ایپسٹین فائلز اور کعبہ کا غلاف

ایپسٹین فائلز اور کعبہ کا غلاف

تقدس سے بے حسی تک کا خوفناک سفر

از:- محمد علم اللہ ، لندن

جب دنیا کے مختلف گوشوں سے مسلمان مکہ مکرمہ کا رخ کرتے ہیں تو ان کی نگاہیں، دل اور روح بے اختیار ایک ہی سمت جھک جاتے ہیں، اور وہ ہے خانۂ کعبہ۔ وہ سیاہ غلاف، جس پر سنہری دھاگوں سے قرآنی آیات کڑھی ہوتی ہیں۔ وہ کروڑوں نہیں بلکہ اربوں مسلمانوں کے سجدوں میں بہے ہوئے آنسوؤں، لرزتی ہوئی دعاؤں، ماؤں کی آہوں، مظلوموں کی فریادوں، گناہگاروں کی توبہ اور ٹوٹے دلوں کی امیدوں کا امین ہوتا ہے۔ ہر سال جب یہ غلاف بدلا جاتا ہے تو پرانے غلاف کے حصوں کو غیر معمولی احترام اور تقدس کے ساتھ محفوظ کیا جاتا ہے۔ ان تک رسائی ایک اعزاز سمجھی جاتی ہے،لوگوں کا اس سے جذباتی تعلق میں گذشتہ سال اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا ہوں۔
لیکن فروری اور مارچ دو ہزار سترہ کی وہ تحریری مراسلات، جو اب ایپسٹین سے متعلق خفیہ دستاویزات میں سامنے آئی ہیں، اس مقدس امانت کو ایک ایسی دنیا میں لے جاتی ہیں جس کا تصور بھی روح کو مضطرب کر دیتا ہے۔ ان دستاویزات سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ متحدہ عرب امارات سے وابستہ ایک کاروباری خاتون عزیزہ الاحمدی نے ایک سعودی شخص عبداللہ المعاری کے ساتھ مل کر خانۂ کعبہ کے غلاف سے متعلق تین ٹکڑوں کی ترسیل کا بندوبست کیا۔ ایک ٹکڑا خانۂ کعبہ کے اندر سے لیا گیا تھا، دوسرا وہ حصہ تھا جو بیرونی غلاف میں استعمال ہو چکا تھا، جبکہ تیسرا اسی مقدس کپڑے سے تیار کیا گیا مگر استعمال میں نہیں آیا تھا۔
یہ تینوں ٹکڑے ہوائی ذریعے سے سعودی عرب سے امریکا کے صوبہ فلوریڈا بھیجے گئے، جہاں وہ ایک ایسے شخص تک پہنچے جس کا نام دنیا بھر میں جنسی جرائم، استحصال اور اخلاقی زوال کی علامت بن چکا ہے۔ یہ سب کچھ کسی اتفاق کے تحت نہیں ہوا۔ باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی، دستاویزات تیار ہوئیں، کسٹم کے مراحل طے کیے گئے، اور ان مقدس اشیاء کو فن پاروں کے نام پر ظاہر کیا گیا تاکہ ان کی اصل حیثیت اور حساسیت نظروں سے اوجھل رکھی جا سکے۔
مارچ دو ہزار سترہ میں یہ مقدس ٹکڑے جیفری ایپسٹین کے گھر پہنچے، اس وقت جب وہ اپنی سزا پوری کر چکا تھا، جنسی مجرم کے طور پر رجسٹرڈ تھا اور اس کی بدنامی عالمی سطح پر پھیل چکی تھی۔ یہ سوچ کر دل بیٹھنے لگتا ہے کہ جس کپڑے پر کروڑوں مسلمانوں نے اپنی پیشانیاں رکھی تھیں، اپنی دعائیں سونپی تھیں اور آنسو بہائے تھے، وہ ایک ایسے شخص کے ہاتھوں میں جا پہنچا جس کی زندگی گناہ، طاقت کے غلط استعمال اور انسانیت کی تذلیل سے بھری ہوئی تھی۔
عزیزہ الاحمدی نے خود ایپسٹین کو ایک پیغام میں اس کپڑے کی مذہبی اہمیت بیان کرتے ہوئے لکھا کہ اس سیاہ ٹکڑے کو کم از کم ایک کروڑ مسلمانوں نے چھوا ہے، جن میں مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ لوگ خانۂ کعبہ کے گرد سات چکر لگاتے ہیں، پھر حتی المقدور اس کپڑے کو چھونے کی کوشش کرتے ہیں، اور اپنی دعائیں، امیدیں، آنسو اور تمنائیں اس سے وابستہ کر دیتے ہیں، اس یقین کے ساتھ کہ اللہ ان کی فریاد سنے گا۔
یہ الفاظ پڑھ کر افسوس ہوتا ہے۔ ایک طرف امتِ مسلمہ کی پاکیزہ عقیدت، اور دوسری طرف یہ مقدس تبرک ایک ایسے شخص کے پاس، جس کے گھروں اور جزیروں سے ظلم، استحصال اور سسکیوں کی داستانیں جڑی رہی ہیں۔ یہ کپڑا وہاں قالین کی طرح نیچے رکھا ہوا تھا ۔
آگے اور بھی حیران کن باتیں ہیں ستمبر دو ہزار سترہ میں جب ایک شدید سمندری طوفان نے ایپسٹین کے نجی جزیرے کو بری طرح متاثر کیا، عمارتیں گر گئیں، درخت جڑ سے اکھڑ گئے اور راستے مٹ گئے، تو عزیزہ الاحمدی بے چین ہو اٹھیں اور کئی دنوں تک اس کی خیریت دریافت کرتی رہیں۔ جواب میں جب بتایا گیا کہ سب محفوظ ہیں مگر جزیرہ کھنڈر بن چکا ہے، تو انہوں نے مذاق میں لکھا کہ نیا خیمہ بھیجنے کا وعدہ ہے۔ یہ جملہ دل میں تیر کی طرح اترتا ہے، اس لیے کہ خیمے کا یہ ذکر اسی مقدس کپڑے کے تناظر میں آتا ہے، جو مسلمانوں کے لیے جنت کی یاد ہے، اور یہاں اسے ایک طوفان زدہ جزیرے کے لیے مذاق بنا دیا گیا۔
اس انکشاف کے بعد سوشل میڈیا پر ایک اور تکلیف دہ بحث نے جنم لیا ہے۔ بعض لوگ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ یہ مقدس ٹکڑے جادو ٹونے یا شیطانی اعمال کے لیے بھیجے گئے تھے، کیونکہ ایپسٹین خفیہ اور پراسرار رسومات میں دلچسپی رکھتا تھا۔ کہا جا رہا ہے کہ مسلمانوں کی دعاؤں اور آنسوؤں سے جڑے اس کپڑے کو غلط مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا منصوبہ تھا۔ یہ خیال ہی دل کو چیر دیتا ہے، اگرچہ دستیاب دستاویزات میں اس بات کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہے، مگر صرف یہ تصور ہی کافی ہے کہ مقدس تبرک کو ایسی گندگی سے جوڑا جا رہا ہے۔
یہ بات بھی سامنے نہیں آ سکی کہ عزیزہ الاحمدی کو ایپسٹین کی اصل سرگرمیوں اور جرائم کا کتنا علم تھا۔ مگر سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ خانۂ کعبہ کے غلاف کے یہ ٹکڑے آخر کیوں، کیسے اور کس مقصد کے تحت ایک ایسے شخص تک پہنچے۔ کیا یہ محض ایک تحفہ تھا، کوئی کاروباری معاملہ، کوئی خفیہ رابطہ، یا ایک ایسی سنگین غلطی جس نے پوری امت کے دل کو زخمی کر دیا۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔