کشن گنج، 14 اکتوبر: دارالعلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ کے مہتمم اور ممتاز عالمِ دین حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کے سانحۂ ارتحال پر بدھ کے روز اقبال کالونی کی جامع مسجد میں ایک پُروقار تعزیتی و دعائیہ نشست منعقد ہوئی، جس میں سیمانچل کے اکابر علماء، ائمہ مساجد، دانشوران اور معززینِ قوم و ملت نے شرکت کرکے مرحوم کی علمی، دینی، تدریسی اور انتظامی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
نشست کی صدارت دارالعلوم بہادر گنج کے ناظم حضرت مولانا انوار عالم صاحب نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض مجلس علمائے ملت کے صدر مولانا شمیم ریاض ندوی نے انجام دیے۔ پروگرام کا آغاز حضرت مولانا قاری ابو ریحان ندوی کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔
تعزیتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے علماء کرام نے حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کی حیاتِ مبارکہ، علمی مقام، دینی خدمات، اخلاقِ کریمانہ اور تربیتی و انتظامی صلاحیتوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ مقررین نے کہا کہ حضرت مولانا مرحوم کی شخصیت علم و عمل، فکر و تدبر، تواضع و انکساری اور حسنِ اخلاق کا حسین امتزاج تھی۔ آپ نے اپنی علمی بصیرت، تدریسی مہارت اور انتظامی صلاحیتوں کے ذریعے دینی و علمی حلقوں میں نمایاں مقام حاصل کیا۔
مقررین نے کہا کہ حضرت مولانا مرحوم محض ایک عظیم دینی ادارے کے مہتمم ہی نہیں، بلکہ بلند پایہ عالمِ دین، مبلغِ اسلام، خطیب، کامیاب مدرس، صاحبِ فکر مفکر اور باصلاحیت منتظم بھی تھے۔ قرآنِ کریم سے آپ کا غیرمعمولی شغف، وقت کی پابندی، اصول پسندی، عزم و استقلال اور طلبہ کی علمی و اخلاقی تربیت سے گہری وابستگی آپ کی شخصیت کے نمایاں اوصاف تھے۔ آپ کی زندگی علم و دین کی خدمت، سادگی، ملنساری اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کی عملی مثال تھی۔
مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کی وفات ملتِ اسلامیہ کے لیے ایک عظیم علمی و روحانی خسارہ ہے۔ بالخصوص دارالعلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ اور اس سے وابستہ علمی و دینی حلقوں کو آپ کی رحلت سے جو نقصان پہنچا ہے، اس کی تلافی آسان نہیں۔ آپ کی علمی وراثت، دینی خدمات اور تربیتی نقوش آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہیں گے۔
اس موقع پر حضرت مولانا انوار عالم، حضرت مولانا غیاث الدین، حضرت مولانا ممتاز، حضرت مولانا الیاس مخلص، حضرت مفتی اظہار، حضرت مولانا خالد انور، حضرت مولانا ابصار ندوی، مولانا فیض الرحمن ندوی، حضرت مولانا دلنواز ندوی، حضرت مولانا اختر جمال ندوی، حضرت مولانا اخلاق ندوی، حضرت مولانا زین العابدین سنابلی، حضرت مولانا غلام ربانی ندوی، حضرت مولانا آفتاب اظہر صدیقی، حضرت مولانا قاضی شاہ نجم ندوی قاسمی، حضرت مولانا مفتی نبیل ندوی قاسمی، حضرت مولانا مفتی بلال اور قاری مرشد سمیت متعدد علماء نے اپنے تاثرات پیش کیے۔
آئینی آزادیوں پر دہلی پولیس کی قدغن
پروگرام کے کنوینر مولانا ابوزر ندوی کے علاوہ مفتی عیسی جامی، مولانا مناظر نعمانی، مولانا سہیل ندوی، مولانا ابو سالک ندوی، مولانا عبد الوکیل قاسمی، مولانا آصف قاسمی، مولانا مشفق، مولانا عبد الرحیم ندوی، مولانا ہاشم، مولانا زید، مولانا مسیح الزماں، مساجد کے ائمہ و مؤذنین، جناب مسلم، ماسٹر سفیر الدین راہی، جناب غفران اور دیگر متعدد علماء، دانشوران اور معززین بھی موجود تھے۔
نشست کے اختتام پر صدرِ مجلس حضرت مولانا انوار عالم صاحب، ناظم دارالعلوم بہادر گنج، نے رقت آمیز دعا فرمائی۔ اس موقع پر حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کی مغفرت، بلندیِ درجات اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں، جبکہ ان کے اہلِ خانہ، متعلقین اور شاگردوں کے لیے صبرِ جمیل اور اجرِ عظیم کی دعا بھی کی گئی۔
دعائیہ اور رقت آمیز ماحول میں منعقدہ یہ تعزیتی نشست مرحوم کی علمی و دینی خدمات کو یاد کرنے اور ان کے لیے دعائے مغفرت پر اختتام پذیر ہوئی۔