امارت شرعیہ کے زیراہتمام ۱۱/نومبر ۲۰۲۶ءکو مدارس اسلامیہ کنونشن کے انعقادکا فیصلہ
پھلواری شریف:
مدارس اسلامیہ کا وجود ملت کے دین و ایمان اور علم و آگہی کے لئے دل کی حیثیت رکھتا ہے ،یہ مدارس انسان سازی اور اخلاق و کردار کے سنوارنے کے سب سے اہم مراکز ہیں ،اس ملک میں مدارس اسلامیہ کی روشن تاریخ ہے ،ان اداروں سے تعلیم پانے والوں اور ان تربیت گاہوں سے تربیت یافتہ جیالوںنے ہر جہت سے ملک وملت کو ترقی و استحکام بخشا ہے اور آج بھی یہ ادارے ایسے ہی صالح مقاصد کو سامنے رکھ کر اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں ؛ لیکن افسوس کہ اس وقت ان سب سے قیمتی ملی سرمایہ کو تعصب و تنگ نظری کے جال میں اُلجھا کر اس کے وجود اوراس کے نظام کو درہم برہم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں ،ارباب مدارس کی نظر حالات پر ہونے کے باوجود وہ خود بھی مدارس کے تحفظ کے تعلق سے غفلتوں کے شکار ہیں ،جو نہایت ہی افسوسناک اور تشویشناک معاملہ ہے ،ضرورت ہے کہ ان حالات کو سامنے رکھتے ہوئے ارباب مدارس ،ملت کے علماء و دانشوران اور تعلیم گاہوں کے ذمہ دارن اس مسئلہ پر بار بار سر جوڑ کر بیٹھیں ،مختلف جہتوں سے مسائل کا احاطہ کریں اور خارجی و داخلی دونوں طرح مسائل کے حل کے لئے مضبوط و مرتب حل سامنے لا کر ان کو عملی جامہ پہنائیں ، یہ میٹنگ مدارس کے مسائل اور اس کی جہتوں کو صحیح طور پر جاننے کے لئے منعقد ہوئی ہے، ان خیالات کا اظہاربہار،اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال کے امیر شریعت مفکر ملت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہ نے آج مورخہ ۲۹؍ ستمبر ۲۰۲۶ء روز منگل بوقت ۱۲؍ بجے دن زوم ایپ پر منعقد چاروں ریاستوں کے ۵۰؍ سے زائد بڑے مدارس ملحقہ و غیر ملحقہ کے سامنے فرمایا،حضرت امیر شریعت نے مزید کہا کہ آپ حضرات بڑے مدارس کے ذمہ داران ہیں ،اس وقت آپ حضرات کی نظروں میں خارجی و داخلی طور پر جو اہم مسائل ہیں ان کو پیش کریں ۔اس میٹنگ میں افتتاحی گفتگو کرتے ہوئے ناظم امارت شرعیہ جناب مولانا مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی صاحب نے شرکاء میٹنگ کا استقبال کیا اور میٹنگ کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حضرت امیر شریعت مدظلہ مدارس کے مسائل کے بارے میں مسلسل فکر مند ہیں اور اس سلسلے میں کوششوں کا سلسلہ بھی جاری ہے ،تاہم ضرورت تھی کہ زمینی سطح پر مدارس کے مسائل کا جائزہ لیا جائے اور خارجی و داخلی دونوں طرح کے مسائل کو سامنے رکھ کر مضبوط لائحہ عمل طے کیا جائے ؛چنانچہ اسی غرض سے ان شاء اللہ ۱۱؍ نومبر ۲۰۲۶ ء کو امارت شرعیہ کے زیر اہتمام باپو سبھا گار آڈیٹوریم پٹنہ میں چاروں ریاستوں کے اربا ب مدارس،مختلف تعلیمی اداروں کے ذمہ داران ،علماء و ائمہ اور تنظیم امارت کے نمائندگان کا ایک اہم اجلاس مدارس اسلامیہ کنونشن کے عنوان سے منعقد ہوگا۔
حضرت امیر شریعت مدظلہ کی فکر یہ ہے کہ اجلاس سے قبل پہلے مرحلہ میں چاروں ریاستوںکے بڑے مدارس کے ذمہ دارن سے مسائل کو جانا جائے اور اس کے بعد مدارس کی ایک مناسب تعداد کا زمینی جائزہ عملی طور پر لیا جائے اور حاصل شدہ رپورٹ کی روشنی میں دستاویزی انداز کا حل تیار کیا جائے اور جو مسائل اپنے حل میں عملی تربیت کے متقاضی ہوں ان کو ورکشاپ کے ذریعہ حل کیا جائے ۔ناظم صاحب نے امید ظاہر کی کہ ان شاء اللہ ہونے والا اجلاس آپ حضرات کے تعاون سے تاریخی و مثالی ہوگا،میٹنگ میں شریک مدارس کے ذمہ داران نے میٹنگ کے مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے جن جن ریاستوں میں جس قسم کے مسائل و مشکلات مدارس کو در پیش ہیں نہایت تفصیل کے ساتھ ذکر کیا اور ہونے والے اجلاس کے فیصلے پر حضرت امیر شریعت مدظلہ اور دیگر ذمہ داران امارت نے مبارکباد دیتے ہوئے اجلاس کو کامیاب بنانے میں بھرپور تعاون دینے کے عزم کا اظہار کیا،شرکاء میٹنگ کی طرف سے پیش کئے گئے تمام مسائل کوحضرت امیر شریعت مدظلہ نے بغور سنا اور انہیں قلمبند بھی کیا گیا ،ان شاء اللہ انہیں سامنے رکھتے ہوئے ہونے والے کنونشن کو مؤثر بنانے کی بھرپور کوشش کی جائے گی ،میٹنگ میں صدر قاضی شریعت جناب مفتی انظار عالم قاسمی صاحب ن،نائب ناظم جناب مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی صاحب ،نائب قاضی شریعت جناب مفتی وصی احمد قاسمی صاحب نے بھی اظہار خیال کیا ،نظامت نائب ناظم امارت شرعیہ جناب مولانا مفتی محمد سہراب ندوی صاحب نے کی ،تلاوت مولانا عبداللہ انس قاسمی کی ہوئی ،میٹنگ میں مولانا احمد حسین قاسمی معاون ناظم امارت شرعیہ مولانا قمر انیس قاسمی معاون ناظم امارت شرعیہ ،مولانا رضوان ندوی معاون ناظم اور حافظ احتشام رحمانی صاحب کے علاوہ اڈیشہ سے مولانا فیض الرحمن بسرا،مولانا ارشد قاسمی راوڑکیلا ،جھارکھنڈ سے مولانا اسحق صاحب سرکارڈیہہ ،مولانا آفتاب دھنباد ،حامد غازی صاحب گڈا ، مولانا محمد صاحب کڈرو رانچی ،مولانا محمد انور قاسمی و مولانا سعود عالم قاسمی رانچی ،بنگال سے مولانا ممتاز صاحب اتر دیناج پور ،مولانا مفتی عبدالحئی آسنسول و مولانا ضمیرالدین کولکاتہ، بہار سے جناب الحاج عارف رحمانی و مولانا قمرالزماں صاحب مونگیر،قاری سعود صاحب بہادرگنج کشن گنج،مفتی محفوط الرحمن صاحب سیوان ،مولانا فیض الرحمن صاحب مغربی چمپارن ،مفتی انصارصاحب سوپول ،مفتی توحید صاحب و مفتی دبیر صاحب دربھنگہ ،مفتی امداداللہ صاحب مدھوبنی،مفتی شمس توحید و مولانا خالد ندوی صاحب پورنیہ ،مولانا شاہد عادل و مولانا شاہد صاحب ارریہ وغیرہ کی خصوصی شرکت رہی۔