لِو اِن ریلیشن شپ، عدالتیں اور خواتین کا تحفظ: چند اہم سوالات

سیل رواں ڈیسک

بھارت میں شادی، لِو اِن ریلیشن شپ اور خواتین کے حقوق سے متعلق بحث ایک بار پھر تیز ہو گئی ہے۔ حالیہ دنوں مدھیہ پردیش کی ایک خاتون “لکشمی” (فرضی نام) کے کیس نے نہ صرف عدالتی نظام بلکہ سماجی رویّوں پر بھی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق لکشمی کم عمری میں بیوہ ہو گئی تھیں، جس کے بعد ایک شادی شدہ سرکاری افسر (تحصیلدار) نے انہیں اپنے ساتھ لِو اِن ریلیشن شپ میں رکھا۔ یہ تعلق تقریباً سترہ برس تک جاری رہا، جس دوران ان کے درمیان اولاد بھی پیدا ہوئی۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ جب خاتون کی عمر ڈھلنے لگی تو مذکورہ شخص نے ان سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔

متاثرہ خاتون نے اس کے خلاف بی این ایس کی مختلف دفعات کے تحت جنسی استحصال، تشدد اور شادی کے جھوٹے وعدے پر تعلق قائم کرنے کے الزامات عائد کرتے ہوئے مقدمہ درج کرایا۔ تاہم جبل پور ہائی کورٹ نے ایف آئی آر کو یہ کہتے ہوئے خارج کر دیا کہ طویل عرصے تک باہمی رضامندی سے قائم رہنے والے لِو اِن تعلق کے بعد علیحدگی کو فوجداری جرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔

بعد ازاں یہ معاملہ سپریم کورٹ پہنچا، جہاں سماعت کے دوران معزز جج صاحبان نے یہ سوال اٹھایا کہ خاتون شادی سے قبل اس شخص کے ساتھ رہنے کیوں چلی گئیں۔ عدالت نے ابتدائی طور پر اس تعلق کو رضامندی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ لِو اِن ریلیشن شپ کا خاتمہ بذاتِ خود کوئی مجرمانہ فعل نہیں ہے، البتہ بچے کے اخراجات اور دیگر معاملات پر غور کیا جا سکتا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق اس کیس نے ایک بار پھر یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ لِو اِن ریلیشن شپ میں رہنے والی خواتین کو کس حد تک قانونی تحفظ حاصل ہے، اور طویل عرصے کے تعلق کے بعد علیحدگی کی صورت میں ان کے حقوق کیسے محفوظ کیے جا سکتے ہیں۔

سماجی حلقوں میں بھی اس معاملے پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ بعض افراد کا کہنا ہے کہ ایسے تعلقات میں خواتین اکثر غیر یقینی صورت حال کا شکار ہو جاتی ہیں، جبکہ دیگر کے نزدیک یہ ذاتی آزادی کا معاملہ ہے جس میں ریاست کی مداخلت محدود ہونی چاہیے۔

اسی دوران ملک میں بعض سیاسی بیانات بھی زیر بحث ہیں، جن میں کثرتِ ازدواج (ایک سے زیادہ شادیوں) پر پابندی کی بات کی جا رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اصل توجہ ایسے غیر رسمی تعلقات اور ان سے جڑے سماجی و قانونی مسائل پر ہونی چاہیے، جہاں خواتین زیادہ غیر محفوظ نظر آتی ہیں۔

ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ بدلتے ہوئے سماجی ڈھانچے کے پیش نظر قوانین میں ایسی وضاحت اور اصلاح کی ضرورت ہے جو خواتین کے حقوق، تحفظ اور انصاف کو یقینی بنا سکے، خواہ تعلق شادی کا ہو یا لِو اِن ریلیشن شپ کا۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔