جدید فتنوں کے دور میں معاشرتی زوال کے اسباب

از:- محمد عادل ارریاوی

______________________

آج کے دور میں جب ہم اپنے اردگرد کے حالات کا جائزہ لیتے ہیں تو دل بے حد پریشان ہو جاتا ہے۔ ہر طرف بے راہ روی، بے حیائی اور اخلاقی گراوٹ کی خبریں سننے کو ملتی ہیں۔ خاص طور پر سوشل میڈیا نے ان چیزوں کو اس قدر عام کر دیا ہے کہ اب ہر دوسرے دن کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ سامنے آ جاتا ہے جو انسان کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔

میں جب بھی فیس بک وغیرہ کھولتا ہوں تو روزانہ کوئی نہ کوئی ایسی ویڈیوز یا پوسٹ سامنے آ ہی جاتی ہے کہ فلاں جگہ ایک لڑکی ایک لڑکے کے ساتھ بھاگ گئی، یا فلاں لڑکی کسی ہندو لڑکے کے ساتھ پکڑی گئی۔ ہمیشہ ایسا دیکھنے کو ملتا ہے۔ آخر اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے کہ مسلم لڑکیاں کیوں ایسا کر رہی ہیں؟ کیوں غیروں کے ساتھ جا رہی ہیں؟ کیا ان کو ایمان کی فکر نہیں؟ کیا ان کے دل میں خوفِ خدا نہیں رہا؟ کیا ماں باپ ان پر توجہ نہیں دیتے؟ آخر اس کی بنیادی وجہ کیا ہو سکتی ہے؟

میں اکثر ایسے واقعات سنتا ہوں کہ ایک شادی شدہ لڑکی اپنے شوہر کو چھوڑ کر کسی دوسرے کے ساتھ بھاگ گئی، یا کئی کئی بچوں والی عورت کا کسی دوسرے کے ساتھ چکر چل رہا ہے۔ یہ معاملہ بہت زیادہ عام ہوتا جا رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ گھر والے خوابِ غفلت میں سوئے ہوئے ہیں۔ خدارا اپنی بہن بیٹیوں کی فکر کریں۔

کل ہی ایک صاحب بتا رہے تھے کہ ہمارے علاقے میں ایک عالمہ لڑکی، جو چار بچوں کی ماں تھی، اپنے عالم شوہر کی غیر موجودگی میں کسی دوسرے کے ساتھ غلط تعلق میں پکڑی گئی۔ جب شوہر نے یہ سب دیکھا تو اس نے طلاق دے دی۔ اب کہا جا رہا ہے کہ وہ ساری زندگی اسی طرح بیٹھی رہے گی۔ وہ خود کہتی ہے کہ میرے گھر میں سکون نہیں تھا، لیکن سوال یہ ہے کہ سکون کہاں سے آئے جب گھر کے لوگ ہی بے حیائی اور بے شرمی کی طرف چلے جائیں؟

ایسے واقعات اکثر ہوتے ہیں، ہر کوئی جانتا ہے لیکن نظر انداز کر دیتا ہے۔ میں جب اس بارے میں سوچتا ہوں تو دل کانپ جاتا ہے کہ اس معاشرے کا کیا ہوگا؟ کیسے اللہ کا عذاب نہ آئے گا؟ خدارا سنبھل جائیں، ورنہ وہی ہوگا کہ لمحوں نے خطا کی اور صدیوں نے سزا پائی۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ صرف باتیں کرتے ہیں، تنقید کرتے ہیں، مگر اپنے گھروں کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ ہم یہ نہیں دیکھتے کہ ہماری اپنی اولاد کس ماحول میں پل رہی ہے، کن لوگوں کے ساتھ اٹھتی بیٹھتی ہے، اور سوشل میڈیا پر کیا دیکھ رہی ہے۔ جب نگرانی ختم ہو جائے اور تربیت کا فقدان ہو تو پھر نتائج بھی ویسے ہی سامنے آتے ہیں۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ صرف سختی یا ڈانٹ ڈپٹ سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ اولاد کو محبت، اعتماد اور صحیح رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ہم انہیں وقت دیں، ان کے مسائل سنیں، اور انہیں دین کی صحیح سمجھ دیں تو بہت سی برائیاں خود بخود ختم ہو سکتی ہیں۔ لیکن اگر ہم صرف پابندیاں لگائیں اور خود اپنی ذمہ داری ادا نہ کریں تو پھر حالات مزید خراب ہوتے جاتے ہیں۔

ہمیں بحیثیت معاشرہ یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم نے اپنی آنے والی نسلوں کو کس طرف لے جانا ہے۔ کیا ہم انہیں صرف دنیاوی آسائشوں میں چھوڑ دیں گے یا انہیں دین اور اخلاق کی مضبوط بنیاد بھی فراہم کریں گے؟ اگر ہم نے آج اصلاح کی کوشش نہ کی تو آنے والے وقت میں حالات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔

ہمیں ہمیشہ دوسروں کے گھروں کی برائیاں ہی نظر آتی ہیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں، ان کے بچے کیا کر رہے ہیں۔ خدارا کبھی اپنے اندر بھی جھانک کر دیکھیں کہ ہم کس ماحول میں رہ رہے ہیں، ہم خود کیا کر رہے ہیں، اور ہمارے اپنے بچے کیا کر رہے ہیں۔

اللہ رب العزت ہم سب کو ہدایت دے اور دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین ۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔