علامہ شہاب الدین ندویؒ (۱۹۳۱ء —۲۰۰۲)

از: ڈاکٹر محمد طارق ایوبی ندوی

علامہ شہاب الدین ندوی بنگلور کے مضافات میں واقع ’’چک بانا ور‘‘ کے تھے، وہ بڑی عبقر ی شخصیت کے مالک تھے، انھوں نے قبرآن مجید اور سائنس کے تعلق پر جو کام کیا ہے وہ اپنے آپ میں بہت منفرد کام ہے۔
ندوے کو وہ ہونہار فضلاء جنھوں نے قرآن کریم کے ذخا ئر کو کھولنے کا کام انجام دیا اور اس کی خدمت کے لیے اپنی زندگی وقف کردی انھیں میں ایک زندہ وتابندہ نام مولانا شہاب الدین ندوی کا ہے، مولانا کا قصۂ حیات اور ان کی علمی و مطالعاتی زندگی کا آغاز بھی بڑا دلچسپ ہے ،مختصر یہ کہ وہ ۱۹۳۱ء میں ایک معزز گھرانے میں پیدا ہوئے ،معمولی اسکولی تعلیم حاصل کی اور پھر تجارت میں لگا دئیے گئے ،لیکن گھریلو ماحول کی وجہ سے نئی نئی اور دینی کتابوں کا مطالعہ کرتے رہے حتی کہ ایک کتاب سامنے آئی اور زندگی بدلنے کا سبب بن گئی ۔وہ کتاب ڈاکٹر غلام جیلانی برق کی ’’دوقرآن ‘‘ہے، جس میں مؤلف نے قرآن کریم کو سائنسی کتاب قرار دیتے ہوئے مسلم شریعت کا انکار کر دیا ہے۔ (میری علمی زندگی کی داستان عبرت، ص۱۵۵، شہاب الدین ندوی)
اس کتاب نے مولانا کے ذہن پر اتنا اثر ڈالا کہ انھوں نے قرآن کریم کی اردو تفاسیر کا مطالعہ شروع کیا لیکن جب تسلی نہ ہو سکی تو تشنگی بجھانے کے لیے بعض حضرات کے مشورے سے ۱۹۵۶میں میکدہ علم ندوۃ العلماء کی راہ لی، وہاں جی بھر کر سیراب ہوئے اور پھر انگریزی زبان اور خالص سائنسی علوم کا مطالعہ کیا ،اس بے پناہ جدو جہد اور انتھک محنت کے بعد توفیق الہی بھی شا مل حا ل ہوئی اور ذہن کی گرہیں بھی کھلیں ،انھوں نے اپنی زندگی قرآن کے ذخائر کو عام کرنے میں صرف کردی اور قرآن کریم میں موجود ہزارہا موتیوں سے علمی دنیا کو روشناس کرا یا، مولانا گمنامی کی کوٹھری میں قرآن کو سائنسی اور سائنس کو قرآنی نقطۂ نظر سے پڑھتے اور سمجھتے رہے یہاں تک کہ ۱۹۶۹ میںدو امریکی خلا باز چاند پر جا پہونچے ،اس واقعہ نے علمی دنیا میں ہلچل مچادی لیکن مولانا پھر خا موش نہ رہ سکے ،قلم سنبھا لا اور اس مسئلہ کے مختلف پہلوؤں پر تجزیاتی مضا مین تحریر کئے، جو مضا مین ’’صدق جدید‘‘لکھنؤاور’’ماہنامہ برہان ‘‘دہلی میں چھپے ،اس کے بعد ۱۹۷۰ میں یہی مضامین مجموعے کی شکل میں ’’چاند کی تسخیر قرآن کی نظر میں ‘‘کے نام سے شائع ہوئے ،اس کے بعد مولانا اس موضوع پر برابر لکھتے رہے یہاں تک کہ انھوں نے علمی دنیا بیش بہا تحقیقات کا اضافہ کیا، مولانا کی تصنیفات میں ’’قرآن حکیم اور علم نباتات ‘‘’’قرآن مجید اور دنیا ئے حیات ‘‘ اسلام اور جدید سائنس ‘‘’’قرآن اور نظام فطرت ‘‘’’قرآن کا نظریہ علم ‘‘اور ’’قرآن کا نظام دلائل ‘‘قابل ذکر ہی نہیں بلکہ قابل مطالعہ ہیں۔

مولانا علی میاں نے آپ کی جلالت علمی کے پیش نظر لکھا تھا ’’علمی دنیا میں سناٹا چھا یا ہوا تھا مگر آپ کے مضامین نے اس سناٹے کو توڑ دیا‘‘، ’’یورپ میں جو کام ایک اکیڈمی کرتی ہے وہ ہمارے یہاں ایک فرد کرتا ہے‘‘، مولانا دریابادی نے آپ کو ’’اسلامیات کا شہاب ثاقب قرار دیا‘‘، پاکستان کے قدیم طرز کے خالص دیوبندی عالم اور بالغ نظر رہنما مولانا سمیع الحق مرحوم نے ’’عالم اسلام کے منفرد اسکالر اور محقق قرار دیا‘‘، مولانا علامہ دوراں اور قرآنیات کے واقعی رمز شناس تھے، ہمیں یہ کہنے میں ذرا تأمل نہیں کہ مولانا شہاب الدین ندوی کی جو پذیرائی علمی حلقوں میں ہونی چاہیے وہ نہیں ہوئی، ورنہ ان کی علمی تحقیقات اور قرآن مجید کے علمی اعجاز پر ان کی علمی کاوشیں آئندہ نسلوں کے لیے منارۂ نور ہیں، محمد بن ناصر العبودی نے لکھا تھا، ’’قرآن مجید کے متعلق آپ کا گہرا فہم اور مختلف قرآنی آیات اور جدید سائنسی اکتشافات وحقائق کے درمیان آپ کی تطبیق نے مجھے ششدر کر دیا‘‘ قاضی اطہر مبارکپوری نے آپ کو خدام اسلامیات میں منفرد مقام عطا کیا، مولانا ضیاء الدین اصلاحی نے لکھا ’’اہل علم اور خاص طور پر طبقۂ علماء میں تو مجھے ایسا کوئی فرد نہیں نظر آرہا ہے جو آپ کے میدان میں آپ کا مقابلہ تو کیا تقلید بھی کر سکے‘‘، واقعہ یہ ہے کہ علامہ شہاب الدین ندوی کے کام کو دیکھ کر متقدمین بالخصوص غزالی ورازی اور ابن تیمیہ و شاہ ولی اللہ کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔

مولانا در حقیقت ملت کی تجدید اور نشأۃ ثانیہ کے لیے کوشاں تھے، ان کا یہ نظریہ تھا کہ قرآن مجید سے غفلت و بے اعتنائی برتتے ہوئے، اپنے آپ کو ایک حصار میں قید کرکے، عصری تقاضوں سے آنکھ بند کرکے ملت کی تجدید کا کام نہیں ہو سکتا، وہ سمجھتے تھے کہ صحیح اور صائب طریقہ یہ ہے کہ اسلاف اور جدید تقاضوں کے درمیان توازن قائم کیا جائے، وہ سمجھتے تھے کہ دنیا کو قرآن مجید کے نظام دلائل کے ذریعہ ہی فتح کیا جا سکتا ہے، اور اسی کے ذریعہ ملت کی تجدید ہو سکتی ہے، چنانچہ وہ ۱۹۶۲ء میں ندوہ سے واپس ہوئے تو پورے طور پر مطالعہ اور تصنیف و تالیف میں مصروف ہوگئے، ۱۹۷۰ء میں فرقانیہ اکیڈمی قائم کی، خالص قرآنی تحقیقات کی خاطر ۱۹۷۳ء میں سہ ماہی ’’ندائے فرقان‘‘ کا اجرا ء کیا، بعد میں اکیڈمی سے ’’ماہانہ تعمیر فکر‘‘ کا بھی اجرا ہوا۔

مولانا کا نظریہ بہت واضح، قوی اور مستحکم تھا، وہ لکھتے ہیں:

’’موجودہ ملحدانہ اور مادہ پرستانہ فلسفوں کا مقابلہ اسی قسم کے قرآنی فلسفہ سے کیا جا سکتا ہے، جو وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، اور اگر اس قسم کے نئے قرآنی فلسفہ کی تدوین نہ کی جائے تو پھر نوعِ انسانی کو مزید گمراہ ہونا اور اسے تاریکیوں میں بھٹکنا پڑے گا جس کے ذمہ دار اہل اسلام ہوں گے‘‘، انھوں نے مزید ایک جگہ لکھا: ’’اسلام کے مخالفین کو پورے دلائل کی روشنی میں بتا دینا ضروری ہے کہ اسلامی فکر و فلسفہ اور اس کے دین و شریعت کی صداقت و حقانیت اور معقولیت کیا ہے؟‘‘ (تعمیر حیات ، ۵/اپریل ۲۰۰۲ء ، جلد ۳۹، شمارہ ۱۲)۔

علامہ شہاب الدین ندوی نے در اصل اپنے فکر ومطالعہ کی روشنی میں ’’قرآنی فلسفہ کائنات‘‘ میں ہی امت کی نشاۃ ثانیہ کو مضمر سمجھا تھا، وہ در اصل قرآن مجید کو ’’کتاب ربوبیت‘‘ مانتے تھے، ان کی تمام ترکتب کا نچوڑ فطرت و شریعت میں ہم آہنگی کو ظاہر کرنا ہے جو از خود اسلام کی ابدیت و حقانیت کی سب سے بڑی دلیل ہیں۔

مولانا شہاب الدین صاحب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سائنس سے بہت متاثر ہوگئے تھے، یہ بات بہت سے لوگوں کے نزدیک اگرچہ صحیح ہو سکتی ہے مگر راقم سطور کی نظر میں یہ بات اب تک کے مطالعہ کی روشنی میں درست نہیں، کیوں کہ ان کی تصریحات خود اس کے خلاف ہیں، ان کا کام در اصل قرآن و سائنس میں تطبیق پر مشتمل ہے، وہ علوم جدیدہ کو خلافت ارضی کی کنجی سمجھتے تھے، انھوں نے کبھی بھی قرآن مجید کو سائنسی کتاب کہنے یا سمجھنے کی غلطی نہیں کی، البتہ قرآن مجید کو کتاب ربوبیت سمجھتے تھے، در حقیقت ڈاکٹر برق کی جس کتاب کا اوپر تذکرہ ہوا اس کتاب نے مولانا کو اس پہلو سے غور و تدبر کا موقع فراہم کیا، چونکہ ڈاکٹر برق نے سِرے سے قرآن کو سائنسی کتاب قرار دے دیا تھا، نظام کائنات سے متعلق بہت سی آیات کو جمع کرکے اپنے اس نقطۂ نظر کو ثابت کرنے کی کوشش کی تھی، سائنس دانوں کو قرآن کا اصل مفسر قرار دیا تھا، اس طرح گویا انھوں نے سائنس کو اپنانے اور شریعت کو خیر باد کہنے کی جسارت کی تھی، مولانا شہاب الدین صاحب کی کسی بھی تحریر سے قطعاً اس طرح کا نتیجہ نہیں اخذ کیا جا سکتا، وہ ہر حال میں شریعت کی بالا دستی کو ثابت کرنے کے لیے کوشاں نظر آتے ہیں، ان کی ساری تگ ودو اسی کی خاطر ہے، وہ ایک لمحہ کے لیے بھی اس سے مصالحت گوارہ نہیں کرتے، بلکہ اسلامیات، قرآنیات اور بسا اوقات فقہیات میں بھی اور بقول بعض اصحاب علم ودانش ان کی تحریریں انتہائی طاقتور اور با وزن ہوتی ہیں، ان کی تحریروں پر ’’الہیات جدیدہ‘‘ کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔

مولانا خود لکھتے ہیں کہ غلام جیلانی برق کی کتاب کے جواب میں بعض علماء نے کتابیں لکھیں، لیکن وہ محض دفاعی تھیں، مولانا کے لیے یہ بات مزید باعث قلق تھی کہ برق نے جو سوالات اٹھائے تھے ان کا کوئی معقول جواب نہ دیا گیا تھا، مولانا کے سامنے یہ سوال ہنوز قائم تھا کہ قرآن مجید میں سائنسی علوم کا ذکر کیوں کیا گیا؟ اسلام اور سائنس میں کیا تعلق ہے؟ مولانا کے نزدیک یہ سوال نظر انداز کیے جانے کے لائق نہ تھے مگر انھوں نے شکوہ کیا ہے کہ اس کتاب نے علمی حلقوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، پھر بھی اس مسئلہ پر سنجیدگی سے غور نہ کیا گیا، مولانا کا کہنا ہے کہ اگر یہ بات طے شدہ ہے کہ قرآن مجید ہی نوع انسان کی ہدایت کے لیے نازل کی گئی کتاب ہے، تو پھر سوال یہ ہے کہ علم کا تعلق اگر ہدایت سے نہیں ہے تو پھر آخر کتاب الہی میں اس کا تذکرہ کرنے کی وجہ کیا ہے؟ ظاہر ہے کہ یہ بات بلا وجہ بار بار نہیں دوہرائی گئی، بلکہ قرآن مجید نے تو اس پہلو سے غور و تدبر کی تکرار کے ساتھ دعوت دی ہے، شاہ ولی اللہ صاحب نے قرآن مجید کے علوم خمسہ میں سے ایک علم اس کو قرار دیا ہے، مولانا شہاب الدین صاحب بہت واضح انداز میں لکھتے ہیں:
’’بہرحال ملت کے ناخدا جب تک اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے اس ’’کڑوے گھونٹ‘‘ کو حلق کے نیچے نہیں اتاریں گے ملت اسلامیہ کا بھلا نہیں ہو سکتا، کیوں کہ سائنسی علوم کا تعلق نہ صرف دلیل و استدلال سے ہے بلکہ اس کا تعلق خلافت ارض سے بھی ہے اور ان حیثیتوں سے یہ علوم آج اس امت کی نشأۃ ثانیہ کے لیے بہت ضروری ہیں، ڈاکٹر برق نے اس بنیادی حقیقت کو دانستہ یا نادانستہ طور پر نظر انداز کرکے قرآن کو محض سائنس کی کتاب قرار دینے پر اپنا سارا زور صرف کر دیا حالانکہ قرآن میں سائنسی علوم کا تذکرہ اصلا دلائل ربوبیت کو اجاگر کرنے کی غرض سے ہے، جو مظاہر عالم میں غور و فکر کے باعث ظہور میں آتے ہیں، اور ان مظاہر میں غور و خوض کے باعث جو نیا علم و جود میں آیا ہے اس کا نام سائنس ہے، جسے ہمارے قدیم علماء ’’تکوین‘‘ (خلق وایجاد) کہتے ہیں‘‘ …’’واقعہ یہ ہے کہ قرآن حکیم در حقیقت ’’کتاب ربوبیت‘‘ ہے، جیسا کہ اس کی پہلی صورت کی پہلی آیت کریمہ سے یہ حقیقت ثابت ہوجاتی ہے…‘‘ (ص۲۱-۲۲، میری علمی زندگی کی داستان عبرت)

مولانا کے اس اقتباس سے ان کا نظریہ واضح ہوجاتا ہے، وہ بجا طور پر ملت میں تدبر قرآن کو فروغ دینا چاہتے تھے، اجتہادی قوت کو جلا بخشتے تھے، حیرت ہے کہ اہل علم نے ان کے لئے ایسے بلند بانگ الفاظ استعمال کیے اور ان کی تحسین کی مگر ان کے کام کو کوئی وزن طبقہ علماء میں نہ دیا گیا،مولانا کی مختصر خود نوشت میں جا بجا خواص امت اور علماء ملت کی قرآن سے بے اعتنائی اور غور و تدبر سے بعد کا شکوہ ہے، مولانا کو اپنی علمی زندگی اور اپنے علمی مشن میں بغض و حسد اور بے جا معرکہ آرائیوں کا سامنا رہا، لوگوں نے ان کے مشن کا گلا گھونٹنا چاہا مگر عزم بالجزم کے ساتھ اڑے رہے، حتی کہ انھوں نے تفکر وتدبر کی نئی راہیں واکیں، نفاذ شریعت، غلبۂ شریعت اور دین وملت کی سربلندی کے لیے پچاسوں کتابیں تصنیف کیں، مولانا کی آراء سے بار بار اختلاف کی گنجائش ہے مگر یہ کہہ کر ان کے کام کی ناقدری کرنا کہ وہ سائنس سے پوری طرح مرعوب و متاثر ہوگئے تھے، قطعاً سمجھ میں نہیں آتا۔

مولانا کی ساری تصنیفی کاوشوں کا مدعا قرآن مجید میں مذکور تکوینی رموز و حقائق کو دعوتی اسلوب میں زیادہ مؤثر طریقہ پر پیش کرنا تھا، ان کی قرآنی تحریک کو اگر چند موضوعات میں سمیٹا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ انھوں نے اپنی ساری صلاحتیں قرآن عظیم کے علمی و عصری اعجاز کے اثبات، قرآنی نظریہ خلافت اور فلسفہ تمدن کی تحقیق، قرآنی فلسفۂ کائنات کی تدوین اور سائنسی علوم کے اسلامائزیشن میں صرف کی، ان کا ایک اہم مقصد جدید علم کلام کی تدوین، اسلامی شریعت کی معقولیت اور معاشرہ کی اصلاح تھا۔
مولانا نے اپنی پوری زندگی خدمت دین و تدبر قرآن کے لیے وقف کر رکھی تھی، یہی نہیں بلکہ ان کے فرزندان نے بھی یہی موضوع اختیار کیا اور اسی کام میں لگ گئے، قرآنیات و اسلامیات اور فقہیات کے موضوع پر تقریبا ۷۰ کتابیں تصنیف کی ہیں، جن میں سے بعض کا یہاں تعارف دیا جاتا ہے! باقی کتب کے ناموں کے ذکر پر اکتفا کرنا ہی مناسب ہوگا۔

تفسیر سورۃ تکویر اور اس کے اسرار و عجائب:
یہ کتاب در اصل مولانا کے اس مشن کا حصہ ہے، جس کا بیڑا انھوں نے اٹھا رکھا تھا، انھوں نے ’’تفسیر اسرار القرآن‘‘ کے نام سے دلائل ربوبیت سے تعلق رکھنے والی بعض سورتوں کی تفسیر مخصوص انداز میں لکھنا شروع کیا تھا، اسی سلسلہ کی اہم کڑی یہ کتاب بھی ہے، اگرچہ یہ کام مولانا نے زندگی کے آخری حصہ میں شروع کیا جس پر انھوں نے اظہار افسوس بھی کیا کہ یہ کام بہت پہلے شروع کرنے کا تھا، بہرحال تقدیر الہی تو اپنا کام کرتی ہے، مولانا کے ذہن میں اس سلسلہ کا جو خاکہ تھا اس کتاب یعنی ’’سورہ تکویر کی تفسیر‘‘ کو اس کا نمونہ سمجھا جاسکتا ہے۔

آغاز بحث میں مولانا لکھتے ہیں: ’’قرآن حکیم مختلف علمی حقائق و معارف سے لبریز ایک حیرت انگیز اور بے مثال کتاب ہے، جو خاص کر نظام کائنات کے رموز و اسرار پر مشتمل ہونے کی بنا پر اپنی نوعیت میں بالکل یکتا اور منفرد صحیفہ ہے… اس طرح آج جدید سے جدید تر تحقیقات و اکتشافات کی روشنی میں قرآن عظیم کا معجزہ ہونا صاف طور پر واضح ہوجاتا ہے، جو موجودہ دور کے انسانوں کے لیے خدا کی حجت ہے… اس جلوۂ الہی سے جہاں ایک طرف قرآن عظیم کا کلام الہی ہونا علمی طور پر ثابت ہوتا ہے تو دوسری طرف خدا وند قدوس کا وجود بھی خالص سائنٹیفک نقطۂ نظر سے اس طرح کھل کر سامنے آجاتا ہے، کہ مادہ پرستانہ نظریات اور اس کے شکوک و شبہات کی تمام دیواریں منہدم ہوجاتی ہیں اور حقیقت الہی پوری طرح بے نقاب ہوجاتی ہے… ( کتاب مذکور، ص۲۴-۲۶)۔
مولانا نے ’’سورہ تکویر کا موضوع اور مباحث‘‘ کے عنوان کے تحت لکھا ہے کہ اس سورہ کا مرکزی مضمون وقوع قیامت کا سائنٹیفک ثبوت ہے، آگے انھوں نے ذکر کیا ہے کہ سورہ کی ابتدا میں جن چھ علامتوں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں سے چار طبعی ہیں، اول الذکر دونوں علامتیں جدید اکتشافات کے نتیجہ میں بے نقاب ہوچکی ہیں، اس لیے بقیہ دونوں کا ظاہر ہونا بھی یقینی ہے۔
مولانا نے طریقہ تفسیر یہ اختیار کیا ہے کہ وہ آیت کے بعد سلف سے منقول ترجمہ اور مفاہیم نقل کرتے ہیں، پھر ان میں تعارض وتطبیق پر روشنی ڈالتے ہوئے علامات قیامت کے طبیعاتی نقطۂ نظر سے اثبات پر گفتگو کی ہے، پھر سورت کے دوسرے موضوع ’’قرآن اور رسالت محمدی کا اثبات پر‘‘ پر گفتگو کی ہے، پھر پہلے اور دوسرے موضوع میں ربط بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’فا‘‘ کی وجہ سے یہ دوسرا مضمون پہلے مضمون سے جڑا ہوا ہے، یعنی پہلا مضمون ایک دعویٰ یا ایک خبر تھی، اس دعوی کی یہاں دلیل دی جارہی ہے، کہ یہ حیرت انگیز ضابطہ و نظام کائنات ایک عظیم ہستی کے وجود پر دلالت کر رہا ہے، پہلے مضمون کے واقعات جب پوری صحت کے ساتھ بعض واقع ہو رہے ہیں اور بعض ہونے والے ہیں جس طرح کہ قرآن میں خبر دی گئی ہے تو اس مظہر ربوبیت سے ایک علام الغیوب اور علیم وخبیر ہستی کے وجود کا پتہ چلتا ہے۔

اس کے بعد تیسرا موضوع اس سورہ کا ’’دعوت اسلامی سائنٹفک طریقے سے‘‘ بیان کیا گیا ہے، راقم سطور کے نقطۂ نظر سے مولانا نے منہج سلف اور قرآن فہمی کے بنیادی اصولوں اور اسلاف کے فہم قرآن نیز احادیث نبویہ سے ہٹنے کی کہیں کوشش نہیں کی ہے، بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ انھوں نے معروف و منقول معانی ومفاہیم کو نقل کرنے کے بعد عصری اسلوب میں سائنٹفک نقطۂ نظر سے قرآن کی حقانیت، قرآن کی دعوت کو نسبتاً زیادہ مؤثر طریقہ سے پیش کیا ہے، بلک آیات کی تفسیر کرتے ہوئے اور مضمون آیت کی گر ہیں کھولتے ہوئے وہ جس طرح قرآن کی تفسیر قرآن سے کرتے ہیں وہ ان کی قرآن فہمی اور طویل غوروفکر کے ساتھ ان کے قرآنی استحضار پر دلالت کرتا ہے، وہ آیت کے ضمن میں پیدا ہونے والے سوالات کا ذکر کرتے ہیں، پھر آیات قرآنیہ کے ذریعہ سائنٹفک نقطۂ نظر سے سوالا ت کے صحیح اور موثر جواب دیتے جاتے ہیں، چنانچہ وما تشاوؤن الا أن یشاء اللہ رب العالمین کی تفسیر کرتے ہوئے انھوں نے درج ذیل سوالات قائم کرکے ان کے معقول جوابات تحریر کیے ہیں:

انسان مختار ہے یا مجبور؟ تقدیر الہی کیا ہے؟ باری تعالیٰ مختار کل! اللہ ہدایت کسے دیتا ہے؟ کفر اللہ کو ناپسند! انسان مشین نہیں ہے! کائنات کی تقدیر و تدبیر۔ربوبیت کی ہمہ گیری! ہدایت پانے کی شرطیں! وغیرہ جیسے سوالات و عنوانات کی تشریح اس آیت کے ضمن کی گئی ہے۔

قرآن عظیم کا نظام دلائل اور ملت اسلامیہ کی نشأۃ ثانیہ:

یہ کتاب غالباً علامہ شہاب الدین ندوی کی آخری تصنیف ہے، جو ان کی وفات کے بعد شائع ہوئی ہے، اس پر ڈاکٹر عبداللہ عباس ندوی کا ایک طاقتور مقدمہ ہے، انھوں نے بجا طور پر اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ امت کو ابھی ان جیسے عالم کی ضرورت تھی: ’’ایک ایسا عالم دین جو کسی مغربی ایجاد کو دیکھ کر یا خبر سن کر مرعوب نہ ہو اور تازہ ایجادات پر اپنی حکیمانہ نظر سے اسلامی نقطۂ نظر کو بلند تر رکھنے کے لیے کوشاں ہو اس کی دوسری مثال طبقہ علماء ہیں نہیں ملتی‘‘ ( کتاب مذکور ص۱۴)، یہاں ڈاکٹر ندوی نے ان سے پہلے اس صف میں مولانا عبدالباری ندویؒ کو رکھاہے جنہوں نے سیرت النبیؐ کی تیسری جلد میں معجزات کی بحث کچھ اسی انداز میں لکھی ہے، مولانا عبداللہ عباس صاحب مزید لکھتے ہیں: ’’یہ ناچیز علامہ محمد شہاب الدین ندوی کی قابلیت وصلاحیت اور دین کے بارے میں حمیت و غیرت کا ان کی زندگی میں بھی قائل تھا اور وہ اگرچہ میرے age groupکے نمائندہ تھے لیکن اپنی کارکردگی میں سلف کی مسند پر جانشین نظر آتے ہیں…‘‘ (ص۱۶)۔

علامہ کی یہ کتاب دراصل اس طبقہ کو بچانے اور اس کا اعتماد بحال کرنے کے لیے ہے جو علامہ کے الفاظ میں ’’سائنس زدہ ہو چکا ہے‘‘، یہ طبقہ نہ صرف دین اسلام کا مذاق اڑاتاہے بلکہ وہ یوم آخرت کو اہل مذہب کا ایک گڑھا ہوا فرسودہ عقیدہ قرار دیتا ہے، علامہ شہاب الدین ندوی نے ان ہی حقائق و خدشات کے پیش نظر اس کتاب کی تصنیف کا بیڑا اٹھایا، وہ سمجھتے ہیں کہ دینیت اور دلادینیت کے درمیان جو کشمکش جاری ہے، علماء اسلام کو اس کا حل پیش کرنا چاہیے اور قوت استدلال سے حقائق کو واضح کرنا چاہیے، ڈاکٹر عبداللہ عباس ندوی اپنے مقدمہ میں لکھتے ہیں:

’’… علامہ محمد شہاب الدین ندوی میرے نزدیک اپنی اس کوشش میں بہت کامیاب ہوئے ہیں، انھوں نے قرآن کریم کے بعض علماء کے وضع کردہ اصول فقہ کی اصطلاحات اور نصوص کے اقسام پر جاندار بحث کی ہے اور اس کو جاندار طریقہ سے پیش کیاہے، پوری کتاب اسلامی علم و عقیدہ اور کے باب میں ایک رکن رکین اور عمادمتین کا کام دیتی ہے‘‘۔ (ص۱۶)۔

یہ کتاب چار ابواب پر مشتمل ہے، پہلے باب میں ’’دلائل ربوبیت اور خلافت ارض‘‘ پر بحث کی گئی ہے، دوسرے باب میں اس امر کو واضح کیا گیا ہے کہ ’’قرآن کس اعتبار سے کتاب ہدایت ہے‘‘ تیسرے باب میں ’’تجرباتی علوم کے بعض اصول و ضوابط‘‘ پر گفتگو کی گئی جن پر خلافت ارض کا مدار ہے، چوتھے باب میں ’’سائنسی علوم کی اہمیت پر ایک نظر اصول فقہ کی روشنی میں‘‘ سے بحث کی گئی ہے۔

مصنف نے پوری کتاب میں آیات قرآنیہ کی تشریح و توضیح کی مدد سے یہ بات ثابت کی ہے کہ قرآن مجید ایک فیصلہ کن اور آخری و ابدی کتاب ہے، انھوں نے صاف کہا ہے کہ بے دلیل و سند دعووں کی کوئی حیثیت نہیں ہے، انھوں نے ارباب ملت سے گذارش کی ہے کہ وہ علم کی تاثیر کو سمجھیں، مظاہر دین میں اس کے ذریعہ حجت قائم کریں اسے مظاہر ایمان و یقین کا باعث سمجھیں، وہ لکھتے ہیں کہ قرآن مجید کتاب دلائل ہے: ’’غرض قرآن حکیم اس قسم کے بے شمار علمی و عقلی دلائل و براہین سے بھرا ہوا ہے، اسی وجہ سے کلام الہی کو ’’برہان‘‘ کہا گیا ہے جو ہر قسم کی غلط ذہنیت اور بے بنیاد عقائد و نظریات کے خلاف ایک ننگی تلوار کی حیثیت رکھتا ہے‘‘ (ص۸۱-۸۳)۔

مولانا نے پورے وثوق کے ساتھ اس بات کو پیش کیا ہے کہ ’’قرآن حکیم کا علمی تفوق ہر دور میں قائم رہے گا اور ہر دور میں اس کی برتری کے دلائل ظاہر ہوتے رہیں گے‘‘، ان کا کہنا ہے کہ علماء امت کی ذمہ داری ہے کہ وہ منکرین سے ان ہی قرآنی دلائل کی روشنی میں مباحثہ کریں، انھوں نے اس ضمن میں متعدد آیات پیش کی ہیں کہ آیات بینات یا دلائل ربوبیت جو آج سائنسی اکتشافات کے تحت منظر عام پر آرہے ہیں وہ قرآن کریم کی حقانیت اور اس کے نظام دلائل پر حجت قائم کر رہے ہیں۔

تمام تر علمی دلائل کے بعد مولانا کی اس کتاب کا خلاصہ اور پیغام یہ ہے جس کو مولانا کے ہی الفاظ میں پڑھیے:

’’لہذا ارباب ملت کو اپنے اس منفی رویہ کا جائزہ قرآن حکیم کی روشنی میں لے کر عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق دلیل و استدلال کے میدان میں کودنے اور دین الہی کی پھر سے ’’تجدید‘‘ کرنے کے لیے کمر بستہ ہوجانا چاہیے، موجودہ سائنسی علوم کے دور میں اس طریقے سے دین الہی کو غلبہ حاصل ہوسکتا ہے‘‘۔ (ص۹۰)

اس کتاب کی آخری بحث جو ’’سائنسی علوم کی اہمیت اصول فقہ کی روشنی میں‘‘ مولانا کے قلم سے نکلی ہے وہ انتہائی اعلیٰ اور علمی بحث ہے یہاں اس کتاب کے یا اس کے اس باب کے مشتملات پر بھی مفصل تبصرہ ممکن نہیں، خلاصہ کلام یہ کہ اس کتاب میں مولانا موصوف نے اسلام کے جن امور سے بحث کی ہے وہ کچھ اس طرح ہیں، (قرآن مجید کا عصری اعجاز کیا ہے؟ کتاب ہدایت کی اصل نوعیت کیا ہے؟ فطرت و شریعت میں کیا تعلق ہے؟ سائنس اور مادیت میں کیا فرق ہے؟ کیا سائنسی اکتشافات قرآن کی نظر میں حجت ہیں؟ خلافت ارض کا علم اسماء سے کیا تعلق ہے؟ کیا مطالعہ کائنات علم و یقین میں اضافہ کا باعث بن سکتے ہیں؟ یہ وہ مباحث ہیں جن پر یہ کتاب مشتمل ہے اور بقول مصنف یہ کتب اپنے موضوع پر فیصلہ کن اور منکرین پر اتمام حجت کرنے والی ہے)۔

قرآن اور کائنات میں مطابقت: ۸۸صفحات پر مشتمل یہ کتاب بنیادی طور پر تین ابواب پر مشتمل ہے، پہلا باب قرآن اور کائنات میں مطابقت، دوسرا ’’قرآن اور کائنات ایک دوسرے کے مذکر، تیسرا ’’قرآن اور کائنات آیات الہی کا مجموعہ‘‘ ہے، مولانا نے پوری کتاب میں قرآن و کائنات کے ربط کی وضاحت کی کوشش کی ہے، ان کا نظریہ ہے کہ جس طرح انسان کلام الہی کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے اسی طرح تخلیق الہی کی مثال پیش کرنے سے بھی عاجز ہے، یہ اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کائنات کا خالق وکارساز ہے اور وہ اپنی تخلیقات کی کارگردگی اور اندرونی کیفیت سے بخوبی واقف ہے، ظاہر ہے کہ جو اللہ پر ایمان بالغیب رکھتا ہے اس کے لیے اس پر یقین کرنا آسان ہوجاتا ہے مگر منکرین خدا کو یہ بات سمجھانے کے لیے دلیل و استدلال کی ضرورت پڑتی ہے، اسی کو بنیاد بناکر انھوں نے قرآن مجید اور کائنات کے ربط کو ثابت کرنے کے ساتھ مذکورہ بالا نکتہ کو استدلال اور قرآنی آیات کی روشنی میں سمجھانے کی کامیاب سعی کی ہے۔

اسی طرح مولانا کی چند دوسری کتابیں بھی اپنے موضوع پر انتہائی اہمیت کی حامل ہیں، جن میں ’’قرآن سائنس اور مسلمان‘‘، ’’قرآن کریم کا نیا معجزہ اور علماء کی ذمہ داریاں‘‘، ’’قرآن اور نظام فطرت‘‘، ’’قرآن حکیم اور علم نباتات‘‘ ’’چاند کی تسخیر قرآن کی نظر میں‘‘، اسلام کی نشأۃ ثانیہ قرآن کی نظر میں‘‘ ’’قرآن کا نظریہ علم‘‘، تخلیق آدم اور نظریہ ارتقا‘‘، قرآن کا فلسفہ کائنات‘‘، ’’قرآن مجید اور دنیائے حیات‘‘ وغیرہ ہیں۔ مولانا کی تمام کتب اپنے موضوع پر دقیق نکتہ رسی اور علمی و اجتہادی شان کی ہیں، ان کا سارا زور اس صدری کے تقاضہ یعنی قرآن کے سائنسی اعجاز کو ثابت کرنے پر رہا ہے، قرآنیات وکلامیات پرعلامہ کی ۴۰ تصانیف ہیں جبکہ فقہی و شرعی اور معاشرتی مسائل پر ۲۲ تصانیف ہیں، اس کے علاوہ بہت سے علمی مقالات شائع ہوئے ہیں، درجنوں کام نامکمل چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہوئے، مولانا کی متعدد کتب کے عربی و انگریزی تراجم ہوئے، کئی کتابیں ملک و بیرون ملک کئی کئی مرتبہ شائع ہوئی ہیں۔

مراجع: – میری علمی زندگی کی داستان عبرت – تعمیر حیات جلد۳۹، شمارہ ۱۲، اپریل ۲۰۰۲ء – قرآن کا نظام ودلائل اور ملت اسلامیہ کی نشأۃ ثانیہ۔

(ماخوذ از کتاب : فضلائے ندوہ کی قرآنی خدمات، مصنفہ : ڈاکٹر محمد طارق ایوبی)

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔