سوشل میڈیا اور مسلم نوجوان:احتیاط، شعور اور ذمہ داری

ز۔ایڈوکیٹ شاہد ندیم

(لیگل ایڈوائزر جمعیۃ علماء مہاراشٹر)

آج کے اس دور میں سوشل میڈیا معلومات، تعلیم اور رابطہ کا ایک موثر پلیٹ فارم (ذریعہ) بن چکا ہے لیکن اسی کے ساتھ یہ بعض اوقات نوجوانوں کو گمراہ کرنے، اشتعال انگیز مواد پھیلانے اور قانون کی خلاف وزری کرنے کی طرف مائل بھی کرتا ہے، حالیہ برسوں میں ایسے کئی واقعات سامنے آئے ہیں جن میں سوشل میڈیا پر کی گئی پوسٹیں ، پیغامات یا بعض مشکوک افراد سے واٹس اپ، فیس بک، انسٹاگرام، ٹویٹر،ٹیلی گرام ،ٹک ٹاک اور اسنیپ چیٹ وغیرہ جیسی رابطوں کی سائٹس پر ہونے والی گفتگو کی وجہ سے مسلم نوجوانوں کی دہشت گردی سے نمٹنے والے سخت قانون یو اے پی اے کے تحت گرفتاری کا سامنا کرنا پڑا ہے اور پھر انہیں برسوں جیل کی سلاخوں کے پیچھے گذارنے پڑے۔ایسی صورت حال سے بچنے کا تقاضہ ہے کہ سوشل میڈیا کا استعمال کرنے والے اپنے جذبات پر قابو پائیں اور حکمت، شعور اور ذمہ داری کا راستہ اختیار کریں۔جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر ایسے درجنو ں ملزمین کی پیروی کررہی ہے جنہیں سوشل میڈیا پر مبینہ قابل اعتراض اورملک دشمن مواد پوسٹ کرنے کی پاداش میں قومی تفتیشی ایجنسی نے گرفتار کیا ہے اور ان پر دہشت گردی میں ملوث اور ملک سے غداری اور جنگ کرنے جیسے سنگین الزامات عائد کئے ہیں۔پٹنہ میں ایک مسلم نوجوان کو پولس نے اس وجہ سے گرفتار کیاکہ اس نے واٹس اپ پر غزوہ ہند کے نام سے ایک گروپ بنایا تھا اور اس میں غزوہ ہند کے تعلق سے گفتگو کی جاتی تھی اوراس گروپ میں نوجوانوں کو جوڑا جاتا تھا۔اسی طرح گجرات پولس نے ایک خاتون سمیت چار مسلم نوجوانوں کو اس الزام میں گرفتار کیا کہ انہوں نے انسٹاگرام پر شریعت یا شہاد ت کے نام سے اکاؤنٹ بنایا تھا اور اس اکاؤنٹ کے ذریعہ ایسی کتابو ں کے حوالے ارسال کیئے جاتے تھے جن پرہندوستان میں پابندی ہے، این آئی اے نے چارج شیٹ میں جو مواد پیش کیا ہے اس میں پاکستانی علماء کی کتابوں کے اقتباسات ہیں جو انہوں نے ہندوستان میں جہاد کرنے کے تعلق سے لکھے ہیں اسی کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں اسلامی حکومت قائم کیئے جانے کی گفتگو کے اسکرین شاٹ پیش کیئے ہیں، اسلامی نظام کے لیئے مسلح جدوجہد، ادیان کی جنگ اور دین اسلام یا دین جمہویت وغیرہ کے اقتباسات این آئی اے نے چارج شیٹ میں شامل کیا ہے جسے ملزمین کے پاس سے ضبط کیئے جانے کا دعوی کیا گیا ہے۔گذشتہ دنوں ہی مراٹھواڑہ بالخصوص پربھنی و ناندیڑ کے مقامات پر مہاراشٹر اے ٹی ایس نے مسلم نوجوانوں پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے ان کے قبضے سے موبائل فون جمع کیئے تھے اور نصف شب ان کے مکانات کی تلاشی بھی لی تھی۔ آج ہر شخص کے ہاتھوں میں ملٹی میڈیا موبائل ہے جس میں کمپنی پہلے سے سوشل میڈیا ایپ انسٹال کرکے دیتی ہے،صارفین سوشل میڈیا کے ذریعہ ایک دوسرے کے رابطے میں رہنا زیادہ آسان محسوس کرتے ہیں، نارمل کال کرنے کے بجائے واٹس اپ کال، ویڈیو کال، گروپ کال وغیرہ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ نوجوا ن غیر ارادی طور پر انجانے گروپ میں شامل ہوجاتے ہیں جہاں شر پسند عناصر ان کی ذہن سازی کرتے ہیں، انہیں غیر ضروری سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے لیئے مذہب اور شخصیت کے نام پر ورغلایا جاتا ہے۔ایسے نازک وقت میں سب سے پہلے والدین کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں، ان کی آن لائن سرگرمیوں سے باخبر رہیں اورا نہیں یہ سمجھائیں کہ انٹرنیٹ پر کی گئی ہر پوسٹ، تبصرہ، فارورڈیا لائیک ایک ذمہ داری بھی ہے، اسے ہلکے میں نہیں لیا جانا چاہئے۔ تفتیشی ایجنسیوں کی سوشل میڈیا پر گہری نظر رہتی ہے۔ پولس پہلے ڈھیل دیتی ہے اور پھر بعد میں دبوچ لیتی ہے۔مدارس، مساجد، تعلیمی اداروں اور سماجی تنظیموں کو بھی چاہئے کہ وہ نوجوانوں کے لیئے ڈیجیٹل آگاہی کے پروگرام منعقد کریں جن میں انہیں بتایا جائے کہ نفرت انگیز، تشدد پر اکسانے والے یا غیر مصدقہ مواد کو شیئر کرنے کے کیا نقصانات ہوسکتے ہیں اور کسی بھی مشکوک اور اشتعال انگیزی پھیلانے والے اکاؤنٹ سے دور رہنا کیوں ضروری ہے۔نوجوانوں کو یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ سوشل میڈیا پر کسی نا معلوم شخص سے نظریاتی یا خفیہ نوعیت کی گفتگو، مشکوک گروپ میں شمولیت یا جذباتی نعروں سے متاثر ہوکر کوئی قدم اٹھانا ان کے مستقبل کو شدید نقصان پہنچان سکتا ہے۔

اختلاف رائے کا اختیار قانون کے دائرے میں رہ کر کیا جاسکتا ہے جبکہ تشدد، نفرت یا غیر قانونی سرگرمیوں سے ہر حال میں اجنتاب ضروری ہے۔آن لائن نفرت پھیلانے والوں کے خلاف آن لائن جنگ چھیڑنے کے بجائے قانون کا سہارا لیا جانا چاہئے، پولس میں اس کی شکایت درج کرانا چاہئے۔اسی طرح اگر کوئی انتہا پسند یا مشکوک مواد موصول ہو یا کوئی شخص ایسی سرگرمیوں میں شامل کرنے کی کوشش کرے تو اس میں شامل ہونے کے بجائے نوجوانوں کو اپنے سے بڑوں سے رجوع ہونا چاہئے، فوراً پولس میں شکایت کرنا چاہئے، پڑوسی ممالک کے واٹس اپ، انسٹا گرام، ٹیلی گرام، فیس بک اکاؤنٹ کا حصہ نہیں بننا چاہئے، یہ اکاؤنٹ کسی بھی نوعیت کے ہوں، معلوماتی، مذہبی، سیاسی یا پھر سائنسی۔ڈیجیٹل آگاہی سے سائبر فراڈ سے بھی بچا جاسکتا ہے اور علمائے کرام اور سماجی رہنماؤں سے بھی گذارش ہے کہ وہ نوجوانوں میں صبر، اعتدال، قانون کی پابندی مثبت کردار اداکرنے کا جذبہ پیدا کریں،نوجوان کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں، ان کی حفاظت صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ والدین، اساتذہ، علماء، سماجی تنظیمیں اور خود نوجوانوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

اگر ہم تعلیم، شعور، قانونی آگاہی، مثبت مصروفیات اور مضبوط خاندانی تعلقات کو فروغ دیں تو نوجوانوں کو گمراہی اور خطرنات راستوں سے محفوظ رکھنے میں نمایاں کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔سوشل میڈیا کا استعمال روز مرہ کی زندگی میں شامل ہوچکا ہے، اس سے بچنا محال ہے لیکن اس کا مثبت اورتعمیری استعمال کرکے خرافات سے بچا جاسکتا ہے۔آن لائن کلاسیس کے نام پر اکثر نوجوان تفریحی ویب سائٹ کا رخ اختیار کرلیتے ہیں اور بجا ئے تعلیم پر توجہ دینے کے وہ غیر ضروری جگہوں پر اپنا قیمتی وقت صرف کرنے لگتے ہیں، غیر ضروری ویب سائٹ وزٹ کرنے سے اسٹوڈنٹس کا ذہن بھی منتشر ہوتا ہے اور مذہب اور سائنسی معلومات کے نام پر ان کے گمراہ ہونے کے امکانات زیادہ ہوجاتے ہیں۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔