بھارتی جمہوریت: ایک عظیم خواب، ایک نازک موڑ

از:- عارف حسین ندوی ایڈیٹر سیل رواں

ـــــــــــــــــــــــــــــــ

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والا ہندوستان اپنی جغرافیائی وسعت، تہذیبی تنوع اور آئینی قدروں کے سبب ہمیشہ عالمی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ مختلف مذاہب، زبانوں، ثقافتوں اور قومیتوں پر مشتمل ہمارا یہ ملک اس لحاظ سے منفرد ہے کہ یہاں اختلاف کے باوجود اتحاد، اور تنوع کے باوجود ہم آہنگی کو جمہوری طاقت سمجھا گیا۔ آزادی کے بعد بھارت نے جس آئینی ڈھانچے کو اختیار کیا، اس کی بنیاد سیکولرزم، جمہوریت اور عدم تشدد جیسے اعلیٰ انسانی اصولوں پر رکھی گئی، جنہوں نے اس ملک کو نہ صرف داخلی استحکام بخشا بلکہ عالمی سطح پر ایک ذمہ دار اور مہذب ریاست کے طور پر متعارف کرایا۔

بھارتی جمہوریت کی سب سے بڑی طاقت اس کے وہ ادارے رہے ہیں جنہیں آئین نے عوام کے حقوق کا نگہبان بنایا۔ مقننہ، عدلیہ، منتظمہ اور میڈیا ۔ یہ چاروں ستون مل کر اس نظام کو توازن، شفافیت اور جواب دہی فراہم کرتے رہے ہیں۔ مقننہ نے قانون سازی کے ذریعے عوامی امنگوں کی ترجمانی کی، عدلیہ نے آئین کی بالادستی کو برقرار رکھا، منتظمہ نے قوانین کے نفاذ کے ذریعے ریاستی نظم کو سنبھالا، جبکہ میڈیا نے اقتدار اور عوام کے درمیان پل کا کردار ادا کیا۔

اسی مضبوط ادارہ جاتی نظام کے سبب ہندوستان طویل عرصے تک دنیا کے نقشے پر ایک عظیم جمہوریہ کے طور پر ابھرتا رہا۔ یہاں مذہب کو ذاتی معاملہ، ریاست کو غیر جانب دار، اور شہری کو برابر کا حق دار تصور کیا گیا۔ عدم تشدد کی روایت نے سیاست اور سماج دونوں کو ایک اخلاقی سمت دی، جس کی مثالیں عالمی تحریکوں میں بھی دی جاتی رہیں۔

تاہم حالیہ برسوں میں یہ تاثر تیزی سے ابھر رہا ہے کہ ہندوستانی جمہوریت ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ چند مٹھی بھر عناصر کی تنگ نظری، طاقت کی مرکزیت اور نظریاتی اجارہ داری نے اس ملک کی اس شبیہ کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے جو برسوں کی جدوجہد اور قربانیوں سے قائم ہوئی تھی۔ اختلافِ رائے کو شک کی نظر سے دیکھا جانا، اقلیتوں کے تحفظ پر سوال اٹھنا، اور اداروں کی خودمختاری پر دباؤ۔ یہ سب ایسے اشاریے ہیں جو کسی بھی جمہوری نظام کے لیے تشویش کا باعث ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: قومی تقریبات میں رقص و سرود

سیکولرزم، جو بھارتی آئین کی روح ہے، اس وقت سب سے زیادہ آزمائش سے گزر رہا ہے۔ اگر مقننہ اکثریتی جذبات کے زیرِ اثر آ جائے، عدلیہ پر اعتماد کمزور پڑ جائے، منتظمہ غیر جانب دار نہ رہے اور میڈیا سچ کے بجائے طاقت کا ساتھ دینے لگے، تو سیکولرزم محض ایک آئینی لفظ بن کر رہ جاتا ہے۔ اور جب سیکولرزم کمزور ہوتا ہے تو اس کے ساتھ جمہوریت اور عدم تشدد بھی اپنی معنویت کھو دیتے ہیں۔

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اداروں کی آزادی کسی بھی ملک کی بقا کے لیے ناگزیر ہوتی ہے۔ اگر یہ ادارے آزادانہ طور پر اپنا کام نہ کر سکیں تو ریاستی نظام کھوکھلا ہو جاتا ہے، اور پھر ترقی، امن اور خوشحالی کے تمام دعوے بے معنی ہو جاتے ہیں۔ ہندوستان جیسے کثیرالثقافتی ملک کے لیے یہ خطرہ اور بھی سنگین ہے۔

لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ بھارتی جمہوریت کی اصل روح کو پہچانا جائے اور اس کی حفاظت کی جائے۔ مقننہ، عدلیہ، منتظمہ اور میڈیا کو آئینی دائرے میں رہتے ہوئے آزادانہ کام کرنے دیا جائے۔ یہی وہ واحد راستہ ہے جس سے ہندوستان ایک بار پھر دنیا کے سامنے ایک مضبوط، پرامن اور محبت کا گہوارہ بن کر کھڑا ہو سکتا ہے—ورنہ تباہی و بربادی سے بچنا ناممکن ہو جائے گا۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔