ممتا دیدی کی للکار سڑک سے سپریم کورٹ تک
تحریر: سید سرفراز احمد
سیاست اور انتقام کا رشتہ بڑا گہرا ہے۔ انتقام ہر اس جمہوری ملک پر ایک انتہائی بد نما داغ ہوتا ہے۔جس کے ذریعہ سے تخت تو بدلے جاسکتے ہیں۔ لیکن ایک انسان انسانیت کی معراج پر نہیں پہنچ سکتا۔ پھر بھی اگر اس ملک کی عوام سیاست اور انتقام کو بصیرت کی نگاہ سے یکھ کر فیصلے کرتی ہے تو جمہوریت کو زندہ رکھا جاسکتا ہے۔دنیا کے الگ الگ گوشے میں اگر دیکھا جاۓ تو سیاسی انتقام گردش ایام کی طرح گھومتا نظر آۓ گا۔ اور یہ انتقام صرف اور صرف اقتدار کی ہوس کی خاطر لیا جاتا ہے۔ دنیا کا کوئی ملک سیاسی انتقام سے مستشنیٰ نہیں ہے۔صاف اور شفاف جمہوری اصول صرف اوراق تک سمٹ کر رہ گئے ہیں۔اگر ہم ہمارے ملک کی بات کریں گے تو جمہوریت وینٹی لیٹر پر آرام کر رہی ہے۔ کیوں کہ یہاں کی جمہوریت کی دھجیاں جتنی پچھلے گیارہ سال میں اڑائی گئی یا اڑائی جارہی ہیں اس کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ اس کی اہم وجہ یہی ہے کہ ملک کی ڈور فسطائیت کے ہاتھوں میں ہے۔ حتیٰ کہ سرکاری ادارے بھی فسطائیت کے نرغے میں پوری طرح سے پھنس چکے ہیں۔ جن کا برسر اقتدار آسانی سے استعمال بھی کر رہے ہیں۔ شائد اسی لیئے سیاسی قوت سرکاری مشنری کا استعمال کرتے ہوۓ مختلیف سازشوں کو آسانی سے انجام تک پہنچارہی ہے۔
پچھلے دنوں ممتا دیدی اور ای ڈی جب آمنے سامنے آگئے تو عوامی گلیاروں سے لے کر سیاسی گلیاروں میں ایک ہلچل سی مچ گئی۔ کیوں کہ اس ملک کی عوام نے ایسا آمنا سامنا شائد پہلی بار ہی دیکھا ہوگا۔جب ای ڈی کوئلہ اسکینڈل معاملہ کی جانچ پڑتال کے لیئے خانگی ادارہ آئی پیک پر چھاپہ مارا جو ترنمول کانگریس کی انتخابی حکمت عملی کا روڈ میاپ تیار کرتی ہے۔تب اسی اثناء میں ممتا دیدی نے اپنا جارحانہ روپ دکھاتے ہوۓ میدان میں کود پڑی۔اور خود بنگال کے ڈی آئی جی اور پولیس کے لشکر کے ساتھ آئی پیک کے دفتر پہنچ کر اپنے ہاتھوں میں ایک فائل لے کر باہر نکلی۔ممتا دیدی کا کہنا ہے کہ حکومت تفتیشی ایجنسی کے ذریعہ پارٹی کا انتخابی ڈیٹا حاصل کرنا چاہتی تھی۔جب کہ تفتیشی ایجنسی ای ڈی کا ماننا ہے کہ کوئلہ گھوٹالے کی چھان بین کے لیئے چھاپہ مارنا ہی ہمارا مقصد تھا۔ای ڈی یہ بھی کہہ رہی ہے کہ بنگالی وزیر اعلیٰ نے ہماری جانچ میں خلل پیدا کیا۔ اور اس مسئلہ کو لے کر ای ڈی سریم کورٹ پہنچ گئی۔اور سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔دیدی نے آئی پیک دفتر سے نہ صرف ایک فائل حاصل کی بلکہ بنگال کی سڑکوں پر چھ کلو میٹر تک اپنے قافلے کے ساتھ احتجاجی مارچ بھی کیا۔
دیدی نے وزیر اعظم نریندر مودی سے کہا کہ "مسٹر وزیر اعظم براہ کرم اپنے وزیر داخلہ کو قابو میں رکھیئے۔” دیدی کی وزیر اعظم سے گہار ٹھیک تھی۔ لیکن دیدی کی گہار کیسے کام کرسکتی ہے۔کیوں کہ مودی اور شاہ کی جوڑی کا تال میل کچھ اس طرح ہوتا ہے جیسے دو اوپنر بیاٹنگ کررہے کھلاڑیوں کا ہوتا ہے۔لیکن پھر بھی انتہائی خطرناک سازشوں کے درمیان دفاعی انداز میں دیدی جس طرح میدان میں کود پڑی ہے وہ نہ صرف بنگال کی عوام کے لیئے بلکہ اس ملک کی عوام کے لیئے ایک بڑی طاقت بن رہی ہے۔ دیدی سیاسی تجربہ رکھنے کے ساتھ ساتھ سیاسی بصیرت بھی رکھتی ہیں۔ دیدی نے بنگال میں کی جانے والی بھاجپا کی سیاسی سازشوں کو اچھے سے بھانپ لیا ہے۔ اسی لیئے وہ خود میدان میں کود چکی ہے۔ بنگال کے پچھلے اسمبلی انتخابات میں بھی بھاجپا نے دیدی کا صفایا کرنے کی ہر طرح سے کوشش کی لیکن بھاجپا دیدی کے آگے بے بس نظر آئی۔ اسی لیئے شائد بھاجپا اس بار سرکاری مشنری کے ساتھ ساتھ الیکشن کمیشن کے ذریعہ دیدی کے حوصلوں کو پست کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔لیکن دیدی نے ای ڈی کا جس ٹھاٹ سے سامنا کیا اور ای ڈی کو بے بس کردیا جس کو سیاسی گلیاروں میں دیدی کی پہلی کامیابی قرار دیا جارہا ہے۔
اب ایسا لگ رہا ہے ممتا دیدی ایر کنڈیشن میں بیٹھ کر خاموش بیٹھنے والی نہیں ہے۔ بلکہ بھاجپا اور اس کی سازشوں کا بڑے زور و شور سے تعاقب کر رہی ہیں۔ دیدی نے الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI) کے خلاف سپریم کورٹ میں اسپیشل اِنٹینسو ریویژن (SIR) یعنی ووٹر لسٹ کے خصوصی گہرے نظرثانی عمل کو چیلنج کرتے ہوئے عرضی دائر کی تھی اور بعد ازاں خود ہی 4 فروری کو سپریم کورٹ پہنچ کر دلائل دیئے۔ دیدی کا کہنا ہے کہ ایس آئی آر “غیر آئینی”، “من مانی” اور لاکھوں ووٹروں کو حقِ رائے دہی سے محروم کرنے والا ہے۔ جو این آر سی نافذ کرنے کا “خفیہ دروازہ” ہے۔ ممتا دیدی کا خود سپریم کورٹ پہنچ کر سی جے آئی کی تین رکنی بنچ کے سامنے مضبوط دلائل پیش کرنا اپنے آپ میں یہ ایک عظیم کارنامہ سمجھا جارہا ہے۔دیدی نے آئینی بنچ کے سامنے گہار لگاتے ہوۓ کہا کہ "سب کچھ ختم ہوچکا ہے۔کہیں انصاف نہیں مل رہا ہے۔ انصاف دروازے کے پیچھے چھپ گیا ہے۔میئں اپنی پارٹی کے لیئے نہیں لڑ رہی ہوں۔اور کہا کہ میئں اپنی آخری اپیل کے طور پر چیف جسٹس کے سامنے یہ بات رکھتی ہوں کہ الیکشن کمیشن واٹس ایپ کمیشن ہوگیا ہے”۔ دیدی نے بنچ کے سامنے کہا کہ بنگال کو خصوصی نشانہ بنایا جارہا ہے۔چوں کہ جس طریقے کا ایس آئی آر دیگر ریاستوں میں ہورہا ہے اس کی صورت حال بنگال میں مختلیف ہے۔
دیدی کا الزام تھا کہ اس کارروائی کا مقصد ووٹروں کے نام شامل کرنا نہیں بلکہ انہیں فہرست سے ہٹانا ہے۔دیدی نے عدالت سے جمہوریت کو بچانے کی گہار لگائی۔سپریم کورٹ نے ممتا دیدی کی اپیل سن کر الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا ہے۔ اس معاملے کی اگلی سماعت 9 فروری 2026 (پیر) کو ہوگی۔ عدالت نے کہا ہے کہ وہ عملی حل تلاش کرنے کی کوشش کرے گی۔ اور ضرورت پڑنے پر مزید وقت بھی دیا جا سکتا ہے۔یہ کیس آنے والے اسمبلی انتخابات کے پیشِ نظر نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے۔ فی الحال عدالت نے کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا، مگر الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرنے کو بھی ایک بڑی پیش رفت مانا جا رہا ہے۔جو آئندہ سماعت کے بعد معلوم ہوجاۓ گا کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔سوال یہ ہے کہ دیدی الیکشن کمیشن کے خلاف سڑک سے سپریم کورٹ تک خود کیوں میدان میں نکل چکی ہے؟ دراصل بھاجپا نے 2024 کے لوک سبھا انتخابات کو دراندازی کے نام پر لڑا۔ اسی ایجنڈے پر وہ بنگال سے دیدی کا صفایا کرنے پر تُلی ہوئی ہے۔ بنگال سے دیدی کا صفایا کرنے کے لئے بھاجپا نے بنگلہ دیشی مسلمانوں کے نام پر بڑے پیمانے پر بنگالی مسلمانوں کے نام حذف کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔ جس کو دیدی کا ووٹ بینک کہا جاتا ہے۔ بھاجپا اسی منصوبہ بندی کے تحت دیدی کو بنگال میں سیاسی طور پر شکست دینا چاہتی ہے۔ کیوں کہ بھاجپا پچھلے اسمبلی انتخابات میں ایڑی چوٹی کا زور لگانے کے باوجود بھی بنگال میں برسر اقتدار تک نہیں پہنچ سکی۔اسی لیئے دیدی کے مطابق بنگال ہی اصل نشانے پر ہے۔
-
یہ بھی پڑھیں: پی ایم کیئرز اور ریلیف و دفاعی فنڈز پر پارلیمنٹ میں سوالات کی اجازت نہیں ہوگی: وزیراعظم دفتر کی ہدایت
بنگال میں آئندہ اسمبلی انتخابات تک مزید سیاسی طوفان کے امکانات نظر آرہے ہیں۔ چوں کہ بنگال کی باگ ڈور امیت شاہ کے ہاتھ میں ہے۔ جو ممتا دیدی کے لیئے کسی چیلنج سے کم نہیں۔ لیکن ممتا دیدی کا ای ڈی کے چھاپے کے دوران خود ڈٹ کر سامنے آجانا اور سڑک ہر احتجاج درج کروانا اور پھر ایس آئی آر کے مسئلہ پر خود سپریم کورٹ تک پہنچ کر یہ ثابت کررہا کہ دیدی ہر سیاسی طوفان چاہے سازشوں کا ہی کیوں نہ ہوں، مقابلہ کرنے کے لیئے تیار ہوں۔ ممتا دیدی نے واضح کیا کہ میئں خود کی پارٹی کے لیئے نہیں بلکہ عوام کی حقوق کی لڑائی لڑ رہی ہوں۔ ایک بات تو یہ ہے کہ دیدی کے اس جملے سے ہمیں اختلاف ہوسکتا ہے کہ وہ خود کی سیاست کی لڑائی لڑنے کا اقرار نہیں کررہی ہے لیکن غیر محسوس طریقے سے دیدی کی یہ لڑائی عوام اور دیدی کی سیاسی طاقت کو مضبوط کرے گی۔دوسری بات یہ کہ ممتا دیدی کی اس زمینی لڑائی نے عوام کا مزید اعتماد جیت لیا ہے۔جس سے بھاجپا کھسیانی بِلٌی کی طرح راستہ ڈھونڈ رہی ہے۔تیسری بات یہ کہ ممتا دیدی کی اس دھاڑ نے یہ ثابت کردیا کہ وہ آگے بھی کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ بنگال میں بھاجپا اور دیدی کی لڑائی میں کیسے کیسے نظارے سامنے آتے ہیں۔ ابھی سب کی نظریں سپریم کورٹ میں9 فروری بروز پیر کو ہونے والی سماعت پر مرکوز ہیں۔