کارپوریشن کے الیکشن نتائج، چند باتیں

از:- شکیل رشید، ایڈیٹر ممبئی اُردو نیوز

بی ایم سی کے ساتھ مہاراشٹر بھر میں میونسپل کارپوریشنوں کے الیکشن بھی ہو گیے اور نتائج بھی آگیے ؛ بی جے پی نے بازی مار لی ہے ۔ خیر یہ تو ہونا ہی تھا ۔ وہ سیاسی پارٹیاں جو جمہوریت اور سیکولرزم کی دہائی دیتی پھرتی ہیں ، بانہیں چڑھا کر ، ایک دوسرے کے خلاف یوں میدان میں تھیں جیسے ان کی بنیادی حریف بی جے پی نہ ہو ، یہ خود ایک دوسرے کی حریف ہوں ! وہ جو کل تک انڈیا بلاک کے نعرے لگاتے تھے ، تنکوں کی طرح بکھرے ہوئے تھے ! سب اپنی اپنی ڈفلی بجا رہے اور اپنا اپنا راگ الاپ رہے تھے ! ظاہر ہے کہ جب بی جے پی کے خلاف کوئی متحدہ طاقت نہیں ہوگی ، تو فائدہ اسے ہی ہوگا ۔ اور فائدہ ہوا ، اس نے شیوسینا ادھو ٹھاکرے کے قلعے بی ایم سی کو بھی فتح کر لیا اور ریاست کی ۲۹ کارپوریشنوں میں سے ۲۵ پر بھگوا لہرا دیا ۔ بی جے پی کی اس جیت میں اس کی پھوٹ ڈالو پالیسی کا کردار سب سے اہم رہا ہے ۔ بھگوا قیادت نے شیوسینا کے دو ٹکڑے کر کے ریاست میں اپنی بقا اور جیت کا ایک ایسا فارمولہ تیار کر لیا ہے ، جو اسی وقت ناکام ہو سکتا ہے ، جب دونوں شیوسینا ؤں کی قیادت متحد ہو جائے ۔ لیکن ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے ۔ نقصان میں ادھو ٹھاکرے تو ہیں اور رہیں گے بھی کہ ان کی طاقت بڑی حد تک گھٹ گئی ہے ، لیکن ایکناتھ شندے کو سب سے زیادہ نقصان ہوگا ۔ شندے کبھی بھی ریاست میں اپنے بل پر حکومت نہیں بنا سکیں گے ، انہیں بی جے پی کی کٹھ پتلی بن کر رہنا ہوگا ۔ ان کی سیٹیں جو آئی ہیں ، ان کا فائدہ بھی بی جے پی کو ہی پہنچے گا ۔ ادھو ٹھاکرے نے بی ایم سی کا اقتدار کھویا تو ہے ، لیکن وہ بی جے پی کو ٹکر دینے میں کامیاب رہے ہیں ۔ اور اگر شندے الگ نہ ہوتے ، مل کر لڑتے تو شیوسینا کا پلڑا بھاری رہتا ۔ ویسے ادھو کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوا ہے کہ راج ٹھاکرے ان کے حلیف بن گیے ہیں ۔ یہ جوڑی مستقبل میں ریاست کی سیاست پر اثر انداز ہو سکتی ہے ۔ مجلس اتحاد المسلمین نے اس بار کافی بہتر کارکردگی دکھائی ہے ، لیکن اس کی جیت یا ہار عام لوگوں کے لیے بےمعنی ہے ، کیونکہ اسے نہ عوامی کام کرنا ہے اور نہ ہی اسے عوامی کام کرنے دیا جائے گا ، ویسے اس کے کامیاب نمائندے چند دنوں بعد گاڑیوں میں گھومتے اور لیڈری کا اظہار کرتے ضرور نظر آئیں گے ۔ ہاں مجلس کا اس الیکشن میں جو کردار تھا ، اسے اس نے بہتر ڈھنگ سے ادا کیا ہے ، سماج وادی پارٹی کو اس نے نچلی سطح پر پہنچا دیا ہے ۔ اس میں قصور خود سماج وادی پارٹی کی قیادت کا بھی ہے کہ اس کے کارپوریٹروں نے کارپوریشن کو عوامی فلاح کا ادارہ سمجھنے کی بجائے اپنی اور اپنے اہل خانہ کی فلاح کا اڈہ بنا رکھا تھا ۔ سچ کہیں تو اس دفعہ مسلمانوں کے ووٹوں پر انحصار کرنے والی سیاسی پارٹیوں کو مایوسی ہی ہاتھ لگی ہے ۔ مسلمان رائے دہندگان ہمیشہ کی طرح بکھرے رہے ، ووٹوں کا استعمال سوچ سمجھ کر نہیں طاقت اور دولت کی ریل پیل دیکھ کر کیا ۔ مسلمان ان سیاسی پارٹیوں کے ساتھ بھی ، جو کھلے طور پر مسلم دشمن ہیں ، کھڑے نظر آئے اور ان کے ساتھ بھی جو کبھی مسلمانوں کے لیے فائدہ مند نہیں رہے ۔ رہی بات سیکولر کہلانے والی پارٹیوں کی تو یہ ، جیسا کہ اوپر لکھا گیا ہے ، بکھری رہیں اور اپنی حرکتوں سے بی جے پی کے ہاتھ مضبوط کرتی رہیں ۔ افسوس کہ اجیت دادا پوار جو بی جی پی حکومت میں شامل ہیں، آج بھی سیکولر قرار دیے جاتے ہیں !

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔