از: عارف حسین ایڈیٹر سیلِ رواں
شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسلینس (SMVDIME) کے ایم بی بی ایس کورس کی اجازت کی منسوخی کو اگر محض ایک انتظامی فیصلہ سمجھا جائے تو یہ خود فریبی ہوگی۔ درحقیقت یہ فیصلہ اس "خطرناک، تنگ نظر اور فرقہ وارانہ ذہنیت” کا آئینہ دار ہے جس میں تعلیم، صحت اور ملک کی تعمیر و ترقی سے جڑے سنجیدہ شعبے بھی نفرت کی نذر کر دیے جاتے ہیں۔
نیشنل میڈیکل کمیشن (NMC) نے 6 جنوری 2026 کو شری ماتا ویشنو دیوی شرائن بورڈ کے زیرِ انتظام اس نئے میڈیکل کالج کی ایم بی بی ایس کورس چلانے کی اجازت (Letter of Permission) واپس لے لی۔ وجہ: بنیادی سہولیات کی کمی، فیکلٹی کی شدید قلت، کلینیکل میٹیریل کی عدم دستیابی اور دیگر معیاری تقاضوں کی خلاف ورزی؛ جو 2 جنوری کو ہونے والی ایک سرپرائز انسپیکشن میں سامنے آئیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ اگر واقعی یہ سب ایک "خالص تکنیکی اور معیاری مسئلہ”تھا، تو پھر اس فیصلے پر مخصوص سیاسی و نظریاتی حلقوں میں مٹھائیاں کیوں بانٹی جا رہی ہیں؟ ڈھول کیوں پیٹے جا رہے ہیں؟
ناکامی پر خوشی اور تباہی پر جشن: یہ کیسا اخلاقی معیار ہے؟
اس سوال کا جواب کالج کی پہلی بیچ (2025-26) کی میرٹ لسٹ میں چھپا ہے۔ 50 نشستوں میں سے 42 طلبہ مسلمان (زیادہ تر کشمیر سے)، ایک سکھ اور صرف سات ہندو طلبہ منتخب ہوئے۔ یہ انتخاب نہ کسی اقلیتی کوٹے کا نتیجہ تھا، نہ کسی رعایت یا سازش کا۔ یہ انتخاب "خالصتاً NEET کی قومی میرٹ لسٹ” پر مبنی تھا۔ کالج کوئی اقلیتی ادارہ نہیں، اور 85 فیصد نشستیں جموں و کشمیر کے ڈومیسائل کوٹے کے تحت مختص ہیں۔ میرٹ نے فیصلہ سنایا اور یہی فیصلہ فرقہ پرستوں کو ناقابلِ قبول ہو گیا۔
شری ماتا ویشنو دیوی سنگھرش سمیتی، جس میں بی جے پی، وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل سمیت تقریباً 60 دائیں بازو کی تنظیمیں شامل ہیں، نے اسے “ہندو عطیات کی توہین” کہہ کر مہینوں تک احتجاج کیا۔ بات یہاں تک پہنچ گئی کہ میڈیکل کالج کی نشستیں صرف ہندو طلبہ کے لیے مخصوص کرنے کا مطالبہ ہونے لگا۔ ان تنظیموں اور ان کے سیاسی سرپرستوں نے این ایم سی پر مسلسل دباؤ بنایا، جس کے بعد انسپیکشن کے بہانے کالج کی اجازت منسوخ کر دی گئی۔ اب یہی عناصر اسے اپنی جیت بتا کر جشن منا رہے ہیں۔
اگر مسئلہ واقعی معیار کا تھا، تو یہ لمحہ "احتساب، اصلاح اور بہتری”کا ہونا چاہیے تھا۔ مگر یہاں خوشی اس بات کی ہے کہ "مسلمان طلبہ ڈاکٹر نہیں بن سکیں گے”۔ اس سے زیادہ نمایاں اعترافِ تعصب اور کیا ہو سکتا ہے؟
یہ بھی پڑھیں: جب نفرت میرٹ پر غالب آ جائے
کاغذوں میں وجہ معیاری کمیاں ضرور لکھی گئی ہیں، مگر فیصلے کی ٹائمنگ، مہینوں کے فرقہ وارانہ احتجاج اور سیاسی دباؤ اس فیصلے کو شدید طور پر مشکوک اور متنازع بنا دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی، کانگریس اور دیگر جماعتوں نے اسے جموں خطے کے لیے سنگین دھچکا قرار دیا ہے۔ چیف منسٹر عمر عبداللہ نے بھی اسے کھلے لفظوں میں تقسیم کی سیاست کا شاخسانہ کہا ہے۔
یہ مان لینا چاہیے کہ تمام 50 طلبہ کو جموں و کشمیر کے دیگر سرکاری میڈیکل کالجوں میں سپرنیومریری نشستوں پر ایڈجسٹ کر دیا جائے گا، اور فی الحال کوئی طالب علم اپنی تعلیم سے محروم نہیں ہوگا۔ مگر اصل سوال طلبہ کے مستقبل کا نہیں۔ بلکہ اس”ذہنیت” کا ہے جو یہ پیغام دیتی ہے کہ ایک پورا میڈیکل کالج تباہ ہو جانا قابلِ قبول ہے، مگر میرٹ پر منتخب مسلمان طلبہ کا ڈاکٹر بن جانا ناقابلِ برداشت۔
یہ بھی پڑھیں: تحقیقی فکر کا زوال عہد حاضر کا المیہ
یہ واقعہ ایک وارننگ ہے:
جو بتا رہا ہے کہ تعصب اب نعروں، جلسوں اور سوشل میڈیا تک محدود نہیں رہا؛ یہ اب "تعلیمی اداروں کے نصاب اور داخلہ فہرستوں” تک پہنچ چکا ہے۔ آج میرٹ کو مذہب کے کٹہرے میں کھڑا کیا جا رہا ہے، کل شاید علم، صلاحیت اور محنت ہی جرم قرار پا جائیں۔
جب کوئی قوم اپنے سب سے لائق نوجوانوں کو مذہبی شناخت کی بنیاد پر تولنے لگے، تو نقصان کسی ایک طبقے کا نہیں ہوتا۔ نقصان پورے معاشرے، پورے ملک کا ہوتا ہے۔ آج کا یہ واقعہ چیخ چیخ کر بتا رہا ہے کہ مسئلہ معیار کا نہیں، مسئلہ "مسلمانوں کی کامیابی” کا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی اس نفرت کو میرٹ پر حاوی ہونے دیں گے؟ یہ سوال اب صرف جموں و کشمیر کا نہیں رہا۔ یہ پورے ہندوستان کے ضمیر سے پوچھا جا رہا ہے۔