”تہافت الملاحدہ“ امام غزالیؒ کی روایت کا نیا روپ الحاد اور ملحدین کا علمی تعاقب اور اسلامی محاکمہ

✍️ محمد ابو عمر

تاریخِ فکرِ اسلامی کے صفحات پلٹیے تو ہر دور میں ایک ایسا لمحہ ملتا ہے جب باطل نے علم کا لباس پہن کر ایمان کے دروازے پر دستک دی اور اہلِ حق میں سے کوئی صاحبِ بصیرت اٹھا اور اسی زبان اور اسی میزان میں جواب دیا، حجۃ الاسلام امام غزالیؒ نے یونانی فلسفے کی یلغار کے سامنے ”تہافت الفلاسفہ“ لکھی اور یونانی فلسفے کی دھجیاں بکھیر دیں، آج صدیوں بعد جب الحاد نے اپنا چہرہ بدل لیا ہے اور وہ سائنس کے نام پر، آزادی کے نام پر اور انسان دوستی کے نام پر ہمارے نوجوانوں کے ذہنوں تک پہنچ رہا ہے تو دار العلوم دیوبند کے فرزند رشید حضرت مولانا مفتی یاسر ندیم الواجدی کی کتاب ”تہافت الملاحدہ“ اسی درخشاں روایت کی ایک تازہ کڑی کے طور پر سامنے آئی ہے _

آج کا الحاد ماضی کے الحاد سے مختلف ہے، پہلے کسی دہریے سے سامنا ہوتا تو وہ کسی کتب خانے یا مجلس میں ملتا تھا، اب وہ ہر نوجوان کی جیب میں موجود موبائل کی اسکرین پر بیٹھا ہے، وہ رات کے سناٹے میں سوال اٹھاتا ہے اور صبح تک کسی مدرسے کے طالب علم یا کالج کے طالب علم کے دل میں شک کا بیج بو چکا ہوتا ہے، جس نسل کو ہم نے صرف عقائد کے مسلّمات سکھائے تھے، وہ آج ان اعتراضات کے سامنے کھڑی ہے جن کی ہوا بھی ہمارے نصابوں کو نہیں لگی، ایسے میں جذباتی نعرے، وعظ کی گھن گرج اور فتوے کی سختی کام نہیں آتی، دلیل کا جواب دلیل سے دینا پڑتا ہے اور سوال کی تہہ تک اتر کر اس کی جڑ کاٹنی پڑتی ہے، عرصہ سے دلیل کا جواب دلیل سے دینے کےلئے تیاری کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی اس ضرورت کو مولانا مفتی محمد یاسر ندیم الوجدی نے پورا کرتے ایسی کاوش مرتب کی کہ اس نے برصغیر پاک و ہند سے لے کر دور دراز کے علمی حلقوں تک الحاد کے ایوانوں میں ہلچل پیدا کر دی، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے مغربی تہذیب کو اس کی جڑوں سے پکڑا ہے، اس تہذیب کے بطن سے جنم لینے والے تمام افکار و تحریکات (لبرل ازم، ماڈرن ازم، سیکولر ازم، ہیومن ازم، فیمن ازم، ایتھی ازم اور ریشنل ازم) کا مستند علمی تعاقب پیش کیا، ان کی تاریخ، ان کے دلائل اور ان کے باہمی ربط کو کھول کر بیان کیا اور پھر ان سب پر ٹھوس اسلامی محاکمہ پیش کیا گیا ہے، یہ کتاب اعتراض کو دور سے دیکھ کر رد نہیں کرتی، یہ پہلے اعتراض کے فکری پس منظر تک پہنچتی ہے اور پھر اسلامی میزان پر اس کا موازنہ پیش کرتی ہے اور اس کے بعد اس کا ٹھوس علمی محاکمہ پیش کرتی ہے _

حضرت مولانا مفتی یاسر ندیم الواجدی کا تعلق دیوبند کے اس علمی خانوادے سے ہے جس کا قلم و کتاب سے رشتہ نسلوں پرانا ہے، ان کے والدِ گرامی مولانا ندیم الواجدیؒ ممتاز عالم، ادیب اور کثیر التصانیف قلم کار تھے، مفتی یاسر ندیم الوجدی جامعہ دارالعلوم دیوبند کے فاضل ہیں وہاں سے ہی تکمیل علم اور سند فراغت حاصل کی، اس کے بعد انہوں نے جدید علمی دنیا کا رخ کیا جدید تعلیم بھی حاصل کی، قدیم و جدید کا حسین امتزاج ہے یہ جامعیت ان کی تحریر میں صاف نظر آتی ہے، وہ ایک طرف مدرسے کی روایت کے امین ہیں اور دوسری طرف جدید فلسفہ و سائنس کی زبان بھی خوب جانتے ہیں، ان کی علمی خدمات کا میدان تدریس بھی ہے اور تصنیف بھی، وہ حدیث، فقہ اور عقیدہ کے استاذ ہیں، ”گلوبلائزیشن اور اسلام“ جیسی تصنیف اور ملحدین سے مکالمے کے اصولوں پر ان کے بیانات اہلِ علم میں معروف ہیں، وہ ایک عرصے سے امریکہ میں دعوتِ دین کی خدمت انجام دے رہے ہیں اور وہاں کی فکری فضا میں رہ کر انہوں نے الحاد کے سوالات کو قریب سے دیکھا ہے، غور و تدبر کیا اور بعد میں مستند جواب دیا_

”تہافت الملاحدہ“ چھ جلدوں پر مشتمل ہے، پہلے یہ دیوبند سے شائع ہوئی اور اب پاکستان میں دار السعید کراچی سے منظرِ عام پر آئی ہے، یہ ہمارے قارئین کےلئے بڑی خوش خبری ہے کیونکہ جو کتاب سرحد پار کے علمی حلقوں میں داد پا چکی تھی بلکہ پوری دنیا میں اس کے چرچے ہیں وہ اب ہمارے کتب خانوں، مدارس اور جامعات کی دسترس میں ہے، اس کا بنیادی مواد مصنف کے اس طویل آن لائن تدریسی سلسلے سے ماخوذ ہے جو برسوں جاری رہا اور جس میں ہفتہ وار نشستوں میں دو تین گھنٹے تفصیل سے گفتگو ہوتی تھی، یہ سینکڑوں طلبہ کے سوالات، شبہات اور مباحثوں کی بھٹی سے گزر کر نکلی ہے _

کتاب کا آغاز مغربی تہذیب کے فکری ارتقا سے ہوتا ہے، یعنی انسان پرستی سے لے کر کلیسا اور سائنس کی کشمکش تک، عقل پرستی اور حواس پرستی کے مکاتب تک۔ پھر علم کے ذرائع زیرِ بحث آتے ہیں اور وجودِ باری تعالیٰ کے دلائل سمیٹے جاتے ہیں، نظریۂ ارتقاء پر گفتگو سائنس اور فلسفۂ سائنس کے منہج پر کی گئی ہے، اس کے بعد قرآنیات کا طویل باب ہے جس میں وحی، جمعِ قرآن، نسخ اور قرآنی چیلنج جیسے مباحث کے ساتھ سائنسی اعتراضات کے جوابات بھی ہیں، پھر سنت و سیرت کا باب ہے جس میں نبوتِ محمدی پر عقلی اور تاریخی دلائل پیش کیے گئے ہیں، آخر میں لبرل ازم، فیمن ازم، ہم جنس پرستی، سیکولر ازم، جمہوریت اور سائنٹزم کا تفصیلی جائزہ ہے، اردو زبان میں ایک ہی مجموعے کے اندر اتنے محاذوں کو یکجا کرنے کی مثال شاید ہی ملے، اس کتاب میں مصنف نے علمی مباحثے کا وہ مزاج بھی اپنایا ہے جو ہمارے اکابر کا امتیاز رہا ہے، عقلی دلائل سے مزین یہ کتاب ایک بہترین علمی کاوش ہے _

ہمارے مدارس کےلئے اس میں ایک پیغام بھی ہے، اب درسِ نظامی کی چاردیواری میں بیٹھ کر یہ سمجھنا کافی نہیں کہ باہر کی دنیا سے ہمارا کوئی تعلق نہیں، جو طالب علم کل منبر پر بیٹھے گا، اسے ڈارون کا نام بھی معلوم ہونا چاہئے اور بگ بینگ کا مفہوم بھی، اسے ہیومن ازم کی تاریخ سے بھی واقف ہونا چاہیے اور فیمن ازم کی لہروں سے بھی، ورنہ وہ اس سوال کا جواب کیسے دے گا جو اس کا اپنا ہم جماعت کل اس سے پوچھے گا؟ اب جب کہ کتاب پاکستان میں دستیاب ہے، ہم وفاق المدارس اور دینی جامعات کے ذمہ داروں سے گزارش کرتے ہیں کہ اسے مطالعتی نصاب میں جگہ دیں اور نئی نسل کو ایسے دلائل سے مسلح کریں جو دل میں بھی اتریں اور عقل کو بھی مطمئن کریں _

ہم مفتی یاسر ندیم الواجدی کو اس عظیم علمی کاوش پر مبارک باد پیش کرتے ہیں اور ناشرین کو بھی، جنھوں نے اس کتاب کو پاکستان کے قارئین تک پہنچانے کا اہتمام کیا، دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سعی کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، اسے ہماری نسلِ نو کے ایمان کی حفاظت کا ذریعہ بنائے اور ہمیں اس بات کی توفیق دے کہ ہم الحاد کے اس طوفان میں علم، حکمت اور اخلاص کے چراغ جلائے رکھیں آمین _

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔