سپریم کورٹ میں مغربی بنگال کے SIR پر ممتا بنرجی کی عرضی، الیکشن کمیشن کو نوٹس

ووٹر لسٹ سے نام خارج کرنے پر جانبداری کا الزام، عدالت نے جواب طلب کر لیا؛ سماعت 9 فروری کو

سیل رواں ڈیسک:

4 فروری 2026 کو سپریم کورٹ آف انڈیا میں مغربی بنگال کے خصوصی گہری نظرثانی (SIR) کے خلاف سماعت ہوئی۔ یہ سماعت خاص طور پر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے درخواست کی بنیاد پر جاری ہے، جس میں انہوں نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کے SIR عمل کو چیلنج کیا۔

ممتا بنرجی نے عدالت میں کیا کہا؟

🔹 اپنی ہی نوٹیفیکیشن اور اپنا موقف خود پیش کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے عدالت سے اجازت مانگی کہ وہ براہِ راست اپنے وکلاء کی ٹیم کے ساتھ اپنے کیس کی دلیل بیان کریں۔

🔹 ان کا کہنا تھا کہ SIR عمل کا مقصد صرف نام حذف کرنا ہے، شامل کرنا نہیں،جو ووٹر لسٹ کی شفافیت یا عوام کی خدمت نہیں بلکہ ووٹروں کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

🔹 انہوں نے سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ انہیں انصاف نہیں مل رہا اور کہا انصاف رو رہا ہے یعنی عوام کو انصاف نہیں مل رہا۔

🔹 ممتا بنرجی نے الیکشن کمیشن پر مغربی بنگال کے خلاف تعصب کا الزام لگایا اور کہا کہ دوسری ریاستوں میں یہی عمل اسی سختی سے نہیں ہو رہا جو بنگال میں ہو رہا ہے۔

🔹 انہوں نے عدالت کو بتایا کہ وہ اپنی پارٹی کے لیے نہیں بلکہ عام عوام کی نمائندگی کر رہی ہیں جو SIR عمل کے دباؤ میں مشکلات کا شکار ہیں۔

عدالت کا ردعمل اور آگے کی سماعت

سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کیا اور اسے جواب جمع کرانے کے لیے وقت دیا۔

اگلی سماعت 9 فروری 2026 کو طے ہوئی ہے، جس میں الیکشن کمیشن کا جواب زیرِ غور آئے گا۔

پس منظر (SIR عمل کیا ہے؟)

🔸 ایس آئ آر (SIR) خصوصی گہری نظرثانی کا عمل ووٹر لسٹ میں رجسٹرڈ ناموں کی جانچ پڑتال اور درستگی کے لیے ہوتا ہے۔ اس عمل میں بھاری تعداد میں نام **“لاجیکل ڈسکریپینسی”** (مثلاً ناموں، پتوں، شناختی غلطیوں) کی بنا پر اٹھائے جاتے ہیں، جس پر ممتا بنرجی نے سوال اٹھایا ہے کہ اس سے بے گناہ ووٹرز بے ووٹر ہو سکتے ہیں۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔