نئی دہلی: سپریم کورٹ نے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کو ہدایت دی ہے کہ اگر پارٹی یہ دعویٰ کرنا چاہتی ہے کہ اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے دوران ووٹروں کے نام حذف کیے جانے سے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے نتائج متاثر ہوئے ہیں، تو اس کے لیے نئی عرضی دائر کی جائے۔
چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوی مالیا باگچی پر مشتمل بنچ کے سامنے ٹی ایم سی کے رکن پارلیمنٹ کلیان بنرجی نے مؤقف اختیار کیا کہ ریاست کی 31 اسمبلی نشستوں پر بی جے پی کی جیت کا فرق ان ووٹروں کی تعداد سے کم تھا جن کے نام SIR کے عمل کے دوران انتخابی فہرستوں سے حذف کیے گئے تھے۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ایک اسمبلی حلقے میں ٹی ایم سی امیدوار صرف 862 ووٹوں سے شکست کھا گیا، جبکہ اسی حلقے میں 5 ہزار سے زائد ووٹروں کے نام انتخابی فہرست سے خارج کیے گئے تھے۔ ٹی ایم سی کا الزام ہے کہ ووٹروں کے نام حذف کیے جانے کے عمل نے انتخابی نتائج کو متاثر کیا اور کئی حقیقی ووٹر اپنے حق رائے دہی سے محروم ہوگئے۔
سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا کہ اس نوعیت کے دعووں کے لیے الگ انٹرلوکیوٹری ایپلیکیشن (IA) داخل کرنا ضروری ہوگا، تاکہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کو بھی جواب داخل کرنے کا موقع مل سکے۔ عدالت نے واضح کیا کہ نئی عرضی دائر ہونے کے بعد ہی معاملے کے قانونی پہلوؤں پر غور کیا جائے گا۔
دوسری جانب الیکشن کمیشن کی طرف سے عدالت میں کہا گیا کہ اگر کسی امیدوار کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ ووٹروں کے نام حذف ہونے سے انتخابی نتیجہ متاثر ہوا ہے، تو اس کے لیے انتخابی عرضی دائر کرنا ہی مناسب قانونی راستہ ہے۔
واضح رہے کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات سے قبل SIR کے عمل کے دوران بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام انتخابی فہرستوں سے حذف کیے گئے تھے، جس پر ترنمول کانگریس نے شدید اعتراضات ظاہر کیے تھے۔