غزل

از:- ذکی طارق بارہ بنکوی

نہ نام، عہدہ نہ شہرت پہ انحصار رکھو
تم اپنے خُلق کو لوگوں میں یادگار رکھو

عروجِ عرش پہ رہتے ہو تم رہو لیکن
زمیں سے اپنے تعلق بھی استوار رکھو

بہار وقت ہر اک شاخ پر ہجوم رہا
خزاں میں ایک ہی پتّا ہو غمگسار رکھو

بلند ہو کے بھی لوگوں کے دل میں گھر کر لو
فضا میں اڑتے ہوئے بھی زمیں سے پیار رکھو

ہجومِ شہر میں خوشبو کی طرح عام رہو
بھلے ہی نام کا ہمراہ اشتہار رکھو

غرورِ علم و ہنر راہزن نہ بن جائے
مزاج میں ذرا تم رنگِ انکسار رکھو

غرض کی دھوپ میں رشتوں کے رنگ بجھتے ہیں
وفا کے پیڑ پہ بس اپنا اعتبار رکھو

مرے نصیب میں شاید وصال لکھا نہیں
سو اپنے دل میں مرا شوقِ انتظار رکھو

خزاں نہ پا لے شجر یہ شباب کا اپنے
دلوں کے بیچ محبت کے برگ و بار رکھو

# ایڈیٹر ہفت روزہ "صدائے بسمل” بارہ بنکی

سعادتگنج، بارہ بنکی، یوپی، انڈیا

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔