انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سخت تنقید، ’’لاکھوں شہریوں کو حقِ رائے دہی سے محروم کرنے کی راہ ہموار ہوگئی‘‘
نئی دہلی: معروف سیاسی تجزیہ کار اور سماجی کارکن یوگیندر یادو نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (SIR) سے متعلق سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتِ عظمیٰ نے اس معاملے میں اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرنے کے بجائے اس سے پہلو تہی اختیار کی ہے۔
یوگیندر یادو، جو اس مقدمے میں درخواست گزاروں میں شامل تھے، نے کہا کہ وہ فیصلہ سننے کے لیے عدالت نہیں گئے، کیونکہ ان کے مطابق مقدمے کا نتیجہ پہلے ہی واضح ہو چکا تھا اور صرف تحریری حکم نامے کا انتظار باقی تھا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس جب سپریم کورٹ نے اس معاملے کی سماعت شروع کی تو ابتدا میں SIR کی آئینی حیثیت پر بحث ہوئی، لیکن بعد میں عدالت اس بنیادی سوال سے ہٹ کر محض شکایات کے ازالے تک محدود ہو گئی۔ ان کے مطابق عدالت نے آئینی اصولوں کے بجائے انتظامی معاملات پر زیادہ توجہ دی۔
یوگیندر یادو نے الزام لگایا کہ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو انتخابی عمل تیزی سے آگے بڑھانے کی اجازت دی، حالاں کہ ووٹر لسٹوں میں متعدد سنگین خامیاں موجود تھیں۔ انہوں نے کہا کہ SIR کے دوسرے اور تیسرے مرحلے کے آغاز کے بعد یہ پورا عمل ایک ’’ناقابلِ واپسی حقیقت‘‘ بن گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ عدالت کے بعض ریمارکس نے یہ تاثر دیا کہ اگر کسی کا نام ووٹر لسٹ سے حذف بھی ہو جائے تو وہ آئندہ انتخابات میں ووٹ ڈال سکتا ہے۔ یوگیندر یادو کے مطابق یہی وہ لمحہ تھا جب عدالت نے اپنی آئینی ذمہ داری سے دستبرداری اختیار کر لی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اب تک تقریباً 5.9 کروڑ افراد اس عمل سے متاثر ہو چکے ہیں اور مستقبل میں یہ تعداد 10 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔ ان کے مطابق اس فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن کو ووٹر فہرستوں کے معاملے میں غیر معمولی اختیارات حاصل ہو گئے ہیں، جس کے جمہوری نظام پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ الیکشن کمیشن نے SIR عمل کے دوران اپنے آئینی اور قانونی اختیارات سے تجاوز نہیں کیا۔ عدالت نے اس عمل کو انتخابی نظام کی شفافیت اور جمہوری عمل کے تحفظ کے لیے ضروری قرار دیا تھا۔
یوگیندر یادو نے اس فیصلے کا موازنہ 1976 کے مشہور مقدمہ ’’ADM جبل پور بنام شیوکانت شکلا‘‘ سے کرتے ہوئے کہا کہ جیسے اس فیصلے کو بعد میں جمہوری اقدار کے خلاف تصور کیا گیا، اسی طرح مستقبل میں SIR فیصلے کو بھی آئینی کمزوری کی علامت کے طور پر یاد کیا جا سکتا ہے۔