مولانا عبداللہ مغیثی اور ملّی کونسل

از:- معصوم مرادآبادی

آل انڈیا ملی کونسل کے صدر اور ممتاز عالم دین مولانا عبداللہ مغیثی گزشتہ رات میرٹھ کے ایک پرائیویٹ نرسنگ ہوم میں انتقال فرماگئے۔ انتقال کے وقت ان کی عمر تقریباً 90 برس تھی۔ وہ کئی سال سے مختلف عوارض میں مبتلا تھے۔ مولانا مغیثی ضلع میرٹھ کے اجراڑہ قصبے میں واقع ایک بڑے مدرسے گلزارحسینہ کے مہتمم تھے اور علاقہ میں اپنی دینی اور ملی سرگرمیوں کی وجہ سے بہت مقبول تھے۔انھوں نے معربی یوپی کے کئی اضلاع میں دینی مدارس کا جال پھیلایا اور درجنوں مدرسو ں کی سرپرستی کی۔وہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی مجلس عاملہ کے بھی رکن تھے اور اس کے اجلاسوں میں شرکت کے لیے دور دراز کا سفر کیا کرتے تھے۔ ان کے دست راست مولانا آس محمد گلزارقاسمی ہمیشہ ان کے ہم سفر رہتے تھے۔

میں ذاتی طورپر مولانا عبداللہ مغیثی کو برسوں سے جانتا تھا۔وہ مجھ سے بڑی شفقت فرماتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ جب برسوں پہلے ایک گروپ نے جمعیۃ العلماء سے ٹوٹ کر ملی جمعیۃ تشکیل دی تھی تو مولانا مغیثی اس کے قافلہ سالاروں میں تھے۔دیگر اکابرین میں مولانا وحید الزماں کیرانوی، مولانا سیداحمد ہاشمی اور دیگر افراد شامل تھے۔ اس سلسلہ کا عظیم الشان جلسہ دہلی گیٹ کے پاس ہوا تھا اور مولانا مغیثی اسٹیج پر بیٹھے ہوئے نمایاں لوگوں میں شامل تھے۔ جب اخباری فوٹو گرافر تصویریں لے رہے تھے تو انھوں نے اپنے چہرے پر رومال ڈال لیا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ہمارے علمائے کرام صحیح معنوں میں تصویر کشی کو حرام سمجھتے تھے۔

مولانا مغیثی کی اصل سرگرمیاں آل انڈیا ملی کونسل کی صدارت سے شروع ہوئیں جس کے وہ عرصہ دراز سے صدر تھے۔ ملی کونسل کے بانی ڈاکٹر منظورعالم ان کے بہت قدردان تھے، لیکن جیسے جیسے ڈاکٹر منظورعالم کی بیماری کی وجہ سے ان کی گرفت ملی کونسل پر کمزور ہوئی تو مولانا مغیثی کو دیوار سے لگانے کی کوششیں شروع ہوگئیں۔ مجھے یاد ہے کہ 2024 کے عام انتخابات کے بعد جب ملی کونسل نے کانسٹی ٹیوشن کلب میں مسلم ممبران پارلیمنٹ کو استقبالیہ دیا تو اس تقریب کی صدارت کے لیے مولانا مغیثی اپنی بیماری اورآزاری کے باوجود دہلی تشریف لائے۔مگر مجھے یہ جان کر تعجب ہوا کہ اگلے روز جب اس استقبالیہ جلسے کی روداد اخبارات میں شائع ہوئی تو اس میں کہیں بھی مولانا مغیثی کا نام نہیں تھا۔ پروگرام کی خبر ملی کونسل کے دفتر سے پریس ریلیز کی صورت میں بھیجی گئی تھی۔ یہ مولانا عبداللہ مغیثی کے ساتھ ملی کونسل کے نئے ارباب اقتدارکا سلوک تھا، جسے دیکھ کر مجھے بہت افسوس ہوا۔

مولانا عبداللہ مغیثی مظلوم ملت کے ان قائدین میں شامل تھے، جن کا کوئی سیاسی یا نجی ایجنڈا نہیں تھا۔ وہ مخلصانہ طورپر ملی امور میں سرگرم رہے اور کبھی کسی منفعت کا تعاقب نہیں کیا۔ ان کا کردار ان کے قد کی طرح بلند تھا۔ وہ ہمارے معاصر بزرگوں کی آخری کڑی تھے۔ ان کا انتقال جہاں ملی قیادت کا نقصان ہے تووہیں مجھے ذاتی طورپر اپنے ایک کرم فرما کے بچھڑجانے کا غم ہے۔ اللہ تعالیٰ انھیں اپنے جواررحمت میں جگہ عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل۔آمین

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔