✍️: سمیع اللہ خان
شاید کہ ترے دل میں اتر جائے مری بات :
یہ خبر نہایت دردناک ہےکہ ممبئی میں ایک مکمل خاندان ملاوٹی غذا کا شکار ہوکر صاف ہوگیا،
اس خاندان کے افراد نے پہلے تو اپنے رشتےداروں کےساتھ دعوت میں بریانی کھائی اور بعدازاں تربوز کھایا اور صبح تک Food poisoning کا شکار ہوکر یکے بعد دیگرے لقمہءاجل بن گئے، الله ان کی مغفرت فرمائے ان کی قبروں کو اپنی رحمت سے خوشحال فرمائے، پسماندگان کو صبرجمیل عطا فرمائے۔
اس حادثے کی حتمی میڈیکل تفصیلات اور یقینی اسباب پر تفتیش جاری ہے، البتہ ایسے حادثات سے بھی اگر ہم درسِ عبرت نہیں لے سکے تو ہمارے حال پر اللہ ہی رحم فرمائے، اس مناسبت سے ایک عمومی بات آپ کے سامنے رکھنے کو جی چاہتا ہے کہ شاید کہ کسی دل میں اتر جائے مری بات !
آج ہمارے کھانے پینے کا نظام انتہائی خودکش ہوچکا ہے طرح طرح کی بیماریاں لےکر لوگ زندگی کا ایک حصہ لازمی ہسپتالوں میں گزار رہے ہیں کمائی کا ایک بڑا حصہ میڈیکل اور دواؤں کی نذر کر رہے ہیں لیکن اپنی غذائی بے احتیاطی اور سونے جاگنے اور چلنے پھرنے کا نظام العمل مرتب کرنے کے لیے تیار نہیں۔
زبان پر چٹ پٹے کھانوں کی شہوت لت کی طرح ہے اور جسم لاغر و سست پھیلتا پھولتا جارہا ہے، شہروں میں بلکہ گنجان شیروں میں جہاں سانس لینے کے لیے صاف ستھری ہوا بھی میسر نہیں اسی میں سب کو گھس گھس کر رہنا ہے ، اور وہاں غیرمعیاری کھانوں، خراب تیل مصالحوں بلکہ زہریلے پروسیس اور تیل مصالحوں کی غذائیں ایک نئی قسم کی شہوت کی طرح انسانوں کو اپنے جال میں لےچکی ہے، مارکیٹ پر کسی کا کوئی کنٹرول نہیں ہے، ان شاءاللہ اہل ایمان کو جب اللہ طاقت دیں گے تو وہ ان بازاروں کو بھی عوامی صحت اور انسانی فلاح کے تقاضوں کے مطابق مرتب کریں گے، خراب مصالحہ جات، بدترین طریقے سے اگائی ہوئی سبزیاں اور پھل دھڑلے سے بیچ کر پیسہ کمایا جارہا ہے، جس کے نتیجے میں اجسام پھول جاتے ہیں یا حد سے زیادہ پچک جاتے ہیں اور ان پھیلے اور پھولے جسم میں طرح طرح کی بیماریاں گویاکہ اپنا اڈہ بنالیتی ہیں، اور اس کےبعد ساری زندگی انگلش دواؤں کے سہارے !
طبی ماہرین، ہارورڈ میڈیکل اسکول اور عالمی ادارہ صحت WHO کی متعدد رپورٹس اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ مارکیٹ میں دستیاب ‘الٹرا پروسیسڈ فوڈز’ Ultra-processed foods اور غیر معیاری تیل میں بنے چٹ پٹے کھانے انسانی جسم میں خاموش زہر کا کام کرتے ہیں، ان غذاؤں میں ذائقہ بڑھانے کے لیے جو کیمیکلز اور مصنوعی رنگ اور ٹرانس فیٹس Trans Fats استعمال کیے جاتے ہیں، وہ معدے، جگر اور پھر بتدریج قلب کے مختلف امراض کا سبب بن رہے ہیں، انسان کی آنتوں کا وہ نظام جو قوت مدافعت کو کنٹرول کرتا ہے، ان بازاری مصالحوں اور کیمیکلز کی وجہ سے پوری طرح تباہ ہو جاتا ہے،،
خاص کر انڈین مارکیٹ میں فروخت ہونے والے مصالحوں کی سنگینی کا اندازہ حال ہی میں ہانگ کانگ، سنگاپور اور دیگر بین الاقوامی فوڈ ریگولیٹری اداروں کی جانب سے جاری کردہ تشویشناک رپورٹس سے بھی لگایا جا سکتا ہے، بعض نے تو ہندوستانی مارکیٹ کے مشہور ترین اور بڑے برانڈز کے مصالحوں سے دوری بھی اختیار کی ہے،، اب تو شواہد موجود ہیں کہ ان مصالحوں میں ‘ایتھیلین آکسائیڈ’ Ethylene Oxide جیسے کیمیکل خطرناک حد تک شامل ہے جو کینسر پیدا کرنے کا ایک سبب ہے،، مزید برآں، منافع خوری کے لیے ان مصالحوں میں لکڑی کا برادہ، کیمیائی رنگ اور دیگر غلاظتیں ملائی جا رہی ہیں جو سیدھے سیدھے انسان کو سنگین بیماریوں کی طرف دھکیل رہی ہیں_
مسلمانوں کا حال اس سلسلے میں مزید خراب اور تشویشناک حد تک پہنچا ہوا ہے کیونکہ وہ گوشت کے شوقین ہوتے ہیں چنانچہ ہوٹلوں اور ریستورانوں میں مختلف قسم کی گوشت کی ڈشز کے لیے چکر لگاتے ہیں تیل مصالحوں اور پروسیس کی خرابی پر جب خراب گوشت بھی مستزاد ہوگا تو وہ پکوان جسے لذیذ سمجھ کر کھایا جارہا ہے وہ درحقیقت کیا پیدا کرےگا بدن میں؟
بوائلر مرغیاں تو مضر صحت ہی ہوتی ہیں دیگر جانوروں کے جو گوشت ہوتے ہیں وہ بھی آجکل شہروں میں نہایت خراب قسم کے انجکشن لگاکر بیچے جاتے ہیں، اور پھر یہ گوشت ہوٹلوں میں کئی دنوں تک رکھ کر پکائے جاتے ہیں۔
بوائلر مرغیوں کے حوالے سے یہ دعویٰ اب صرف قیاس نہیں رہ گیا بلکہ سینٹر فار سائنس اینڈ انوائرنمنٹ انڈیا اور دیگر بین الاقوامی طبی تنظیموں کی مستند رپورٹس اس کی تصدیق کرتی ہیں، ان رپورٹس کے مطابق: کمرشل پولٹری فارمز میں بوائلر مرغیوں کا وزن چند ہفتوں میں غیر طبعی طور پر بڑھانے کے لیے انہیں گروتھ ہارمونز اور اینٹی بائیوٹکس کا بے دریغ استعمال کرایا جاتا ہے،جب انسان یہ گوشت کھاتا ہے تو وہ کیمیکلز اس کے جسم میں منتقل ہو جاتے ہیں، جس سے ہارمونل بگاڑ پیدا ہوتا ہے اور انسانی جسم میں ‘اینٹی بائیوٹک ریزسٹنس’ Antibiotic Resistance پیدا ہو جاتی ہے، یعنی انسان پر عام بیماریوں میں دوائیں اثر کرنا چھوڑ دیتی ہیں۔
میں نے دراصل الله کے فضل و رحم سے اسی کی توفیق سے اپنے آپ کو اس سلسلے میں آزمائش کےساتھ بدلا ہے، اسلیئے اللہ نے مجھے اس کا تجربہ کرایا ہے اور ملک بھر گھومتا ہوں تو مزید مشاہدات حاصل ہوتے ہیں، اس میں الله تعالٰی میرے والدین خاص کر والدہ کو جزائے خیر عطا فرمائے، میرے گھر میں الحمدللہ بوائلر مرغیاں اور اس کے انڈے ایسے ہی چائنیز کھانے کبھی نہیں آتے نہ پکائے جاتے، خال خال کبھی ایسے ہی مہمان پھنس جائیں کہ وہ بیچارے گوشت کےنام پر صرف بوائلر مرغیاں ہی کھاسکتے ہوں تو ان کے لیے آجاتا، ہماری امی غذاؤں کے معاملے میں بہت سختی کرتیں ہفتے میں ایک۔دو وقت گوشت کھاؤ لیکن اچھا اور اصیل ایسے ہی مصالحے والد صاحب خود پسوا کر لاتےہیں، پیکٹ پاؤڈر مصالحوں سے بھی امی کو نفرت ہے ! انہوں نے ماڈرن غذاؤں پر تجربہ کیا بہت کم گو ہیں صرف اتنا تجزیہ ہےکہ یہ اکثر نئی چیزیں غذائیت سے خالی اور بیماریوں سے بھرپور ہوتی ہیں اسلئے بہتر ہے اپنے اصل پر ہی رہو، جو نئی ڈش زیادہ جی چاہے اسے گھر میں بنا لو،، صبح اٹھتے ہی امی نے ہی مجھ پر بلکہ سب بھائیوں پر گرم پانی کی عادت مسلط کی جو اب زندگی کا حصہ ہے ، ریفریجریٹر کے پانی کی جگہ سادہ یا مٹکے کا پانی پینے کا عادی امی نے ہی بنایا، بات لمبی ہوجائے گی خیر، کھانے پینے اور نظام العمل کے سلسلے میں ہمارے والدین نے خاندانی تربیت کی اور وہ خود زبردست عملی نمونہ ہیں ماشاءاللہ میں نے اپني پوری زندگی میں اپنے والد ماجد کو کبھی بھی صبح چار بجے کےبعد سوتے ہوئے نہیں پایا ماشاءاللہ، ظاہر ہے جب صبح چار بجے اٹھتے ہیں تو رات جلدی نہیں جلدی نہیں بلکہ اپنے فطری وقت پر ہوتی ہوگی۔
میرے ساتھ ایسا ہوا کہ میں گھر سے دور رہنے لگا، پہلے کئی سال ہاسٹل کی زندگی، پھر دیگر معاملات و مصروفیات کے سبب اسفار کی کثرت کی وجہ سے بےترتیب زندگی اور ریستوران کا کھانا پینا، پانچ سات سال تک تو کچھ خاص پتانہیں چلا لیکن پھر پتا چلنے لگا، اور شدت سے پتا چلنے لگا مختلف عوارض اور مسائل پیش آنے لگے، ضعف بڑھنے لگا، جتنے لوگ ملتے اتنے ڈاکٹر اور دواخانے بتاتے، انگلش دواؤں سے وقتی فائدہ تو ہوتا البتہ علاج نہیں ہوپاتا تھا،. لیکن الله کا شکر جس نے گھر میں شفا مہیا کر رکھی تھی، قصہ مختصر:
اللہ کی مدد و توفیق سے میں نے آہستہ آہستہ اپنے کھانے پینے کو واپس درست کرنا شروع کیا، بوائلر مرغیاں تو پہلے ہی سخت ناپسند تھیں، اور تقریباﹰ پچھلے تین سالوں سے چیز، چائنیز، فاسٹ فوڈ، ہوٹل، ڈھابے اور خراب تیل مصالحوں کی غذائیں چھوڑی الله کا شکر ہے اس نے شفا دی، عادت پڑجائے تو چھوڑنا آسان نہیں ہوتا ہے خاص طور پر زبانی چٹخارے کی، لیکن اللہ کی طرف سے اگر توفیق مل جائے ، عزم مصمم اور ارادے کی قوت حاصل ہوجائے تو کوئی مشکل نہیں ہے، جب معلوم ہےکہ ان ماڈرن غذاؤں نے جسم انسانی کا بیڑا غرق کررکھاہے تو اس سے چمٹے رہنے کا کیا فائدہ؟
ان غیر معیاری کھانوں کی تباہی کو مزید دوچند کرنے کے لیے ایک اور زہر جسے ‘سافٹ ڈرنکس’ یا کولڈ ڈرنکس کہا جاتا ہے، ہماری میزوں کا لازمی حصہ بن چکا ہے،، کھانے کے درمیان یا اس کے فوراً بعد ان مشروبات کو پینے کی لت نے انسانی معدے کو تیزابیت کا گڑھ بنا دیا ہے،، ان مشروبات میں موجود بے پناہ مصنوعی چینی اور کاربونیٹڈ کیمیکلز نہ صرف ہڈیوں کو اندر سے کھوکھلا کر رہے ہیں، بلکہ یہ کھانے کو ہضم کرنے کے بجائے اسے معدے میں سڑا دیتے ہیں، جس سے جگر پر چربی چڑھنے Fatty Liver اور شوگر جیسی بیماریاں تیزی سے جنم لے رہی ہیں۔
بہت ساری جگہوں پر اسی لیے جانا چھوڑ دیا پہلے لگتا تھا کہ نہیں چلو دل رکھنے کے لیے کھا لیتے ہیں اور صحیح بات یہی ہےکہ لوگوں کی دل داری کی خاطر مجھے صحت کے سلسلے میں بہت بہت نقصان اٹھانا پڑا، ایسا نہیں کہ اب ترکِ کامل ہوگیا، ابھی بھی بسااوقات مجبوری ہوتی ہے اجتماعی کام ہوتے ہیں کہ سب کےساتھ ہیں تو کیا کریں تو کبھی کبھار چلا لیتے ہیں لیکن ایسی مجبوری کو زیادہ بڑھنے نہیں دیتا الحمدللہ ۔ کنٹرول کا یہ فائدہ ہے کہ مجبوری میں ایسے کھانے سے نقصان نہیں ہوتا کیونکہ اللہ کے کرم سے نظام طاقتور ہوتا ہے،
بہت ساری دفعہ دوسروں کے کام آنے کی مجبوری میں بھی ایسی صورتحال سے دوچار ہونا پڑتا ہے، اصل مصیبت یہ ہوئی کہ لوگوں نے غذائی معیار کو پوری طرح سے مارکیٹ کے حوالے کردیا ہے ، اگر اس حوالے سے بات کرو تو اسے نخرے سمجھتے ہیں، بعض دفعہ تو صاف محسوس ہوجاتا ہے کہ کھانا پکانے میں بالکل صفائی ستھرائی کا خیال نہیں رکھاگیاہے تو میں تو برائے نام منہ چلاتا رہتا ہوں یا بعض جگہوں پر تو اتنی خراب غذائیں ہوتی ہیں کہ اب منع بھی کرنے لگا ہوں کیونکہ ان کا ایک وقت کھا کر اپنا دس وقت کا نقصان کیوں کرنا؟ اور پھر ایسے کھانوں کےبعد جو تکالیف لاحق ہوتی ہیں وہ دیگر مفید کاموں میں بھی مانع بنی رہتی ہیں۔
یہ بات بھی روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ ایسے زہریلے کھانوں اور خراب اجزا کے عادی لوگ نہ صرف اپنی ظاہری و باطنی صحت خراب کرتے ہیں، بلکہ ان کا مزاج بھی شدت پسند، چڑچڑا اور غصیلا ہو جاتا ہے۔ ان کھانوں سے ان کی قدرتی قوتِ مدافعت Immunity اس قدر برباد ہو جاتی ہے کہ وہ کسی طویل اور سخت گیر جدوجہد کے لائق ہی نہیں رہتے، تھکاوٹ ان پر ہر وقت سوار رہتی ہے، یہی نہیں، بلکہ ان مصنوعی غذاؤں کا اثر براہ راست ان کی جلد پر پڑتا ہے،، چہرے کی رونق اور قدرتی ہشاش بشاش پن چھن جاتا ہے، اور کم عمری میں ہی چہرہ مرجھایا ہوا اور بے رونق نظر آنے لگتا ہے،
*بعض ملّی کام کرنے والے میرے دوست ان چیزوں کو بالکل غیر ضروری سمجھ کر نظرانداز کرتے رہے پھر مجبور ہوکر انہیں ان امور کا خیال رکھنا پڑا، میں تو اب بفضل اللہ تجربے کے بعد کہتاہوں کام کرنے والوں کو تو ان چیزوں پر زیادہ سختی سے عمل کرنا چاہیے، تبھی تو وہ دیر تک ملت کو نفع پہنچا سکیں گے، یہ الگ مصیبت ہےکہ لوگوں نے یہ سوچ لیا ہےکہ یہ تو سفر کرتا رہتا ہے یا فلاں صاحب تو ملت کے کام میں لگے رہتے ہیں تو ان کو جیسا تیسا کھلا دو سب چل جائےگا، عجیب حال ہے، ارے بھئی دیسی مرغ مسلّم کی ہمیں ضرورت نہیں مسئلہ یہ ہےکہ آپ دال اور سبزیوں کو غذاؤں سے خارج مان کر کیوں چلتے ہیں انہوں نے ایسا کیا بگاڑا ہے ہمارے سماج کا؟
ہمارے لوگ ہمارے مدارس سے وابستہ افراد بڑی زیادتی کرتے ہیں جو مل جائے کھالینے کےنام پر زہریلی غذائیں شوق و ذوق سے کھاتے ہیں ایک آدھ ٹائم گوشت نہ ملے تو بعض لوگ تو پریشان ہی ہوجاتے ہیں، ارے بھئی آج سے تیس چالیس سال پہلے جو ماحضر ملا کرتا تھا اس میں زہر نہیں ہوتا تھا غذائیت ہوتی تھی اور نہ گوشت انجکشن سے بڑھایا جاتا تھا۔
مدارس سے وابستہ ہمارا طبقہ کچھ بھی کھاتا رہتا ہے کتنے سارے دوستوں کو جانتا ہوں جو بیماریاں لیے پڑے ہیں ایک تو کچھ بھی کھاتے رہتے ہیں دوسرے ورزش اور جسمانی جدوجہد سے تو جیسے توبہ کررکھی ہو،
ہوٹلوں اور ریستوران میں مسلمان ايسے بھرے پڑے رہتے ہیں گویا گھروں میں کھانا پکانے اور خاندانی دسترخوان بچھانے کی ممانعت نازل ہوئی ہو، اس کا بڑا نقصان صرف صحت کی خرابی ہی نہیں بلکہ خاندانی خوشگواریوں کے خاتمے، کھانا پکانے کھلانے کی مصروفیات سے حاصل ہونے والی رحمتوں سے محرومی اور آپسی محبتوں میں کمی کی صورت بھی ظاہر ہورہا ہے، نئی لڑکیاں دو چار ڈش کے علاوہ پکانا جانتی نہیں خواتین بھی ہر ہفتے پابندی سے ہوٹل اور ڈھابے کی ضد میں رہتی ہیں، اس کی وجہ سے کتنے ہی فتنے جنم لیتے ہیں، گھر گھر میں لڑائی جھگڑے اور بےسکونی ہے، کبھی کبھار یعنی پابندی سے سیروتفریح کی ضرورت کا انکار نہیں ہے، لیکن آجکل جو کچھ ہورہا ہے وہ سیروتفریح نہیں ہے !
میں دراصل اس موضوع پر لکھنا نہیں چاہتا تھا، لیکن آج کل جہاں بھی جاتا ہوں، لوگوں کو مختلف بیماریوں کا شکار پاتا ہوں، یا دیکھتا ہوں کہ ہر گھر میں کوئی نہ کوئی شخص لازماً بیمار پڑا ہے،، یہ صورتحال دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کیونکہ لوگ زیادہ تر اپنی ان غیر فطری غذاؤں اور غیرفطری نظام الاوقات کے سبب ہی بیماریوں کو خود دعوت دیتے ہیں، میں نے ان سب چیزوں کا اللہ کی توفیق سے گہرا تجربہ کیا ہے، اور سرسبزی، ہریالی اور شادابی میں رہتے ہوئے فطرت کے قدیم بلکہ اصل نکاتِ حیات پر خوب مطالعہ بھی کیا ہے، اللہ نے بڑی رحمت فرمائی اس پر تفصیل سے لکھنے جاؤں گا تو موضوعات کا دفتر کھل جائے گا خیر اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجھے جو حقائق سمجھ آئے، اسی درد اور فکر کے تحت آج یہ سب لکھنے پر مجبور ہوا ہوں اس واقعے کی مناسبت سے۔
اللہ کی توفیق سے میں نے اپنے خاص دوستوں کو بھی اس سلسلے میں بارہا متوجہ کیا، جب وہ مسلسل ہسپتالوں کے اسیر بن چکے تھے، اس طرح کم از کم آٹھ ۔ دس خاندانوں کے غذائی روٹین اور سونے جاگنے کے نظام کو تبدیل کرانے کا اللہ کے فضل سے موقع ملا وہ مجھے دعائیں دیتے ہیں، میں اب بھی اللہ کی توفیق سے اکثر جگہوں پر کوشش کرتا ہوں کہ لوگ اپنا کھانا پینا اور سونا جاگنا اور چلنا پھرنا انسانوں والا بنائے رکھیں تو یقیناﹰ وہ بہت سارے ہموم اور غموں سے نجات حاصل کرسکتے ہیں، اور ہاں یقیناﹰ بلکہ سوفیصد یقیناﹰ یہ ملحوظ رہےکہ یہ سارا مذکورہ نظام و ترتیب کسی کام کا نہیں ہے اگر اس میں نمازوں کی پابندی اور صبح و شام اور کھانے پینے سونے جاگنے کی مسنون دعائیں اور اذکار شامل نہ ہوں۔
موجودہ زمانے میں زبان پر چڑھا ہوا چٹخارہ ایک بدترین آزمائش ہے، ایئرکنڈیشن اور سستی ایک بدترین بیماری ہے، نمازوں اور اللہ کے محبوب نبی ہمارے آقامحمدﷺ کی بتلائی ہوئی مسنون دعاؤں سے دوری ایک وبا کی طرح ہے، جس کے نتیجے میں لوگ ایسی ایسی مصیبتوں کا شکار ہورہے ہیں کہ دیکھ کر غم ہوتا ہے، اپني پریشانیوں کو لےکر یا تو یہاں وہاں بھٹکتے پیسہ برباد کرتے ہیں یا تو نفسیاتی طور پر تنہا ہوتے جاتے ہیں انجام اچھا نہیں ہوتا ہے، دنیا دنیا اور دنیا اور ہر ہر مسئلے کا حل مادہ میں تلاش کرکے پریشان ہیں، اللہ تعالٰی کی ذات پر یقین، پیارے نبیﷺ سے منقول دعاؤں کی تاثیر پر یقین متزلزل رہتا ہے، نتیجہ: نہ دنیا نہ آخرت مطلب ہرحال میں بے سکونی !
جو کھانے پینے کا نظام اس وقت ہندوستان میں برپا ہے اسے ایک دن آئےگا کہ یہاں کا انسان خود ہی اسے اکھاڑ اکھاڑ کر پھینکےگا کیوں کہ ان غذاؤں میں چٹخارہ تو ہے لیکن غذائیت اور صحت سے ان کی دشمنی ہے، اچھے سے اچھا ذائقہ ہم اپنے گھروں میں حاصل کرسکتے ہیں لیکن پھر ڈھابوں اور ریستوران کی سیلفی اور اسٹیٹس کیسے لگائیں گے؟ فلانے پھوپھو کی لڑکی نے تو ابھی شالیمار کا اسٹیٹس رکھا تھا نا؟
اللھم انا نعوذبک من جھدالبلاء، ودرک الشقاء ، وسوء القضاء ، و من منکرات الاخلاق والاعمال والاھواء والادواء ۔ بجاہ سیدی سید المرسلین محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم