از: محمد رافع ندوی
آج دنیا ایپیسٹن فائلز کے انکشافات سے حیران ہے، ایپیسٹن فائلز نے بڑے بڑے سفید پوشوں اور حقوق انسانی اور انصاف و رواداری کے جھوٹے علم برداروں کے کالے کرتوتوں، خبیث ارادوں اور سیاہ بدنما وحشی چہروں سے جو نقاب اتاری ہے؛ اس نے پوری دنیا کو سکتے میں ڈال دیا ہے، آج لوگ اس پر حیرانی کا اظہار کر رہے ہیں اور زندہ انسانی ضمیر رکھنے والا ہر شخص یہ کہ رہا ہے کہ کیا انسانی شکل و صورت میں، انسانوں کے بھیس بھوسے میں ایسے درندے، ایسے وحشی، ایسے خونی اور وحشت ناک جانور بھی ہو سکتے ہیں، جو اپنے ہی جیسے انسانوں کو، معصوم جانوں کو، پاکیزہ عصمتوں کو حد درجہ بربریت اور درندگی کا نشانہ بناتے ہیں اور انسانیت بلکہ شیطنت کی تمام حدوں کو پھلانگ جاتے ہیں، ہر زندہ انسان کو یقیناً حیرت اور تأسف ہونا ہی چاہیے لیکن اس طرف کسی کی نظر نہیں جاتی کہ یہ درندے، انسانی شکلوں میں یہ حیوان یہ چوپائے، یہ سانپ اور بچھو، یہ بھیڑیے صرف یورپ اور امریکہ ہی میں قیامت خیزیاں نہیں کرتے بلکہ یہ وحشی اور خوں خوار ہر طرف ہمارے آس پاس بھی رہتے ہیں جن کی درندگی کے واقعات سے روح کانپ کانپ جاتی ہے اور اکثر ان کے وحشیانہ کرتوتوں سے پردہ اٹھتا رہتا ہے۔
کیا یہ خبر کوئی نئی خبر ہے کہ ایک انسان نما درندے نے شہر یا محلے کی ایک گلی میں ایک چھ سال اور پانچ سال کی معصوم بچی کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا اور پھر اسے اینٹ اور پتھر سے کچل کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔
کیا یہ خبر ہمارے کانوں سے نہیں ٹکرائی کہ ایک درندے نے جو انسانی شکل رکھتا تھا، اس نے اپنے جھوٹے عقیدے اور آستھا کی خاطر ایک دس گیارہ سال کے بچے کو بلی چڑھا دیا اور اس کا خون پی گیا۔
کیا ہم نے ابھی کل یہ خبر نہیں پڑھی کہ دلی میں محض چند ہفتوں کے دوران ڈیڑھ ہزار سے زیادہ بچے بچیاں لاپتہ ہو گئے ؟ چند ایک کا پتہ معلوم کیا جا سکا لیکن اکثر کی گمشدگی سے کوئی پردہ نہیں اٹھا؟ آخر کون ہیں یہ درندے جو گلیوں، محلوں، بازاروں اور چوک چوراہوں سے معصوم زندگیوں کو، نوجوانوں کو عورتوں کو اچک لیتے ہیں اور خدا جانے انہیں کن ہاتھوں میں بیچ ڈالتے ہیں اور ان کا کیا کچھ حشر کرتے ہیں، ان کے متعلقین تھانے کورٹ کچہری کے چکر لگاتے لگاتے تھک کر اور مایوس ہو کر کسی زندہ لاش کی مثال بن کر رہ جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:
کیا روزمرہ کی بنیاد پر ہم یہ خبر نہیں سنتے کہ درندوں کی ایک بھیڑ نے ایک بے گناہ انسان کو اس کا نام پوچھ کر، اس کی مخصوص شناخت معلوم کرنے کے بعد اس پر جھوٹے الزامات لگاکر پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا؟ کیا یہ خبر جھوٹی ہے کہ ایک شوہر نے اپنی بیوی کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے یا ایک بیوی نے اپنے آشنا کے ساتھ مل کر اپنے شوہر کو موت کے گھاٹ اتار دیا؟
ایپیسٹن فائلز جیسی خبریں ہمارے چاروں طرف بکھری ہوئی ہیں اور حقیقت تو یہ ہے کہ ہر طرف درندوں کا راج ہے، شیطانوں کی حکمرانی ہے، جنہیں نہ کسی قانون کا ڈر ہے اور نہ خدا کا خوف، جنہیں اطمینان ہے کہ وہ شیطنت اور حیوانیت کی چاہے کتنی ہی حدیں پھلانگ جائیں، ان سے کوئی باز پرس نہیں ہونے والی۔
وہ لوگ بھولے اور معصوم ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ان درندوں کا رخ ان کی طرف نہیں ہے اور وہ ان درندوں سے محفوظ ہیں، اب یہ درندے انسانی سماج کو نوچتے بھنبھوڑتے پھریں تو ان کی بلا سے، درحقیقت اس سوچ کے حامل بھی اپنے وجود کے کسی کونے میں درندگی ہی چھپائے ہوئے ہیں، بس فرق چھوٹے اور بڑے، زیادہ خطرناک اور کم خطرناک درندے کا ہے۔
درندے درندے ہوتے ہیں، وہ نہ کوئی دھرم دیکھتے ہیں نہ کوئی مذہب، نہ کوئی ذات دیکھتے ہیں نہ کوئی رنگ اور نسل، انہیں تو اپنی ہوس اور اپنی درندگی کا نشانہ بنانے کے لیے کوئی شکار درکار ہوتا ہے۔ آج نہیں تو کل اور اس کی شروعات ہو چکی ہے ان درندوں سے پورا سماج پریشان ہو جائے گا اور پھر کہیں جائے پناہ نہیں ملے گی۔
ظاہر ہے جب تک لوگ صحیح معنوں میں انسانی تعلیمات اور پیغمبرانہ ہدایات کی روشنی میں اپنی زندگی کی منزلوں کا تعین نہیں کریں گے، جب تک انسانی سماج اپنی بے لگام خواہشوں کو اپنا امام بناتا رہے گا، جب تک انسانی ضمیر کی آواز کا گلا گھونٹا جاتا رہے گا، تب تک انسانی سماج میں درندگی اور بربریت کے ایسے ہی مظاہرے ہوتے رہیں گے اور ایک فائل نہیں، آئندہ بھی اس طرح کی بلکہ اس سے بھی زیادہ بھیانک، خوفناک اور دردناک فائلز دنیا کے سامنے کھلتی رہیں گی، دنیا حیران تکتی رہے گی، اور روزمرہ کی بنیاد پر اس طرح کے وحشیانہ واقعات ہماری سماعتوں اور ہماری بصارتوں سے گزر کر انسانی ضمیر کو منہ چڑھاتے رہیں گے۔
حل صرف ایک ہے انسانی ضمیر کا احیا، خدا کا خوف، سماج کی شرم، باز پرس اور جواب دہی کا احساس، اگر ایک لفظ میں کہا جائے تو موجودہ شرمناک انسانی رویوں کا حل صرف اور صرف اسلام اور قرآن میں پوشیدہ ہے۔