از :مفتی محمد خالد حسین نیموی قاسمی
پرنسپل مدرسہ بدر الاسلام بیگو سرائے ،بہار
علم حدیث وہ مبارک و مہتم بالشان اور رفیع القدر علم ہے جو ابتدائے اسلام سے حاملینِ کتاب وسنت اور ورثاء علوم نبوت کی خصوصی توجہ کا مرکز رہا ہے ، حدیث، دین اسلام کا بنیادی مآخذ میں سے ایک اہم ماخذ اور شریعت کا سرچشمہ ہے،یہ اللہ کی آخری کتاب قرآن کریم کا بیان اور اس کی تفسیر ہے. جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا "ثم إن علينا بيانه”(القیامۃ: 19)
علامہ شوکانی نے فرمایا کہ یہاں "بیانہ "سے مراد حدیث ہے۔علامہ شاطبی نے لکھا ہے "فکانت السنة بمنزلة التفسير والشرح لمعاني الكتاب "(الموافقات 10/6)
حدیث کی انہیں اہمیتوں ،ضرورتوں اور تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے؛ قرون اولی کے نفوس قدسیہ نے حفظ حدیث ،روایت حدیث،شرح حدیث اور کتابت حدیث کی جانب اپنی خصوصی توجہ مرکوز فرمائی.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات -"أُكتبوا لأَبي شاهٍ”اور "فليبلغ الشاهدُ الغائبَ "جیسے ارشادات کی روشنی میں صحابہ کرام ،تابعین عظام اور تبع تابعین نے سینہ بہ سینہ روایت حدیث اور اس کی کتابت کے ذریعہ خدمت حدیث اور اس کی اشاعت میں کارہائے نمایاں انجام دیا۔
برصغیر ہند میں علمِ حدیث کی روایت نہایت قدیم، مضبوط اور ہمہ گیر رہی ہے۔ اس علمی روایت کی تشکیل و استحکام میں جن خطّوں نے غیر معمولی کردار ادا کیا ہے ، ان میں صوبۂ بہار کو ایک امتیازی مقام حاصل ہے۔
علم حدیث بہار کی سرزمین پر :
بہار کی سرزمین نے ایسے جلیل القدر محدثین، شارحینِ حدیث اور ناقدینِ رجال پیدا کیے جن کی تصانیف خصوصاً صحاحِ ستہ اور ان سے متعلقہ علوم میں علمی استناد کا درجہ رکھتی ہیں۔ زیرِ نظر مقالہ میں علماءِ بہار کی عربی و اردو شروحاتِ حدیث کا ایک اجمالی مگر نمائندہ جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔
سرزمین بہار پر علم حدیث کا چرچا مخدوم الملک شیخ شرف الدین یحییٰ منیری کے جد امجد شیخ تاج فقیہ بن ابو بکر بن محمد کے ذریعہ شروع ہوا. جو 575 ہجری کے آس پاس بہار کی سر زمین پر تشریف لائے ۔اس کے بعد آپ کے خانوادے کے بزرگوں بالخصوص شیخ شرف الدین یحیی منیری اور ان کے خلفاء اور تلامذہ کے ذریعے حدیث کا چرچا عام ہوا.
حضرت مخدوم بہاری کی ذات نہ صرف تصوف ومعرفت بلکہ تفسیروحدیث کے لحاظ سے بھی ممتاز تھی ؛ان کی خانقاہ میں معتبر حدیث کی کتابوں کا اچھا خاصا ذخیرہ موجود تھا. جن کا وہ خود مطالعہ کرتے اور اپنے خلفاء ومریدین کو ان کے مطالعہ کا حکم فرماتے ۔آپ اپنے خلفا ء کو روحانی سلسلہ کے ساتھ سلسلۂ احادیث کی بھی اجازت دیتے تھے ۔۔اس سلسلہ می مولانا شاہ عز الدین پھلواروی لکھتے ہیں :
اس سرزمین پھلواری کی سب سے پہلی با عزت شخصیت حضرت سید شاہ منہاج الدین راستی کی ہے ۔جو ساتویں صدی کے بزرگ ہیں ؛حضرت مخدوم بہاری نے آپ کو اپنے طریقۂ عرفانی کا مجاز بنادیا ۔جس میں سلسلہ حدیث کی سند بھی تھی ۔
تاہم ریاست بہار میں حدیث شریف کا باضابطہ تدریسی سلسلہ حضرت سید یاسین گجراتی کی ذات گرامی سے شروع ہوا ۔جو اکبری دور کے مشہور محدث ہیں؛ جنہوں نے شیخ وجیہ الدین گجراتی اور علماء حرمین شریفین سے حدیث کی کتابیں پڑھی تھیں اور لاہور اوربنگال کے ساتھ بہار کو بھی دولت حدیث سے معمور کیا ۔
علوم حدیث میں مہارت کی وجہ سے انہیں "شیخ المحدثین ” کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے ۔
اس سلسلہ کوآگے بڑھانے کا سہرا عالمگیری دور کے مشہور فاضل محدث شیخ محؐد عتیق محدث بہاری ،(و:1075 ھ )شارح شمائل ترمذی ملا وجیہ الحق محدث بہاری (و:1100 ھ ) اور ان کے شاگرد اور صاحب زادے شیخ وحید الحق محدث پھلواروی (و : 1124) مصنف تعلیمات شمائل ترمذی و زاد الآخرۃ ۔ کے سر بندھتا ہے۔
ملا وحید الحق پھلواروی:
ملا وحید الحق محدث پھلواروی اپنے دور کے ممتاز علماء میں شمار ہوتے ہیں۔ ۱۲٢۴ ھ میں پیدا ہوئے، پھلواری شریف میں تعلیم و تربیت ہوئی، بعض درسی کتابیں اپنے والد محترم ملا وجیہہ الحق سے اور بقیہ کتابیں اپنے ماموں شیخ مبین جعفری سے پڑھیں ، سند حدیث اپنے والد محترم سے حاصل کی۔
تعلیم سے فراغت کے بعد درس و تدریس میں مشغول ہو گئے۔ بڑے متقی آدمی تھے۔ فقراء کا لباس پہنتے اور چٹائی پر بیٹھتے تھے۔ ان کے شاگردوں کی تعداد زیادہ تھی، جن میں مولینا احمدی ، شیخ علی اکبر مفتی عبد المغنی، شیخ نور الحق اور شیخ نعمت اللہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔انہوں نے کچھ علمی یادگاریں چھوڑ ہیں جن میں "ہدایة الفقه ، تعلیمات بیضاوی، تحقیق الایمان ” زاد الآخرة ” اور ” ذکر الصلوة ” قابل ذکر ہیں۔ حدیث میں شمائل ترمذی کی تشرحات اہم ہیں۔
اس کے بعد بھی ہر زمانے میں یہاں” قال اللہ وقال الرسول” کی زمزمہ سنجی رہی. بعد کے زمانے میں بھی کئی شخصیات کو علم حدیث کے حوالے سے امتیازی مقام حاصل ہوا. جن میں چند مندرجہ ذیل ہیں.
حضرت شاہ ظہور الحق صاحب پھلواری :
حضرت شاہ ظہور الحق صاحب پھلواری ( المتوفی ۱۲۳۴ء) بہار کے مشہور محدث گزرے ہیں۔ آپ نے خواب میں دیکھا کہ حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب دہلوی کوئی چیز آپ کو دے رہے ہیں؛ دوسرے دن آپ کو حضرت شاہ صاحب قدس سرہ کی کتاب "عجالہ نافعہ” ملی۔ یہ کتاب شاہ عبد العزیز دہلوی نے اسی محدث بہار شاہ ظہور الحق کے لئے لکھی تھی ۔ "عجالہ نافعہ” کا وہ قلمی نسخہ جس میں شاہ عبدالعزیز صاحب نے ظاہر فرمایا تھا کہ یہ کتاب شاہ ظہور الحق صاحب کے لئے لکھی گئی ہے۔ بروایت شاہ صبیح الحق صاحب’ دارالمصنفین کے کتب خانہ میں پایا جاتا ہے۔ (مقالات سلیمان)
باعث مسرت ہے اصول حدیث اور صحاح ستہ کے لیے اس گائیڈ بک کی تعریب اور فارسی سے عربی قالب میں ڈھالنے کا کام اسی سرزمین بہار کے گل سرسبد شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی کے شاگرد رشید حضرت مولانا سید عبد الاحد قاسمی(ساکن :قصبہ بیگوسرائے) نے کیا ہے.
مولانا آل احمد پھلواری :
پھلواری شریف میں ایک اور جلیل القدر محدث گزرے ہیں ، یہ حضرت شاہ آل احمد صاحب قدس سرہ کی ذات ہے، آپ نو جوانی میں گھر سے غائب ہو گئے تھے، ایک عرصہ کے بعد بہار کے حجاج نے دیکھا کہ مکہ مکرمہ میں حدیث کا درس دے رہے ہیں، آپ نے بہت بے تکلف اور سادہ زندگی گزاری ، کبھی فرش خاک ہی پر بیٹھ کر درس دیتے ، حضرت شاہ تمنا پھلواروی فرماتے تھے کہ حضرت شاہ علی حبیب نصر پھلواروی قدس سرہ نے آپ سے حدیث پڑھی ہے.
مولانا آل احمد پھلواری نے مشکوٰۃ المصابیح کا ترجمہ کیا. اور اسے مختلف انداز میں مرتب کیا.
اسی طرح مولانا کمال صاحب علی پوری ( مضافات بہار ) بھی اعلیٰ پایہ کے محدث تھے۔
حضرت مولینا محمد سعید حسرت عظیم آبادی :
حضرت مولینا محمد سعید حسرت ( مولود ۱۲۳۱ء متوفی ۱۳۰۴ھ ) بھی بہار کے محدثین میں بہت بڑا درجہ رکھتے ہیں۔فيض الملک الوہاب المتعالي بأنباء أوائل القرن الثالث عشر والتوالي میں شيخ عبد الستار الدہلوي (1286-1355) نے علامہ سعید حسرت عظیم آبادی کا مفصل تذکرہ کیا ہے اور ان کی براعت و کمال کو بہترین الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ہے. علامہ موصوف علامہ محسن بن یحیی ترہتی ،علامہ ظہیر احسن شوق نیموی اور دیگر بہت سے محدثین کے عالی قدر استاذ اور شیخ ہیں ۔
مولاناشاہ عز الدین بہاری :
مولاناشاہ عز الدین صاحب بہار کے ایک صوفی گھرانے سے تعلق رکھنے والے محدث و عالم ہیں۔ آپ نے نو جوانی میں پیروں کی طرح روحانی نکتے بیان کئے ہیں۔ آپ کی سیرت امام احمد ابن حنبل سے خود آپ کی پاک زندگی کے نقوش نظر آ رہے ہیں، آپ نے یہ کتاب اردو میں لکھی ہے۔ اسلوب بیان حد درجہ لطیف و شیریں اور ہر واقعہ محققانہ طرز نگارش کا حامل ہے۔ حضرت علامہ سید سلیمان ندوی کی نظر میں پھلواری کے بعد کے بزرگوں میں سب سے زیادہ آپ کو حدیث کا شغف معلوم ہوتا ہے۔
سید شاہ مظفر بلخی نے "مشارق الانوار” کی شرح بھی تصنیف کی.
شرح ترمذی از مولانا اصغر حسین بہاری :
حضرت مولانا اصغر حسین صاحب بہاری استاد مدرسہ شمس الہدی پٹنہ نے امام ترمذی کی کتاب "ترمذی شریف” پر ‘ نزل السوی ٗکے نام سے ایک ایسی جامع شرح لکھی ۔جو "ما قل و دل” کا مصداق ہے ،جس سے مولانا موصوف کی محدثانہ وسعتِ نظر اور وفور علم کا پتہ چلتا ہے۔ یہ کتاب عربی زبان میں ہے جس سے ہمارے اس بہاری محدث کی عربی ادب و انشاء سے واقفیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ یہ کتاب مذہب حنفی کی تائید میں لکھی گئی ہے۔ اور فقہ حنفی کے دلائل کو انہوں نے مبرہن کردیا ہے.
مولانا رفیع شکرانوی کی شرح ابوداود
مولانا رفیع الدین (1854/1919 ) شکرانواں کے رئیس اور بلند پایہ محدث وفقیہ تھے ۔اپنے سرمایہ سے ایک عظیم لائبریری قائم کی ۔جس میں حدیث وفقہ کی بیش بہا کتابیں تھیں ۔انہوں نے ابو داؤد شریف کی ایک مبسوط شرح بھی لکھی تھی ۔علامہ مناظر احسن گیلانی اس شرح سے متعلق ہندوستان میں مسلمانوں کا نظام تعلیم وتربیت جلد 1 ص 353 میں لکھتے ہیں: واللہ اعلم یہ کہاں تک صحیح ہے ۔کہ شرح عون المعبود جو غایۃ المقصود کا خلاصہ ہے ،مولانا شمس الحق ڈیانوی نے اس کی تالیف میں مولانا رفیع شکرانوی کی شرح ابوداؤد سے بہت نفع اٹھایا ۔لیکن افسوس کہ خود مولانا شکرانوی کی شرح ضائع کرادی گئی یا ہوگئی ۔
اس کے علاوہ ان کے گوہر بار قلم سے رحمۃ الودود علی رجال سنن ابی داود ۔تعلیقات علی سنن النسائی اور کتاب الاذکار نامی کتابیں بھی جلوہ گر ہوئیں ؛اگرچہ ان کے نسخے دستیاب نہیں ہیں؛ لیکن تاریخ نے ان کی تصنیفات کے ناموں کو محفوظ رکھا ہے. (مستفاد از مضمون محمد تنزیل صدیقی حسینی ۔)
ان سے استفادہ کرنے والوں میں مشہور شارح جامع ترمذی مولانا سید اصغر حسین بھی شامل ہیں ۔ان کے بارے میں علامہ آزاد نے یہ اشعار کہے ہیں :
فخر القران واماثل ذات او ۔
ایں چنیں ذاتے دیں ایام ۔۔۔۔
عالم فرزانہ دور زمان ۔۔۔
فقیہ وہم محدث بے گماں ۔
(ماہنامہ برہان دہلی جنوری 1957 )
سید نذیر حسین محدث دہلوی:
محدث جلیل شیخ الکل فی الکل سید نذیر حسین محدث دہلوی بلند پایہ محدث ہیں. ان کی عظمت کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ حضرت شاہ اسحاق محدث دہلوی کی مسند درس کو سنبھال کر تقریبا پون صدی تک قال اللہ وقال الرسول کی صدائے جاں بخش سے دار الحکومت دہلی کی فضا کو معطر رکھا ۔درس و تدریس کے علاوہ آپ نے تصنیف و تالیف کے ذریعے بھی دینی علوم وفنون کی خدمت انجام دی۔ ان کی چند اہم کتابیں یہ ہیں الایمان یزید و ینقص، توثیق عبادہ بن صامت رسالہ،در قرأۃ فاتحہ خلف الامام؛ تراویح سنت موکدہ. تحقیق، حدیث جابر بن سمرہ در باب رفع یدین، تقویۃ الایمان، معیار الحق، مصرف مال زکوۃ اور حدیث شرط ابی داؤد قابل ذکر ہیں (علماء بہار کی علمی و دینی خدمات کا تحقیقی مطالعہ )
علامہ ابراہیم آروی اور تراجم صحاح :
علامہ ابراہیم آروی نے ترجمہ حدیث شریف کے ضمن میں تنہا جو خدمتیں انجام دیں ہیں؛ وہ بذات خود بہت وقیع ہیں۔
حدیث میں "طريق النجاۃ” اور "سلیقہ” اردو میں صحیح حدیث کے تراجم ہیں، یہ کتابیں اس وقت لکھی گئیں؛ جب مولانا وحید الزماں خان صاحب ( نواب وقار جنگ بہادر کی اور آپ کے بڑے بھائی کے اردو تراجم جو صحاح ستہ کے متعلق ہیں، ابھی شائع نہیں ہوئے تھے ، اس لئے سب سے پہلا شرف بہار، اور بہار میں آرہ کو ہے کہ اس نے احادیث نبوی کو با محاورہ اردو میں پیش کیا۔ مولانا نے حدیث ، تفسیر، معاشرت، صرف و نحو اور تعلیم کے موضوع پر تقریباً بیس کتا بیں لکھیں.
حضرت مولانا ابرہیم آروی نے اپنی پوری زندگی کتاب و سنت خصوصاً حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی صیانت و حفاظت میں صرف کی -مورخ اہل حدیث مولانا اسحاق بھٹی اپنی معروف کتاب "دبستان حدیث "میں مولانا آروی صاحب کے سلسلے میں ایک منفرد بات لکھی ہے کہ ضلع آرہ میں مولانا وہ پہلے شخص تھے جنہوں رمضان المبارک کے آخری عشرے میں شب قدر کے لئے شب بیداری کا آغاز کیا ورنہ لوگ اس سے قبل شب برات میں بیدار ہوا کرتے تھے ،گویا کہ مولانا آروی صاحب ایک سنت کو زندہ کیا -(دبستان حدیث: 240)
مولانا عبد العزیز رحیم آبادی سمستی پوری کی خدمت حدیث :
حضرت مولانا عبد العزیز رحیم آبادی شیخ الکل فی الکل مولانا نذیر حسین کے تلامذہ میں مشہور محدث ہیں. آپ نے مولانا ابراہیم صاحب کی "طریق النجاۃ” کے طرز پر اردو میں حدیثیں جمع کی تھیں، آپ کی کتب مضافات تربت میں بہت پھیلی۔
شرح احادیث پر آپ کی مہتم بالشان تصنیف ” سواء الطریق ہے ۔پہلے عربی زبان میں انہوں نے مشکوۃ المصابیح سے صحیح احادیث کا انتخاب کیا ۔بعد ازاں سواالطریق کے نام سے اردو میں اس کا ترجمہ کیا ،اور اس کے مختصر حواشی لکھے جور چار ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے۔۔ آپ نے سیرۃ النعمان (شیلی) کے بعض مقامات کے جواب میں حسن البیان نامی ایک کتاب بھی تصنیف کی ہے۔
مولانا جعفر شاہ پھلواروی کی ریاض السنۃ بھی خاصہ کی چیز ہے۔
علامہ شمس الحق عظیم آبادیؒ اور حدیثی خدمات:
علماءِ بہار میں ایک درخشاں نام علامہ شمس الحق عظیم آبادیؒ کا ہے، جن کی شہرۂ آفاق تصنیف “عون المعبود شرح سنن ابی داؤد” برصغیر میں سنن ابی داؤد کی سب سے معتبر اور جامع شرح سمجھی جاتی ہے۔ یہ شرح محض فقہی توضیح تک محدود نہیں بلکہ اس میں:تخریجِ حدیث،عللِ حدیث،جرح و تعدیل،اور اسماء الرجال،پر نہایت وقیع اور محققانہ بحثیں ملتی ہیں۔اسی طرح ان کی دوسری اہم تصنیف “غایۃ المقصود شرح سنن ابی داؤد” اور “التعلیق المغنی علی سنن دارقطنی” اگرچہ دارقطنی سے متعلق ہیں، مگر ان میں صحاح کے منہجِ روایت اور اصولِ نقد کو سمجھنے میں گراں قدر مواد موجود ہے، جو شروحِ صحاح کے فہم میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
“التعلیق المغنی علی سنن دارقطنی” میں علامہ نے دقیق اسانید، رواۃ کے مراتب اور حدیثی اختلافات کو جس فنی مہارت سے واضح کیا ہے، وہ ان کے بلند پایہ محدث ہونے کی روشن دلیل ہے۔
علامہ ظہیر احسن شوق نیمویؒ اور خدمت حدیث :
علامہ ظہیر احسن شوق نیمویؒ کا شمار بہار کے ان اکابر محدثین میں ہوتا ہے؛ جنہیں فنِ رجال اور شرح حدیث پر غیر معمولی عبور حاصل تھا۔ان کے بارے میں علامہ کشمیری کی یہ شہادت کافی ہے کہ گذشتہ تین صدیوں میں اس معیار کا کوئی محدث پیدا نہیں ہوا۔علامہ حبیب الرحمن محدث اعظمی نے لکھا ہے ۔کہ علامہ طحاوی کی شرح معانی الآثار کے بعد علامہ نیموی کی تصنیف آثار السنن حنفیہ کے نقطہ نظر سے لکھی جانے والی خالص محدثانہ رنگ کی پہلی کتاب ہے ۔ ان کی تصانیف:آثار السنن۔اور اس کا حاشیہ التعلیق الحسن اور علمِ حدیث پر لکھے گئے مختلف رسائل، اس بات کے شاہد ہیں کہ وہ کس پایہ کے محدث ہیں. اسماء الرجال، طبقاتِ رواۃ اور ان کے باہمی تقابل پر انہیں گہری نظر حاصل تھی۔خصوصاً جب ان کی تحریر میں “قال النیموی” کا اسلوب سامنے آتا ہے تو وہاں رواۃ کی ثقاہت، ضعف، اتصال و انقطاعِ سند اور اختلافِ ائمہ پر ایسی زبردست فنی بحث ملتی ہے جو قاری کو قدیم کبار محدثین کی یاد دلا دیتی ہے۔افسوس کہ یہ کتاب "کتاب الجنائز” سے آگے نہیں بڑھ سکی ؛لیکن جتنا بھی آپ نے لکھا وہ نہ صرف کتب ستہ بلکہ کتب عشرہ کی بہترین شرح کا درجہ رکھتی ہے ۔عصر حاضر کے ممتاز صاحب قلم محقق عالم دین حضرت مفتی ثناء الہدی قاسمی نے تفہیم السنن کے نام سے جو اس کی شرح لکھی ہے وہ بھی زبردست سرمایہ ہے۔
علامہ محسن بن یحیی ترہتی کی خدمت حدیث :
اسی زمانے میں علامہ محمد محسن بن یحییٰ ترہتیؒ۔جو بیگوسرائے ضلع کے خضر چک گاؤں کے رہنے والے تھے،اپنے استاذ شیخ عبد الغنی کی محبت میں مدینہ منورہ ہجرت کرگئے تھے ۔ اور مدتوں حرم مکی اور حرم مدنی میں حدیث کا درس دیتے رہے ؛ان کی تصنیف“الیانع الجنی فی اسانید الشیخ عبد الغنی” علمِ اسناد کا ایک قیمتی ذخیرہ ہے۔ اس کتاب میں:صحاحِ عشرہ کے مصنفین اور ان کے بعد کے رواۃپر نہایت جامع اور بے مثال کلام ملتا ہے، جو حدیثی اسانید کے فہم میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔گویا یہ کتاب صحاح ستہ کے لیے مفتاح کا درجہ رکھتی ہے ۔آپ نے علوم حدیث کی اشاعت کے لیے ایک عظیم کتب خانہ اپنے وطن خضر چک میں قائم کیا تھا ۔جس میں حدیث کا انتہائی قیمتی اور نایاب ذخیرہ تھا ۔(مفصل احوال کے لیے بندہ راقم السطور کی کتاب :علامہ محسن ترہتی اور انکی شہرہ آفاق کتاب الیانع الجنی ۔تعارف وتبصرہ کا مطالعہ کیجیے )
علامہ ظفر الدین بہاری کی خدمت حدیث:
علامہ ظفر الدین بہاری جو مولانا احمد رضا خاں بریلوی کے خلیفہ تھے ،انہوں نے بھی الگ انداز میں احادیث کی خدمت کی ہے ۔ان کی کتاب جامع الرضوی معروف بہ صحیح البہاری، 1345ھ میں شائع ہوئی.
یہ کتاب چھ جلدوں پر مشتمل ہے ،جس کی قدرے تفصیل مندرجہ ذیل ہے:
- (١)جلد اول : عقائد
- (٢) جلد دوم : طہارت و صلوۃ
- (٣) جلد سوم : زکوۃ،صوم و حج
- (٤) جلد چہارم : کتاب النکاح تا وقف
- (٥) جلد پنجم : کتاب البیوع تا غصب
- (٦) جلد ششم کتاب الشفاء تا فرائض۔
اس کے علاوہ ان کی کتاب نزول السکینۃ باسانید الاجازۃ المتینہ،( 1333ھ) اسانید حدیث سے متعلق ہے. جب کہ الافادات رضویہ- (اشاعت 1344ھ۔) اصول حدیث سے متعلق ہے۔
اس طرح آپ نے فن حدیث میں زبردست کارنامہ انجام دیا اور فقہ حنفی کے نقطہ نظر سے ایک اہم ضرورت کی تکمیل کی.
الاحسان الساری بترجمۃ صحيح البخاری :
مشہور جملہ ہے فقہ البخاری فی تراجمہ ۔امام بخاری کی فقاہت ان کی کتاب صحیح الجامع کے ترجمۃ الباب میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے ۔ترجمۃ الباب پر متقدمین ومتاخرین نے بڑا کام کیا ہے ۔مونگیر بہا سے وطنی تعلق رکھنے والی شخصیت : مفتی عميم الاحسان مجددی برکتی مونگیری علیہ الرحمہ کی یہ کتاب اس موضوع پر شاندار کتاب ہے ۔
شرح ابی داؤد للبرکتی:
حضرت مفتی احسان الہی مجددی برکتی مونگیری نے ابو داؤد کی بھی شاندار شرح لکھی ہے ،جو الحمد للہ ابوداؤد کے حاشیہ پر شائع شدہ ہے ۔اور اہل علم اور محدثین کے لیے زبردست سوغات ہے ۔اس شرح میں ۤپ نے حل الفاظ ومشکلات پر خاص توجہ دی ہے ۔
مذکورہ محدثین کی خدمات پر ایک نظر :
خلاصہ یہ ہے کہ بہار کے محدثین میں شاہ ظہورالحق ، شاہ آل محمد ، مولینا کمال علی پوری، مولانا سعید حسرت عظیم آبادی کے علاوہ مولاناولایت علی زبیری صادق پوری ( صاحب رسالہ عمل با لحدیث ) مولینا فیاض علی جعفری صادق پوری ۔ ( جن کی تصنیف ”فیض الفیوض ۱۳۷۶ھ میں شائع ہوئی) مولینا سید نذیر حسین مونگیری (ثم الدہلوی) مولانا عبدالعزیز رحیم آبادی، مولانا فضل حسین مہدانوی، مولانا عبد الغفار مہدانوی ( مترجم ادب المفرد بخاری) مولانا شہودالحق عظیم آبادی، مصنف بحر الذخار ، مولاناشمس الحق صاحب ڈیانوی ( صاحب عون المعبود)، علامہ ظہیر احسن شوق نیموی (مصنف آثار السفن )، مولانا ابو محمد ابراہیم آروی ( صاحب "طريق النجاۃ ) علامہ محسن ترہتی ،صاحب الیانع الجنی حضرت مولانااصغر حسین بہاری (مصنف نزل السوی)،وغیرہ بھی بہت بڑا درجہ رکھتے ہیں۔
اسی طرح مولانا حکیم عبد الرؤف صاحب دانا پوری ( صاحب اصح السير )،(جسے ہم بخاری کتاب المغازی اور دیگر کتابوں کی کتاب المغازی اور کتاب الجہاد کی بہترین شرح کہہ سکتے ہیں.) مولانا شاہ عز الدین صاحب پھلواروی ( مصنف سيرت احمد بن حنبل )، مولانا سید سلیمان صاحب ندوی ( صاحب سيرت امام مالک ) ، مولانا ظفر الدین صاحب ( مصنف "جامع الرضوی ،علامہ احسان الہی مجددی نے بھی حدیث کی موقر خدمتیں ۔انجام دیں.
علامہ عثمان غنی بیگوسرائیویؒ اور شروحِ صحاح:
اسی طرح علامہ عثمان غنی بیگوسرائیویؒ کی علمی خدمات بھی اس باب میں نہایت اہم ہیں۔ ان کی تصنیف:
- (۱) نصر الباری شرح بخاری مکمل ۱٣جلدیں
- (۲) نصر المنعم شرح صحیح مسلم
- (۳) نصر المعبود شرح سنن ابی داؤد
- (۴)نصر الحیاۃ شرح مشکوٰۃ (نا مکمل)
وغیرہ خاص طور پر مقبول خاص و عام ہوئیں۔ان میں نصر الباری شرح صحیح البخاری؛ صحیح بخاری کی ایک گہری، اصولی اور محققانہ شرح ہے، جس میں فہمِ حدیث، تطبیقِ روایات اور فقہی اشارات کے ساتھ ساتھ اصولِ حدیث کی مضبوط بنیادیں بھی ملتی ہیں۔ علامہ عثمان غنی بلند پایہ محدث ہیں ۔حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی کے شگرد رشید تھے ۔مختلف مقامات پر خدمت تدریس انجام دینے کے بعد حضرت مولانا عبد الاحد تارا پوری کے اصرار پر تارا پور گجرات تشریف لے گئے ۔
تاریخ میں بخاری کی پہلی مکمل اردو شرح ،نصر الباری :
دار العلوم تارا پور میں شیخ الحدیث کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے ، انھیں ایام میں انھوں نے بخاری شریف کی مکمل اردو شرح لکھنے کا ارادہ کیا. چوں کہ اب تک بخاری کی کوئی مکمل اردو شرح نہیں لکھی گئی تھی ۔ اکابر کی جو بھی شروحات اردو زبان میں شائع ہوچکی تھیں ان میں سے کوئی بھی پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکیں تھیں، بلکہ چند جلدوں کے آنے کے بعد یا تو شارح کی وفات ہوجاتی یا کسی اور عذر کی وجہ سے سلسلہ ناقص رہ جاتا. اس لیے عام روش ہے ہٹ کر انھوں نے اپنی شرح نصر الباری کی شروعات بخاری جلد دوم کتاب المغازی سے کی ۔ ایک جلد کی تکمیل تاراپور گجرات ہی میں ہوئی۔ جب یہ شرح چھپ کر منظر عام پر آئی ، تو اسے بڑی مقبولیت ملی عام، اردو ترجمہ کے اہتمام اور ترجمۃ الباب کی مختصر وضاحت کی وجہ سے عام حلقوں خاص کر طلبہ کے ما ہیں اسے بڑی مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس سے حوصلہ پاکر انہوں نے اس سلسہ کی تکمیل کا ارادہ کر لیا، اللہ نے ان کے اس عزم کو قبول فرمایا اور تاریخ میں پہلی بار مکمل بخاری شریف کی کوئی مکمل اردو شرح زیور طبع سے آراستہ ہوئی۔اس شرح کی پہلی اشاعت دار التالیف چلمل سے عمل میں آئی، بعد ازاں آپ نے دیوبند کے مشہور اشاعتی ادارہ زکریا بکڈپو سے معاہدہ کیا اور اس کی تمام بارہ جلدوں کی اشاعت انڈیا میں اسی اشاعتی ادارے سے عمل میں آئی. جب کہ پڑوسی ملک پاکستان اور بنگلہ دیش کے مختلف اشاعتی اداروں نے بھی اسے بڑے اہتمام سے شائع کیا.
گذشتہ دنوں شوشل میڈیا کے ذریعے بخاری شریف کی ایک ایسی شرح سے واقفیت حاصل ہوئی، جس کے بارے میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ یہ اب تک کی سب سے جامع، تحقیقی اور مفصل ومحقق اردو شرح ہے. شرح کا نام ہے :”کشف الباری عما فی صحیح البخاری” بخاری شریف کی یہ شرح بیس جلدوں پر مشتمل ہے. مشہور صاحب قلم عالم دین، ماہنامہ آئینہ مظاہر کے ایڈیٹر جناب مفتی ناصر الدین مظاہری نے اپنے فیس بک جداریہ پر اس شرح کا تعارف یوں درج فرمایا:”بخاری شریف کی سب سے مفصل اور علمی و تحقیقی شرح کا اب تک کا سب سے عمدہ نسخہ.
افادات:حضرت مولانا سلیم اللہ خان ترجمہ بخاری: حضرت علامہ محمد عثمان غنی(شیخ الحدیث مظاہر علوم وقف سہارنپور)
معیاری طباعت، عمدہ کاغذ اور خوب صورت و مضبوط جلدوں کے ساتھ مکتبۃ النور دیوبند میں دستیاب ہے۔
اس جامع شرح میں علامہ عثمان غنی قاسمی سابق شیخ الحدیث مظاہر علوم سہارنپور کا ترجمہ دیکھ کر اس عاجز کو بڑی مسرت ہوئی اور اندازہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل سے علامہ عثمان غنی کے ترجمۂ بخاری کو وہ مقام ومرتبہ عطا کیا ہے وہ مقبولیت عطاء کی جو مقام و مقبولیت مسند ہند حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے صاحب زادگان حضرت شاہ رفیع الدین دہلوی اور شاہ عبد القادر دہلوی کے ترجمہ وتفسیر کو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا.. انڈیا کے ساتھ پڑوسی ملکوں میں اس ترجمہ کی بڑے پیمانے پر پذیرائی آپ کے اخلاص وللہیت کی دلیل ہے۔
کشف الباری میں متن کے ترجمہ کے طور پر علامہ عثمان غنی کے ترجمہ کی اشاعت اس امر کی بھرپور عکاسی کرتی ہے. ورنہ ایک اسلامی جمہوریہ کے وفاق المدارس کے صدر اور ایک ممتاز ادارہ کے سربراہ شیخ الحدیث، فخر المحدثین حضرت مولانا سلیم اللہ خاں کے درسی افادات و تشریحات کے ساتھ حضرت علامہ عثمان غنی کے ترجمہ کی شمولیت کا اور کیا مطلب ہوسکتا ہے؟کسی اور بزرگ کا ترجمہ بھی درج کیا جاسکتا تھا۔
انتقال پر ایک عشرہ سے زائد عرصہ گذرنے کے باوجود ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حضرت کی ذات طالبان علوم نبوت کے مابین جلوہ افروز ہوکر ان کی علمی رہنمائی کررہی ہے. موجودہ وقت میں شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خاں کے افادات کے ساتھ حضرت علامہ کے ترجمہ کی اشاعت اس کی واضح دلیل ہے.صحیح بخاری کی شرح کے میدان میں علامہ عثمان غنی بیگوسرائیویؒ کی تصنیف “نصر الباری شرح صحیح البخاری” کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ یہ عربی شرح فہمِ حدیث، تطبیقِ روایات اور فقہی اشارات کے ساتھ ساتھ اصولِ حدیث کی مضبوط بنیادوں پر قائم ہے۔ اس شرح میں شارح نے بخاری شریف کے منہج کو واضح کرنے کے ساتھ مشکل احادیث کی شرح نہایت اعتدال اور تحقیقی انداز میں کی ہے، جو بہار کے علماء کی حدیثی بصیرت کا مظہر ہے۔اسی طرح:نصر المنعم شرح مقدمہ مسلم۔اس کتاب میں علامہ عثمان غنی نے مقدمہ مسلم کا آسان اور عام فہم انداز میں نہ صرف یہ کہ ترجمہ کیا بلکہ اس کی بہترین تشریح بھی کی ہے ۔، جبکہ نصر الحیات شرح مشکاۃ. یہ مشکاۃ المصابیح کی جامع شرح ہے. کہا جاسکتا ہے کہ یہ صرف مشکوٰۃ المصابیح کی نہیں بلکہ صحاح ستہ کی جامع شرح ہے۔
علامہ اکرام علی بھاگل پوری کی نفع المسلم
-
شرح صحیح مسلم :
صحیح مسلم کے فہم میں بہار کے علماء کی خدمات بھی قابلِ ذکر ہیں۔ مولانا اکرام علی بھاگل پوریؒ کی اردو تصنیف “نفع المسلم شرح صحیح مسلم” اردو زبان میں صحیح مسلم کی شرح کے سلسلے میں ایک اہم اضافہ ہے۔ اس شرح کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں حدیث کے ساتھ فقہی اور اصولی نکات کو عام فہم اسلوب میں پیش کیا گیا ہے، جس سے اردو داں طبقہ صحیح مسلم سے بہتر طور پر استفادہ کر سکتا ہے۔اس کی پہلی جلد 545 صفحات پر مشتمل ہے، اس کی اشاعت ہند وپاک کے متعدد نشریاتی اداروں سے آئی.
حضرت مولانا علامہ اکرام علی صاحبؒ ملک کے نامور محدث شمار ہوتے تھے، اور زندگی کا بیشتر حصہ علم حدیث کی خدمت میں صرف کی تھی،پوری دنیا میں آپ کے شاگرد پھیلے ہوئے ہیں ،آپ کے علمی افادات کی اہل علم کی نگاہ میں بڑی قدر و قیمت ہے، علامہ ا کرام علی صاحب جب بولتے تھے تو محسوس ہوتا تھاکہ علم کے موتی رولتے ہیں، اس لیے حضرت علامہ کے افادات کی اشاعت کی بڑی شدید ضرورت تھی ، جس پر آپ کے صاحب زادگان، تلامذہ متعلقین نے توجہ دی، اور توجہ کے نتیجے میں جلداول چھپ کر منظر عام پر آچکی ہے اور جلد ثانی کا کام تکمیل کے مرحلہ میں ہے۔
تحفۃ العبقري،شرح سنن الترمذي:
محدث عصر حضرت علامہ مولانا اکرام علی صاحب سابق شیخ الحدیث جامع تعلیم الدین ڈابھیل کے درسی افادات پر مشتمل جامع ترمذی کی یہ شاندار شرح ہے ۔اس پر نظر ثانی کا فریضہ انجام دیا ہے مشہور محدث :حضرت مولانا انصار علی صاحب دامت برکاتہم شیخ الحدیث دار العلوم حیدر آباد
مرتب:مفتی امانت علی قاسمی (بھاگل پوری) استاذ حد بہت وافتاء دار العلوم حیدر آباد۔صفحات 565
ناشر:جامعہ رشید العلوم قصبہ ، چمپا نگر ، بھا گلپور
اکرام الباری :
اکرام الباری شرح الحدیثین للبخاری صحیح البخاری کی پہلی اور آخری حدیث پر مشتمل درسی افادات کی کتاب ہے، جس میں محدث عصر حضرت علامہ اکرام علی کے افادات شامل ہیں، جن کی نظر ثانی مولانا محمد انصار نے کی اور اسے مفتی عمار احمد قاسمی نے مرتب کیا۔ یہ کتاب اہل سنت و الجماعت کے عقائد، فقہ، اور عملی زندگی سے متعلق احادیث کو قرآن و سنت کے دلائل کے ساتھ پیش کرتی ہے۔ پہلی حدیث اعمال کی نیت کے بارے میں رہنمائی دیتی ہے، جبکہ آخری حدیث ذکر الٰہی کی فضیلت کو بیان کرتی ہے۔ اردو زبان میں ہونے کی وجہ سے یہ کتاب طلباء، علماء، اور عام قارئین کے لیے قابل فہم ہے۔ یہ کتاب دینی علوم کے طلباء اور محققین کے لیے ایک انمول علمی خزانہ ہے۔
نفع المسلم از مفتی توقیر عالم پورنوی :
نفع المسلم کے نام سےنوجوان عالم دین برادرم جناب مفتی توقیر عالم قاسمی پورنوی سابق معین المدرسین دار العلوم دیوبند نے بھی مسلم شریف کی شرح لکھی ہے. جس کی اشاعت دارالکتب دیوبند، جس کی توثیق بحر العلوم حضرت مولانا نعمت اللہ اعظمی نے بھی کی ہے۔
المسک الذکی علی جامع الترمذی :
یہ جامع الترمذی کی عمدہ شرح ہے ۔شارح ہیں سرزمین بہار سے تعلق رکھنے والے ممتاز صاحب قلم وصاحب علم حضرت مولانا محفوظ الرحمن شاہین جمالی،شیخ الحدیث مدرسہ امداد الاسلام میرٹھ ۔خوبصورت اسلوب اور ادبی انداز میں انہوں نے یہ شرح ترمذی مرتب کی ہے ۔
تسہیل النسائی :
اس کے علاوہ جھارکھنڈ سے وطنی تعلق رکھنے والے حضرت مولانا فرید الدین قاسمی محدث دارالعلوم وقف دیوبند کے درسی افادات کو تحقیق مزید کے ساتھ تسہیل النسائی کے نام سے جناب مولانا محمد قاسمی بن مولانا صابر قاسمی نے مرتب کیا ہے، جو 252 صفحات پر مشتمل ہے۔
تشریح النسائی :
نسائی شریف کی ایک قابل ذکر بلکہ قابل تعریف شرح وہ ہے جو حضرت مولانا مفتی فہیم احمد صاحب سمستی پوری کی تالیف کردہ ہے ۔یہ کتاب: 469صفحات پر مشتمل ہے ۔اس کی اشاعت: 2024میں عمل میں آئی۔ناشر: مجمع النور لتعليم اللغات العالميہ، ديوبند ہے۔
تعریب الدر المنضود شرح ابی داؤد از مولانا نورالحق رحمانی کٹیہاری.
ابوداؤد شریف کا شمار چوں کہ من اعلام الدین میں ہوتا ہے ،اس لیے اس پر ہر زمانہ کے محدثین نے خاص توجہ دی ۔حضرت مولانا عاقل سہارنپوری نے بھی اس پر خاص توجہ دی. اور "ا لدر المنضود ،علی سنن ابی داؤد کے نام سے شرح مرتب کی ۔یہ شرح جامع اور مکمل شرح مع متن، اعراب ، ترجمہ احادیث و تخریج شاندار انداز میں شائع ہوچکی ہے ۔
اشاعت: اگست ۲۰۱۶ ناشر: مکتبۃ الشیخ کراچی۔
- جلد ۱: کتاب الطہارۃ
- جلد ۲: کتاب الصلاۃ
- جلد ۳: کتاب الصلاۃ
- جلد ۴: کتاب الزکوۃ تا آخر کتاب المناسک
- جلد ۵: کتاب النکاح تا کتاب الجہاد
- جلد ۶: کتاب الجہاد تا آخر کتاب الجنائز
- جلد ۷: کتاب الایمان و النذور تا کتاب الخاتم۔
ہمارے خطہ بہار کے لیے یہ شرف کی بات ہے کہ اس کی تعریب اور اسے اردو سے عربی قالب میں ڈھالنے کا کام اسی سرزمین کے سپوت حضرت مولنا نور الحق رحمانی قاسمی مدرس المعہد العالی امارت شرعیہ پٹنہ نے کیا ہے۔
مدلل شرح علی سنن ابن ماجہ:
ابن ماجہ صحاح ستہ میں سے اہم کتاب ہے اور عام طور پر داخل نصاب ہے ۔اردو میں اس کی شرح لکھنے کا شرف حاصل کیا جناب مولانا منصور قاسمی نے ۔اس شرح کو علامہ قمر الدین گورکھپوری ودیگر اکابر کا اعتماد حاصل ہے ۔
نام کتاب :مدلل شرح علی سنن ابن ماجہ. از مولانا منصور قاسمی بہاری استاذ الجامعہ الاسلامیہ المدینہ راجہ بازار کولکاتا. صفحات 530
تکمیل الحاجۃ شرح اردو ابن ماجہ :
تکمیل الحاجۃ، صحاح ستہ میں سے اہم کتاب ابن ماجہ شرف کی بہترین شرح ہے ،اس خدمت کو انجام دینے والے اورشارح: مفتی غلام رسول منظور القاسمی پہراوی صاحب ہیں جن کا تعلق گریڈیہہ کی سر زمین سے ہے ۔
اشاعت: ۱۴۲۱/ ۲۰۰۰ میں عمل میں آئی ۔ناشر: زکریا بک ڈپو دیوبندہے ۔ کل 8 جلدوں پر مشتمل ہے اورہزاروں صفحات پر مشتمل قیمتی سوغات ہے ۔
- جلد ۱: شروع، باب مَن سئل عَن علم فکتمہ
- جلد ۸:کتاب اللباس، كتاب الأدب، كتاب الدعاء، كتاب تعبير الرؤيا،کتاب الفتن،کتاب الزہد
تنقیح المسالک شرح اردو موطا امام مالک:
صحاح ستہ کی کتابوں میں رزین بن معاویہ مالکی نے ابن ماجہ کی جگہ موطا امام مالک کو رکھا ہے ۔اس کے بارے میں امام شافعی فرمایا کرتے تھے: قرآن کریم کے بعد یہ سب سے صحیح ترین کتاب ہے ۔اس صحیح ترین کتاب کی شرح لکھنے کا شرف ہمارے بہار سے تعلق رکھنے والے مفتی عالم گیر دانش قاسمی ہیں اس میں حل کتاب کے ساتھ مسائل کی تفصیلات اور ائمہ کے مذاہب، استدلال اور جوابات کی صراحت بھی ہے ۔
شارح: مولانا مفتی محمد عالمگیردانش قاسمی سیتا مڑھی ہیںں۔ صفحات: ۲۸۸ ہیں ۔جب کہ ناشر: دار الکتاب دیو بند ہے۔
التيسير الممجد شرح اردو موطا امام محمد:
موطا امام مالک کی ہی ایک روایت امام محمد بن الحسن شیبانی سے ہے ۔اس لیے اسے عام طور پر موطا امام محمد کہا جاتا ہے ۔اس کی شرح لکھنے کا شرف مفتی ریحان قاسمی کو حاصل ہے؛ جو بہار کے کشن گنج سے تعلق رکھتے ہیں ۔
یہ شرح کتاب النکاح تا کتاب الضحایاہے۔شارح: مفتی محمد ریحان قاسمی کشن گنج بہار فاضل دارالعلوم دیوبند
نظر ثانی : حضرت مولانا صادق صاحب دولت پوری سابق استاذ مدرسہ مرادیہ مظفر نگر
صفحات: ۳۵۴۔اشاعت: نومبر 2021.ناشر: مکتبۃ الحرمین دیوبند
توجيہ الاخبار في شرح مشکل الآثار:
شرح معانی الآثار طحاوی شریف کے نام سے شہرت رکھتی ہے ۔اور صحاح ستہ کے ساتھ داخل درس ہے ۔اس کی شرح کو مرتب کرنے والے طلبہ کی ایک جماعت ہے لیکن خاص طور پر اس کو تحقیق وتعلیق سے مزین کرنے والے قاضی محمد حسن ندوی ہیں جن کا تعلق بہار کے مدھوبنی ضلع سے ہے ۔
مرتبین : طلبہ شعبہ تخصص فی الحديث
اضافات و تنقیحات : قاضی محمد حسن ندوی مدھوبنی استاذ حدیث وفقہ دار العلوم ماٹلی والا
حسب حکم و ارشاد: مولانا مفتی اقبال بن محمد ٹنکاروی شیخ الحدیث و مہتمم دار العلوم اسلامیہ عربیہ ماٹلی والا
ناشر: مکتبہ ابوبکر ربیع بن صبیح بصری۔3جلدیں
تحفۃ الاریب شرح الفیۃ الحدیث:
صحاح ستہ بلکہ کتب عشرہ سے حضرت مولانا منظور احمد نعمانی نے احادیث کا انتخاب تیار کیا ہے ۔جس کا نام الفیۃ الحدیث ہے ،یہ کتاب مختلف مدارس میں داخل نصاب ہے ۔برادرم جناب مفتی محمد توقیر عالم پورنوی نے اس کی بہترین شرح لکھی ہے ،جس کانام : تحفۃ الاریب شرح الفیۃ الحدیث ۔
شارح : مفتی توقیر عالم پورنوی قاسمی، ناشر دارالکتاب دیوبند ،صفحات 474.
حدیث غزوۃ الہند :
غزوۃ الہند سے متعلق احادیث متعدد کتب احادیث میں موجود ہیں ۔ان احادیث کا صحیح محمل کیا ہے ۔اسے تفصیل سے لکھا ہے ۔اور اس کی تحقیق و تشریح کا کام کیا ہے ۔حضرت مفتی اختر امام عادل قاسمی نے ۔جو مطبوع شکل میں موجود ہے۔
نوٹ طحاوی شریف:
طحاوی شریف ہمیشہ اہل علم کی دلچسپی کی کتاب رہی ہے ۔داخل نصاب ہونے کی وجہ سے طلبہ کو بھی اس سے دلچسپی ہوتی ہے ۔اس کی شرح نوٹ کی شکل میں میں "نوٹ طحاوی شریف” کے نام سے برادرم مولانا ضیاء الدین نوادوی ابن قاری شعیب نے کی ہے ۔ صفحات 139ناشر مکتبہ علمیہ سہارنپور۔
تجلیات قدسیہ:
احادیث قدسیہ کثرت سے صحاح ستہ اور حدیث کی دوسری کتابوں میں پائی جاتی ہیں ۔صرف احادیث قدسیہ کو بنیاد بناکر تشریح کاکام کیا ہے ہمارے دیار بہار کے ایک مشہور عالم دین مفتی ثمین اشرف قاسمی نے ۔
نام کتاب :تجلیات قدسیہ وشرح جامع الاحادیث القدسیہ از مفتی محمد ثمین اشرف قاسمی مظفر پوری تجلیات قدسیہ۔ 6 جلدیں ۔ق124
معاصر دور میں حدیثی روایت:
بہار کی حدیثی روایت معاصر دور میں بھی زندہ ہے۔ اس کی کچھ مثالیں مذکورہ بالا سطور میں تفصیل سےآچکی ہیں۔چند مثالیں ذیل میں درج کی جارہی ہیں۔ ، برادرم رفیق درس جناب مولانا سعد مشتاق سہرساوی اور مولانا اخلاق الرحمن قاسمی بانکوی کی شرح مقدمہ مشکوٰۃ؛ جو انہوں نے شیخ عبد الحق محدث دہلویؒ کے مشہور رسالہ مقدمہ فی اصول الحدیث کی بہترین شرح ہے. یہ شرح اصولِ حدیث کے طلبہ کے لیے نہایت مفید اور قابلِ اعتماد علمی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔اسی طرح عزیز مکرم جناب مولاناآفتاب عالم قاسمی نے بھی مقدمہ مشکوۃ کی عمدہ شرح لکھی ہے ۔
زبدۃ الفکر:
اصول حدیث میں علامہ ابن حجر عسقلانی کی شہرہ آفاق کتاب نزہۃ النظر فی شرح نخبۃ الفکر کی اہمیت اہل علم سے مخفی نہیں ہے ۔اپنی اہمیت کی وجہ سے یہ کتاب داخل نصاب ہے ۔برادرم جناب مفتی سرفراز جو بہار کے کشن گنج سے وطنی تعلق رکھتے ہیں انہوں نے اس کی شرح لکھی ہے. یہ علم حدیث کے طلباء کے لیے اصول حدیث پر ایک مختصر اور جامع رسالہ ہے ۔
مرتب: مولانا مفتی محمد سرفراز قاسمی کشن گنج (بہار)صفحات: ۶۲
مبادیات حدیث – مقدمہ ترمذی شریف
یہ کتاب درسی افاضات ہیں: حضرت مولانا مفتی حبیب اللہ صاحب چمپارنی قاسمی دامت برکاتہم کے ۔جسے خوبصورت انداز میں مرتب کرکے شائع کیا گیا ہے ۔طلبہ کے لیے مفید ہے ۔
صفحات: ۱۸۴۔اشاعت: مارچ ۲۰۲۲
تدوین حدیث از علامہ مناظر احسن گیلانی
کتابت حدیث حضرت مولانا سید منت اللہ رحمانی :
حدیث کی تشریعی حیثیت کو ڈیمیج کرنے کے لیے م،نکرین حدیث ہر زمانے میں نت نئے شوشے چھوڑتے رہے ہیں ۔ایک شوشے کا تعلق کتابت حدیث اور تدوین حدیث سے بھی ہے ۔علامہ مناظر احسن گیلانی اور حضرت امیر شریعت مولانا منت اللہ رحمانی نے ان کتابوں کے ذریعہ ان کے شبہات کا قلع وقمع کرنے کا کام کیا ہے۔
آسان اصول حدیث از مولانا خالد سیف اللہ رحمانی :
اصول حدیث کو عام فہم اور آسان زبان میں طلبہ کے دل ودماغ میں پیوست کرنے کے لیے فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے یہ رسالہ مرتب کیا ہے ۔اور اپنی اہمیت کی وجہ سے اکثر مدارس وجامعات میں داخل نصاب ہے ۔
صحاح ستہ تعارف اور خصوصیات:
یہ کتاب ابتدائے سال میں صحاح ستہ کے تعارف کے لیے بہترین کلید ہے۔اسے جناب مفتی اشرف عباس دربھنگوی۔استاذ دار العلوم دیوبند نے مرتب کیا ہے اور ناشر مکتبۃ السنۃ دیوبند ہے ۔
اس کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ کہ دارالعلوم دیوبند کے سابق شیخ الحدیث حضرت مفتی سعید احمد پالنپوری نے اس کے سلسلے میں اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ :
"صحاح ستہ تعارف و خصوصیات نو خیز فاضل جناب مولانا اشرف عباس قاسمی استاذ دار العلوم دیو بند کی تالیف ہے، میں نے اس پر ایک نظر ڈالی ہے، اردو قارئین کے لیے مفید موادا کھٹا کر دیا ہے، زبان و بیان میں سادگی ہے؛ اس لیے طلبہ کرام کے ساتھ عوام بھی اس سے استفادہ کر سکتے ہیں، اللہ تعالی موصوف کی محنت بار بار آور فرمائے آمین
حاشیۃ علی نزہۃ النظر :
جناب مفتی اشرف عباس قاسمی نے علامہ ابن حجر عسقلانی کی اصول حدیث کی مشہور کتاب نزہۃ النظر پر عربی زبان میں بہترین حاشیہ بھی تحریر کیا ہے، جس کے لیے موصوف لائق ستائش ہیں.
الجوہر المفید فی تحقیق الاسانید
علم اسانید اور رجال سے متعلق یہ کتاب بہت مفید ہے ۔اسے مرتب کیا ہے جناب مولانا مفتی کوثر علی سبحانی نے ،جو بہار کے ارریہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔اس کتاب کا عرفی نام تذکرہ محدثین اور اس کی سندیں)ہے مفتی محمد کوثر علی سبحانی ارریاوی. ص 578 صفحات پر مشتمل ہے۔
نتیجہ:
مذکورہ بالا تفصیلات اور محدثیں کے کارناموں اور ان کی تصنیف کردہ کتب حدیث وشروح حدیث بالخصوص کتب ستہ اور ان کے متعلقات کی اردو عربی شروحات کے تذکرہ سے یہ حقیقت پوری وضاحت کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ علماءِ بہار نے صحاحِ ستہ کی عربی و اردو شروحات کے ذریعے:علمِ حدیث،فقہ حدیث فنِ رجال،علمِ اسناد،اور اصولِ حدیث کے میدان میں نہایت گراں قدر اور دیرپا خدمات انجام دی ہیں۔ یہ علمی سرمایہ نہ صرف ماضی کی یادگار ہے بلکہ مستقبل کی تحقیق کے لیے مضبوط بنیاد بھی فراہم کرتا ہے۔ مزید جستجو و تحقیق سے ان شاء اللہ اس موضوع پر اور بھی اہم علمی پہلو سامنے آئیں گے۔ فی الحال اسی پر اکتفا مناسب معلوم ہوتا ہے۔اللہ تعالی تمام مصنفین ،مؤلفین وشراح کرام کو ان کی خدمات کا بہترین اجر عطا فرمائے ۔آمین یارب العالمین