از: سعد احمد قاسمی
شاعرِ مشرق علامہ اقبالؔ نے جب خانقاہوں اور حجروں کی خاموشی پر ضرب لگاتے ہوئے نعرہ بلند کیا تھا کہ ”نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبیری، کہ فقرِ خانقاہی ہے فقط اندوہ و دلگیری“، تو ان کا مقصد امتِ مسلمہ کو اس حقیقت سے روشناس کرانا تھا کہ دینِ اسلام محض مساجد و خانقاہوں کی تسبیح خوانی تک محدود نہیں ہے، بلکہ سماج میں پھیلتی ہوئی ناانصافی، بدعنوانی اور استحصالی نظام کے خلاف میدان عمل میں اتر کر حق و صداقت کا پرچم بلند کرنے کا نام ہے۔ "رسمِ شبیری” کا بنیادی پیغام ہی یہ ہے کہ جب نظامِ حکومت میں خرابی پیدا ہونے لگے، عوام کے حقوق پامال ہونے لگیں اور جمہوریت کی قدریں کمزور پڑنے لگیں، تو باخبر، باصلاحیت اور صاحبِ علم ودانش لوگوں کو خلوت کی زندگی چھوڑ کر عوام کی رہنمائی کے لیے آگے آنا پڑے۔
آج ہمارا ملک اور بالخصوص ہمارا صوبہ بہار جس سیاسی و سماجی صورتِ حال سے گزر رہا ہے، اس میں یہ شعر محض ایک روایتی ادبی ٹکڑا نہیں ؛ بلکہ وقت کی ایک عظیم ترین ضرورت اور پکار بن کر ابھرا ہے۔ کل جب میں نے علماءِ کرام کے سیاست اور عوامی میدان میں اترنے کے حوالے سے ایک تحریر سپردِ قلم کی، تو سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں اسے زبردست پذیرائی اور مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس پذیرائی نے میرے حوصلے مزید بلند کیے اور مجھے اس موضوع پر دوبارہ ایک تفصیلی تحریر لکھنے پر آمادہ کیا جو اس وقت کا سب سے اہم تقاضا ہے۔
ہم جس جمہوری ملک کے شہری ہیں، وہاں آئین نے ہر شہری کو ووٹ دینے اور الیکشن لڑ کر اپنی اور اپنے عوام کی نمائندگی کا پورا حق دیا ہے۔ سماجی و اخلاقی اعتبار سے اس بات میں ذرہ برابر بھی برائی یا عیب نہیں کہ ایک عالمِ دین، ایک مفتی، ایک فقیہ یا حافظِ قرآن اپنے علاقے کی نمائندگی ایوان میں کرے۔ ایک مدرسے میں پڑھانے والا استاد، طالب علم، یا مسجد کا امام اگر اپنے گاؤں، پنچایت یا بلاک کی قیادت سنبھالتا ہے، تو یہ نظام کے لیے ایک نہایت مبارک پیش رفت ہے۔ ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ موجودہ دور میں جہاں اخلاقی قدروں کا زوال عام ہو چکا ہے، وہاں علماءِ کرام کے اندر امانت داری، دیانت داری اور خوفِ خدا دیگر طبقات کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ ہم یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ ہر عالم سو فی صد معصوم عن الخطا ہوتا ہے، ل؛ یکن اس پرفتن دور میں علماء کا وجود بہرحال ایک غنیمت ہے، جن کے پیشِ نظر آخرت کا احساس اور خدمت خلق کا جذبہ ہوتا ہے۔ ایسے حالات میں علماءِ کرام کو آگے بڑھ کر اپنے علاقے، پنچایت اور عوام کی مجموعی بہتری کی فکر کرنی چاہیے۔
یہ بات بالکل سچ ہے کہ شروعات میں ہمارا معاشرہ اور عمومی ذہن اس تصور کو آسانی سے قبول نہیں کرے گا کہ ایک عالمِ دین سیاست کی پرخار وادی میں قدم رکھے۔ لوگوں کے ذہنوں میں سیاست کا ایک مخصوص اور روایتی سانچہ بن چکا ہے۔ لیکن جب وہی عالمِ دین میدانِ عمل میں اتر کر بلا تفریقِ مذہب و ملت ہر غریب، مظلوم اور ضرورت مند کی مدد کرے گا، پنچایتی فنڈز اور ترقیاتی کاموں کو ایمانداری و شفافیت کے ساتھ انجام دے گا، اور رشوت خوری و ناانصافی کے خلاف مضبوط ڈھال بنے گا، تو یہی عوام اس کے وجود کو اپنے لیے رحمت اور ایک نایاب نعمت تصور کرنے لگے گی۔ عوامی اعتماد باتیں بنانے سے نہیں، بلکہ میدانی عمل سے قائم ہوتا ہے۔
ہم اکثر تحفظِ جمہوریت کے لیے بڑے بڑے جلسے اور کانفرنسیں منعقد کرتے ہیں، جب ووٹر لسٹ سے غریبوں اور اقلیتوں کے نام کٹتے ہیں تو ہم احتجاج کرتے ہیں، اور جب الیکشن کمیشن کی لاپرواہی سے مستحق افراد کے نام حذف ہوتے ہیں تو سڑکوں پر اتر کر ان کے نام درج کروانے کی جدوجہد کرتے ہیں۔ یہ سب اقدامات اپنی جگہ ضروری اور درست ہیں، لیکن اس سے بھی زیادہ اثر انگیز اور پائیدار طریقہ یہ ہے کہ میدان عمل میں اتر کراور نظام کا حصہ بن کر، جمہوریت کو مضبوط کیا جائے۔ آج جب جمہوری اقدار کو مسمار کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں اور آئینی حقوق سسک رہے ہیں، تو وقت کا تقاضا ہے کہ ہم صرف تماشائی بن کر ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر منتظر فردا نہ رہیں بلکہ عملی اقدامات کریں۔ علماءِ کرام مساجد و مدارس کے تقدس کو قائم رکھتے ہوئے سیاسی و انتظامی شعور کی تربیت حاصل کریں، صبر و تحمل کا دامن تھامیں، اور نچلی سطح سے پانچ سالہ مستحکم ارادے کے ساتھ کام کا اغاز کریں، تو یہ اس ملک اور ہمارے سماج کے لیے ایک تاریخی اور انقلابی قدم ثابت ہوگا۔
بہار میں رواں سال کے اختتام تک پنچائتی انتخابات ہونے والے ہیں اور آنے والے چند دنوں میں دیہی علاقوں میں پنچایت، سرپنچ، ضلع پریشد ممبر اور پنچایت سمیتی کے انتخابات کی کی سرگرمی شروع ہو جائےگی یہ انتخابات بنیادی سطح (Grassroots) کی نمائندگی کا سب سے بڑا اور مؤثر ذریعہ ہیں۔ ایسے حالات میں ایک درست حکمتِ عملی اور منصوبہ بندی کے ساتھ باصلاحیت اور دردِ دل رکھنے والے علماءِ کرام کو میدانِ عمل میں آنا چاہیے۔ اگر ہم نچلی سطح سے دیانت دار قیادت قائم کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، تو اوپر کا پورا انتظامی نظام خود بخود درستگی کی طرف گامزن ہو جائے گا۔
وقت کا دھارا ہم سے جمود توڑنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اگر ہم نے آج اپنی ذمہ داریوں سے منہ موڑا اور میدان کو بدعنوان عناصر کے لیے خالی چھوڑ دیا، تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم خلوت سے نکل کر جلوت میں آئیں، عوام کی خدمت کا بیڑا اٹھائیں اور ثابت کر دیں کہ دین اور خدمتِ خلق ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں
نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبیری
کہ فقرِ خانقاہی ہے فقط اندوہ و دلگیری