از:- سعود احمد صدیقی
ملی اسکول، روٹا
الحمدللہ! جمعیت کی جانب سے ادارہ فیض القرآن، ٹھکری باڑی میں ایک عظیم الشان سہ روزہ علمی و تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ اس کے ٹرینر اور مربی ڈاکٹر عبدالمجیب خان سر تھے، جنہوں نے نہایت جامع اور مؤثر انداز میں مختلف اہم موضوعات پر گفتگو فرمائی۔
انہوں نے ’’اقرأ‘‘ کی وسعت اور گہرائی کو واضح کرتے ہوئے بتایا کہ اقراء سے کیا مراد ہے، کیا پڑھنا چاہیے اور اس کا یہ سلسلہ کب تک جاری رہنا چاہیے۔ اس کے علاوہ تفکر، تدبر، تذکر اور محاسبۂ نفس جیسے اہم موضوعات پر بھی سیر حاصل گفتگو کی اور ان کی تفصیلی وضاحت فرمائی۔ اسی طرح سچ اور جھوٹ، حقیقت اور افسانہ، انا اور حق، ارادہ، فیصلہ اور عمل جیسے موضوعات پر بھی روشنی ڈالی۔ دماغ کی مختلف اقسام، ان کی کیفیات اور خصوصیات پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔
ان تمام مباحث کا بنیادی مقصد انسان کو انانیت سے نکال کر حقیقت کی طرف لانا اور اسے اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلانا ہے۔ بقول شاعر:
نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
بحیثیت مسلمان ہمارے کاندھوں پر جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، انہیں حسنِ اسلوب اور اخلاص کے ساتھ ادا کرنا ہماری بنیادی ذمہ داری ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے ہم اپنی خامیوں اور کوتاہیوں کو دور کریں، اللہ تعالیٰ کی معرفت و محبت حاصل کریں اور رسول اللہ ﷺ کی محبت کو اپنے دل میں راسخ کریں، کیونکہ اس محبت کے بغیر ہمارا دین کامل نہیں ہوسکتا۔
بقول شاعر:
محمد ﷺ کی محبت دینِ حق کی شرطِ اول ہے
اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے
یہ کیفیت اسی وقت پیدا ہوسکتی ہے جب ہم احکامِ الٰہی اور سننِ نبوی ﷺ پر کماحقہ عمل پیرا ہوں اور اس کے ساتھ اپنے معاشرے کی اصلاح کی فکر بھی کریں۔ اگر ہم دعوت، اصلاح اور غور و فکر سے غافل ہوجائیں تو قومیں زوال کا شکار ہوجاتی ہیں۔ بقول شاعر:
وطن کی فکر کر ناداں، مصیبت آنے والی ہے
تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں
جب کوئی قوم دعوت، اصلاح اور غور و فکر سے عاری ہوجاتی ہے تو وہ اپنے زوال کا راستہ خود ہموار کرتی ہے۔ اسی لیے یہ ہم سب اور امتِ مسلمہ کے ہر باشعور فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اصلاحِ امت کے لیے حتی المقدور کوشش کرے۔ ہماری مخلصانہ کوششیں بظاہر معمولی ہوں، لیکن ان شاء اللہ ایک نہ ایک دن تبدیلی ضرور لائیں گی۔ یہی قدرت کا نظام ہے۔
دعا و جہد سے زمانہ بدل سکتا ہے
زمیں بدل سکتی ہے، آسماں بدل سکتا ہے
تم بدل جاؤ یارو، تو جہاں بدل سکتا ہے
کچھ بھی ناممکن نہیں، نظامِ ایزداں بدل سکتا ہے
اس پروگرام کو جمعیت کے زیرِ اہتمام منعقد کرانے میں مولانا سلمان قاسمی صاحب نے بڑی جانفشانی اور محنت سے کام لیا۔ ان کی فکر، کاوش اور دلچسپی کی وجہ سے یہ بابرکت ورکشاپ ممکن ہوسکی۔ اللہ تعالیٰ انہیں اس کا اجرِ جزیل عطا فرمائے۔
اسی طرح ادارہ فیض القرآن، ٹھکری باڑی نے بھی مہمان نوازی کا پورا حق ادا کیا۔ ادارے کے اساتذہ اور طلبہ نے نہایت خندہ پیشانی اور خوش اخلاقی کے ساتھ مہمانوں کی خدمت کی اور اپنے حسنِ اخلاق کا بہترین ثبوت پیش کیا۔
میں اپنے تمام رفقا کی جانب سے جامعہ کے مہتمم و ناظم، اساتذہ اور طلبہ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ اس علمی و تربیتی کاوش کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور اس کے اثرات کو معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔