عظمتِ رفتہ کی جستجو: ایک مطالعہ

  • کتاب: عظمتِ رفتہ کی جستجو
  • مصنف: حضرت مولانا مفتی عین الحق امینی قاسمی صاحب (نائب صدر جمعیۃ علماء بیگوسرائے)
  • ✍🏻مبصر : محمد عادل ارریاوی

_______________

اللہ رب العزت نے دنیا کی ہر سرزمین کو کسی نہ کسی خصوصیت سے نوازا ہے مگر بعض خطے ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی مٹی علم تہذیب روحانیت بزرگیت اور تاریخ کی خوشبو سے ہمیشہ مہکتی رہتی ہے۔ بہار بھی انہی خوش نصیب سرزمینوں میں سے ایک ہے۔ اس کی فضائیں اس کے در و دیوار اس کے مدارس اس کے اکابر اور اس کی عظیم علمی روایت آج بھی اپنے تابناک ماضی کی زندہ گواہی دیتے ہیں۔

اسی عظمتِ رفتہ کو لفظوں کا حسین لباس پہنانے والی نہایت قیمتی اور قابلِ مطالعہ کتاب "عظمتِ رفتہ کی جستجو” میرے ہاتھوں میں ہے جس کے مصنف حضرت مولانا مفتی عین الحق امینی قاسمی صاحب ہیں۔
کل بتاریخ 18 ستمبر دوپہر کے وقت کچھ کتابیں خریدنے کی غرض سے نگارشات بک اسٹور میں حاضر ہوا جہاں حضرت مفتی عبدالرحمن قاسمی صاحب سے ملاقات ہوئی۔ اپنی پسند کی متعدد علمی و دینی کتابیں خریدنے کے بعد انہوں نے محبت و شفقت کے ساتھ ایک خوبصورت کتاب بطورِ ہدیہ عنایت فرمائی جس کا نام تھا عظمتِ رفتہ کی جستجو۔

یہ کتاب دراصل بہار کے تاریخی اور علمی مقامات خصوصاً گیلانی دیسنہ استھانواں اور بہار شریف کے سفرِ شوق کی ایسی ایمان افروز داستان ہے جس میں صرف مقامات کا تعارف ہی نہیں بلکہ ان سرزمینوں سے وابستہ اکابرِ علم و ادب کی خدمات کو بھی نہایت دلنشیں انداز میں قلم بند کیا گیا ہے۔

آج جب درسگاہ سے اپنے کمرے میں واپس آیا تو نئی خریدی ہوئی کتابوں کو ترتیب دے رہا تھا۔ اچانک اس کتاب پر نظر پڑی دل میں خیال آیا کہ چند صفحات دیکھ لیتا ہوں مگر جیسے ہی مطالعہ شروع کیا تو پھر رکنے کا نام ہی نہ لیا۔ اول تا آخر لفظ بلفظ پوری کتاب چند ہی لمحوں میں ختم ہوگئی اور یوں محسوس ہوا جیسے وقت تھم گیا ہو۔ یہی کسی کامیاب قلم کار کی سب سے بڑی پہچان ہوتی ہے کہ وہ قاری کو ابتدا سے اختتام تک اپنے ساتھ باندھے رکھے۔

اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں بہار کی ان عظیم شخصیات کا تذکرہ نہایت محبت تحقیق اور تاریخی امانت کے ساتھ کیا گیا ہے جنہوں نے علم و ادب کی دنیا میں ہمیشہ کے لیے اپنے نقوش چھوڑے۔ سلطان القلم حضرت مولانا مناظر احسن گیلانی قاضی محب اللہ بہاری سیرت نگار حضرت مولانا سید سلیمان ندوی علامہ شوق نبوی ڈاکٹر کلیم عاجز اور دیگر بے شمار اکابر کی جائے پیدائش علمی خدمات تاریخی آثار اور ان سے وابستہ مقامات کو اس انداز سے پیش کیا گیا ہے کہ قاری خود کو ان بابرکت بستیوں میں چلتا پھرتا محسوس کرتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب صرف ایک سفرنامہ نہیں بلکہ بہار کی علمی تہذیب اور عظمتِ رفتہ کا زندہ تاریخی ذخیرہ ہے۔ ایسی کتابیں قوموں کی یادداشت محفوظ کرتی ہیں اور آنے والی نسلوں کو اپنے اسلاف سے جوڑنے کا عظیم فریضہ انجام دیتی ہیں۔

حضرت مفتی عین الحق امینی قاسمی صاحب سے میرا کوئی ذاتی تعلق نہیں البتہ ایک طویل عرصے سے ان کے مضامین فیس بک اور مختلف رسائل میں پڑھتا آ رہا ہوں۔ میری نظر میں وہ ایک صاحبِ قلم عالم بہترین استاذ اور نہایت سنجیدہ محقق ہیں۔ ان کی تحریروں میں ایک خاص کشش سلاست اور تاثیر پائی جاتی ہے انسان ایک بار پڑھنا شروع کرے تو اختتام تک پہنچے بغیر دل مطمئن نہیں ہوتا۔

میری ذاتی رائے یہ ہے کہ بہار کی تاریخ اکابرین کی زندگیوں اور علمی ورثے سے محبت رکھنے والے ہر شخص کو اس کتاب کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے۔ یقیناً یہ کتاب تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ایک بیش قیمت سرمایہ ثابت ہوگی۔

آخر میں بارگاہِ الٰہی میں دعا ہے کہ اللہ رب العزت حضرت مصنف صاحب کو صحت و عافیت درازیٔ عمر اور خیر و برکت سے نوازے ان کی تمام تصانیف و تحریرات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے انہیں مزید ایسے علمی شاہکار امت کے سامنے پیش کرنے کی توفیق دے اور اس کتاب کو صدقۂ جاریہ بنائے۔
آمین ثم آمین یا رب العالمین۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔