کشن گنج، : تنظیم ابنائے ندوہ کشن گنج کی نگرانی میں ’’سیرت کا پیغام انسانیت کے نام‘‘ کے عنوان سے منعقد ہونے والے سلسلہ وار بارہ روزہ پروگرام کا باضابطہ آغاز اقبال کالونی جامع مسجد میں ہوا۔
پروگرام کا آغاز مولانا ساجد ندوی کی تلاوتِ قرآنِ مجید سے ہوا، جب کہ مولانا ابو ریحان ندوی نے نعتیہ کلام پیش کیا۔ نظامت کے فرائض مولانا سہیل رحمانی ندوی نے انجام دیے۔
ابتدائی گفتگو میں مولانا سہیل رحمانی ندوی نے کہا کہ ہمیں رسول اکرم حضرت محمد ﷺ کے پاکیزہ بچپن کا مطالعہ کرنا چاہیے اور اس کی روشنی میں اپنے بچوں کی اسلامی تربیت پر توجہ دینی چاہیے۔ آپ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کا ہر مرحلہ، خواہ بچپن ہو، جوانی ہو یا عمر کا آخری حصہ، ہمارے لیے بہترین نمونہ اور آئیڈیل ہے۔
پروگرام کے کلیدی خطیب حضرت مولانا ممتاز مظاہری، مہتمم ادارہ فیض القرآن ٹھکری باری، نے اپنے مؤثر اور علمی خطاب میں سیرتِ نبوی ﷺ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ عام انسانوں کی سوانح عموماً ان کی وفات کے بعد لکھی اور بیان کی جاتی ہے، لیکن نبی کریم حضرت محمد ﷺ کی سیرت و حیاتِ مبارکہ کا تذکرہ آپ ﷺ کی ولادت سے قبل ہی مذہبی کتابوں میں موجود تھا اور قیامت تک جاری رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ سیرتِ نبوی ﷺ کے بنیادی طور پر دو پہلو ہیں: قولی سیرت اور عملی سیرت۔ قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ کا پورا ذخیرہ نبی کریم ﷺ کی قولی سیرت کی عکاسی کرتا ہے، جب کہ آپ ﷺ کی پوری حیاتِ مبارکہ عملی سیرت کا بہترین نمونہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہمیں سیرتِ نبوی ﷺ کا مطالعہ کرنے کے ساتھ اسے اپنی عملی زندگی کا حصہ بھی بنانا چاہیے۔
پروگرام میں مولانا قاضی ارشد، مولانا الیاس مخلص، مولانا ابوذر ندوی، مولانا فیض الرحمن ندوی، مولانا ابصار ندوی، مولانا ابوسالک ندوی، قاضی شاہ نجم مظاہری ندوی، مولانا منت اللہ ندوی، مولانا ساجد ندوی، مولانا ابو ریحان ندوی، مولانا اکرم فاروقی ندوی، مولانا غلام ربانی ندوی، مولانا منظر ندوی، مولانا مشتاق ندوی اور مولانا شمیم ریاض ندوی کے علاوہ شہر کے دانشوران اور معززین نے بطورِ خاص شرکت کی۔
آخر میں دعا کے ساتھ افتتاحی پروگرام اختتام پذیر ہوا۔