نئی دہلی: عام آدمی پارٹی (AAP) کو ایک بڑے سیاسی دھچکے کا سامنا کرنا پڑا ہے، کیونکہ اس کے راجیہ سبھا کے سات اراکین پارلیمنٹ نے پارٹی چھوڑ کر بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ ان میں نمایاں نام راگھو چڈھا، سندیپ پاٹھک اور اشوک مِتّل شامل ہیں۔
اطلاعات کے مطابق، AAP کے کل 10 راجیہ سبھا اراکین میں سے 7 نے اجتماعی طور پر بی جے پی میں ضم ہونے کا فیصلہ کیا، جس سے پارٹی کی ایوانِ بالا میں نمائندگی تقریباً ختم ہو گئی ہے۔
یہ پیش رفت آئینِ ہند کی دسویں شیڈول (انسدادِ انحراف قانون) کے تحت ایک “انضمام” (merger) کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، کیونکہ دو تہائی اراکین کے ایک ساتھ پارٹی تبدیل کرنے کی صورت میں نااہلی لاگو نہیں ہوتی۔
رگھو چڈھا نے پارٹی چھوڑنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ AAP اب اپنی اصل نظریاتی سمت سے ہٹ چکی ہے اور انہوں نے اس فیصلے کو ایک اجتماعی سیاسی اقدام قرار دیا۔
دوسری جانب، AAP قیادت نے اس اقدام کو “غداری” قرار دیتے ہوئے متعلقہ اراکین کے خلاف کارروائی کی بات کہی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، اس بڑے انحراف سے نہ صرف راجیہ سبھا میں AAP کی پوزیشن کمزور ہوئی ہے بلکہ قومی سیاست میں بی جے پی کی قوت میں مزید اضافہ ہوگا، جبکہ اروند کیجریوال کی قیادت کو بھی ایک بڑا چیلنج درپیش ہے۔