از:- سرفراز احمد قاسمی حیدرآباد
____________________
آج ایک جانب دنیا مصنوعی ذہانت،خودکار زراعت اور ٹیکنالوجی کے عروج پر ہے تو دوسری جانب انسانی تاریخ کی سب سے قدیم لعنت ‘بھوک’ اور غذائی قلت اب بھی ایک ارب کے قریب انسانوں کے معدوں میں چیخ رہی ہے،گلوبل ہینگر انڈیکس 2025 کے تازہ اعداد و شمار نے ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کردیا ہے کہ ترقی کے شور کے پیچھے انسانیت کے بڑے حصے کے لیے ابھی تک پیٹ بھرنا خواب سے زیادہ کچھ نہیں۔دنیا کے 127ممالک میں سے ہندوستان کا 102واں نمبر،25.8 کے خطرناک زمرے والے اسکور کے ساتھ،اس دعوے کو جھوٹا ثابت کرتا ہے کہ ملک خوراک میں خود کفیل ہوچکا ہے۔وزیراعظم مودی بارہا فخر سے اعلان کرتے ہیں کہ آج ہندوستان دنیا کو اناج برآمد کررہا ہے،چاول اور گیہوں کی پیداوار میں دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے،لیکن سوال یہ ہے کہ اگر اناج گوداموں میں سڑرہا ہے تو شہری بھوکے کیوں ہیں؟ اگر ملک خوراک کا سرپلس پیدا کرتا ہے تو بچے کم وزن کیوں پیدا ہورہے ہیں؟ خواتین آئرن کی کمی کا شکار کیوں ہیں؟ اور لاکھوں لوگ دو وقت کی روٹی کے لیے راشن دکان کی لائنوں میں کیوں کھڑے ہیں؟گلوبل ہنگر انڈیکس کے مطابق ہندوستان کی 13.7فیصدآبادی بھکمری اور غذائی قلت کا شکار ہے۔بچوں میں غذائی قلت کی شرح 35.5فیصدہے۔جبکہ 2.1فیصدبچے پانچ سال کی عمر سے پہلے مرجاتے ہیں۔27.4فیصدبچے کم وزن کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں اور 15سے49 سال کی 53فیصدخواتین انیمیا میں مبتلا ہیں۔یہ محض اعداد نہیں بلکہ وہ چیختی ہوئی حقیقتیں ہیں جوحکومتی اعلانات کے شاندار پردے کے پیچھے دفن کردی گئی ہیں،بھکمری اور غذائی قلت کا شکار دنیا کے دس سب سے زیادہ بھوکے ممالک میں صومالیہ 42.6،جنوبی سوڈان 37.5، جمہوریہ کانگو 37.5، مڈغاسکر 35.8، ہیٹی 35.7، چاڈ34.8،نائجر 33.9، وسطی افریقی جمہوریہ 33.4، نائجریا 32.8 اور پاپوا نیوگنی 31.0 شامل ہیں،اوپر کے یہ 10 ممالک جنگ،خشک سالی،سیاسی عدم استحکام اور معاشی بحران کی وجہ سے بھوک کی تباہ کن سطح کا سامنا کررہے ہیں لیکن ہندوستان جہاں نہ جنگ ہے نہ خشک سالی کا سلسلہ،نہ ہی سیاسی عدم استحکام،وہاں بھی بھوک اور غذائی قلت کا سلسلہ جاری ہے اور یہ بحران مزید سنگین ہوتا جارہا ہے،مہنگائی سرچڑھ کر بول رہی ہے،آخر اسکا ذمہ دار کون ہے؟المیہ یہ ہے کہ ہندوستان کے ہمسائے ممالک پاکستان،نیپال،سری لنکا اور بنگلہ دیش جن کی معیشتیں کبھی ہندوستان سے کمزور مانی جاتی تھیں،اب ہینگر انڈیکس کی رپورٹ میں ہندوستان سے بہتر مقام پر ہیں،اس سے واضح ہے کہ مسئلہ صرف غربت یا آبادی کا نہیں،بلکہ سیاسی ترجیحات اور نظم حکمرانی کا ہے،ہندوستان میں خوراک کی تقسیم غیرمساوی ہے۔نیشنل فوڈ سکیورٹی ایکٹ،مڈڈے میل اسکیم اور مفت راشن پروگرام جیسے منصوبے موجود ہیں مگر ان کے ثمرات،سماج کے آخری درجے تک نہیں پہنچتے، کئی مستحق خاندان راشن کارڈ سے محروم ہیں، کئی علاقوں میں بدعنوانی،بد انتظامی اور ناقص فراہمی،نظام کو کھوکھلا کرچکے ہیں،خوراک کی پیداوار میں اضافہ اپنی جگہ مگرجب 40 فیصد خوراک ضائع ہوجائے،جب گوداموں میں اناج چوہوں کی خوراک بن جائے اور دوسری طرف کروڑوں انسان خالی پیٹ سو جائیں تو یہ صرف معاشی ناکامی نہیں بلکہ اخلاقی زوال اور انسانیت کی ایک نچلی سطح ہے،ملک کی پالیسی خوراک کی مقدار پر مرکوز ہے،معیار اور تغزیہ پر نہیں، یہی وجہ ہے کہ بچے قد اور وزن دونوں میں پیچھے رہ گئے ہیں،یہ وہ نسل ہے جو کمزور جسموں اور بھوک کے سائے میں پروان چڑھ رہی ہے،ایک ایسا سرمایہ جس سے کوئی قوم ترقی نہیں کرسکتی، ہندوستان کی بھوک کی کہانی محض معاشی عدم مساوات کی داستان نہیں بلکہ ایک سیاسی فریب کی روداد بھی ہے،خود کفالت کے نعرے نے حقیقت پر مٹی ڈال دی ہے، حکومت خوراک کی برآمد کو کامیابی سمجھتی ہے مگر بھوک کے اعداد و شمار اس کامیابی کا ماتم کرتے ہیں،جب تک خوراک کی منصفانہ تقسیم، غذائیت کی فراہمی اور بنیادی صحت و صفائی پر سنجیدہ توجہ نہیں دی جائے گی،ہر انڈیکس،ہررپورٹ اور ہروعدہ محض زبانی تسلی سے زیادہ کچھ نہیں ہوگا،یہ لمحہ فکریہ ہے کہ صومالیہ،جنوبی سوڈان اور کانگو جیسے جنگ زدہ ممالک کے ساتھ ہندوستان کا ذکر ایک ہی فہرست میں ہو،جن ممالک میں برسوں سے خانہ جنگی ہے،اسکے ساتھ کھڑا ہونا،اس ملک کے لیے باعث شرم ہے،جو خود کو دنیا کی پانچویں بڑی معیشت کہتا ہے،جو آتم نربھر ہونے کا سبز خواب دکھلاتاہے،وشو گرو ہونے کا جھوٹا دعوی کرتا ہے، ترقی کے نعرے اس وقت تک کھوکھلے رہیں گے جب تک ہر ہندوستانی بچے کے ہاتھ میں کتاب اور پیٹ میں روٹی نہیں ہوگی۔
ملک کی نوجوان آبادی کو دنیا کی سب سے بڑی طاقت مانا جاتا ہے لیکن جب روزگار کی بات آتی ہے تو یہی طاقت بوجھ بنتی دکھائی دیتی ہے،سال 2014 میں اقتدار میں آنے کے بعد وزیراعظم مودی نے ہرسال دو کروڑ ملازمتوں کا وعدہ کیا تھا تاہم آج 11 برس گزرجانے کے بعد بھی بے روزگاری کی شرح ملک میں بلندی پر ہے،اس وعدے کو پورا کرنے کے لیے شروع کی گئی،اہم ترین اسکیموں میں شامل وزیراعظم کوشل وکاس یوجنا اب سنگین سوالات کے گھیرے میں آچکی ہے۔پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا حکومت ہند کی ایک اہم فلیگ شپ اسکیم ہے جو جولائی 2015 میں اس مقصد کے تحت شروع کی گئی تھی تاکہ ملک کے نوجوانوں کو صنعت پر مبنی ٹریننگ دے کرانہیں روزگار کے قابل بنایا جا سکے،اس اسکیم کے ذریعے بے روزگار نوجوانوں کو تربیت، سرٹیفکیشن اور ملازمت کے مواقع فراہم کرنے کا دعوی کیا گیا لیکن اب یہی اسکیم بدعنوانی کے سنگین الزامات کی زد میں آچکی ہے،دسمبر 2025 میں پارلیمنٹ میں پیش کی گئی کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل آف انڈیا کی رپورٹ نے پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا کے نفاذ پر کئی سوالات کھڑے کردئیے ہیں،اسی رپورٹ کو بنیاد بناکر کانگریس پارٹی نے حکومت پر بڑے پیمانے پر بدعنوانی کا الزام عائد کیا ہے۔حال ہی میں کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ نمبر20(2025) نے اس اسکیم کی گہری خامیوں کو بے نقاب کیا ہے،سال 2015 سے 2022 کے درمیان چلنے والے تین مراحل کا مجموعی بجٹ تقریبا 14,450 کروڑ روپے تھا،ان میں سے 10,194 کروڑ روپے جاری کیے گئے اور 9,261 کروڑ روپے خرچ ہوئے،اس دوران 1.32 کروڑ نوجوانوں کو اسکل ٹریننگ دینے کا ہدف رکھا گیا تھا،جن میں 1.1 کروڑ کو سرٹیفیکٹ دئیے گئے،کاغذوں میں یہ 83 فیصد کامیابی دکھائی دیتی ہے لیکن سی اے جی کے مطابق یہ محض اعداد و شمار کا کھیل ہے، کانگرس قائد اور سابق آئی اے ایس آفیسرکنن گوپی ناتھن کے مطابق سال 2015 سے 2022 کے درمیان اسکیم کے نفاذ میں شدید بے قاعدگیاں ہوئیں،ان کا دعوی ہے کہ گزشتہ سات برسوں میں تقریبا 10 ہزار کروڑ روپے ایسے مستفیدین اور ٹریننگ پارٹنرز کو فراہم کیے گئے،جن کی بنیادی معلومات جیسے فون نمبر،ای میل ایڈریس اور بینک اکاؤنٹس یا تو غلط تھیں یا مکمل طور پرفرضی تھے۔سی اے جی رپورٹ کے مطابق پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا 2 اور 3 میں شامل 90/ 95 لاکھ مستفیدین میں سے 94.53 فیصد کے بینک اکاؤنٹس مشتبہ یا غلط پائے گئے،کئی ٹریننگ سینٹرس بند پائے گئے،اسکے باوجود ان سینٹروں کو فنڈس جاری کیے گئے،سرٹیفائیڈ نوجوانوں میں سے ایک بڑی تعداد کوعملی طور پر روزگار فراہم نہیں کیا گیا،کانگریس کا موقف ہے کہ یہ صرف مالی بدعنوانی نہیں بلکہ نوجوانوں کے مستقبل اور ٹیکس دہندگان کے پیسے کے ساتھ سنگین دھوکہ ہے،اسی لیے وہ اس معاملے کی آزادانہ اور باریک بینی سے تحقیقات کا مطالبہ کررہی ہے۔سی اے جی کی یہ رپورٹ نہایت سنگین ہے لیکن حیرت انگیز طور پر مین اسٹیریم میڈیا نے اس پر مکمل خاموشی اختیار کررکھی ہے،جبکہ 2011 میں انا ہزارے کی تحریک کے دوران اسی سی اے جی کی ٹو جی اسپیکٹرم رپورٹ (جس میں 1.76 لاکھ کروڑ روپے کے مبینہ نقصان کا اندازہ لگایا گیا تھا) پر میڈیا نے طوفان کھڑا کردیا تھا،یو پی اے حکومت پر شدید تنقیدیں کی گئیں اور تحریک کو زبردست تقویت ملی لیکن آج جب مودی حکومت کے دور میں سی اے جی رپورٹ سامنے آتی ہے تو خاموشی اور سناٹا چھاجاتاہے، کیا سی اے جی کی ساکھ اقتدار کے بدلنے کے ساتھ بدل جاتی ہے؟ یہ خاموشی کئی سوال کھڑے کرتی ہے؟ ٹیکس دہندگان کا پیسہ خرچ ہوا،نوجوانوں کی امیدیں وابستہ تھیں لیکن نتائج کچھ خاص برآمد نہیں ہوئے،کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل کو وزیراعظم کوشل وکاس یوجنا میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی کے شواہد دستیاب ہونے کے باوجود مین اسٹریم میڈیا میں اس تعلق سے کچھ بھی نشر کرنے سے گریز کیا جارہا ہے،جبکہ بعض چینلز اور میڈیا رپورٹس میں اس رپورٹ پر حکومت سے سوال پوچھے جارہے ہیں،ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب نوجوانوں کا مستقبل داؤ پر لگا ہو تو یہ سوچنا لازم ہے کہ اس روزگار پر مبنی پروگرام میں بدعنوانیوں کے الزامات پر میڈیا کی خاموشی آخر کس کے مفاد میں ہے؟۔
گزشتہ دسمبر کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں بے روزگاری کی شرح 4.8 فیصد تک پہنچ جانا یہ ایک ایسا اشارہ ہے،جسے محض اقتصادی خبر سمجھ کرنظر انداز نہیں کیا جاسکتا بظاہر یہ اضافہ معمولی معلوم ہوتا ہے کہ نومبر میں یہی شرح 4.7 فیصد تھی لیکن روزگار کے معاملے میں معمولی سی تبدیلی بھی ایک بڑی آبادی والے ملک میں کروڑوں انسانوں کی زندگی،انکے گھروں کے حالات اور نوجوانوں کے مستقبل پر گہرا اثر ڈالتی ہے،حقیقت یہ ہے کہ بے روزگاری کے اعداد و شمار محض اعداد نہیں ہوتے بلکہ یہ ملک کے اجتماعی اعتماد، معاشی سمت اور حکومتی ترجیحات کی آزمائش ہوتے ہیں،روزگار ہندوستان جیسے ملک میں صرف کمائی کا ذریعہ نہیں بلکہ سماجی عزت،نفسیاتی اطمینان اور مستقبل کے استحکام کی بنیاد ہے،جب نوجوان برسوں کی تعلیم کے بعد بھی نوکری نہ پاسکے یا ملازمت تو ملے مگر کم اجرت،غیر یقینی اور بغیر تحفظ کے ہوتو اس کا اثر صرف معاشی نہیں رہتا بلکہ سماجی اور اخلاقی سطح تک پھیل جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ بے روزگاری کی بحث کو صرف شرح اور فیصد کے گرد گھمانے کے بجائے اس کے اندر چھپے ہوئے،بڑے سوالات کو سامنے لانا ضروری ہے، کیا ملک میں روزگار بڑھ رہا ہے؟ کس نوعیت کا بڑھ رہا ہے؟ کیا یہ باوقار اور پائیدار ہے؟ کیا ملک میں مزدور اور ملازم کو سماجی تحفظ حاصل ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان میں گزشتہ چند برسوں سے روزگار کی کمی سے زیادہ معیاری روزگار کی کمی کا مسئلہ شدت اختیار کرتا جارہا ہے۔ایک بڑا طبقہ ایسا ہے جسے کوئی کام ہی نہیں مل رہا ہے، یا پھر کام تو مل جاتا ہے مگر وہ غیر رسمی شعبے میں ہوتا ہے،جہاں کنٹریکٹ کی غیر یقینی کا اجرت کم، طویل اوقات کار اور سماجی تحفظ کی عدم موجودگی معمول کی بات ہے،دوسرے لفظوں میں معیشت میں ایسی ترقی ہورہی ہے جو نوکریاں کم پیدا کرتی ہیں یا جو نوکریاں پیدا کرتی ہیں وہ مکمل طور پر باوقار و محفوظ نہیں ہوتیں، یہی وہ رجحان ہے جسے دنیا کی معاشی اصطلاح میں کم روزگار والی ترقی کہا جاتا ہے اور ہندوستان کے لیے یہ صورتحال ایک سنگین خطرے کی گھنٹی ہے،بے روزگاری کی شرح میں اضافے کے اس پس منظر میں ایک اور پہلو بھی قابل توجہ ہے کہ مہنگائی اور روزگار کے بحران کا بیک وقت دباؤ،جب روزگار میں غیر یقینی ہو اور مہنگائی عام آدمی کی قوت خرید کو گھن کی طرح چاٹ رہی ہوتو گھر کے بجٹ کا توازن ٹوٹنے لگتا ہے۔اس کا نتیجہ بچوں کی تعلیم،علاج،رہائش اور روزمرہ کی ضروریات تک میں کٹوتی کی صورت میں نکلتا ہے،یہیں سے معاشرتی بے چینی جنم لیتی ہے اور اسی بے چینی کی کوکھ سے ہجرت، بداعتمادی،ذہنی دباؤ اور بعض اوقات جرائم جیسی صورتیں بھی پیدا ہوتی ہیں،یوں سمجھئے کہ روزگار صرف اقتصادی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ قومی سلامتی اور سماجی استحکام سے جڑجاتاہے،اب سوال یہ ہے کہ اس کا حل کیا ہے؟ اور کون سا راستہ اختیار کیا جائے؟تو سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ حکومت اور پالیسی ساز روزگار کو ثانوی معاملہ سمجھنے کے بجائے معاشی پالیسی کا مرکزی ہدف بنائے،ترقی کے پیمانے میں صرف جی ڈی پی اور بڑے بڑے منصوبے نہ ہوں بلکہ یہ دیکھنا بھی لازم ہو کہ کتنی نوکریاں پیدا ہوئیں؟ کتنی پائیدار ہوئیں اور کتنے لوگوں کو باوقار روزگار ملا؟روزگار کے بغیر ملک کی ترقی ایک ایسی گاڑی ہے جس کا انجن تو چل رہا ہو مگر منزل کا پتہ نہ ہو،ملک میں روزگار کے لیے سب سے بڑی امید MSME یعنی چھوٹی و درمیانی صنعتیں اور کاروبار ہیں یہ شعبہ کم سرمایہ کاری کے ساتھ زیادہ افراد کو کام دیتا ہے اور مقامی سطح پر معیشت کو زندہ رکھتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ MSME متعدد رکاوٹوں میں گھرا ہوا ہے،مہنگا قرض،پیچیدہ ضابطے،مارکیٹ میں عدم استحکام،ٹیکس نظام کی پیچیدگیاں اور بڑی کمپنیوں کی جانب سے ادائیگی میں تاخیر اگر حکومت واقعی روزگار کے مسئلے کو سنجیدگی سے حل کرنا چاہتی ہے تو MSME کے لیے سستے قرض، آسان ضابطے،ادائیگی کے نظام کی سخت نگرانی اور ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن کو ترجیح بنانا ہوگا،اسی شعبے میں وہ صلاحیت موجود ہے کہ لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں سطح پر روزگار کے مواقع پیدا ہوں، دوسری اہم سمت اسکلز اور تعلیم کے درمیان موجود خلا کو ختم کرنا ہے،ہمارے ہاں ایک طرف نوجوانوں کے پاس ڈگری ہے مگر ہنر نہیں اور دوسری طرف صنعت و خدمات کے شعبے ہنرمند افراد کی کمی کی شکایت کرتے ہیں یہ تضاد اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام اور مارکیٹ کی ضرورتوں میں ہم آہنگی کم ہے۔ تیسری بات یہ ہے کہ روزگار کی پالیسی میں سوشل سکیورٹی کا عنصر مضبوط کیاجائے، غیررسمی شعبے میں کام کرنے والوں کے لیے بیمہ،پنشن، طبی سہولت اور بنیادی تحفظ کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں،اگر مزدور اور ملازم کا مستقبل غیر محفوظ رہے گا تو وہ منڈی میں اعتماد سے حصہ نہیں لے سکے گا اور نہ معیشت کو مطلوبہ رفتار ملے گی اس ساری بحث کا نچوڑ یہی ہے کہ بے روزگاری کی شرح 4.8 فیصد تک پہنچنا حکومت،صنعت،تعلیمی نظام اور پالیسی سازوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے،روزگار کا مسئلہ صرف معاشی نمبر نہیں،یہ قوم کے مستقبل کا سوال ہے۔اگر آج نوجوانوں کے ہاتھ میں باوقار روزگار نہ آیا تو کل اسی نوجوان کی صلاحیت ضائع ہوگی اور ضائع ہوتی صلاحیتیں کسی بھی ملک کے لیے سب سے بڑا خسارہ ہے،ترقی وہی معتبر ہے جو روزگار دے اور روزگار وہی کار آمد ہےجو وقار اور تحفظ کے ساتھ زندگی کو سہارا دے،بے اطمینانی،بے روزگاری،غذائی قلت اور مہنگائی میں اضافہ کرکے کوئی ملک ترقی کے خواب نہیں دیکھ سکتا۔