پروفیسر ایس عرفان حبیب پر دہلی یونیورسٹی میں حملہ، وسیع پیمانے پر مذمت

نئی دہلی: رپورٹ نمائندہ

نامور مورخ پروفیسر ایس عرفان حبیب پر دہلی یونیورسٹی کے ناردرن کیمپس میں ایک احتجاجی یا ادبی تقریب کے دوران پانی سے بھرا بالٹی پھینکا گیا جس کے بعد ایک کچرے کا ڈبہ بھی پھینکا گیا، جس سے ان کی تقریر متاثر ہوئی۔

یہ واقعہ "پیپلز لٹریچر فیسٹیول: سَمَتا اُتسو ” کے دوران پیش آیا، جسے آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA) نے منعقد کیا تھا۔ عرفان حبیب تقریب میں ذات-پات، برابری اور تاریخی بحثوں پر خطاب کر رہے تھے جب اچانک پیچھے سے بالٹی میں بھرا پانی اُن پر پھینکا گیا اور تھوڑی دیر بعد کچرے کا ڈبہ بھی پھینکا گیا۔ بالٹی براہِ راست ان سے نہیں لگی، مگر پانی ان پر گر گیا جس سے وہ چند لمحوں کے لیے ہچکچا گئے، پھر تقریب بحال رکھتے ہوئے اپنے خطاب کو جاری رکھا۔

الزام اور جوابات

  • آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA) نے اس حملے کو منظم اور منصوبہ بند کوشش قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ اکھل بھارتیہ وِدھیارتی پَرِیشَد (ABVP) کے اراکین نے تقریب میں خلل ڈالنے کی کوشش کی۔
  • جبکہ ABVP نے ان الزامات کو بے بنیاد اور غلط قرار دیا، اور دعویٰ کیا کہ وہ واقعے یا پروفیسر کو نقصان پہنچانے میں ملوث نہیں ہے۔

یونیورسٹی انتظامیہ کا دعوی

دہلی یونیورسٹی کی انتظامیہ نے واقعے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک اس معاملے میں کوئی باضابطہ تحریری شکایت موصول نہیں ہوئی، تاہم سوشل میڈیا اور طلبہ تنظیموں کی جانب سے سامنے آنے والی اطلاعات کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جا رہا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق اگر شکایت درج کرائی جاتی ہے تو واقعے کی مکمل جانچ کر کے ذمہ دار افراد کے خلاف ضابطے کے مطابق کارروائی کی جائے گی، اور کیمپس میں نظم و ضبط اور تعلیمی ماحول کو برقرار رکھنا یونیورسٹی کی اولین ترجیح ہے۔

سماجی و سیاسی ردعمل

واقعے کی ویڈیو منظرِ عام پر آتے ہی تعلیمی، سماجی اور سیاسی حلقوں میں شدید غم و غصہ دیکھنے میں آیا۔ مختلف اساتذہ تنظیموں، طلبہ گروپوں اور دانشوروں نے اسے جامعات کے جمہوری اور آزاد ماحول پر حملہ قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی۔ مقررین کا کہنا تھا کہ یونیورسٹیاں اختلافِ رائے، مکالمے اور علمی بحث کے مراکز ہوتی ہیں، جہاں تشدد، دھونس یا خوف کا کوئی جواز نہیں ہو سکتا۔

متعدد سماجی کارکنوں اور سیاسی رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ ایسے واقعات میں ملوث عناصر کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کی جائے تاکہ کیمپس میں عدم برداشت اور غنڈہ گردی کے رجحان کی حوصلہ شکنی ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ خیالات کا جواب دلیل سے دیا جانا چاہیے، نہ کہ حملوں اور ہنگامہ آرائی سے۔

اساتذہ برادری نے خبردار کیا کہ اگر جامعات میں علمی شخصیات کی سلامتی یقینی نہ بنائی گئی تو یہ ملک کے تعلیمی ماحول اور جمہوری اقدار کے لیے تشویشناک ثابت ہوگا۔

پروفیسر ایس عرفان حبیب کون ہیں؟

پروفیسر ایس عرفان حبیب بھارت کے معروف مورخین میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے معاشرتی اور سیاسی تاریخ پر متعدد کتابیں اور تحقیقی کام کیے ہیں۔ ان کے علمی کام میں تاریخ، سماج، اور برابری کے مسائل کے بارے میں گہری بحث شامل رہی ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔