مطالعہ ادیان سے دوری کے اسباب

از:- ڈاکٹر ظفردارک قاسمی

مذاہب و ادیان کا سنجیدہ مطالعہ عہد حاضر کی ناگزیر ضرورت ہے ۔ مطالعہ ادیان سے سماج میں ہم آہنگی، بقائے، افہام و تفہیم اور امن و رواداری کا فروغ ہوتا ہے ۔
معاشرے میں فسادات، بد امنی اور تخریب کاری کی یوں تو مختلف وجوہات ہوتی ہیں، لیکن ان میں ایک اہم وجہ مذاہب و ادیان کی بابت غلط فہمی بھی ہے ۔ ادیان کے متعلق بلا ثبوت کے کوئی بات کہہ دینا، یا دوسرے مذاہب کی حوالے سے جارحانہ تبصرہ و نقد کرنا جیسی باتیں یقینا معاشرے کو ایک طرح کی آزمائش اور فتنہ میں مبتلا کرتی ہیں ۔ معاشرے کو اس مصیبت سے بچانے کے لیے لازمی طور پر ہمیں مطالعہ ادیان کی طرف سنجیدہ کوشش کرنی ہوگی۔

یہ بات بالکل درست ہے کہ مسلم معاشرے میں مذاہب و ادیان پر اس قدر کام نہیں ہوا ہے ۔جتنا کہ اس کی ضرورت تھی ۔ اس کی کئی وجوہات ہیں ۔ جیسے: دیگر مذاہب کی زبانوں سے عدم واقفیت ۔ ہندو دھرم اور اس کے مالہ و ماعلیہ کو سمجھنے کے لیے سنسکرت زبان سے واقفیت پیدا کرنا ضروری ہے ۔ جین دھرم کو سمجھنے کے پراکرتی جاننا، بدھ مذہب کے لیے پالی، سکھ دھرم کے کو سمجھنے کے لیے گرمکھی پنجابی ۔ عیسائیت اور یہودیت کو سمجھنے کے لیے عبرانی اور سریانی جاننا نہایت ضروری ہے۔

دوسری وجہ یہ ہےکہ ہمارے مدارسِ دینیہ میں عربی، فارسی اور اُردو کے علاوہ دیگر زبانوں پر توجہ نہیں دی گئی ۔ اب جاکر انگریزی زبان شامل نصاب ہوئی ہے ۔
جبکہ مدارس دینیہ کو چاہیے تھا کہ وہ ایسا نصاب ترتیب دیں جس میں سامی اور غیر سامی ادیان کو سمجھنے کے لیے ان مذاہب کی زبان پڑھائیں تاکہ مدارسِ دینیہ سے فارغ ہونے والے علماء دیگر مذاہب کو اچھی طرح سمجھ سکیں اور اسلام پر ہونے والے اعتراضات کا جواب دے سکیں ۔ جن مدارس میں آج تقابل ادیان کا شعبہ قائم ہے ان مدارس میں بھی دیگر مذاہب کی دینی کتب کو اصل مآخذ سے سمجھنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے، کیوں کہ اس زبان سے واقفیت نہیں ہے ۔ جس زبان میں اس مذہب کی کتاب لکھی گئی ہے ۔ محض انگریزی اور اردو ترجموں پر اکتفاء کیا جاتا ہے ۔ ظاہر ہے ترجموں پر بھروسہ کرنے سے تحقیق کٹنی معیاری اور اہم ہوتی ہے اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ تحقیق میں ثانوی مراجع کو استعمال کرنا علمی دنیا میں معیوب سمجھا جاتاہے ۔ لہذا اگر ہم مذاہب و ادیان پر کام کرنے کے متمنی ہیں تو ضروری ہے کہ دیگر مذاہب کا مطالعہ مآخذ اصلی سے کریں۔

اس کے لیے لازمی طور پر اس مذہب کی زبان سیکھنا ہوگی ۔ مدارسِ دینیہ کو چاہیے کہ وہ اس جانب توجہ دیں، تاکہ مدارسِ کے طلباء مطالعہ ادیان کی جانب سنجیدہ سعی کریں ۔ ایسا نہیں ہے کہ ہمارے اکابر نے اس پہلو پر توجہ نہیں دی اور دیگر ادیان کی زبانوں کو نہیں سیکھا ۔ ابو ریحان البیرونی ،حمید الدین فراہی، سر سید احمد خاں ، ڈاکٹر محمد حمید اللہ، ابن حزم اندلسی، ابن قیم الجوزیہ وغیرہ وغیرہ ۔ یہ وہ نام ہیں جنہوں نے مطالعہ ادیان میں گراں قدر کارنامہ انجام دیا ہے جس کی علمی دھمک آج بھی محسوس کی جارہی ہے۔

مطالعہ ادیان کی طرف عدم توجہ کی ایک وجہ عدم اعتماد اور خوف بھی رہا ہے۔ عام طور پر ہمارے دینی حلقوں اور دینی تعلیمی مراکز،یا معاشرے میں یہ تصور پایا جاتا ہے کہ دیگر مذاہب کا مطالعہ کرنے، اس پر تحقیق و ریسرچ کرنے سے خود اپنا ایمان متزلزل ہو جائے گا ۔ اپنے عقائد میں شبھات پیدا ہوں گے ۔ اس منفی تصور نے بھی بہت حدتک مطالعہ مذاہب کی جانب سنجیدہ کاوش نہیں کرنے دی ۔ جب کہ اس طرح کا خیال حقیقت سے کوسوں دور ہے ۔ اس کی کئی مثالیں ہمیں ملتی ہیں جنہوں نے دیگر مذاہب پر بڑا علمی، وقیع اور فکر انگیز کام کیا، مگر ان کے ایمان و یقین میں کسی بھی طرح کی لغزش نہیں آئی ۔ علامہ ابن تیمیہ نے الجواب الصحیح لمن بدل دین المسیح ، اب قیم الجوزیہ نے ہدایة الحیاری فی اجوبة اليهود والنصارى ، مولانا رحمت اللہ کیرانوی نے اظہار الحق جیسی کتابیں تصنیف کیں ۔ اس لیے ہمیں خصوصا ہمارے علماء کو اس خوف سے باہر آنا ہوگا کہ دیگر مذاہب کے مطالعہ سے یا ان پر تحقیق و تدقیق سے ایمان و یقین کو خطرہ لاحق ہو جائے گا ۔ یہ ایک بہانا ہے مطالعہ ادیان سے دوری کا۔ اس کو دیگر الفاظ میں تنگ نظری سے تعبیر کیا جاسکتا ہے ۔ افسوس یہ ہے کہ آج بھی ہمارے یہاں یہی سوچ بنی ہوئی ہے ۔ جب کہ اب مطالعہ ادیان کی ضرورت بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

تصور کیجیے! ہندوستان جیسے ملک میں جو تکثیری روایات کا علمبردار ہے۔ کیا ہندوستانی معاشرے میں اس بات کی ضرورت نہیں ہے کہ علماء اور ارباب مدارس اس جانب توجہ دیں؟ جب تک ہم ہندوستان میں پائے جانے والے مذاہب و ادیان ، ان کی تاریخ و ثقافت سے واقفیت پیدا نہیں کریں گے اس وقت تک ہم ایک پر امن اور صحت مند سماج کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں کرسکتے ہیں۔ اور نہ ہی ہم اپنے ملک کی سماجی اور مذہبی اقدار کو سمجھ سکتے ہیں ۔ اب تو عالمی سطح پربھی اس بات کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے کہ مذاہب کے درمیان مشترکہ اقدار کی تلاش کی جائے، کیوں ہر مذہب میں کچھ تعلیمات یکساں ہیں جیسے: امن کا تصور، صدقہ اور خیرات کا تصور، سماجی برائیوں کے انسداد کی تعلیم وغیرہ وغیرہ۔ اس لیے ہم ان مشترکہ اقدار کی بنیاد پر سماج میں پر امن بقائے باہم کو یقینی بنا سکتے ہیں اور اپنے مذہب، عقائد و نظریات پر عمل کرتے ہوئے ایک دوسرے کے قریب آسکتے ہیں۔ مطالعہ ادیان سے ایمان کا خدشہ ظاہر کرنا یا اس طرح کو کوئی خوف اپنے دل میں رکھنا ایک لغو نظریہ ہے ۔ اس تصور کو قطعی طور پر معدوم کرنے کی ضرورت ہے۔

مسلمانوں میں مطالعہ ادیان سے دوری کا ایک اہم سبب یہ بھی ہے کہ ہم نے دین اسلام کا محدود تصور پیش کیا۔ ہم نے ابھی تک یہ بتایا کہ صرف دین اسلام کا مطالعہ کرو، اپنے مذہب سے واقفیت حاصل کرنی چاہیے ۔ اس محدود تصور نے معاشرے میں جو پیغام دیا وہ دیگر ادیان کے مطالعہ میں حارج ہوا ہے۔ جبکہ ہمیں سوچنا چاہیے کہ اسلام ایک آفاقی اور عالمی مذہب ہے۔ اسلام کے سب سے مقدس نوشتہ قرآن مجید میں بھی دیگر مذاہب، ان کی مقدس کتب، عبادت گاہوں کا ذکر موجود ہے ۔ اسی پر بس نہیں بلکہ اسلام کی وسعت و کشادہ ظرفی کا اس حد تک ہے کہ وہ دیگر مذاہب کا احترام، ان کی دینی کتب کی تصدیق اور ان پر ایمان لانے کو ضروری گردانتا ہے ۔ اس کے باوجود ہم نے اسلام کے تصور کو محدود کرنے کی سعی کی ۔ جو سراسر اسلام کے مزاج و روح کے خلاف ہے ۔ یہ بات کہنے میں مجھے کوئی حرج نہیں ہے کہ کسی کا یہ کہنا کہ” اسلام دیگر مذاہب کے مطالعہ سے روکتا ہے” وہ اسلام کے خلاف ایک طرح کا پروپیگنڈہ کررہاہے۔ تمام مسلمانوں کو اس طرح کے کردار سے کنارہ کشی اور اظہارِ لاتعلقی کرنے کی سخت ترین ضرورت ہے ۔

ادیان کے مطالعہ کی جانب عدم توجہ کا ایک اہم سبب یہ بھی ہے کہ آج ہم دیگر مذاہب کا مطالعہ مناظرانہ انداز میں کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ حقائق کی تلاش ہمارا مقصد قطعی نہیں ہوتا ہے۔ کیوں کہ مناظر کا طرہقہ یہ ہوتا ہے کہ وہ پہلے سے ایک رائے قائم کرتا ہے اور اس کے مطابق دلائل تلاش کرنے کی سعی کرتا ہے ۔ حق کیا ہے اور کہاں ہے اسے اس بات کی کوئی کوئی پروا نہیں ہوتی ہے۔ اس کو میدان جیتنے اور اپنے وضع کردہ نظریات و افکار کو درست ثابت کرنے کی فکر لاحق ہوتی ہے ۔ اس لیے مطالعہ ادیان میں مناظرانہ انداز ارباب علم کے یہاں پسند نہیں کیا جاتاہے ۔ مطالعہ ادیان میں مناظرانہ منہج بقائے باہم کے قیام میں بھی سد باب ہوتا ہے۔ مسلمانوں میں مطالعہ ادیان کے باب میں مناظرانہ کاوشیں زیادہ نظر آتی ہیں جس کی وجہ سے مطالعہ ادیان سے دوری بنی ہوئی ہے۔

آخر میں یہ کہنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مطالعہ ادیان عہد حاضر کی ضرورت ہے ۔ مسلمانوں کو اس پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ ماضی میں جس طرح سے اس موضوع پر کام ہوا تھا اس طرح کا اب نہیں ہو رہا ہے۔ جب کہ ضرورت اب زیادہ ہے ۔ لہٰذا علماء اور ارباب مدارس اس جانب خصوصی توجہ دیں ۔ تاکہ معاشرے میں امن و امان کو یقینی بنایا جاسکے ۔

مضمون نگار: مصنف اور نیو ایج اسلام کے مستقل کالم نگار ہیں ۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔