نئی دہلی/سیل رواں ڈیسک
آل انڈیا ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) نے مختلف ریاستوں میں گورنروں کی حالیہ تقرریوں اور تبادلوں پر مرکزی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ ملک کے راج بھون اب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سیاسی ’’وار روم‘‘ میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
ٹی ایم سی کے راجیہ سبھا رکن سکھندو شیکھر رائے نے کہا کہ گورنروں کی تقرری کے معاملے میں مرکز کی جانب سے ریاستی حکومتوں کو نظرانداز کیا جا رہا ہے، جو کہ وفاقی ڈھانچے اور جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاریا کمیشن اور پنچھی کمیشن دونوں نے اپنی سفارشات میں واضح کیا تھا کہ گورنر کی تقرری سے قبل متعلقہ ریاست کے وزیر اعلیٰ سے مشورہ کیا جانا چاہیے، مگر موجودہ حکومت ان اصولوں کو نظرانداز کر رہی ہے۔
ترنمول کانگریس کی راجیہ سبھا میں نائب رہنما ساگریکا گھوش نے بھی اس معاملے پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مرکز کا یہ رویہ وفاقی نظام کی روح کے خلاف ہے۔ ان کے مطابق ریاستوں کو اعتماد میں لیے بغیر گورنروں کی تقرری سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ راج بھون کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
ٹی ایم سی لیڈران کا کہنا ہے کہ حالیہ فیصلوں سے یہ خدشہ بڑھ گیا ہے کہ گورنر کے آئینی عہدے کو غیر جانبدار رکھنے کے بجائے اسے سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جو ملک کے وفاقی ڈھانچے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔