از قلم: محمد فہیم الدین بجنوری
رواں عید پر ہندو انتہا پسند جارحیت نے مسلم آزادی کی اوقات ایک بار پھر یاد دلائی، ہم خورد ونوش جیسے بنیادی حق میں اکثریتی ذوق کے پابند ہیں، جداگانہ رائے کے مجاز نہیں، میری موجودہ رہائش کے جوار میں گائے کا گوشت سال بھر علانیہ فروخت ہوتا ہے، اس سہولت کی وجہ یہ ہے کہ ہندو صارفین لائن لگاتے ہیں، نادان مسلم سمجھتا ہے کہ گوشت ہے آزاد! میرے ایک دوست نے پلمنیر آندھرا کا واقعہ سنایا کہ ایک گوشت فروش نے ہندو محلے میں گائے کی دوکان کھولی، مخبری پر پولیس آئی تو ہندوؤں نے مزاحمت کی اور بتایا کہ اس کے گراہک ہم ہیں، اس صورت میں پولیس اور قانون کو اعتراض نہیں رہتا، اکثریت کا خورد ونوش نگرانی کے تحت نہیں آتا۔
عید کو ڈرانے کی مہم کا آغاز ایک ریاست کے مشہور مسلم دشمن وزیر اعلی نے اپنے بے معنی بیان سے کیا، اس کے بعد ملک جملہ مسائل سے فارغ تھا، تمام توانائیاں عید والوں کو دبانے کے لیے وقف ہوئیں، عید کی نماز ازدحام کو لے کر نشانے پر آئی اور قربانی ممنوعہ جانوروں کی فہرست کے عنوان پر متہم ہوئی، ان دنوں ملک کے پاس کوئی کام نہیں تھا، عید کی سڑک والی شاذ و نادر جماعت کو ایسا رنگ دیا جاتا ہے کہ جیسے اندرونِ ملک آمد و رفت معطل ہو جاتی ہو، ملک بھر میں معدودے چند مقامات پر عیدین کی جماعتیں سڑکوں تک ممتد ہوتی ہیں، انھیں انگلیوں پر گنا جاسکتا ہے؛ لیکن بیانات عمومی صورت حال کا تاثر دیتے ہیں، گویا ہندوستان کی نقل و حرکت ایک دن کے لیے رک گئی ہو۔
پھر نماز کا دورانیہ بیس منٹ پر مشتمل ہوتا ہے، سڑک والے آدھے نمازی ہیں، وہ خطبہ نہیں سنتے، خود خطبہ طویل نہیں ہوتا، عرب ملکوں کی گمراہ کن مثال دی جاتی ہے، یہ نہیں بتاتے کہ وہاں ضرورت نہیں ہے، مسجدیں زیادہ اور انسان کم ہیں، مجھے گلف سفر میں سب سے زیادہ خوبصورتی یہ نظر آئی کہ ہر سو مساجد تھیں، منفی مقامات پر بھی؛ حتی کہ گلو بل ولج دبئی میں ڈانس اسٹیج کی مخالف سمت میں شاندار مسجد دیکھی، ہر اہم عمارت کی منظوری مسجد کی تخصیص سے مشروط ہے، وہاں آپ باہر جاتے ہوے وقت کی ترتیب کے لیے فکر مند نہیں ہوتے، جہاں نماز متوجہ ہوگی وہیں مسجد بھی جگمگا رہی ہوگی، مساجد اور مصلوں کی بہتات نے سڑک پر نماز کے سوال کو قدیم عراق کا أرأیت بنا دیا ہے، ایک خیالی سوال پر امام مالک نے یہی جواب دیا تھا: أرأیت أرأیت اذھب إلى العراق۔
حضرت مولانا کا بیان ہندوتوا ذہن کا حوصلہ بڑھاتا ہے، بابری مسجد کا انہدام بڑا سانحہ ہے؛ لیکن اس سے بڑا حادثہ یہ ہوگا کہ ہم منظوری سے نوازیں، زبانی مزاحمت بھی ایک مزاحمت ہے، بند برقرار رہتا ہے، ورنہ سلسلہ نکل پڑتا ہے، ہم ان کے مطالبات کی پیروی کیوں کریں؟ ایک جانور کا استثنا ہماری شریعت کے خلاف ہے، جبر کے ماحول میں ہمارا آپشن سکوت ہو سکتا ہے، ہمنوائی ہر گز نہیں، شرعی گنجائش نہیں نکلتی ہے، پھر یہ بلینک چیک دے دیا آپ نے، مودی پارٹی اسے گلف میں بھنائے گی، ہمارا سچا بیانیہ کمزور ہوگا، وہ عربوں کو بتائیں گے کہ ہندوستان کے مسلمان ہمارے ہندوانہ مذہبی رجحان میں موید ہیں، انھیں شریعت کے خلاف پابندیوں پر اعتراض نہیں، حضرت مولانا کا بیان پیش کیا جائے گا، وہ یورپ اور امریکہ میں حقوق کی تنظیموں کو یہ بیان دکھائیں گے، مغربی تنظیمیں بی جے پی حکومت کا تعاقب کرتی ہیں، یہ فلٹاس ان کے منہ پر مارے جائیں گے کہ آپ اقلیتی حقوق کی باتیں کرتے ہو؟ امتیازی قوانین میں اقلیتیں ہمارے ساتھ ہیں، یہ حضرت مولانا کا بیان پڑھو۔
جنوب میں بھینس موجود نہیں، گائے ہر جگہ پر خطر ہے، بکرا عام رسائی سے اوپر رہتا ہے، یوں غیر بھینس علاقوں میں قربانی کا تناسب غیر معمولی پیمانے پر گرا، پھر اس عید کا لطف قربانی سے منسوب ہے؛ اس لیے عید ہی بے رنگ گئی، بی جے پی حکومت میں گائے کے بہانے تشدد کا لائسنس آزاد ہے، وہ شبہ کی بات کہہ کر بھینس پر ہاتھ ڈالتے ہی ہیں، کل بکرا محفوظ رہے گا اس کی کوئی ضمانت نہیں، عوامی جنون کی کوئی حد نہیں ہوتی، اس منطق کے مطابق آپ ہر آپشن سے دست برداری کے لیے تیار رہیں، ایسی نوبت کے لیے آپ کا بیانیہ ذمے دار ہے۔
ہندوستانی مسلمان سچے بیانیے سے دور ہیں، ملک میں ہمارے ساتھ ظلم ہو رہا ہے اور ہمیں سیاست، میڈیا، عدالت اور سماج کے پلیٹ فارمز سے ایک یہی بیانیہ دہرانا چاہیے، ہر گذرا حادثہ ازبر رکھنا تھا، جسے موقع پر فاتحہ کی طرح سنا دیا جائے، گائے شرعی ذبیحہ ہے؛ مگر قانون کی وجہ سے ہم گریز کرتے ہیں؛ یہ مظلوم داستان ہے، اس کے لیے قومی اہمیت کی وکالت اس داستان کو کمزور کرتی ہے، ظلم والی داستان فرقہ پرستوں کو پریشان کرتی ہے، عالمی پلیٹ فارمز پر ان کا منہ کالا ہوتا ہے، ہندوستان میں ہمارے جینے اور جیتنے کا ہنر یہ ہے کہ ہم بی جے پی زیادتیوں کو ملی نصاب بنائیں اور ہر میسر موقع پر اسے دہرا دیں، یہ خاموش دفاع ہے اور اس دفاع کا کوئی دفاع نہیں، سیاست اور سماج کی سطح پر اتنا کافی ہے، باقی تعلیم اور معیشت کے میدانوں میں مہم اور تحریک کے پیمانے پر توجہ دیں، ان راہوں میں وہ رکاوٹ ڈالیں گے؛ مگر ظلم کا شور ہی ہمیں بچائے گا، دیکھتے نہیں کہ یہودیوں نے ظلم کی گردان پڑھتے پڑھتے دنیا فتح کر لی؟ یہاں تک کہ آج جب کہ وہ خود سب سے بڑے ظالم ہو گئے ہیں ہولوکاسٹ چیخ و پکار ان کو سائبان فراہم کرتی ہے۔