نئی دہلی
سابق آرمی چیف جنرل (ریٹائرڈ) منوج مکُند نر ونے کی ناقابل اشاعت یاد داشت [ Four Stars of Destiny ] کے مبینہ غیر مجاز لیک ہونے کے معاملے میں دہلی پولیس نے سخت کارروائی میں ایف آئی آر درج کر دی ہے اور سپیشل سیل کو تحقیقات سونپ دی گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش میں سازشی حوالوں کے اشارے ملے ہیں اور معاملے کو ممکنہ بین الاقوامی سطح تک بڑھایا جا رہا ہے۔
پولیس کارروائی اور سازش کے خدشات
دہلی پولیس نے بتایا ہے کہ کتاب کے پری-پرنٹ ورژن کی ایک پی ڈی ایف کاپی سوشل میڈیا اور کچھ ویب سائٹس پر گردش کر رہی تھی، جبکہ اسے مینسٹری آف ڈیفنس کی ضروری منظوری حاصل نہیں تھی۔ ابتدائی تحقیقات سے یہ شک ظاہر ہوتا ہے کہ کتاب کو منصوبہ بندی کے تحت لیک کیا گیا تاکہ منظوری کے عمل کو بائی پاس کیا جا سکے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ لیک شدہ ورژن پر موجود ISBN نمبر بھی اسی کتاب سے منسوب ہے، جس کے حوالے سے پبلشر سے وضاحت طلب کی جا رہی ہے۔ اس کیس میں ممکنہ کاپی رائٹ خلاف ورزی، غیر قانونی تقسیم اور سرکاری اجازت کے بغیر اشاعت جیسے پہلوؤں کی بھی جانچ کی جائے گی۔
بین الاقوامی پیمانے پر گردش
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مبینہ لیک کی گئی کتاب کینیڈا، آسٹریلیا، جرمنی اور امریکہ میں آن لائن دستیاب ہے، جس نے معاملے کی سنگینی اور پھیلاؤ کو بڑھا دیا ہے۔ اسی بنیاد پر تحقیقات کے دائرہ کار کو بین الاقوامی سطح تک وسعت دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔
پبلشر کو نوٹس، ایف آئی آر درج
دہلی پولیس نے Penguin India کو نوٹس جاری کیا ہے اور ان سے پوچھا ہے کہ ناقابل اشاعت یاد داشت کس طرح عوام کے سامنے آ گئی، جبکہ اسے حکومتی کلیئرنس کا انتظار تھا۔ اس کیس میں سازش، آفیشل سیکرٹس ایکٹ اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
سیاسی تنازعہ
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب کانگریس کے رہنما راہُل گاندھی نے پارلیمنٹ میں اس کتاب کے بعض اقتباسات پڑھنے کی کوشش کی، جس پر حکومت اور اسپیکر نے اعتراض کیا کہ ایک ناقابل اشاعت دستاویز کو پارلیمنٹ میں نہیں پڑھا جا سکتا۔ اس واقعے نے لوک سبھا کی کاو صرفرروائی متاثر کی اور سیاسی بحث میں شدت آگئی۔
پولیس سپیشل سیل ٹیم کی قیادت میں لیک کے ماخذ اور ذمہ داران کی تلاش کر رہی ہے۔ ساتھ ہی پبلشر کی وضاحت، پی ڈی ایف کے آن لائن ذرائع اور بین الاقوامی سائٹس پر دستیابی کے حقائق کی بھی جانچ جاری ہے۔ مزید قانونی کارروائی تحقیقات کے نتائج پر مبنی ہوگی۔