شہیدِ ذوقِ وفا: حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی

از:- ڈاکٹر محمد اعظم ندوی

استاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد

مولانا کا جب بھی خیال آتا ہے علامہ اقبال کا یہ شعر زبان پر آتا ہے:
مرا ساز اگرچہ ستم رسیدۂ زخمہ ہائے عجم رہا
وہ شہیدِ ذوقِ وفا ہوں میں کہ نوا مری عربی رہی

مولانا کی وفات ایک فرد کی رحلت نہیں، ایک عہد کا خاتمہ ہے، بدھ، 7 اکتوبر 2026ء کو شام کے قریب چار بجے حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی نے اس دنیا سے رختِ سفر باندھا، اور اس طرح ندوۃ العلماء کے ایک ایسے عہد کا چراغ بجھ گیا جس کی روشنی تقریباً سات دہائیوں پر پھیلی ہوئی تھی، تقریباً بانوے برس کی زندگی میں انھوں نے طالب علمی بھی دیکھی، استادی بھی؛ قلم سنبھالا تو نصف صدی سے زیادہ اس کی آبرو رکھی، محراب میں کھڑے ہوئے تو نسلیں ان کے پیچھے نمازیں پڑھتی رہیں، ادارے کی ذمہ داری ملی تو اسے عمر کے آخری حصے تک نبھایا، ان کی رحلت پر دل اس لیے بھی زیادہ گرفتہ ہے کہ وہ محض ایک عالم، ادیب یا منتظم نہ تھے، اس قدیم ندوی تہذیب کی چلتی پھرتی یادگار تھے جس میں علم کے ساتھ شائستگی، زبان کے ساتھ ذوق، منصب کے ساتھ بے نیازی اور وضع داری کے ساتھ سادگی جمع تھی، مولانا کی علالت کے بعد سے ہی ایسا لگتا تھا کہ اب ندوے کے مانوس منظر میں ایک بھاری بھرکم علمی شخصیت اور شیروانی میں ملبوس پیکر عشق ووفا کی کمی محسوس ہوتی ہے اور اب ہمیشہ کے لیے یہ احساس باقی رہ جائے گا کہ ندوے سے ایک شخص نہیں، اس کی ایک پہچان کم ہوگئی ہے:
تیرے بغیر رونق دیوار و در کہاں
شام و سحر کا نام ہے شام و سحر کہاں

مولانا کی ولادت 14 مئی 1935ء کو مئو ناتھ بھنجن میں ایک علمی گھرانے میں ہوئی، ان کے والد ماجد مولانا محمد ایوب اعظمی معروف عالم اور شیخ الحدیث تھے، اس لیے کتاب اور علم سے پہلا تعارف درس گاہ کی چار دیواری میں نہیں، گھر ہی میں ہوگیا تھا، عالمیت وفضیلت کی تعلیم جامعہ عربیہ مفتاح العلوم، مئو سے حاصل کی، آگے کی علمی زندگی کا رخ محدث العصر حضرت مولانا حبیب الرحمن اعظمی کے ایک مشورے نے متعین کردیا؛ جن سے مولانا نے عربی زبان وادب کی کئی کتابیں پڑھی تھیں، مولانا دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ پہنچے اور عربی ادب میں تخصص کیا، 1953 میں وہاں سے فارغ ہوئے، مولانا رابع حسنی ندوی، مولانا عبد اللہ عباس ندوی، مولانا ابو العرفان ندوی، مولانا عبد الحفیظ بلیاوی، مولانا اسحاق صاحب سندیلوی رحمہم اللّٰہ جیسے اساطین علم وکمال ندوے میں مولانا کے اساتذہ میں تھے، جس کی پوری داستان مولانا کی ضخیم آب بیتی "48 سال شفقتوں کے سائے میں” میں محفوظ ہے، یہی ایک فیصلہ ان کی پوری زندگی کی تمہید ثابت ہوا، وہ ندوے میں پڑھنے آئے تھے، پھر وہیں پڑھانے لگے، اور رفتہ رفتہ ایسا ہوا کہ ندوہ ان کی علمی شناخت اور وہ ندوے کی روشن تاریخ کی ایک مضبوط کڑی بن گئے، 1958ء میں بغداد گئے اور وہاں ایک سال تک نامور عالم وادیب ڈاکٹر تقی الدین ہلالی مراکشی سے استفادہ کیا، ندوے کی شاداب علمی روایت میں حاصل کی ہوئی عربی اور عرب سرزمین میں سنی اور برتی جانے والی زندہ عربی—ان دونوں کے ملاپ نے ان کے لسانی ذوق کو خاص پختگی عطا کی، وہ عربی صرف جانتے نہیں تھے، اسے سنتے، پرکھتے اور اس کے مزاج کو محسوس کرتے تھے۔

یہی وجہ ہے کہ مولانا کی پوری علمی زندگی میں سب سے روشن نسبت عربی زبان کی رہی، عربی ان کے لیے روزگار کا وسیلہ، نصاب کا ایک مضمون یا اظہار کا خارجی قالب نہ تھی؛ وہ ان کے علمی مزاج میں اس طرح پیوست ہوگئی تھی کہ ان کی شخصیت کا تصور اس کے بغیر ادھورا معلوم ہوتا ہے، وہ اسٹیج پر علمی مجالس میں اردو بھی بولتے تھے تو زبان پر بے تکلف عربی کے الفاظ جاری ہو جاتے تھے، لفظ کا محل، ساکن الاوسط اور متحرک الاوسط ہونے کے اعتبار سے صحیح تلفظ، ترکیب کی نشست، مترادفات کے لطیف فرق، محاورے کی صحت، عبارت کی روانی، عربی املا کے دقیق اصول اور معنی کے بدلتے ہوئے سایے ان کی نگاہ سے اوجھل نہ رہتے، شعر وادب کی طویل صحبت نے اس شعور کو ذوق دیا اور مسلسل تحریر نے اسے سلیقہ بخشا، عربی کے قدیم و جدید ادب سے ان کی شناسائی وسیع تھی؛ دواوینِ شعر اور ادب کی بنیادی کتابوں کے بے شمار شواہد حافظے میں محفوظ تھے۔

ترجمے میں یہی لسانی بصیرت ان کی سب سے بڑی قوت بنی، دو زبانیں جان لینا اور ایک زبان کے فکر و احساس کو دوسری زبان کے مزاج میں اتار دینا دو الگ منزلیں ہیں؛ مولانا دوسری منزل کے آدمی تھے، وہ لفظ کے مقابل لفظ رکھ کر فارغ نہیں ہوجاتے تھے، عبارت کی تہ تک پہنچتے، مصنف کا مدعا اور لہجہ سمجھتے اور پھر عربی میں ایسا سانچا تلاش کرتے جس میں اصل خیال اپنی آب وتاب کے ساتھ سما جائے، مولانا محمد زکریا کاندھلوی، مولانا امین احسن اصلاحی، مولانا ابو الحسن علی ندوی، حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی، مولانا محمد منظور نعمانی اور مفتی محمد شفیع عثمانی رحمہم اللّٰہ جیسے اصحاب علم وفضل کی اہم تحریروں کو انھوں نے عربی خواں دنیا تک پہنچایا، اسباب سعادۃ المسلمین وشقائہم، منہج الدعوۃ فی الاسلام، رجال الفکر والدعوۃ کی دوسری جلد، القرآن یتحدث الیکم اور توزیع الثروۃ فی الاسلام جیسے تراجم اسی محنت کی یادگار ہیں، اس کام کی اصل قدر صرف ترجمہ شدہ کتابوں کی تعداد میں نہیں؛ اس کی بڑی اہمیت یہ ہے کہ مولانا ان اہل قلم میں شامل تھے جنھوں نے برصغیر کی دینی وفکری روایت کو عرب دنیا سے متعارف کرانے کے لیے زبان کا پُل تعمیر کیا، ہندوستان میں تشکیل پانے والی ایک فکر ان کے قلم سے گزر کر عرب قاری کی اپنی زبان میں اس تک پہنچی؛ یہ خدمت بظاہر ترجمے کی تھی، حقیقت میں دو علمی دنیاؤں کے درمیان رابطے کی خدمت تھی۔

مولانا کی زندگی کا ایک نہایت نمایاں باب عربی صحافت ہے، اور اس باب کے وسط میں "البعث الاسلامی” کا نام روشن ہے، مولانا محمد الحسنی نے "المنتدی العربی” قائم کیا تو مولانا اس کوشش میں شریک ہوئے، اور 1955ء میں اس کے زیر سایہ "البعث الاسلامی” جاری ہوا تو اس کی ادارت سے وابستہ ہوگئے، 1979ء میں سید محمد الحسنی کی وفات کے بعد ادارتِ اعلیٰ کی ذمہ داری ان کے سپرد ہوئی اور پھر یہ رشتہ زندگی کے آخری زمانے تک قائم رہا، ندوے کے عربی ترجمان پندرہ روزہ "الرائد” کے نائب مدیر بھی رہے، اس عربی جریدہ میں ان کا کالم "کلمۃ الرائد” بہت مشہور تھا، اور "البعث الاسلامی” جسے بجا طور پر عرب دنیا میں برصغیر کا عربی سفیر کہا جاسکتا ہے، مولانا کی کتاب زیست کا جلی عنوان بن گیا، ایسا لگتا تھا وہ اسی کے لیے جیتے ہیں، اسی کو سوچتے ہیں، اور اسی سے سانس لیتے ہیں، وقت کی پابندی کا یہ حال کہ جس ہندوستانی ماحول میں مجلات دو دو ماہ لیٹ ہوتے ہیں مولانا کا یہ مجلہ اپنے وقت مقررہ سے ایک ماہ پیشتر شائع ہوجاتا، اس طویل مدت میں دنیا نے کئی کروٹیں لیں؛ عرب ملکوں کے سیاسی نقشے بدلے، جنگیں ہوئیں، نئی فکری تحریکیں پیدا ہوئیں، ابلاغ کے ذرائع یکسر بدل گئے، مگر لکھنؤ سے عربی میں نکلنے والے اس رسالے کے ساتھ مولانا کا قلمی رشتہ قائم رہا، عالم اسلام کے حالات پر ان کی نظر گہری تھی، عرب ملکوں کے اہل علم وادب، علمی مراکز، فکری رجحانات، دینی تحریکوں اور سیاسی اتار چڑھاؤ سے واقف رہتے تھے، ان کے لیے صحافت واقعات کو جمع کردینے کا نام نہیں تھی؛ واقعے کے عقب میں کام کرنے والی فکر، تاریخ اور تہذیبی تبدیلی کو سمجھنے کا وسیلہ تھی، شاید اسی لیے ان کی صحافت میں خبر کی عمر سے زیادہ نظر کی عمر تھی، اور انشا پردازی اس پر مستزاد، مولانا کی عربی نثر پڑھ کر حسرت کا یہ شعر گنگنانے کو جی چاہتا تھا:
جب سے دیکھی ابوالکلام کی نثر
نظم حسرتؔ میں بھی مزا نہ رہا

ان کا قلم صرف صحافت تک محدود نہیں رہا، انہوں نے حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمہ اللّٰہ کے اشراف میں ندوے سے ہی عربی ادب میں پی ایچ ڈی کی، اور ان کا مقالہ "شعراء الرسول” کے عنوان سے کتابی شکل میں شائع ہوا جو بعد میں ندوے کے نصاب میں بھی داخل ہوا، عربی اور اردو دونوں زبانوں میں انھوں نے ایک قابلِ ذکر علمی سرمایہ چھوڑا، شعراء الرسول، ساعۃ مع العارفین، صور من واقع الدین، جاہلیۃ اللغۃ وجنایتہا علی الدین والانسانیۃ، احمد بن عرفان المجاہد الشہید، ندوۃ العلماء تواجہ التحدی الکبیر اور الدعوۃ الاسلامیۃ: منجزات، مشکلات، طرق المعالجۃ جیسی عربی تصانیف ان کے علمی مشاغل کی وسعت بتاتی ہیں؛ اردو میں 48 سال شفقتوں کے سائے میں، علم التصریف، خطبات علم و دعوت اور اسوۂ نبوی کے آئینے میں ان کی قلمی زندگی کے دوسرے رخ کی نمائندگی کرتی ہیں، ان کتابوں کے موضوعات ہی بتا دیتے ہیں کہ زبان ان کا خاص میدان ضرور تھی مگر فکر اس میں محصور نہیں تھی، سیرت، دعوت، تاریخ، اصلاح، اسلامی فکر اور امت کے معاصر مسائل سب ان کے دائرۂ مطالعہ میں تھے، وہ ماضی کی کتابوں میں جینے والے ایسے عالم نہیں تھے جنھیں اپنے زمانے کی خبر نہ ہو، اور نہ حال کے شور میں ایسے گم تھے کہ علمی روایت سے رشتہ کمزور پڑ جائے؛ ان کی نگاہ کے ایک سرے پر پرانا علمی سرمایہ تھا اور دوسرے پر بدلتی ہوئی دنیا، قومیت عربیہ کے تعاقب میں ندوے کی جس ٹیم نے اپنی عربی دانی، فکر کی جولانی اور اسلامی غیرت وحمیت کی بدولت جو تاریخی کارنامہ انجام دیا مولانا اس کے رکن رکین تھے۔

ندوۃ العلماء سے ان کا تعلق اسی علمی سفر کا مرکز و محور رہا، تخصص کے بعد یہیں عربی ادب کے استاد مقرر ہوئے، تدریس کے طویل تجربے کے بعد 1993ء سے 1999ء تک کلیۃ اللغۃ العربیۃ وآدابہا کی سربراہی کی اور 2000ء سے دار العلوم ندوۃ العلماء کی انتظامی ذمہ داری سنبھالی، اور منصب اہتمام پر فائز رہے، اس کے ساتھ انٹیگرل یونیورسٹی، لکھنؤ کے چانسلر رہے، عالمی رابطۂ ادب اسلامی سے وابستہ ہوئے، دینی تعلیمی کونسل کے نائب صدر کی ذمہ داری نبھائی، متعدد مدارس کی نگرانی اور سرپرستی کی اور دعوتی مقاصد سے مختلف ملکوں کے سفر کیے، 1994ء میں حکومت ہند نے عربی زبان کی خدمت کے اعتراف میں انھیں صدرِ جمہوریہ ایوارڈ سے نوازا، یہ سب مناصب اور اعزازات اپنی جگہ اہم ہیں، مگر ان کی اصل شناخت ان سے پہلے بھی استاد کی تھی اور ان کے بعد بھی استاد ہی کی رہی، ہزاروں طلبہ ان سے براہِ راست مستفید ہوئے، کسی کو زبان ملی، کسی کو ادب کا ذوق، کسی کو تحریر کا قرینہ اور کسی کو کتابوں کی دنیا میں داخل ہونے کا راستہ، ایک استاد کی زندگی کا پورا حساب اس کے عہدوں اور تصانیف سے نہیں لگایا جاسکتا؛ اس کا ایک بڑا حصہ ان لوگوں میں منتشر ہوجاتا ہے جنھیں خود شاید یاد بھی نہ رہے کہ ان کی شخصیت میں استاد کا کون سا جملہ، کون سی اصلاح اور کون سا ذوق خاموشی سے زندہ ہے۔

ان کی زندگی کا ایک دوسرا، کم لکھا جانے والا مگر بہت گہرا نقش ندوۃ العلماء کی جامع مسجد کا محراب ہے، پچاس برس سے زیادہ امامت وخطابت کی خدمت کوئی معمولی مدت نہیں، اس عرصے میں کتنی صبحیں اور شامیں آئیں، کتنے جمعے گزرے، کتنے رمضان آئے، اور طلبہ کی کتنی نسلیں ان کے پیچھے صف بستہ ہوئیں، ان کے عربی خطبات میں بھی جوش اور سلاست کے علاوہ زبان وادب کا ذوق اور فکر اسلامی کا وقار ساتھ رہتا تھا، قلم اور محراب، بظاہر دو الگ دنیائیں ہیں؛ ان کی زندگی میں دونوں ایک ہی شخصیت کے دو اظہار تھے۔

اور پھر ان کی وہ مخصوص وضع تھی جسے دیکھنے والے آسانی سے فراموش نہیں کرسکتے، شیروانی میں ملبوس باوقار قامت، سادہ مگر قرینے کا لباس، چال میں ٹھہراؤ، نشست میں متانت اور گفتگو میں ایک پرانی علمی تہذیب کی شائستگی—مولانا کو دیکھتے ہی ندوے کی ایک پوری روایت نگاہ کے سامنے آجاتی تھی، یہ محض لباس کا معاملہ نہیں تھا؛ وضع کبھی کبھی آدمی کی تہذیبی شناخت بن جاتی ہے، مولانا کو دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ ندوے کے گزشتہ دور کے اہل علم کس طرح اٹھتے بیٹھتے، پہنتے اوڑھتے اور اپنے علم کو اپنی شخصیت کے شور کے بغیر ساتھ لیے پھرتے تھے، اب ان کی یاد آئے گی تو کتاب اور قلم کے ساتھ وہ شیروانی بھی ضرور یاد آئے گی؛ بعض اوقات ایک معمولی سی ظاہری علامت اپنے اندر پورے عہد کی تصویر سمیٹ لیتی ہے:

لِکّھی جائیں گی کتابِ دل کی تفسیریں بہت
ہوں گی اے خواب جوانی! تیری تعبیریں بہت

ہوبہو کھینچے گا لیکن عشق کی تصویر کون؟
اُٹھ گیا ناوک فگن، مارے گا دل پر تیر کون؟

مولانا کی شخصیت کو سمجھنے کے لیے ان کی نسبت حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی سے الگ نہیں کی جاسکتی، تقریباً نصف صدی مولانا کی رفاقت کا موقع ملا جس کو وجد اور عشق کی کیفیت کے ساتھ مولانا نے اپنی مذکورہ بالا آب بیتی میں بیان کیا ہے، وہ اس نسل کے نمایاں افراد میں تھے جسے مولانا ابو الحسن نے اپنے قرب میں پروان چڑھتے دیکھا، جس کی صلاحیتوں کو سمت دی اور جسے ندوے کے علمی و دعوتی مزاج کا امین بنایا، اس تربیت کا اثر مولانا سعید الرحمن کی پوری زندگی میں محسوس ہوتا تھا، ندوہ ان کے لیے صرف درس و تدریس کی جگہ نہیں، ایک امانت تھا؛ عربی محض ایک زبان نہیں، ایک بڑی علمی دنیا تک پہنچنے کا راستہ تھی؛ صحافت محض تحریر نہیں، فکر کی ترسیل تھی، انھوں نے اپنے بزرگوں سے جو کچھ پایا اسے اپنی ذات پر ختم نہیں ہونے دیا، یہی کسی علمی روایت کی بقا کا اصل راز ہے: ایک نسل دوسری نسل سے صرف معلومات نہیں لیتی، ذوق، ترجیحات، مزاج اور ذمہ داری کا احساس بھی لیتی ہے، مولانا اسی زنجیر کی ایک مضبوط کڑی تھے، اور ان کے اٹھ جانے کا دکھ اس لیے دوچند ہے کہ ہمارے اور اس عہد کے درمیان ایک اور زندہ واسطہ کم ہوگیا جس نے ان بزرگوں کو کتابوں میں نہیں، زندگی میں دیکھا تھا۔

ان کی زندگی پر ایک نظر ڈالی جائے تو سب سے زیادہ حیرت اس کے پھیلاؤ سے نہیں، اس کے تسلسل سے ہوتی ہے، ایک ہی ادارے سے عمر بھر کی وابستگی، ایک زبان وادب سے غیر متزلزل محبت، ایک رسالے کے ساتھ کئی دہائیوں کا رشتہ، ایک محراب میں نصف صدی سے زیادہ کی حاضری اور نسل در نسل تدریس—یہ سب اس زمانے میں اور بھی معنی خیز معلوم ہوتا ہے جس میں تعلق جلد بنتے اور جلد ٹوٹتے ہیں، مولانا نے جس کام کو اختیار کیا، اسے وقت دیا؛ جس نسبت کو قبول کیا، اسے نبھایا، ان کی زندگی میں بڑے بڑے دعووں سے زیادہ خاموش دوام تھا، شاید اسی دوام نے ان کے کام کو وزن بخشا، کلام اللہ سے والہانہ لگاؤ، ذہن ومزاج میں عربی کا رچاؤ، وقت کی پابندی اور مستقل مزاجی یہ چار عناصر مولانا کی شخصیت کا اصل تعارف ہیں:
قہاّری و غفاّری و قدّوسی و جبروت
یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان

اللہ تعالیٰ مولانا کی عمر بھر کی محنت قبول فرمائے، لغزشوں سے درگزر کرے اور ان کے چھوڑے ہوئے علمی نقوش کو مدتوں باقی رکھے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔