلید اور اندھی عقیدت حاوی ہو جائے، اور تنقید کی بجائے بے جا محبت عام ہو جائے تو وہ قوم آہستہ آہستہ ہیرو ورشپ یعنی شخصیت پرستی کی لپیٹ میں آ جاتی ہ۔یہ رجحان بظاہر احترام، وفاداری اور جذبہ خلوص سے شروع ہوتا ہے مگر فی الحقیقت یہ ذہنی غلامی، فکری جمود اور اجتماعی زوال کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔بدقسمتی سے ہندوستانی مسلمان اس نفسیاتی بیماری کے شدید شکار ہیں اور المیہ یہ ہے کہ سیاسی، مذہبی اور سماجی رہنما اسے کم کرنے کے بجائے دانستہ یا نادانستہ طور پر مزید بڑھاوا دے رہے ہیں۔ہندوستان کی کل آبادی کا تقریباً پندرہ فیصد حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے، یعنی تقریباً بیس کروڑ افراد ایک ایسی برادری کی نمائندگی کرتے ہیں جو آزادی کے بعد سے مسلسل سماجی، معاشی اور سیاسی چیلنجوں سے نبردآزما ہے۔ سچر کمیٹی کی رپورٹ اور منڈل کمیشن کی تحقیق سے یہ بات واضح طور پر ثابت ہو گئی کہ مسلمانوں کی تعلیمی شرح، روزگار کے مواقع اور سیاسی نمائندگی دیگر برادریوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔
ان تلخ حقائق کے پس منظر میں ایک نفسیاتی رجحان جو ملت کی ترقی کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا رہا ہے، وہ ہیرو ورشپ کی نفسیات ہے۔ حالانکہ یہ رجحان صرف ہندوستانی مسلمانوں تک محدود نہیں بلکہ پورے ہندوستانی معاشرے میں پایا جاتا ہے لیکن مسلمان اس کے کچھ زیادہ ہی شکار ہیں ۔ ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے آئین ساز اسمبلی میں اپنی تاریخی اورآخری تقریر (25 نومبر 1949) میں خبردار کیا تھا کہ سیاست میں بھکتی یا ہیرو ورشپ تباہی اور غلامی کی راہ ہموار کرتی ہے اور آمریت کی بنیاد بنتی ہے۔ آج یہ انتباہ ہندوستانی مسلمانوں پر حرف بہ حرف صادق آتا نظر آتا ہے۔ مشہور سوئس ماہرنفسیات کارل گسٹاو جنگ نے اس رجحان کو ’’ہیرو آرکی ٹائپ‘‘ کا نام دیا ہے، جس کے مطابق لوگ ایک مثالی شخصیت سے اپنی تمام امیدیں وابستہ کرلیتے ہیں اور اپنی دبی ہوئی خواہشات اور اور کمزوریاں اس میں دیکھنے لگتے ہیں۔ امریکی ماہرین نفسیات سکاٹ ایلیسن اور جارج گوتھلز نے اپنی کتاب Heroes: What They Do and Why We Need Them (2011) میں پیش کی گئی اپنی تحقیق میں ثابت کیا ہے کہ ہیرو ورشپ انسانی نفسیات کی تین بنیادی ضروریات پوری کرتی ہے: امید کا احساس، تحفظ کی ضمانت اور اخلاقی رہنمائی۔ جب کوئی قوم بحران اور عدم تحفظ کی کیفیت میں ہو تو یہ رجحان تیزی سے پھیلتا ہے اور لوگ کسی ایک شخص کو اپنا نجات دہندہ سمجھ بیٹھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: تحقیقی فکر کا زوال عہد حاضر کا المیہ
ہندوستانی مسلمانوں کے لیے موجودہ دور ایک مسلسل بحران کا دور ہے۔سی اے اے، این آر سی، یو اے پی اے، وقف اور طلاق بل جیسے متنازع قوانین، لنچنگ کے بڑھتے واقعات اور ہندوتوا کی سیاست نے ملت کو ایک مستقل دفاعی اور خوفزدہ پوزیشن میں دھکیل دیا ہے۔ ایسی صورتحال میں زبانی جمع خرچ میں ماہر، جذباتی تقریروں کا ہنر جاننے والا کوئی بھی شخص آسانی سے ہیرو بن جاتا ہے۔ نفسیاتی تاریخ میں اس کی متعدد مثالیں ملتی ہیں ۔ نازی جرمنی میں ایڈولف ہٹلر کی شخصیت کی پرستش ایک کلاسیکی مثال ہے۔ بیسویں صدی میں جوزف اسٹالن، ماؤ زے تنگ اور بینیٹو مسولینی جیسے رہنما اسی نفسیات کا نتیجہ تھے۔ ان رہنماؤں کے گرد ایسی تقدیس پیدا کر دی گئی کہ ان کی پالیسیوں پر سوال اٹھانا غداری اور کفر کے مترادف ٹھہرا۔ میڈیا، تعلیمی ادارے اور تاریخی بیانیہ سب کو اس شخصیت پرستی کے تابع کر دیا گیا۔ لاکھوں انسانی جانیں ضائع ہوئیں، مگر قوموں کو برسوں بعد جا کر احساس ہوا کہ جسے وہ نجات دہندہ سمجھ رہے تھے، وہ دراصل تباہی کا معمار تھا۔
مشہور ماہر نفسیات ایرک فروم کی کتاب The Fear of Freedom (1941) میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے کہ ورسائی معاہدے کی ذلت، معاشی تباہی اور اجتماعی خوف نے جرمن قوم کو ایک نجات دہندہ کی طرف دھکیلا، جس کے نتیجے میں تنقیدی سوچ کا خاتمہ ہوا اور آمریت قائم ہو گئی۔ حالانکہ یہ رجحان ہمارے یہاں بالکل نیا ہو، بلکہ آزادی کی تحریک کے دوران ہی اس کی جڑیں مضبوط ہو چکی تھیں۔ ایک طرف جمعیۃ علماء ہند کے مولانا حسین احمد مدنی اور مولانا ابوالکلام آزاد متحدہ ہندوستان کے پرجوش حامی تھے، جبکہ دوسری طرف مسلم لیگ نے محمد علی جناح کو ’’قائد اعظم‘‘ بنا کر ان کی اندھی تقلید اور شخصیت پرستی کی شروعات کی ۔ اس ہیرو ورشپ نے پاکستان تو بنوادیا مگر ہندوستانی مسلمانوں سے تقسیم کی نہایت لرزہ خیز قیمت وصول کی۔ نہ یہ کہ مسلمانوں کو اس وقت فسادات، نقل مکانی ، عورتوں کو عصمت دری اور اغوا جیسے مظالم کا سامنا کرنا پرا بلکہ یہ غلطی یہاں رہ جانے والوں اور ان کی آئندہ نسلوں کو ان مظالم کی چکی میں پستے رہنے کا ایک خوفناک ورثہ بھی دے گئی اور خوف اورانہیں عدم تحفظ کی کیفیت میں رہتے رہنے پر مجبور کردیا۔ بڑے پیمانے پ ۔ اسی طرح دوسری جانب مولانا محمود حسن دیوبندی کو ’’شیخ الہند‘‘ اور مولانا حسین احمد مدنی کو شیخ الاسلام کہہ کر ان کی پرستش کی گئی۔ ۔ آزادی کے بعد کانگریس نے مسلمانوں کو محض ووٹ بینک سمجھ کر استعمال کیا اور مولانا ابوالکلام آزاد کو وزارت تعلیم دے کر ان پر اور مسلمانان ہند پر بہت بڑا احسان کردیا گیا مگر مسلم مسائل پر کوئی ٹھوس کام نہیں ہوا اور وہ نہرو-گاندھی خاندان کی سیاست کا ایک حصہ بن کر رہ گئے۔
یہ بھی پڑھیں: صومالی لینڈ کی اسرائیلی توثیق ایک گہری سازش
ساٹھ اور ستر کی دہائیوں سے لے کر نوے کی دہائی تک صورتحال میں زیادہ تبدیلی نہ آئی۔ شاہ بانو کیس (1985) نے مسلم پرسنل لا بورڈ کے بعض علماء کو شریعت کا محافظ بنا دیا؛ راجیو گاندھی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو پلٹ کر قانون تبدیل کردیا اور معصوم ملت نے اسے علماء کی فتح قرار دیامگر یہ چال ہندوستانی مسلمانوں کے آئینی حقوق کے جنازے میں ایک اور کیل ثابت ہوئی۔ بابری مسجد کی تحریک کے دوران سید شہاب الدین اور دیگر لیڈروں کو مسلم حقوق کا ہیرو بنا دیا گیا۔ 1992 میں مسجد کی شہادت کے بعد یہ لیڈر عملی طور پر ناکام ثابت ہوئے، مگر ان کی پرستش میں کوئی کمی نہ آئی۔ اس عرصے میں کانگریس کی ووٹ بینک سیاست عروج پر رہی؛ مسلمانوں کو ہمیشہ بی جے پی کے خوف سے ڈرایا جاتا رہا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمانوں نے کانگریس کو مسلسل ووٹ تو دیے مگر ان کی تعلیمی، معاشی اور سماجی ترقی نہ ہو سکی۔
2014کے بعد صورتحال نے ایک نیا اور پیچیدہ موڑ لیا۔ ایک طرف بی جے پی کی سیاست میں نریندر مودی کو ایک ہندو یودھا اور ہندوؤں کے مسیحا کے طور پر پیش کیا گیا ، دوسری طرف ملت میں ردعمل کے طور پر نئے لیڈر ابھرے۔ اسد الدین اویسی اور ان کی جماعت آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) اس کی سب سے واضح مثال ہیں۔ بہت سے مسلمان انہیں ’’شیر دکن‘‘ یا مسلمانوں کی ’’واحد توانا آواز‘‘ قرار دیتے تے ہیں اور پارلیمنٹ میں ان کا جارحانہ انداز عوام کو پسند آتا ہے۔ مگر ان کی پارٹی چند سیٹوں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اس کے پاس مسلم مسائل کا کوئی بنیادی اور دیرپا حل بھی نہیں ہے۔۔ جمعیۃ علماء ہند اور دیگر دینی تنظیمیں بھی اسی راستے پر گامزن ہیں جن میں بعض علماء کو’’حضرت‘‘کہہ کر تقریباً معصوم سمجھا جاتا ہے۔ ملت کی ان ’’پاکباز‘‘ ہستیوں کی تمام تر توجہ صبر، قناعت اور آخرت کی فکر پر ہے مگر دنیاوی خود انحصاری، جدید تعلیم اور معاشی ترقی سے انہیں کوئی سروکار نہیں کیونکہ ان کی فکر کے مطابق مسلما ن دین پر چلنا شروع کردیں گے تو ان کے تمام مسائل خود بخود حل ہوتے چلے جائیں گے۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر نوجوان انفلوئنسر ’’مسلم پرائیڈ‘‘اور ’’مسلم پاور‘‘کے نعرے لگا رہے ہیں۔ یہ سب جذباتی سیاست ہے جو ہندوتوا کے مقابلے میں ردعمل تو ہے مگر ملت کو مزید الگ تھلگ اور دفاعی پوزیشن میں دھکیل رہی ہے۔
نفسیاتی طور پر یہ کیفیت ’’اجتماعی ذہنی نا پختگی‘‘(collective immaturity) کہلاتی ہے۔ بالغ اور ترقی یافتہ معاشرے اپنے رہنماؤں سے سوال کرتے ہیں، اختلاف رائے برداشت کرتے ہیں اور لیڈروں کو جواب دہ بناتے ہیں۔ نابالغ معاشرے اپنے رہنماؤں کو غیبی علم اور غیبی صلاحیتوں والا، نجات دہندہ یا مسیحا سمجھ لیتے ہیں۔ ہندوستانی مسلمانوں میں بھی یہی ہو رہا ہے۔ سیاسی ناکامیوں، معاشی بحرانوں اور سماجی ناانصافیوں کے باوجود رہنماؤں سے سوال کرنے کے بجائے عوام اپنی مایوسی اور غصے کو مخالف برادریوں یا خیالی بیرونی سازشوں پر ڈال دیتی ہے۔ یہ طرز فکر کسی بھی قوم اور ملت کو حقیقی مسائل سے لڑنے کے بجائے خیالی دشمنوں کی جنگ میں الجھا کر رکھ دیتا ہے۔
یہاں شخصیت کو سوال سے بالاتر بنانے کے لیے مذہب، قوم پرستی، تاریخی بیانیہ اور جذبات سب کو بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔ رہنما خود کو محض عوامی نمائندہ نہیں بلکہ ملت کی تقدیر کا واحد محافظ اور نجات دہندہ بنا کر پیش کرتے ہیں۔ ان کی تقاریر میں منطقی دلیل اور وضاحت کم اور جذباتی نعرے اور ابھار زیادہ ہوتا ہے۔ تعلیمی کمزوری، معاشی دباؤ اور سماجی عدم تحفظ کےشکار عوام اس بیانیے کو سہارا سمجھ کر فوراً قبول کر لیتے ہیں ۔۔ میڈیا اور خصوصاً سوشل میڈیا نے اس نفسیات کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ آج ایک رہنما کی ہر بات کا مختصر کلپ وائرل ہو جاتا ہے، ہر جملے کو دانشمندی، ہر خاموشی کو گہری حکمت اور ہر غلطی کو سیاسی چال قرار دے دیا جاتا ہے۔ جو شخص بھی تنقید یا سوال کرے، وہ فوراً دشمن، ایجنٹ یا غدار ٹھہرایا جاتا ہے۔ اس ماحول میں سچ اور جھوٹ، درست اور غلط کی تمیز دھندلا جاتی ہے۔ فرد خود سوچنے اور تجزیہ کرنے کے بجائے اِن’’ مقدس ‘‘ شخصیات کی ہر بات پر آنکھیں بند کر کے ’’آمنا صدقنا‘‘ کہہ کر اس پر عمل کرنا دینی فریضے سے کم تصور نہیں کرتے۔
اس سے قوم کو وقتی طور پر طاقت اور فخر کا احساس تو ملتا ہے مگر طویل مدت میں وہ اپنے بنائے ہوئے بت تلے دب جاتی ہے۔ موجودہ رہنما اس نفسیات سے خوب واقف ہیں؛ وہ جانتے ہیں کہ تنقیدی سوچ رکھنے والی قوم کو قابو میں رکھنا مشکل ہے، مگر عقیدت میں مبتلا قوم کو نعروں سے چلایا جا سکتا ہے۔ اسی لیے وہ خود احتسابی، شفافیت اور مکالمے کے بجائے ہیرو ورشپ کو فروغ دیتے ہیں۔قوموں کی تاریخ گواہ ہے کہ عوام ایک نہ ایک دن ہیرو ورشپ کے طلسم سے آزاد ہوتے ہیں ے، مگراس وقت تک اکثر نقصان ناقابل تلافی ہو چکا ہوتا ہے۔ قدیم تاریخ میں مصر کے فرعونوں کو خدا کا سایہ سمجھا جاتا تھا اور رومی سلطنت میں قیصر کو الٰہ بنا دیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ادارے کمزور ہوئے، احتساب ختم ہوا اور عظیم سلطنتیں اندر سے کھوکھلی ہو کر گر گئیں۔ تاریخ بار بار سبق دیتی ہے کہ جب فرد ادارے پر غالب آ جائے تو زوال ناگزیر ہے۔
ہندوستانی مسلمان ایک عظیم الشان تاریخ، بھرپور ثقافت اور غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ سر سید احمد خان کی تعلیمی انقلاب، علامہ اقبال کی فکری بیداری، مولانا ابوالکلام آزاد کی علمی خدمات سے لے کر آج کے ہزاروں مسلمان سائنسدانوں، ڈاکٹروں، انجینئروں، پروفیسروں اور کامیاب کاروباری افراد تک یہ ملت اپنی صلاحیتوں کی زندہ مثالیں پیش کرتی ہے۔ انہیں کسی ایک ہیرو کی ضرورت نہیں بلکہ اجتماعی بیداری، مشترکہ کوشش اور ادارہ سازی کی ضرورت ہے۔ اگر وہ شخصیت پرستی سے نکل آئیں تو نہ صرف اپنی سماجی، معاشی اور تعلیمی ترقی کریں گے بلکہ ہندوستان کی جمہوریت اور مجموعی ترقی میں بھی کلیدی کردار ادا کریں گے۔اس صورتحال سے نکلنے کا واحد راستہ فکری بیداری، تنقیدی شعور اور ادارہ سازی ہے۔ ملت کو سمجھنا ہوگا کہ رہنما انسان ہیں ان سے غلطیاں اور ناکامیاں ہو سکتی ہیں، اسی لیے سوال، تنقید اور احتساب ضروری ہے۔ احترام اور احتساب ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ صحت مند معاشرے کی بنیادیں ہیں۔ شخصیت پرستی کے بجائے اصولوں کی پاسداری، نعروں کے بجائے منطقی دلیل اور اندھی عقیدت کے بجائے بیدار شعور کو ترجیح دی جائے۔
اس لیے ہمیں ہیرو ورشپ چھوڑ کرجن کاموں پر سنجیدیگی کے ساتھ توجہ دینی چاہئے ان میں سے چند یہ ہیں: اداروں کی تعمیر ،، تعلیم کو اولین ترجیح بنانا تعلیمی اداروں کو جدید تقاضوں کے مطابق اپ گریڈ کرنا ، مختلف میدانوں میں ہمت افزائی اور ترغیب کے لئے نوجوانوں کے لئےوضائف اور مفت پروگراموں کو فروغ دینا ، اسکل ڈویلپمنٹ(ہنر مندی) اور ٹیکنیکل ایجوکیشن کے مراکز قائم کرنا۔ معاشی خود انحصاری کے لیے چھوٹے کاروباروں، اسٹارٹ اپس اور انٹرپرینیورشپ کی حوصلہ افزائی کرنا۔ سیاسی طور پر ایک پارٹی یا خاندان کے غلام بننے کے بجائے متنوع ووٹنگ اور کارکردگی کی بنیاد پر فیصلے کرنا ں۔ مساجد، مدار س اور تعلیمی اداروں میں تنقیدی سوچ، بحث مباحثہ اور سائنسی مزاج کو پروان چڑھانا ۔ رہنماؤں سے شفافیت اور احتساب مانگنا،، نعرے بازی کو مسترد کرنا ۔جب ملت ان خطوط پر کام کرکے اورپسماندگی پر قابو پا کر انشاءاللہ ہم ایک مضبوط، خود مختار اور ترقی یافتہ ملت بن کر ابھیں گے۔ یہ تبدیلی راتوں رات نہیں آئے گی۔ اس کے لئے مستقل مزاجی اور اجتماعی عزم لازمی ہے۔ وقت ابھی گزرا نہیں، اب بھی ہمارے پاس بیداری کا موقع موجود ہے۔