جمہوری اداروں کا زوال : صفدر امام قادری کے منتخب سیاسی کالموں کے مجموعے پر ایک نظر

از:شکیل رشید ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز

اردو کے اخباری کالموں کی ایک شاندار روایت رہی ہے ۔ اگر اردو صحافت کی بیتی ہوئی تاریخ پر ایک سرسری سی بھی نظر ڈال لی جائے ، تو کالم نگاروں کی ایک ایسی فہرست ہمیں نظر آ جائے گی ، جس میں شامل نام اردو صحافت کے افق پر ہمیشہ چمکتے رہیں گے ۔ ماضی میں سرسید احإد خان ، پنڈت رتن ناتھ سرشار ، مولانا ابوالکلام آزاد ، مولانا ظفر اللہ خان اور مولانا حسرت موہانی وغیرہ سے لے کر ماضی قریب میں ظ انصاری ، خواجہ احمد عباس اور آج کے معصوم مرادآبادی ، سہیل انجم اور ودود ساجد وغیرہ تک بہت سارے کالم نگار ہیں ، جو ملکوں ملکوں پڑھے اور پسند کیے جاتے رہے ہیں ، ان ہی میں ایک نام صفدر امام قادری کا بھی ہے ۔ صفدر امام قادری کی شناخت کے تین پہلو ہیں ، وہ ایک ادیب ہیں ، ایک معلّم ہیں اور پھر ایک صحافی ہیں ۔ اور ان تینوں ہی حیثیت سے لوگ انہیں جانتے اور پسند کرتے ہیں ۔ یوں تو میدانِ صحافت میں وہ عرصے سے سرگرم رہے ہیں لیکن باقاعدہ طور پر کالم نگاری ٢٠١٣ سے شروع کی ، لیکن اس مختصر مدت میں بھی ایک کالم نگار کے طور پر انہوں نے اپنی ایک خاص پہچان بنا لی ہے ۔ ایسی پہچان کہ ان کے منتخب کالموں کی دو کتابیں ایک کے بعد ایک شائع ہوئی ہیں ۔ پہلی کتاب ’ عرض داشت ‘ کے نام سے ، جِسے معروف صحافی صابر رضا رہبر نے مرتب کیا تھا، اس کتاب میں ١١٧ منتخب کالم شامل کیے گیے تھے ۔ اور اب یہ تازہ ترین کتاب ’ جمہوری اداروں کا زوال ‘ جِسے قمر الزماں چمپارنی نے مرتب کیا ہے ، اس میں بھی تقریباً سو منتخب کالم شامل ہیں ۔ مرتب نے سیاسی کالموں کے انتخاب پر توجہ دی ہے ، لیکن یہ کالم سیاسی ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے دور کی یا کہہ لیں کہ آج کے ہندوستان کی تاریخ بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں ۔ ان کالموں میں سیاست کے ساتھ تہذیب اور سماج کے وہ گوشے بھی اُجاگر ہوتے ہیں ، جو ہندوستان کو اس رنگ کو عیاں کرتے ہیں ، جو پہلے یا تو نظر نہیں آتا تھا یا کم کم نظر آتا تھا ۔ ان میں سے ایک رنگ نفرت کا بھی ہے۔

کالموں کو ١٣ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے ، اس سے پہلے صفدر امام قادری کے ’ معروضات ‘ اور مرتب کا تحریر کردہ ’ عرضِ مرتب ‘ ہے ۔ ’ معروضات ‘ میں صفدر امام قادری اپنے کالموں کے عناصر کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ’’ کسی بھی دور کی شاعری ، ادب یا صحافت اگر ضمیر کی آواز ہے تو یہ بھی یاد رہنا چاہیے کہ لفظوں میں احتجاج کی آگ بھرے بغیر بہت سارے مواقع سے آپ کامیاب نہیں گزر سکتے ۔ مَیں نے اپنے بہت سارے کالموں میں اپنے کلیجے کی آگ اور زبان کے شعلوں کو لفظوں میں برتنے کی کو شش کی ہے ۔ اس مرحلے میں کئی بار غم و غصّے کی ایک شدید لہر دوڑ جاتی ہے ۔ کالم نگار ایک شہری بھی ہوتا ہے اور ایک عام آدمی کے طور پر بھی اُسے زندگی اور حالات دیکھنے پڑتے ہیں ۔ اس لیے مَیں نے اپنے بہت سارے سیاسی کالم سخت غصّے کے عالم میں لکھے ہیں اور اصحابِ اقتدار یا متعلقہ افراد یا جماعت سے بہ طور احتجاج سلوک روا رکھا ہے ۔ اس مرحلے میں صحافی کی معروضیت بھی مجھے یاد رہی اور ایک مدرّس اور مبصّر کے ایمان کا واسطہ بھی آنکھوں کے سامنے سے اوجھل نہیں ہوا ۔‘‘ یہ واضح رہے کہ غم اور غصّے کا اپنے کالموں میں اظہار کالم نگار کا حق ہوتا ہے ، ہاں یہ ضروری ہے کہ یہ اظہار معروضی بھی ہو اور پختہ دلائل کے ساتھ بھی ہو ۔ ان کالموں کا مطالعہ کرتے ہوئے قاری یہ محسوس کر سکتا ہے کہ غم اور غصّے کا اظہار ، جہاں بھی کیا گیا ہے ، بالکل جائز ہے۔

مرتب نے کیوں صفدر امام قادری کے صرف ’ سیاسی کالموں ‘ کا انتخاب کیا اور مجموعے کا نام ’ جمہوری اداروں کا زوال ‘ رکھا ؟ اس سوال کا جواب قمرالزماں چمپارنی کے انتہائی وقیع اور طویل ’ عرضِ مرتب ‘ میں مِل جاتا ہے ؛ وہ لکھتے ہیں : ’’ مَیں نے اُن کی ( صفدر امام قادری کی ) دانش ورانہ شخصیت کے اُس پہلو پر نظر رکھنے کی کوشش کی جو خاص طور سے سیاست اور جمہوری اداروں کی سالمیت کے لیے اُن کی فکرمندی سے عبارت ہے ۔ اسی مطمحِ نظر سے صفدر امام قادری کے تقریباً ایک سو کالم جو تمام و کمال سیاسی ہیں اور اُن اداروں پر غور و فکر کرنے کے لیے ماحول بنانے کی کوشش کے طور پر سامنے آئے ہیں جِن کا قیام جنگِ آزادی کے بعد اور کچھ پہلے ایک آرزو مندی کے ساتھ ہمارے مُلک کے اور نئی دنیا کے معماروں نے کیا تھا ۔ اسی لیے ان کالموں کے مجموعے کا نام ’ جمہوری اداروں کا زوال ‘مقرر کیا گیا ہے ۔‘‘ مرتب نے اِن کالموں کو ’ جمہوری اداروں کے زوال کا مرثیہ ‘ قرار دیا ہے ، وہ لکھتے ہیں : ’’ بعض کالم بہت درد آمیز اور پُر سوز ہیں ۔ اسی کے ساتھ درجنوں کالم اس انداز کے ہیں جِن میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لکھنے والا غم و غصّے میں مبتلا ہے اور بے اطمینانی کے عالَم میں آوازۂ بلند پیش کر رہا ہے ۔ بہت سارے کالموں میں انسانی بے چارگی کا ایسا عکس ابھرتا ہے جیسے محسوس ہو رہا ہو کہ آج کا دانش ور کچھ کر پانے کی حالت میں نہیں ہے ۔‘‘ یقیناً یہ بات سچ ہے ، آج اس ملک میں عوام کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ دانش وروں کی ایک بڑی اکثریت بے چینی ، بے اطمینانی اور بے چارگی کے احساس سے دوچار ہے ، اور یہ کالم نگار بھی انہی کی صف میں شامل ہے ۔ اس کا پوری طرح سے اظہار ان کالموں سے ہوتا ہے ۔

کتاب کے ۱۳ ابواب ہیں ؛ ’ بابری مسجد مرحوم : آخری قضیے ‘ ، ’ کانگریس : نئے دور کا آغاز ‘ ، ’ حزبِ اختلاف : حقیقی نشانے سے دور ‘ ، ’ فرقہ پرست سیاست کے داؤں پیچ ‘ ، ’ اقتدار کا نشہ ‘ ، ’ محروم طبقات کے حقوق ‘ ، ’ اقتدار کی مطلق العنانیت ‘ ، ’ جمہوری طریقۂ کار ہی واحد ذریعہ ‘ ، ’ بہار حکومت اور سیاست ‘ ، ’ نئے سیاسی مورچے ‘ ، ’ امارتِ شرعیہ : ایک صدی بعد ‘ ، ’ اقلیت آبادی : قومی اور عالمی تناظر ‘ اور ’ عالمی سیاست اور سماج ‘۔ جیسا کہ موضوعات سے ظاہر ہے کہ سیاسی ہیں ، لیکن جیسا کہ اوپر لکھا جا چکا ہے ، سیاسی ہونے کے باوجود اِن کالموں میں حالاتِ حاضرہ کی تاریخ سمو دی گئی ہے ۔ چند اقتباسات پیش ہیں تاکہ کالموں کی ’ بُنت ‘ کا اور ان میں جو غم و غصّہ پایا جاتا ہے ، اُن کا اندازہ ہو سکے ۔ ’’ مگر آج ہمیں ایک بے عمل ، اعتماد سے عاری ، بدعنوان ، بے خبر ، غیر دانش مند ، گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے میں ماہر ، حریفوں کے مقابلے حلیفوں سے مقابلہ آرا ہونے میں دلچسپی رکھنے والی قیادت سے پالا پڑا ہے ۔ صدر ، جنرل سکریٹری ، مہتمم ، وزیر ، راجیہ سبھا اور لوک سبھا کے سابق اور موجودہ ارکان ، قانون ساز اسمبلیوں کے ارکان یا سابق کارکنان ، کتابیں لکھنے اور کتابیں پڑھنے اور پڑھانے والے ، جن کی عمر پختہ ہو چکی ہے یا جو نوجوان کارندے ہیں ، چندہ لینے والے اور چندہ دینے والے – کسی ایک کے بارے میں آپ وثوق سے نہیں کہہ سکتے کہ اُسے موقع مل جائے تو قوم کے مفاد سے پَرے جاکر کوئی غلط اقدام نہ کر لے گا ۔حالت یہ ہے کہ بس وہی مفاد سے الگ ہے جسے پورے طور پر کوئی موقع نہیں ہاتھ آیا ورنہ بِکنے اور بہکنے کے لیےایک عالَم تیار ہے ، بس خریدار کا انتظار ہے ۔‘‘

مزید ایک اقتباس پیش ہے : ’’ کانگریس کا المیہ یہ رہا کہ پچھلے ستّر برسوں میں اور خاص طور پر جواہر لال نہرو کی وفات کے بعد کی نصف صدی میں اسے اس بات کا ہوش ہی نہیں رہا کہ ملک کے حقیقی مزاج کو سمجھنے اور سمجھانے کے لیے دانش وروں اور مختلف علوم کے ماہرین کی ایک بڑی تعداد ہمیں چاہیے ۔ قوم پرست دانش وروں کے بعد کمیونسٹ نظریۂ حیات کے ماننے والوں کے سہارے کانگریس بہت دور تک
فائدے بٹورتی رہی مگر اگلی منزل کا اسے یک سر خیال نہیں آیا اور اب جب کہ کارواں لٹ چکا ہے، فرقہ پرست افراد مرکزی اسٹیج پر آچکے ہیں ، اس وقت ہم پریشان ہونے کے لیے مجبور ہیں ۔‘‘

یہ ایک ایسا مجموعہ ہے ، جسے پڑھا جانا چاہیے ، اپنی خامیوں اور غلطیوں کے ادراک کے لیے بھی اور یہ جاننے کے لیے بھی کہ مُلک کِس ڈھرے پر جا رہا ہے ، اور اس وقت شہریوں کو کیا کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہ مجموعہ ’ عرشیہ پبلیکیشنز ، نئی دہلی ‘ نے شائع کیا ہے ،صفحات 512 اور قیمت 1100 روپیہ ہے ۔ کتاب موبائل نمبر 7256001663 پر رابطہ کرکے حاصل کی جا سکتی ہے ۔ کتاب کا انتساب ’ تاریکی کے درمیان سے پھوٹتی روشنی کے نام ‘ ہے ۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔