از:- ڈاکٹر ظفردارک قاسمی
رواں حالات کا تجزیہ کرنے کے بعد یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اس وقت جو آراء ، نظریات اور تجزیے سامنے آرہے ہیں ان میں توازن اور اعتدال کی خاصی کمی ہے ۔ کیوں کہ کسی بھی بیان اور نظریہ کو سیاق و سباق سے ہٹا کر اور بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی اب نیوز ایجنسیوں ، صحافیوں اور دیگر اداروں کی عادت سی بن گئی ہے ۔ جس کی وجہ سے سماج میں ایک طرح کی بے چینی پیدا ہوجاتی ہے ۔ بسا اوقات تو اس طرح کی باتیں بھی سامنے آئیں کہ بات کسی اور نے کہی ہے اور منسوب اسے کسی دوسرے کی طرف کردیا گیا اور پھر اس کا مذاق بھی اڑایا جانے لگا ۔ اسی طرح ہر وہ عمل اور کردار جس میں حقائق سے چشم پوشی اور مفاد کا غلبہ دکھائی دے، یا مذہبی بنیاد پر کسی پر سختی اور کسی کے ساتھ نرمی ۔ یہ سب ایسے عوامل ہیں جو کہیں نہ کہیں سماج میں انتشار و افتراق پیدا کرتے ہیں ۔ اس طرح کی چیزوں سے کبھی بھی کوئی معاشرہ اپنے وجود اور شناخت کو باقی نہیں رکھ سکتا ہے اور نہ مذہب کا نشہ پلا کر لگاتار کسی کمیونٹی کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ دنیا کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ انہیں اقوام اور ممالک نے ترقی کی ہے جنہوں نے علم و تحقیق ، فکر و شعور ، جدید ایجادات و اختراعات کو فروغ دیا ہے ۔ برعکس جن معاشروں نے علم و فضل کی دنیا کو آراستہ نہیں کیا وہ معاشرے کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوئے ہیں ۔ اس تناظر میں ہمیں سوچنا ہوگا اور خود کو تیار کرنا ہوگا تاکہ معاشرہ محض روحانیت کی ہی آماجگاہ نہ بنے بلکہ مذہب و دھرم کے ساتھ معاشرے میں تکنیکی ، اقتصادی اور معاشی ترقی بھی ممکن ہوسکے ۔ ظاہر ہے مستحکم معاشی نظام کے بغیر کوئی سماج اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکتا ہے۔
کبھی کبھار انداز بیاں اور موضوع کی حساسیت کو نظر انداز کرنا بھی معاشرے کی بے چینی کا سبب بنتا ہے ۔ مثلاً آج کل مسلمانوں اور اسلام کے خلاف نفرت آمیز بیانیے سوشل میڈیا پر کثرت سے دکھائی دے رہے ہیں، مگر ان بیانیوں کے خلاف بر وقت آواز نہ اٹھانا یا پھر حساس اور ذمے دار اداروں کا دانستہ طور پر خاموشی اختیار کرنا اور کسی بھی طرح کا ایکشن نہ لینا معاشرتی ہم آہنگی میں رکاوٹ ہے ، تو وہیں یہ بھی صاف ہو جاتا ہے کہ حساس اداروں کی خاموشی مسلم مخالف نظریات کو پروان چڑھا رہی ہے اور یہ افراد ان کی پشت پناہی بھی کر رہے ہیں ۔ اس کردار سے وہ کمیونٹی صرف متاثر ہی نہیں ہوتی ہے جسے نشانہ بنایا جارہا ہے بلکہ احساس کمتری میں بھی مبتلا ہو رہی ہے ۔ اس سے بڑی بات یہ ہے کہ خفت ان لوگوں کو بھی اٹھانی پڑتی ہے جو اس طرح کے عمل میں ملوث ہوتے ہیں ۔ لہٰذا متوازن اور معتدل تجزیوں ، ظلم و نا انصافی کے خلاف بر وقت آواز اٹھانا اور حساس اداروں کا غیر جانبدار ہونا ضروری ہے تاکہ معاشرہ کا کوئی طبقہ خود کو کمتر اور نفسیاتی طور پر خوف و ہراس میں مبتلا محسوس نہ کرے۔
عالمی سطح پر نظر ڈالتے کے بعد یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ مسلم کمیونٹی کو نفسیاتی طور پر خوف و ہراس میں مبتلا کرکے اس کے مقصد سے ہٹانے کی منصوبہ بند سازش ہیں ۔ اسی وجہ سے اس طرح کے نظریات کو فروغ مل رہا ہے تاکہ مسلم کمیونٹی کو اس کے نصب العین سے کاٹ کر ان چیزوں کے دفاع میں لگا دیا جائے جو غیر ضروری ہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ فسطائی طاقتوں کی یہ سازش کہیں نہ کہیں کامیاب ہوتی بھی دکھ رہی ہے ۔ ارباب علم و دانش اور اصحاب بصیرت کو یہ بھی سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ آخر اس طرح کے بیانات، تجزیوں ، افکار و تصورات اور نظریات کا دفاع کیسے کیا جائے اور مسلم کمیونٹی کی ضائع ہوتی دولت و طاقت اور عقل و شعور کو کس طرح سے مثبت اور تعمیری کاموں میں صرف کیا جائے ۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ آج ہمارے پاس مقصدیت کا فقدان اور ہوش مندی کی کمی بہت زیادہ ہے جس کی وجہ سے اس کمیونٹی کا خاصا نقصان ہورہا ہے۔ مسلم کمیونٹی کے پاس مدارس و مساجد کی شکل میں بہتر نظام ہے مگر افسوس کہ ہم نے اس کے استعمال کو محدود کردیا ۔ اسی طرح ہم اپنے مدارس میں ان بیانیوں ، نظریات اور افکار و خیالات کا تعارف تک نہیں کراتے ہیں جو رواں حالات میں مسلمانوں کے خلاف منظم طور پر تیار کیے جارہے ہیں ۔ افسوسناک بات یہ بھی ہے کہ ہمارے طلباء عصری مسائل ، موجودہ حالات اور دیگر ضروری سماجی باتوں سے نابلد ہوتے ہیں ، بھلا بتائیے ہم کس طرح ان بیانیوں کا دفاع کر سکیں گے جو دن رات اسی فکر میں لگے ہوئے ہیں کہ کس طرح سے مسلمانوں کو ان کے مقصد اصلی سے ہٹا دیا جائے تاکہ مسلم کمیونٹی شعوری طور پر مفلوج اور فکری طور پر اپاہج بن سکے ۔ اس کے لیے طرح طرح کے حالات پیدا کرنا اور جتن کرنا یہی بتاتے ہیں ۔
بنیادی طور پر اس حوالے سے پہلا کام یہ ہے کہ ہمیں اس بات کا شعور ہونا چاہیے کہ وہ کون سے افکار و نظریات اور تصورات ہیں جو مسلم کمیونٹی کے خلاف کام کررہے ہیں ۔ دوسری بات یہ ہے کہ جب ہم ان سے اچھی طرح واقف ہو جائیں تو پھر ہمیں ان کا دفاع علمی و فکری انداز میں کیسے کیا جائے اس پر بھی کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ سمجھنا ہوگا کہ مقصدیت کا فقدان معاشروں کے وجود اور ان کی شناخت کو مٹا دیتا ہے ۔
بھارت میں مسلمانوں کے خلاف جو بیانیہ تیار کیا جارہاہے اس کی مجبوریاں کیا ہیں ؟ یہ ایک الگ مسئلہ ہے ۔ البتہ یہ سچ ہے کہ اس بیانیہ سے بھارت کی تہذیب اور ثقافت نہ صرف مجروح ہورہی ہے بلکہ اس کی اب عالمی سطح پر بدنانی بھی ہورہی ہے۔ اس لیے اس تصور کو سیاسی مجبوریوں سے بالکل دور رکھ کر ہندوستانی معاشرے کی تعمیر و ترقی کے لیے بلا تفریق مذہب و ملت کے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ تصور کیجیے ! ایک شخص ایک بڑے ذمہ دار عہدے پر متمکن ہے تو وہ کسی خاص مذہب اور دھرم کے لوگوں کا نہیں ہے بلکہ وہ سب کا ہے اور اس کو اپنے کردار و عمل سے بھی اس بات کا ثبوت دینا چاہیے کہ وہ کسی خاص مذہب کے افراد کی نمائندگی نہیں کر رہا ہے۔ مگر جب معاملہ اس کے برعکس ہو اور ذمے دار عہدے پر براجمان ہونے کے بعد تعصب و تنگ نظری اور مذہب کے چشمے سے دیکھے تو کیا ایسا معاشرہ ترقی اور خوشحالی کے پائدان پر پہنچ سکتا ہے ؟ آج بھارت جیسے سماج میں اس طرح کے نظریات کو بھی کثرت سے فروغ مل رہا ہے ۔
اسی پر بس نہیں ہے بلکہ اس نفرتی کردار پر لوگ خوش بھی ہورہے ہیں ۔ سیاسی جماعتوں اور سیاست سے وابستہ افراد کی یہ گھناؤنی سوچ کسی کے لیے بھی ٹھیک نہیں ہے ۔ مگر جب اس جانب دار اور نفرت آمیز رویہ پر ایک عام فرد خوش ہوتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ نفرت نے کہاں تک اثر کیا ہے ۔ اس لیے مسلمانوں کے خلاف ان نفرتی بیانیوں کو پیار و محبت سے ختم کرنے کی ضرورت ہے اور یہ اسی وقت ہوسکتاہے جب تمام ہندوستانی متحد ہوکر کام کریں گے ۔
نعرے بازی ، احتجاج و مظاہرے یہ سب ایسی چیزیں ہیں جو کہیں نہ کہیں جذباتی بناتی ہیں ۔ یہ سچ بھی ہے کہ ہمارے اس رویے کے منفی اثرات بھی ہوئے ہیں ۔ اس لیے اب ضرورت سنجیدہ ہونے کی ہے اور سنجیدگی ، اسی وقت آسکتی ہے جب ہمارے اندر حالات و واقعات کا متوازن تجزیہ کرنے کی صلاحیت اور فکری طور ہم زندہ ہوں ۔ مسائل کو کبھی بھی الجھانا نہیں چاہیے بلکہ جتنا جلد ہوسکے اس کے حل کی تدبیر کرنی چاہیے۔ جب یہ شعور پوری طرح بالغ ہو جاتا ہے تو پھر مسائل کو حل کرنا بھی آسان ہو جاتا ہے ۔ ہم ایک ایسا سماج ہیں جس میں بہت سارے مذاہب و ادیان اور افکار و نظریات ہیں یہی تعدد اس معاشرے کی خوبصورتی ہے ۔ لہٰذا اس خوبصورتی کو باقی رکھنا اور باہم احترام کے رویہ کو فروغ دینا بہت ضروری ہے تاکہ تمام مذاہب کے حاملین پر امن طور رہ سکیں ۔