از:- عبدالغفار صدیقی بجنور
نبی اکرم ؐ کی پوری زندگی رحمت، شفقت، محبت اور خیر خواہی کا ایک روشن نمونہ ہے۔ آپ ؐ کی بعثت کسی خاص قوم، علاقے یا زمانے کے لیے نہیں ہوئی بلکہ آپ تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے۔ قرآن مجید نے آپ ؐ کے متعلق فرمایا: ”اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے۔” (الانبیاء: 107) یہ رحمت صرف انسانوں تک محدود نہیں تھی، بلکہ بچوں، بوڑھوں، عورتوں، یتیموں، غریبوں، مسکینوں، غلاموں، مریضوں، مسافروں، جانوروں، درختوں اور ماحول تک پھیلی ہوئی تھی۔ حتیٰ کہ وہ لوگ جو آپ ؐ کے مخالف تھے، ان کے لیے بھی آپ ؐ کے دل میں خیر خواہی اور ہدایت کی خواہش موجود تھی۔
آپ ؐ کی رحمت کا سب سے خوب صورت منظر ہمیں بچوں کے ساتھ آپ ؐ کے برتاؤ میں دکھائی دیتا ہے۔ اس زمانے میں بچے معاشرے کا کمزور طبقہ سمجھے جاتے تھے، لیکن نبی اکرم ؐ نے انہیں محبت، شفقت اور عزت دی۔ آپ ؐ بچوں کو سلام کرتے، انہیں اپنے قریب بٹھاتے، ان سے محبت کرتے اور ان کے ساتھ نرمی کا معاملہ فرماتے۔ آپ ؐ نے فرمایا: ”جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہیں کرتا اور ہمارے بڑوں کا حق نہیں پہچانتا، وہ ہم میں سے نہیں۔” (سنن الترمذی، سنن ابی داؤد) آپ ؐ خود بچوں کے پاس سے گزرتے تو انہیں سلام کرتے تھے۔ بچوں کے معاملے میں نبی اکرم ؐ کی رحمت صرف محبت تک محدود نہیں تھی بلکہ آپ ؐ نے ان کی پیدائش، پرورش، کفالت اور تربیت کو بھی والدین کے لیے اجر کا ذریعہ بنایا۔ آپ ؐ نے اولاد کو بوجھ نہیں بلکہ اللہ کی عطا اور ذمہ داری قرار دیا۔
یہ رحمت اس وقت اور نمایاں ہوجاتی ہے جب ہم اسلام سے پہلے کے معاشرے میں بچیوں کی حالت دیکھتے ہیں۔ بعض لوگ بیٹی کی پیدائش کو باعثِ شرم سمجھتے اور اسے زندہ دفن تک کردیتے تھے۔ نبی اکرم ؐ نے آکر اس سوچ کو بدل دیا۔ جس بیٹی کو لوگ بوجھ سمجھتے تھے، اس کی پرورش کو جنت کا راستہ بنا دیا۔ آپ ؐ نے فرمایا: ”جس نے دو بچیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ بالغ ہوگئیں، وہ قیامت کے دن میرے ساتھ اس طرح ہوگا۔” آپ ؐ نے ہاتھ کی دو انگلیوں کو ایک ساتھ ملایا(مسلم) ایک دوسری روایت میں تین بیٹیوں کی پرورش، انہیں کھلانے، پلانے اور لباس دینے کو جہنم سے پردہ قرار دیا گیا ہے۔ یوں بیٹی معاشرے کی کمزور مخلوق سے تبدیل ہوکر والدین کے لیے آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بن گئی۔
بچی کی رحمت صرف اس کی پیدائش اور پرورش تک محدود نہیں رہی، بلکہ اسلام نے اسے زندگی بھر عزت دی۔ عورت بیٹی ہو تو اس کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم ہے، بیوی ہو تو اس کے حقوق ہیں، ماں ہو تو اس کے قدموں کے نیچے جنت کی بشارت ہے، اور بیوہ ہو تو اس کی خدمت کو بہت بڑی نیکی قرار دیا گیا۔
ماں کے مقام کو دیکھیں تو نبی اکرم ؐ نے ایک شخص کے سوال کے جواب میں تین مرتبہ ماں کا ذکر فرمایا اور پھر باپ کا۔ آپ ؐ نے فرمایا: ”تمہاری ماں، پھر تمہاری ماں، پھر تمہاری ماں، پھر تمہارا باپ۔” (متفق علیہ) بیوی کے بارے میں آپ ؐ نے اپنا عملی نمونہ پیش کیا اور فرمایا: ”تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے لیے تم سب سے بہتر ہوں۔” (سنن الترمذی) اس طرح عورت کے لیے رحمت بیٹی سے شروع ہوکر بیوی اور ماں تک پہنچتی ہے۔
بیوہ عورت کے لیے بھی نبی اکرم ؐ نے معاشرے کا رویہ بدل دیا۔ بیوہ کو بوجھ سمجھنے کے بجائے اس کی خدمت اور کفالت کو عظیم عبادت قرار دیا۔ آپ ؐ نے فرمایا: ”بیوہ اور مسکین کی خدمت کے لیے کوشش کرنے والا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مانند ہے۔” (متفق علیہ) خود نبی اکرم ؐ نے بیوہ خواتین سے نکاح کرکے معاشرے کو عملی پیغام دیا کہ بیوہ ہونا کوئی عیب نہیں اور اس عورت کو بھی عزت، محبت اور نئے خاندانی زندگی کے حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔
یتیموں کے لیے نبی اکرم ؐ کی رحمت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ آپ ؐ نے اپنی ذات کو یتیم کی کفالت کرنے والے کے ساتھ جنت میں قریب قرار دیا۔ فرمایا: ”میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے۔” (بخاری) یتیم کے سر پر ہاتھ رکھنا، اس کی ضرورت پوری کرنا، اس کے مال کی حفاظت کرنا اور اسے معاشرے میں عزت دینا اسلامی تعلیمات کا حصہ بن گیا۔
اسی طرح غلاموں اور معاشرے کے پسماندہ و کمزور طبقات کے لیے بھی نبی اکرم ؐ رحمت بن کر آئے۔ غلام اس دور کا ایک انتہائی محروم طبقہ تھا، لیکن آپ ؐ نے ان کے ساتھ انسانی مساوات اور حسنِ سلوک کا ایسا تصور دیا جو اس زمانے کے لیے انقلابی تھا۔ آپ ؐ نے فرمایا: ”تمہارے غلام تمہارے بھائی ہیں، اللہ نے انہیں تمہارے اختیار میں دیا ہے، لہٰذا جس کا بھائی اس کے اختیار میں ہو، اسے چاہیے کہ اسے وہی کھلائے جو خود کھاتا ہے اور وہی پہنائے جو خود پہنتا ہے، اور ان پر ایسا بوجھ نہ ڈالے جو ان کی طاقت سے باہر ہو۔” (متفق علیہ) قرآن نے غلام آزاد کرنے کو بڑی نیکی قرار دیا اور بعض گناہوں کے کفارے میں بھی غلام آزاد کرنے کا حکم دیا۔ یوں غلامی کے نظام سے نکلنے کے راستے مسلسل کھولے گئے۔
طلبہ اور علم حاصل کرنے والوں کے لیے بھی آپ ؐ رحمت ہیں۔ آپ ؐ نے علم کے راستے کو جنت کا راستہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ”جو شخص علم حاصل کرنے کے لیے کسی راستے پر چلتا ہے، اللہ اس کے لیے اس کے ذریعے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے۔” (مسلم) تعلیم کو عزت دے کر آپ ؐ نے ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جس میں علم حاصل کرنا عبادت اور علم سکھانا عظیم خدمت بن گیا۔ قرآن سیکھنے اور سکھانے والے کو بہترین لوگوں میں شمار کیا گیا: ”تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔” (بخاری)
مریضوں کے لیے بھی آپ ؐ رحمت کا پیکر تھے۔ آپ ؐ نے مریض کی عیادت کو محض سماجی رسم نہیں بلکہ عبادت قرار دیا۔ فرمایا: ”جو شخص کسی مریض کی عیادت کرتا ہے، وہ واپس آنے تک جنت کے پھلوں میں رہتا ہے۔” (مسلم) بیماری کے بارے میں آپ ؐ نے یہ تسلی بھی دی کہ مسلمان کو پہنچنے والی بیماری اور تکلیف اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے۔ (متفق علیہ)
نبی اکرم ؐ مہمان کے لیے بھی رحمت ہیں اور میزبان کے لیے بھی۔ آپ ؐ نے فرمایا: ”جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔” (متفق علیہ)یوں مہمان نوازی کو ایمان کا حصہ قرار دے کر معاشرے میں محبت اور باہمی تعلقات کو مضبوط کیا گیا۔
آپ ؐ کی رحمت انسانوں سے آگے بڑھ کر جانوروں تک پہنچتی ہے۔ آپ ؐ نے جانوروں کو بھوکا رکھنے، انہیں اذیت دینے اور ان پر غیر ضروری بوجھ ڈالنے سے روکا۔ ذبح کے بارے میں فرمایا: ”اللہ نے ہر چیز کے ساتھ احسان کا حکم دیا ہے، جب تم ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو، اپنی چھری تیز کرلو اور اپنے ذبیحے کو راحت پہنچاؤ۔” (مسلم) یعنی جس جانور کو انسان اپنی غذا کے لیے استعمال کررہا ہے، اس کے ساتھ بھی کم سے کم تکلیف اور زیادہ سے زیادہ احسان کا معاملہ کیا جائے۔
آپ ؐ پانی اور ماحول کے لیے بھی رحمت تھے۔ آپ ؐ نے ٹھہرے ہوئے پانی کو آلودہ کرنے سے منع فرمایا۔ درخت لگانے کی ترغیب دی اور اسے صدقہ قرار دیا۔ فرمایا: ”جو مسلمان کوئی درخت لگاتا ہے، پھر اس میں سے کوئی انسان، جانور یا پرندہ کھاتا ہے تو وہ اس کے لیے صدقہ بن جاتا ہے۔” (متفق علیہ) یوں ایک درخت صرف لکڑی یا سایہ نہیں رہا بلکہ انسان، پرندے اور جانور سب کے لیے فائدہ پہنچانے کا ذریعہ بن گیا اور اسے لگانے والا ثواب کا مستحق قرار پایا۔
نبی اکرم ؐ کی رحمت کا دائرہ صرف اپنے ماننے والوں تک محدود نہیں تھا۔ مخالفین بھی آپ ؐ کی خیر خواہی سے محروم نہیں تھے۔ طائف میں آپ ؐ کو پتھر مارے گئے، لہولہان کردیا گیا، مگر جب فرشتے نے ان لوگوں کو پہاڑوں کے درمیان کچل دینے کی پیش کش کی تو آپ ؐ نے انتقام کے بجائے ان کی آئندہ نسلوں سے خیر کی امید ظاہر کی اور فرمایا: ”بلکہ مجھے امید ہے کہ اللہ ان کی نسلوں میں ایسے لوگ پیدا کرے گا جو صرف اللہ کی عبادت کریں گے۔” (متفق علیہ)
فتح مکہ کے موقع پر وہ لوگ آپ ؐ کے سامنے تھے جنہوں نے آپ ؐ اور آپ کے ساتھیوں کو برسوں تک ستایا، وطن سے نکالا، جنگیں کیں اور طرح طرح کی تکلیفیں پہنچائیں۔ لیکن فتح کے بعد انتقام کا دروازہ کھولنے کے بجائے معافی اور درگزر کا راستہ اختیار کیا گیا۔ حضرت یوسفؑ کے الفاظ ”آج تم پر کوئی ملامت نہیں ” کو سامنے رکھتے ہوئے عام معافی کا اعلان کیا گیا۔ یہ رحمت اس وقت سب سے زیادہ نمایاں ہوتی ہے جب انسان کو انتقام لینے کی پوری قدرت حاصل ہو۔
آپ ؐ کی رحمت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ آپ لوگوں کو آخرت کی آگ سے بچانے کے لیے بے چین رہتے تھے۔ آپ ؐ نے اپنی مثال اس شخص سے دی جو آگ جلاتا ہے اور پتنگے اس میں گرنے لگتے ہیں، وہ انہیں بچانے کی کوشش کرتا ہے، مگر وہ اس کے ہاتھ سے نکل نکل کر آگ میں گرتے جاتے ہیں۔ آپ ؐ نے فرمایا: ”میں تمہیں آگ سے بچانے کے لیے تمہاری کمر پکڑ رہا ہوں اور تم میرے ہاتھ سے نکل نکل کر آگ میں گرے جارہے ہو۔” (مسلم) یہ آپ ؐ کی امت کے لیے شدید خیر خواہی اور شفقت کی تصویر ہے۔
یہ رحمت صرف عالم انسان و حیوانات تک محدود نہیں بلکہ آپ نے فضائی آلودگی سے بچنے کے لیے پاکی و صفائی کی تعلیم دی،پانی کو بلاوجہ ضائع کرنے سے روکا،درختوں کو لگانے کی تاکید کی،سایہ دار درختوں کے نیچے پیشاب و پاخانہ سے منع فرمایا۔آپ ؐ معراج پر تشریف لے گئے اور سات آسمانوں پر قدم مبارک رکھے،یوں آپ ؐ عالم سماوات کے لیے رحمت قرار پائے۔یہاں تک آپ ؐ صرف زندوں کے لیے ہی رحمت نہیں بلکہ دنیا سے رخصت ہوجانے والوں کے بھی باعث رحمت ہیں۔جنازے کی تکریم،میت کا احترام،دعائے مغفرت،قبرستان میں سلام کرنے کی تعلیم دے کر دنیا میں ایک انقلاب پیدا کردیا۔