بہار اور آسام حکومتوں کا نیٹ احتجاج سے متعلق مقدمات واپس لینے کا اعلان

پٹنہ/گوہاٹی: نیٹ (NEET-UG) امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ کے لیے بڑی راحت کی خبر سامنے آئی ہے۔ بہار اور آسام کی حکومتوں نے احتجاج کے دوران طلبہ اور دیگر مظاہرین کے خلاف درج مقدمات واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔

بہار حکومت کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق 26 جولائی شام 6 بجے تک احتجاج میں شریک افراد کے خلاف نہ تو مزید کوئی قانونی کارروائی کی جائے گی اور نہ ہی ان کے خلاف انتقامی اقدامات کیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ہی احتجاج سے متعلق درج تمام ایف آئی آر، فوجداری مقدمات اور شوکاز نوٹس واپس لینے کا عمل فوری طور پر شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ گرفتار یا حراست میں لیے گئے تمام افراد کو بھی جلد رہا کیا جائے گا۔

ادھر آسام میں بھی حکومت نے نیٹ احتجاج کے سلسلے میں درج مقدمات واپس لینے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ اس فیصلے کو طلبہ کے جمہوری حقِ احتجاج کے احترام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

طلبہ تنظیموں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے دونوں ریاستی حکومتوں کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طلبہ کے خلاف درج مقدمات کا خاتمہ خوش آئند ہے، تاہم نیٹ امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات اور امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔

واضح رہے کہ نیٹ امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف بہار، آسام اور دیگر ریاستوں میں گزشتہ دنوں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے۔ کئی مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں، متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا اور ان کے خلاف مقدمات درج کیے گئے تھے۔ حکومتوں کے حالیہ فیصلے کو بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ اور طلبہ کے مسلسل احتجاج کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔