از:- مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ
انڈین نیشنل کانگریس کے بزرگ قائد جناب عبد الجلیل مستان بن امیر الدین بن عنایت اللہ ساکن سرسی ضلع پورنیہ حلقہ اسمبلی امور (Amour) کا 12/ ستمبر 2026ء مطابق 29/ ربیع الاول 1448ھ سنیچر کو دہلی ایمس میں انتقال ہو گیا، جنازہ وہاں سے ان کے آبائی گاؤں سری لایا گیا، بعد نمازِ جنازہ گھر کے احاطہ میں تدفین عمل میں آئی، جنازہ کی نماز سری جامع مسجد کے امام مولانا فاروق صاحب نے پڑھائی، جنازہ میں لوگوں کا جمِ غفیر اور ہزاروں کا مجمع ان کی مقبولیت اور محبوبیت کی کہانی سنا رہا تھا، انہوں نے شادی آخری عمر میں کوئی آٹھ سال قبل گاؤں میں ہی ماسٹر حبیب الرحمن صاحب کی لڑکی سے کی تھی، اولاد تو کوئی نہیں تھی، اہلیہ حی القائم ہیں، عبد الجلیل صاحب کی نانی ہال رنگ ریا اور ان کے نانا کا نام نصیر الدین تھا ۔
جناب عبد الجلیل مستان یکم جنوری 1958ء کو اپنے آبائی گاؤں سری میں پیدا ہوئے، بعض سرکاری شناخت نامہ کے مطابق انتقال کے وقت ان کی عمر ستر سال تھی، انہوں نے پورنیہ ضلع اسکول سے میٹرک اور 1965ء میں بھاگلپور یونیورسٹی سے ملحق پورنیہ کالج سے آئی کوم (I.Com) تک تعلیم حاصل کی، ان کا سیاسی سفر مقامی مسائل کے حل کرنے سے شروع ہوا، دھیرے دھیرے وہ عوام میں مقبول ہوتے چلے گئے، وہ چھ بار امور حلقہ سے ایم ایل اے منتخب ہوئے، یہ حلقہ 1952ء سے قائم ہے اور 2011ء کی مردم شماری کے مطابق 69.80 فیصد یہاں مسلم آبادی ہے، عبد الجلیل مستان صاحب پہلی بار آزاد امیدوار کے طور پر 1985ء میں کامیاب ہوئے، وہ 1990ء، 2000ء، فروری، اکتوبر 2005ء اور 2015ء میں کانگریس کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے اور اپنے قریبی حریف بی جے پی کے امیدوار صبا ظفر کو تقریباً باون ہزار ووٹ سے شکست دیا، جن انتخابات میں انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا، ان میں 1995ء میں سماج وادی پارٹی کے مظفر حسین سے، 1997ء کے ضمنی انتخاب میں ان کے بیٹے آزاد امیدوار صبا ظفر سے، 2010ء میں بی جے پی کے امیدوار صبا ظفر بن مظفر حسین سے، 2020ء اور 2025ء میں مجلس اتحاد المسلمین کے ریاستی صدر جناب اختر الایمان سے انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا، 2025ء کے انتخاب میں امور اسمبلی حلقہ میں مقابلہ سہ رخی ہوا اور مستان صاحب تیسرے نمبر پر چلے گئے، وہ صرف 52791 ووٹ ہی لا سکے، اختر الایمان نے 1,00,836 ووٹ لا کر جیت حاصل کی، ظفر جدیو امیدوار کی حیثیت سے دوسرے نمبر پر رہے، ان کے سیاسی عروج کی انتہا تب ہوئی جب وہ نیتش کمار کی قیادت میں 20/ نومبر 2015ء سے 16/ جولائی 2017ء تک عظیم اتحاد کی حکومت میں رجسٹریشن، ایکسا ئز اینڈ پروہی بشن (Excise And Prohibition) میں وزیر کی حیثیت سے کام کیا، ان کے دور میں 2016ء میں ریاست میں مکمل شراب بندی کا قانون پاس ہوا اور اسے نافذ کیا گیا، اس قدم سے خانگی تشدد کو کم کرنے اور معاشی حالات کو سدھارنے میں بڑی مدد ملی ۔
عبد الجلیل مستان سیما نچل علاقہ میں کانگریس کے سب سے مضبوط قائد تھے، ان کی سادہ طرزِ زندگی اور بود و باش کے درویشانہ انداز نے انہیں عوامی مقبولیت بخشی، ان کے یہاں عام سیاست دانوں سا کروفر اور ہٹاؤ، بچاؤ نہیں تھا، وہ زمین پر ہی دری و چٹائی پر بیٹھا کرتے تھے، ان میں فخر و غرور نام کی کوئی چیز نہیں تھی، وہ بسوں اور بائیک پر بیٹھ کر سفر کر لیا کرتے تھے، بعض دفعہ سائیکل سے بھی انہیں آتے جاتے دیکھا گیا، وہ زمین پر بیٹھ کر لوگوں کے ساتھ کھانا کھاتے تھے، اس طرزِ عمل کی وجہ سے لوگ انہیں ”مستان“ کہا کرتے تھے۔
عبدالجلیل مستان نے سیاست اور عہدوں کا استعمال اپنا معیارِ زندگی بڑھانے کے لیے کبھی نہیں کیا، انہوں نے اپنے دور میں ساری توجہ ترقیاتی و فلاحی کاموں پر مرکوز رکھی، امور کا علاقہ ہر سال شدید سیلاب اور کٹاؤ کی زد میں رہتا ہے، مستان صاحب نے اپنے دور میں سیلاب متاثرین کے لیے امدادی کیمپوں، سرکاری معاوضے کی بروقت ادائیگی اور دریاؤں پر عارضی و مستقل پشتے بنوانے میں اپنی ذمہ داری نبھائی، دہی علاقوں کو پورنیہ اور کشن گنج سے جوڑنے کے لیے دہی سڑکوں اور پلیوں کی تعمیر کے لیے سرکاری رقم منظور کروائی اور اسے زمین پر اتارا، جس کی وجہ سے سیلاب کے دنوں میں بھی علاقہ کا رابطہ شہروں سے برقرار رہا، سیلاب کے دنوں میں متاثرین کو محفوظ مقامات تک پہنچوانے اور ان کے خور ونوش سے متعلق کاموں کی وہ خود نگرانی کیا کرتے تھے، اس کے علاوہ وہ اپنی ذاتی رقومات سے غریب بیٹیوں کی شادی، بیماروں کے علاج و معالجے اور غریب طلبہ کی تعلیمی امداد میں پیش پیش رہا کرتے تھے، جس کی وجہ سے انہیں علاقہ کا مسیحا بھی کہا جاتا تھا، مستان صاحب کی سب سے بڑی طاقت ان کا جتنا دربار تھا، وہ غریبوں کو تھانے اور بلاک میں رشوت اور بیوروکریسی کے ظلم سے بچانے کے لیے خود کھڑے ہو جاتے تھے، یہ ان کا بڑا پن تھا، وہ امور اور پورنیہ کی تاریخ میں عوامی رہنما کے طور پر ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔
ان کی سیاسی زندگی کا سب سے نازک مرحلہ فروری 2017ء میں آیا، جب ان کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف نامناسب الفاظ استعمال کیے تھے اور لوگوں کو ان کی تصویر پر جوتا مارنے کے لیے ابھارا تھا، یہ نوٹ بندی کے معاً بعد کا موقع تھا، اس واقعہ کے بعد بی جے پی اور دیگر حزبِ مخالف نے اسمبلی میں شدید ہنگامہ برپا کیا تھا، ایف آئی آر بھی درج ہوا، وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے ان کے برطرف کرنے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا، حزبِ اختلاف نے ان کا اسمبلی میں مکمل بائیکاٹ کیا، ان کے عوامی طور پر معافی مانگنے کے بعد یہ معاملہ ختم ہوا ۔
مستان صاحب کی ایک بڑی خوبی یہ بھی تھی کہ وہ ذاتی تعلقات کو سیاست سے الگ رکھتے تھے، جو انتخاب میں ان کا مخالف ہوتا، اس سے بھی سلام و دعا جاری رکھتے، اگر وہ ملنے سے گریز کرتا تو ان کے گھر چلے جاتے، اپنے مخالفین کے دکھ، سکھ میں شریک ہوتے، البتہ اس تعلقات کی برقراری کے لیے سیاسی موضوعات پر ان سے گفتگو نہیں کرتے، میں سمجھتا ہوں کہ اتر پردیش کے عالمِ بدیع الاعظمی کے بعد وہ دوسرے لیڈر تھے، جنہوں نے سیاست میں پرانے اقدار کو زندہ رکھا تھا، ورنہ آج کی سیاست تو ”تھا جو ناخوب، بتدریج وہی خوب ہوا“ کا صحیح مصداق ہے، واقعہ یہ ہے کہ سیما نچل بہار نے ایک مدبر، ملنسار اور زمین سے جڑا لیڈر کھو دیا ہے، اللہ رب العزت ”مستان“ صاحب کو ان کی خدمات کا بہترین بدلہ عطا فرمائے، ان کی لغزشوں کو معاف فرمادے۔ آمین