امریکی فوج : جنسی تسکین کیلئے تھائی لینڈ روانہ

تحریر : مسعود جاوید

حالیہ امریکہ + اسرائیل مقابل ایران جنگ کے تعلق سے امریکیوں کی ایک بڑی تعداد سمندر میں تعینات ہے جن کی ذہنی کیفیت دن بدن بگڑتی جا رہی ہے ۔ پانی جہازوں میں کھانے پینے کی عموماً قلت نہیں ہوتی ہے لیکن بعض رپورٹ کے مطابق اس کی بھی قلت کی وجہ سے بحری افواج پریشان حال ہے۔ اور کیوں نہ ہوں اتنے لمبے عرصے سے وہ ایک دوسرے کی صورت دیکھتے رہتے ہیں جہازوں سے باہر نہ آدم نہ آدم زاد ہر طرف پانی ہی پانی ۔

جنسی شہوت ہر حیوان ( انسان اور جانور)میں اللہ سبحانہ و تعالٰی نے ودیعت کی ہے یعنی یہ ایک فطری شئی ہے ۔ اسلام ایک دین حنیف ہے وہ سیکس پر پابندی عائد نہیں کرتا ہے وہ اسے منظم کرتا ہے اسی لئے اس نے حلال اور حرام کے دائرے بنا دیا ہے ۔

اللہ کا شکر و احسان ہے وہ ہمیں اس دین حنیف کی توفیق عطا کیا ۔ اسی کی روشنی میں مسلمانوں میں کسی کے لئے بھی خواہ کتنے بڑے ولی ، صوفی، شیخ ، شاہ ، معلم ، امام، فقیہ العصر یا مذہبی پیشوا ہو اس کے لئے بغیر عذر عزلت نشینی اور مجرد زندگی کی اجازت نہیں ہے ۔ اسلام ہر مسلمان ; امام ،مقتدی، معلم ،شاگرد تعلیم یافتہ، ناخواندہ، اور امیر و غریب عورت مرد کو ہر روز چوبیس گھنٹے کی فطری یعنی معمول کے مطابق زندگی گزارنے کی تعلیمات کا پابند کرتا ہے اس میں بیوی سے سیکس ، پیار محبت اور ہنسی مذاق بھی شامل ہے اس کے برعکس جن مذاھب میں فطرت کو دبانے کی کوشش کی گئی وہاں حرام رشتے پنپتے ہیں اور بالرضا یا بالجبر جنسی پیاس بجھائی جاتی ہے۔

چرچ کے پادریوں کے لئے ازدواجی زندگی ممنوع ہے اسی لئے وہ مجرد زندگی گزارتے ہیں یعنی فطرت کے خلاف جینے کے لئے مجبور ہیں ۔ نتیجتاً ان میں سے بعض اپنی جنسی طلب کو کچلنے میں ناقابو ہو جاتے ہیں اسی لیے چرچ میں پادری کے ہاتھوں یا مندر میں برہمچاری کے ہاتھوں جنسی زیادتیوں کی خبریں اخبارات کی زینت بنتی رہتی ہیں۔

اس ضمن میں یہ بات بھی ذہن نشین رکھنے کی ہے کہ ڈیوٹی خواہ کیسی بھی ہو، ملک یا بیرون ملک ملازمت یا تجارت وغیرہ کے سلسلے میں شوہر بیوی سے، اگر کوئی عذر نہ ہو، تو چار ماہ تک دور رہ سکتا ہے بیوی کی اجازت سے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ کے دور میں مجاہدین کے لئے بھی چار ماہ کی مدت مقرر کی گئی تھی۔ یہ چار ماہ کی مدت بیوی کے حقوق زوجیت اور اہل و عیال خبر گیری کے لئے مناسب سمجھا گیا ہے۔ ہاں اگر بیرون ملک ملازمت کی نوعیت بیوی بچوں کو ساتھ رکھنے میں مانع ہو تو بیوی کی اجازت سے چار ماہ سے زیادہ بھی دور رہ سکتا ہے۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران دنیا کا طاقتور ملک جاپان نے اپنی فوج کی جنسی تسکین کے لیے comfort women کا انتظام کیا تھا ۔ اس غرض کے لئے جاپان نے کوریا،چین،فلپائن، برما ، انڈونیشیا، ملیشیا اور نیدرلینڈز سے تقریباً دو لاکھ لڑکیوں/عورتوں کو اس مقصد کے لیے بنائے گئے خصوصی قحبہ خانوں میں رکھتا تھا ۔ یہ قحبہ خانے ملیٹری کیمپوں کے نزدیک اور جنگی میدانوں سے قریب ہوتے تھے۔ چند سال قبل جاپانی حکومت نے اس قبیح حرکت کے لئے کوریائی حکومت سے تحریری معافی مانگی تھی اور متاثرہ خواتین کو معاوضہ دینے کا اعلان کیا تھا ۔

جدید دور کے طاقتور ترین ملک امریکہ بھی سمندر میں ڈیوٹی پر موجود اپنی افواج کو ذہنی تسکین کے لئے تھائی لینڈ بھیجا ہے اور تھائی لینڈ جس وجہ سے مشہور یا بدنام ہے وہ ہے وہاں کے جنسی آسودگی فراہم کرنے کے اڈے ۔ قانونی طور پر وہاں رقص و سرور اور شراب کی اجازت ہے لیکن عملاً صنف مخالف کے ذریعے باڈی مساج اور جنسی کاروبار بھی ہوتا ہے۔

اخلاقیات کے اعلیٰ معیار طے کرنے فرد کی آزادی سب سے اہم ہے لیکن اس آزادی کی حد کہاں تک ہونی چاہیے؟

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔