تحریر: سید سرفراز احمد
بھارت کا آئین شہریوں کو محض ووٹ دینے کا حق نہیں دیتا بلکہ انہیں اپنے خیالات کے اظہار، پُرامن اجتماع اور اپنے مطالبات حکومت اور متعلقہ اداروں تک پہنچانے کا حق بھی فراہم کرتا ہے۔ جمہوریت میں احتجاج اسی آئینی نظام کا ایک اہم حصہ ہے۔ حکومت اور ریاستی اداروں کی کارکردگی پر سوال اٹھانا، پالیسیوں سے اختلاف کرنا اور مطالبات کے لیے سڑک پر آنا بذاتِ خود کوئی جرم نہیں۔ البتہ احتجاج بھی قانون کے دائرے میں رہنا چاہیے اور ریاست کو بھی قانون کے نفاذ اور شہری آزادیوں کے درمیان توازن قائم رکھنا چاہیے۔
گزشتہ چند دنوں میں نئی دہلی میں ہونے والے واقعات نے اسی بنیادی سوال کو دوبارہ قومی بحث کا موضوع بنا دیا ہے کہ ریاستی نظم و ضبط اور شہری آزادی کے درمیان حد کہاں قائم ہوتی ہے؟ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف استعفے کے مطالبے اور ووٹر فہرستوں کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن(ایس آئی آر) سے متعلق اعتراضات پر 2 اکتوبر سے جنتر منتر کے اطراف احتجاج شروع ہوا۔ اس احتجاج میں طلبہ، سماجی کارکنوں، وکلا اور سیاسی کارکنوں نے شرکت کی۔ آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA) کی صدر نیہا بورا بھی احتجاج کی جو نمایاں آواز بن کر سامنے آئیں۔ پہلے روز تقریباً 550 مظاہرین کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ دوسرے روز بھی نیہا بورا سمیت متعدد افراد کو پولیس نے حراست میں لیا۔ تیسرے روز بھی احتجاج جاری رہا اور تقریباً 120 افراد کو حراست میں لیے جانے کی رپورٹ سامنے آئی۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے اگر کسی احتجاج کے لیے پولیس کی اجازت درکار تھی یا پولیس نے کسی مخصوص راستے کو بند کیا تھا تو کیا اس کا حل صرف بڑے پیمانے پر گرفتاریاں اور حراستیں تھیں؟ یا انتظامیہ مظاہرین کے ساتھ مذاکرات کرکے احتجاج کے لیے متبادل انتظامات بھی کرسکتی تھی؟ نیہا بورا کے معاملے نے اس سوال کو مزید حساس بنا دیا۔ 4 اکتوبر کو احتجاج کے دوران انہیں پولیس نے ایک غیر نشان زدہ گاڑی میں لے جایا گیا۔ ان کی تنظیم اور بعض کارکنوں نے الزام لگایا کہ گاڑی میں کوئی خاتون پولیس اہلکار موجود نہیں تھی اور انہیں ایک نامعلوم مقام پر لے جایا گیا۔ بعد میں ان کی رہائی کی اطلاع آئی۔ پولیس کا موقف دوسری طرف یہ تھا کہ بعض مظاہرین نے ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں سے مزاحمت کی اور پولیس اہلکاروں کو زخمی کیا۔ یوں اس واقعے کے دونوں پہلو موجود ہیں۔ لیکن حقیقی ویڈیوس جو منظر عام پر آچکے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس نے طلبہ و نوجوانوں پر چُھپے ہوۓ طریقے سے تشدد کیا۔ اس کی خود مثال نیہا بورا کی ہے۔ جو ویڈیو میں اپنے ہاتھ اور گلے کو بتارہی ہے۔ جس میں خاتون پولیس نے جسمانی تشدد کا رویہ اپنایا۔
لیکن معاملہ صرف حراست تک محدود نہیں رہا۔ احتجاج کے دوران خواتین مظاہرین کے ساتھ پولیس کے مبینہ ناروا سلوک کے الزامات بھی سامنے آئے۔ بعض خواتین صحافیوں نے پولیس اہلکاروں پر بدسلوکی اور جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے، جبکہ پولیس نے ان الزامات کو مسترد کیا۔ ایک صحافی کی شکایت کے بعد پولیس کی جانب سے تحقیقات کی بات بھی سامنے آئی۔ خود خاتون صحافی روضی نے پولیس کی جانب سے جنسی ہراسانی کا الزام لگایا۔ ایف آئی آر کی مانگ پر دہلی پولیس ٹس سے مس نہیں ہوتی۔
دہلی پولیس کے خلاف ایسے کئی ایک الزامات عائد کیئے جارہے ہیں۔ لیکن دل چسپ بات یہ ہے کہ الزام جس کے سر جارہا ہے وہی فی الحال کا منصف بنا ہوا ہے۔ تو انصاف کی امید کیسے کی جاسکتی ہے؟ اور یہ بات بھی سبھی کو معلوم ہے کہ دہلی پولیس کو کون قابو میں کرتا ہے اور دہلی پولیس کسے کے اشاروں پر کام کرتی ہے۔ اس لیئے دہلی پولیس سے ایف آئی آر کی امید کرنا وقت کا ضیاع ہے۔ ہاں اگر پولیس پر بدسلوکی کا الزام لگتا ہے تو شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہیے تاکہ یا تو الزام غلط ثابت ہو یا ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی ہوسکے۔ لیکن یہ بھی ہونا ابھی مشکل نظر آرہا ہے۔
نیہا بورا کے مسلسل تین روزہ احتجاج کی ایک اہم سیاسی جہت بھی ہے۔ ایک نوجوان طلبہ رہنما کا انتخابی فہرستوں اور الیکشن کمیشن کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے سڑک پر آنا اس بات کی علامت ہے کہ انتخابی عمل جیسے بنیادی معاملے پر معاشرے کے مختلف طبقات میں تشویش موجود ہے۔ اس تشویش سے اتفاق یا اختلاف ایک الگ مسئلہ ہے، لیکن جمہوری نظام میں سوال اٹھانے کا حق خود جمہوریت کا حصہ ہے۔ نیہا بورا اور کاکروچیس نے مل ایک کام تو بہت اچھا کیا۔ کہ جو بھارت میں خوف کے گھنے بادل چھاۓ ہوۓ تھے وہ اب لگ بھگ چھٹ گئے ہیں۔ مزید یہ بادل چھٹنے کی امید ہے۔
اسی احتجاجی سلسلے کا اگلا بڑا مرحلہ 6 اکتوبر کو سامنے آیا، جب انڈیا اتحاد کے متعدد اپوزیشن رہنماؤں نے الیکشن کمیشن کے دفتر تک مارچ کی کوشش کی۔ پولیس نے راستے میں بیریکیڈس لگا کر انہیں روکا۔ احتجاج کرنے والے سیاسی لیڈرس نے سڑک پر دھرنا دیا۔ راہل گاندھی بیریکیڈ پر چڑھے اور قومی پرچم لہرایا، جبکہ بعد میں وہ اور پرینکا گاندھی سمیت دیگر اپوزیشن رہنما آکاش وانی بھون کے احاطے میں دھرنے پر بیٹھ گئے۔ تقریباً نو گھنٹے جاری رہنے والے اس احتجاج کے بعد دہلی پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔ یہی احتجاج 7 تاریخ کو ایک ایسی تاریخ رقم کرتا ہے کہ پرینکا گاندھی اپنے بھائی کے ساۓ میں احتجاج کرتے کرتے دستور کی کتاب ہاتھ میں لے کر سڑک پر لیٹ جاتی ہے۔ پرینکا گاندھی دہلی پولیس پر اراکین پارلیمنٹ پر نوچنے کا بڑا الزام لگاتی ہے۔ اور اسی احتجاج میں راہل گاندھی کے ساتھ پولیس کی دھکم پیل ہوتی ہے۔ اور راہل گاندھی غصے میں آگ بگولہ ہوکر دہلی پولیس پر برستے ہیں۔
یہی احتجاج کی کڑی 8 اکٹوبر میں داخل ہوتی ہے۔ اُدھر بنگلور میں پرکاش راج، دھرو راٹھی، محمد زبیر دیپکے سمیت دیگر سب ہوکر ووٹ چوری کے خلاف گیانیش کمار کے استعفیٰ کے خلاف صداۓ احتجاج بلند کرتے ہیں۔ اور 10 اکٹوبر کو دہلی کے جنتر منتر کے احتجاج میں شامل ہونے کی اپیل کرتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے 10 اکٹوبر کا احتجاج کیا رنگ لاتا ہے۔ لیکن جس طرح سے دہلی پولیس کا وہ ظُلم جو پوشیدہ طریقے سے ہورہا تھا وہ بظاہر کسی کو نظر نہیں آرہا ہے لیکن پولیس کے اس ظُلم سے اب تک نہ عام آدمی محفوظ رہا ہے نہ رکن پارلیمنٹ، دہلی پولیس کا ایسا خفیہ چہرہ بار بار سامنے آتے رہتا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں چاہتی تھی کہ وہ چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات کرکے ایس آئی آر اور مبینہ ’’ووٹ چوری‘‘ کے معاملے پر اپنے اعتراضات داخل کریں گے۔ جب کہ پولیس نے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ اسے کسی سیاسی جماعت کی جانب سے ملاقات کی درخواست موصول نہیں ہوئی تھی۔
اس پورے معاملے میں راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کی حراست کو صرف ایک سیاسی واقعہ سمجھ کر نظرانداز کرنا بھی درست نہیں ہوگا۔ اگر ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کے اہم قائدین کو بھی احتجاج کے دوران حراست میں لیا جاتا ہے تو یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ پرامن احتجاج کے لیے ریاست کی برداشت کی حد کیا ہے؟ بلکہ دہلی پولیس کو اتنی جلدی بھی تھی کہ وہ راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی پر ایف آئی آر درج کردی۔ لیکن وہ خاتون صحافی روضی پولیس کی جنسی ہراسانی کے خلاف احتجاج کرنے پر بھی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔ یہی دہلی پولیس کا وہ خفیہ چہرہ ہے جو آہستہ آہستہ دیش کی عوام کے سامنے آرہا ہے۔
کیا پُر امن احتجاج کرنا گناہ ہے؟ بھارت کے آئین کے حساب سے پُر امن احتجاج کرنا شخصی آزادی ہے۔ جو جمہوریت کی روح کو تازہ کرتی ہے۔ اور حکمرانوں کو آئینہ دکھاتی ہے۔ لیکن جب یہی احتجاج سے روکا جاتا ہے تو وہ جمہوری حکمران ہو یا قانونی محافظ ان کا یہ رویہ آمرانہ کہلایا جاۓ گا۔ جب پُر امن احتجاج کرنے نہیں دیا جاۓ گا تو کیا عوام اور اپوزیشن جماعتوں کو تانا شاہی کو خاموشی سے قبول کرلینا چاہیئے؟ پولیس اگر ُپر امن احتجاج کرنے سے روکے گی تو عوام کا غصہ پھوٹ پڑے گا اور احتجاج کے دوران بیریکیڈ عبور کرنے، پولیس کی ہدایات کی خلاف ورزی یا سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالنے کے واقعات پیش آسکتے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا فرض ہے کہ وہ ایسے حالات میں امن و امان برقرار رکھیں۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں قانون نافذ کرنے کی کارروائی اور شہری آزادی کو محدود کرنے کے درمیان تناسب ختم ہونے لگے۔
جمہوریت میں پولیس کا کردار حکومت یا کسی سیاسی جماعت کے مفاد کا محافظ بننا نہیں بلکہ قانون اور آئین کا محافظ بننا ہے۔ یہی اصول حکومت پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اگر کسی احتجاج میں قانون شکنی ہوئی ہے تو اس کے خلاف کارروائی قانونی شواہد اور مقررہ طریقۂ کار کے مطابق ہونی چاہیے۔ لیکن اگر احتجاج بنیادی طور پر پُرامن ہے تو محض اختلافِ رائے کو انتظامی طاقت سے دبانا جمہوری اُصولوں کو کمزور کرتا ہے۔ دہلی کے حالیہ واقعات کا سب سے اہم پہلو یہی ہے کہ نیہا بورا جیسے طلبہ کارکن سے لے کر راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی جیسے قومی سطح کے سیاسی رہنماؤں تک، مختلف طبقات نے ایک ہی سوال کے مختلف طریقوں کے انداز میں اپنا اپنا اظہار کیا ہے۔ کیا اختلافِ رائے کے لیے اس ملک میں عوامی جگہ باقی رہ گئی ہے؟
دہلی ڈی سی پی شرستی پانڈے نے اے این آئی سے بات چیت کرتے ہوۓ کہتی ہیں کہ دہلی پولیس کے ساتھ غلط برتاؤ کیا جارہا ہے۔ ایسے الفاظ استعمال کیئے جارہے ہیں جس کا ذکر بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اور محترمہ کہتی ہیں کہ جین زی کو غلط راستے پر لے جایا جارہا ہے۔ اور وہ دہلی پولیس کی تعریف بھی کرتی سنائی دے رہی ہے۔ لیکن ڈی سی پی صاحبہ کو دہلی پولیس کی نیہا بورا پر جسمانی تشدد اور روضی پر جنسی ہراسانی کا گھناؤنا چہرہ نظر نہیں آیا ہے۔ اور نہ ہی انھیں یہ دکھائی دے رہا ہے کتنے پولیس اہل کاروں نے اپنی نیم پلیٹ نکال کر ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں۔ ڈی سی پی صاحبہ جمہوری ملک میں ریاست کی طاقت کا اصل امتحان یہ نہیں کہ وہ کتنے لوگوں کو حراست میں لے سکتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اختلاف کرنے والوں کے ساتھ آئینی حقوق کے تیئں کتنا برداشت کا مظاہرہ کرتی ہے؟
احتجاج ختم کیا جاسکتا ہے، مظاہرین کو حراست میں لیا جاسکتا ہے، بیریکیڈز کھڑے کیے جاسکتے ہیں، مگر سوالات کو حراست میں نہیں لیا جاسکتا۔ اگر انتخابی نظام، ووٹر فہرستوں، پولیس کے طرزِ عمل یا ریاستی اداروں کی شفافیت پر شہری سوال اٹھا رہے ہیں تو جمہوریت کا تقاضا ہے کہ ان سوالات کا جواب طاقت سے نہیں، دلیل، شفافیت اور آئینی طریقۂ کار سے دیا جائے۔ اسی لیئے دہلی کے حالیہ واقعات محض چند دنوں کے احتجاج اور گرفتاریوں کی داستان نہیں۔ یہ اس بڑے سوال کی یاد دہانی ہیں کہ آئینی آزادیوں کی حفاظت صرف آئین کی کتاب میں نہیں بلکہ قانون کے رویہ میں بھی نظر آنی چاہیے۔