از:- مولانا محمد علاء الدین ندوی
استاد دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ
اس غبار آلود ماحول میں مسلمان عزت وسرفرازی کی زندگی گذارناچاہتے ہیں تو ان کو اپنے انداز فکر،عمل اوررہن سہن کے طورطریقوں میں بنیادی تبدیلی لانی ہوگی ،اقبال وبلندی اورعزت وسرفرازی کے انہیں اصولوں کواپنانا ہوگاجنہیں ان کاربانی عقیدہ اور ان کی اسلامی تہذیب عطاکرتی ہے ’’ اپنی مدد آپ‘‘ اور’’ہمت مرداں مدد خدا‘‘پہ کاربند ہونا ہوگا، اللہ کااٹل قانون ہے :إن تنصروا اللہ ینصرکم ویثبت اقدامکم (محمد :۷)اگر تم اللہ کے دین کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا۔
ہماری منشایہ ہے کہ بحیثیت فرد’’مسلم نوجوان‘‘اور بحیثیت جماعت ’’امت مسلمہ ‘‘داعیانہ اورقائدانہ تصور زندگی کی عادی بنے، دین کافہم وشعورحاصل کرے، عبادت کے جامع تصورکا ادراک کرے، اسلامی اخلاق سے اپنے کو آراستہ کرے، جدوجہد اورسعی وعمل کو اپنا شیوہ بنائے، راہ حق میں جی جان لٹا دینے کے لئے، جذبہ ملی اورغیرت دینی کے خون رنگین سے مجد واقبال کی تاریخ لکھنے کے لئے، خدا اور رسول کی محبت، تابعداری اورشہادت حق کی ذمہ داری سے عہدہ برا ہونے کے لئے، انسانیت کو شیطان کے پرفریب چالوں سے بچانے کے لئے اورہدایت ربانی کے شمع سے دنیا کو منورکرنے کے لئے ضروری ہے کہ زندگی کے موجودہ ڈھب سے نکلے، اسلام کا اس حد تک فہم وشعور حاصل کرے کہ اس کے دین برحق اور اسی کے سفینۂ نجات ہونے پردل ودماغ دونوں کلی طور پر مطمئن ہوجائیں، عبادات کی روح میں اترے، اس کے مقصد اور وسیلے کی حکمت کوسمجھے، عادات زندگی کو عبادت کے تصور میں بدلے، حلال وحرام کے فرق سے اچھی طرح واقف بھی ہو، اوراس پر کاربند بھی رہے، سنت وبدعات کے درمیان امتیاز کرے، توحید وشرک اوراسلام وجاہلیت کے بین تضادات کوہر حال میں ملحوظ خاطر رکھے۔
عملی طور پر ارکان اربعہ کی سختی سے پابندی کرے اورخوشنودیٔ رب واصلاح نفس کے جذبہ سے انجام دے، علم ومعرفت کے حصول کے لئے کوشاں رہے، سعی وعمل سے ہرگز غافل نہ ہو، حفظان صحت اورورزش کااہتمام کرے، رزق حلال کے حصول میں کوتاہی نہ کرے اوروقت کی قدروقیمت کوپہچانے، مسلم خاندان اورمسلم معاشرہ کی اصلاح کابیڑاجس قدر بن پڑے اٹھائے۔
اوراگر اس سے انحراف کریںگے تو ہر زمانے کے منحرفین کی طرح سے خمیازہ بھگتیں گے اور ذلت و خواری سے بچ نہ پائیںگے۔
خداکی نگاہ میں سچے اور راست رو مومن وہ ہیں جو صبر وتحمل برتتے ہیں اورمحنت وصعوبت برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں،چنانچہ اس نے فرمایا:
والصابرین فی البأسآء والضراء وحین البأس أولئک الذین صدقوا واولئک ھم المتقون ۔
اورتنگ دستی اور بیماری میں صبر کرنے والے ہوں اور جنگ کے وقت ، یہی لوگ سچے ہیں اور یہی لوگ متقی ہیں ۔
راہ حق کے سچے سپاہی اپنے کو کسی ہارئی ہوئی جنگ کے پس ماندگان ہرگز خیال نہ کریں، ہم احیائے اسلام کی ایک نئی آواز، پر عزم تحریک کے محافظ اور انسانیت کے رہنما دوبارہ بن سکتے ہیں۔