مدارس کی جانچ: رد عمل کے بجائے ضابطوں کی روشنی میں تیاری کیجئے!!

از: عارف حسین ایڈیٹر سیل رواں

بہار حکومت نے ملحقہ اور امداد یافتہ مدارس کی جانچ کے لیے سہ رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ سرکاری مکتوب کے مطابق یہ جانچ محکمۂ تعلیم کی 29 نومبر 1980 کی قرارداد نمبر 1090 میں درج شرائط اور معیارات کی روشنی میں انجام دی جائے گی۔

اس فیصلے کے بعد بعض حلقوں میں تشویش اور بے چینی پائی جا رہی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ مدارس کے ذمہ داران کو اس صورتِ حال سے گھبرانے یا پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

جانچ سے گھبرائیں نہیں!

حکومت چونکہ ان اداروں کو امداد فراہم کرتی ہے، اس لیے اسے یہ حق بھی حاصل ہے کہ وہ وقتاً فوقتاً ان کی تعلیمی، انتظامی اور بنیادی سہولتوں کا جائزہ لے۔ اس جانچ کو کسی غیر معمولی صورتِ حال یا خطرے کے بجائے ایک معمول کی انتظامی کارروائی کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ اگر ہم ضابطوں کے مطابق کام کر رہے ہیں تو اس جانچ کو خوف کے بجائے اعتماد کے ساتھ قبول کرنا چاہیے۔

موجودہ حالات میں سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ مدارس کے ذمہ داران قرارداد نمبر 1090 میں مذکور شرائط کا باریک بینی سے مطالعہ کریں اور اپنے اداروں کا خود جائزہ لیں۔ جہاں کہیں کوئی کمی، خامی یا کوتاہی محسوس ہو، اسے حتی الامکان دور کرنے کی کوشش کریں۔ یہ وقت جذباتی ردِعمل، بے جا اندیشوں اور افواہوں کا نہیں بلکہ سنجیدگی، تدبر اور عملی تیاری کا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

معیار، منظوری اور جانچ

بعض اساتذۂ کرام اور مدارس کے ذمہ داران یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ حکومت نے سرکاری اسکولوں کی طرح مدارس کو عمارتیں، بنیادی ڈھانچہ اور دیگر سہولیات فراہم نہیں کیں، اس لیے اب ان سے اس نوعیت کی جانچ اور معیارات کی پابندی کا مطالبہ کرنا مناسب نہیں معلوم ہوتا۔ بظاہر یہ اعتراض وزن رکھتا ہے، لیکن قانونی اور انتظامی اعتبار سے معاملے کا دوسرا رخ بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

حقیقت یہ ہے کہ مدارس کو منظوری اور امداد ازخود حاصل نہیں ہوئی تھی، بلکہ اس کے لیے متعلقہ اداروں نے حکومت کے سامنے یہ موقف پیش کیا تھا کہ وہ مقررہ ضابطوں اور شرائط پر پورا اترتے ہیں۔ گویا مدرسے نے خود یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس کے پاس مطلوبہ زمین، عمارت، تدریسی انتظامات، طلبہ کی تعداد اور دیگر ضروری لوازمات موجود ہیں، اور اسی بنیاد پر وہ سرکاری امداد کا مستحق ہے۔ حکومت نے بھی انہی دعووں اور دستاویزات کی بنیاد پر منظوری اور امداد فراہم کی تھی۔

لہٰذا اگر آج حکومت انہی معیارات اور شرائط کی روشنی میں مدارس کی جانچ کرنا چاہتی ہے تو اسے اس کا قانونی اور انتظامی اختیار حاصل ہے۔ اس مرحلے پر اصل سوال یہ نہیں کہ حکومت کو جانچ کا حق ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہمارے ادارے ان معیارات پر کس حد تک پورا اترتے ہیں۔ جن کی بنیاد پر انہیں منظوری کہ اور امداد حاصل ہوئی تھی۔ اگر کہیں کمی رہ گئی ہے تو اس کی تکمیل کی سنجیدہ کوشش ہونی چاہیے۔

عملی اقدامات کی ضرورت

درحقیقت یہ جانچ مدارس کے لیے صرف ایک سرکاری معائنہ نہیں بلکہ خود احتسابی کا ایک اہم موقع بھی ہے۔ اس کے ذریعے ادارے اپنی انتظامی اور تعلیمی کمزوریوں کی نشاندہی کرکے انہیں دور کر سکتے ہیں۔ برسوں سے یہ بات کہی جا رہی تھی کہ مدارس کو اپنے ریکارڈ، بنیادی ڈھانچے اور انتظامی امور کو ضابطے کے مطابق منظم کر لینا چاہیے، کیونکہ کسی بھی وقت سرکاری جانچ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اب جبکہ وہ مرحلہ آ پہنچا ہے تو اس سے گھبرانے کے بجائے اسے اصلاح اور بہتری کے ایک موقع کے طور پر دیکھنا چاہیے۔

خصوصی طور پر اس بات کا خیال رکھا جائے کہ سوشل میڈیا، واٹس ایپ گروپس اور دیگر پلیٹ فارمز پر غیر ضروری بحث و مباحثہ، سوال و جواب اور قیاس آرائیوں میں وقت ضائع نہ کیا جائے۔ اس قسم کی سرگرمیاں نہ تو مسائل کا حل پیش کرتی ہیں اور نہ ہی اداروں کو کوئی عملی فائدہ پہنچاتی ہیں۔ ایسے مواقع پر شور و غوغا سے زیادہ خاموشی، حکمت اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل فائدہ پہنچاتا ہے۔ دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ جانچ کے عمل کو سکون، اعتماد اور ذمہ داری کے ساتھ مکمل ہونے دیا جائے اور اپنی تمام تر توجہ ادارے کی تیاری پر مرکوز رکھی جائے۔

اس سلسلے میں مزید رہنمائی اور آئندہ کے لائحۂ عمل کے لیے عنقریب ہر ضلع بلکہ بلاک میں مشاورتی نشستیں منعقد کی جائیں گی۔ فی الحال اگر کسی قسم کی دقت، پریشانی یا ابہام درپیش ہو تو بلا جھجھک اپنے ضلع کے ذمہ داران سے رابطہ کریں۔ ان شاء اللہ مکمل رہنمائی اور ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔